آج کا کالم

سیاسی رہنماؤں کی تقریر اور بیان پر مبنی سیاست میں غور و فکرکا فقدان!

رویش کمار

ہمارے لیڈر کس طرح بات کرتے ہیں۔ اس سے ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے ہیں یا ہندوستان کی سیاست کو ترقی دے رہے ہیں؟ ہندوستانی سیاست بیان پر مبنی ہے۔ ہم اور آپ بھی لیڈران کا تجزیہ ہم خیال کم ڈائيلاگ بازی سے زیادہ کرتے ہیں۔ اسی پر تالی بجتی ہے، یہی هیڈلان بنتی ہے۔ ٹی وی کی زبان بھی صحافت کی کم، سيرييل کی زیادہ ہو گئی ہے۔ اس سے آپ ناظرین کو بہت نقصان ہے۔ ڈائیلاگ سے تفریح تو ہو جاتا ہے مگر سیاست کی سطح گر جاتی ہے۔ ایسی زبان ہمیشہ فریب کرتی ہے۔ جتنا کہتی نہیں ہے، اس سے کہیں زیادہ سوالوں کو ٹال دیتی ہے۔

سیاست ون لائنر ہوتی جا رہی ہے۔ بولنے میں بھی اور خیالات سے بھی۔ سارا دھیان اسی پر رہتا ہے کہ تالی بجی کہ نہیں بجی۔ لوگ ہنسے کہ نہیں ہنسے۔ مزہ چاہئے، خیال نہیں۔ اس وقت بہت ضروری ہے کہ نوٹ بندی کی وسیع صورت حال پر سنجیدہ بحث ہو۔

 راہل گاندھی نے کہا کہ ان کا جتنا مذاق اڑانا ہے اڑائیے مگر سوالات کا جواب دیجئے۔ راہل کی ایک بات اس حد تک ٹھیک ہے کہ ہندوستان میں ایک فیصد لوگوں کے پاس ملک کی 50 فیصد سے زیادہ جائیداد ہے۔ لیکن یہ بات بالکل ٹھیک نہیں ہے کہ ایسا صرف وزیر اعظم مودی کے دور میں ہوا۔ ایسا یو پی اے اور اس سے پہلے این ڈی اے اور اس سے پہلے کی حکومتوں کے دور سے ہوتا آ رہا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی عدم مساوات پرپوری دنیا کے ماہرین اقتصادیات بات کر رہے ہیں، صرف وہ ماہرین اقتصادیات بات نہیں کر رہے ہیں جو کسی حکومت کے مشیر بن جاتے ہیں یا اس کے اداروں کے سربراہ بن جاتےہیں۔ ہندوستان میں بھی اور پوری دنیا میں بھی۔

 بینکوں کے آگے کھڑی لائنوں میں لوگ کہتے پائے گئے کہ امیر تو نظر نہیں آ رہے ہیں۔ جب غریب یا کم آمدنی والے ہی زیادہ ہیں تو وہی دکھیں گے۔ ملک کی آدھی سے زیادہ جائیداد کے مالک ایک فیصد امیر لائنوں میں لگے بھی ہوں گے تو وہ تعداد میں اتنے کم ہوں گے کہ کسی کو پتہ بھی نہ چلا ہوگا۔ امریکہ کے ہاورڈ اور پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہرین اقتصادیات نے ایک مطالعہ میں پایا ہے کہ صدر اوباما کے دور اقتدار کے دوران جتنے بھی روزگار پیدا ہوئے، ان میں سے 94 فیصد روزگار عارضی تھے۔ پارٹ ٹائم والا کم کماتا ہے اور کم وقت کے لئے کماتا ہے۔ اگر راہل گاندھی کا مقصد اس عدم مساوات کو ابھارنا ہے تو شکریہ۔ لیکن لگتا نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ وزیر اعظم کو نشانہ بنانے سے زیادہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مودی ہوں یا منموہن، تقریبا دونوں ایک ہی طرح کی اقتصادی پالیسیوں پر چلتے ہیں جس سے آگے جاکر عدم مساوات ہی بڑھے گی یعنی امیر ہی صرف امیر ہوتا ہے۔ کم از کم وزیر اعظم اور راہل دونوں ہی بتائیں کہ ایک فیصد کے پاس آدھی سے زیادہ جائیداد ان کی محنت سے جمع ہوئی یا غریبوں کے نام پر الیکشن جیتنے والے لیڈروں کی مہربان پالیسیوں کی وجہ سے ایسا ہوا۔

بي ایچ يو میں وزیر اعظم کی تقریر پر لوگ خوب ہنسے.۔انہوں نے کہا کہ منموہن سنگھ نے کہا کہ 50 فیصد لوگ غریب ہیں وہاں ہم ٹیكنالوجي کی بات کس طرح کر سکتے ہیں۔ اب یہ بتائیے اپنا رپورٹ کارڈ دے رہے ہیں یا میرا دے رہے ہیں۔ منموہن سنگھ نے نوٹ بندی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، نہ کہ آن لائن بینکنگ کو۔ راجیہ سبھا میں ، اپنی تقریر میں انہوں نےکیش لیس لین دین پر کوئی تنقید نہیں کی ہے۔ ٹیكنالوجي کی مخالفت نہیں کی ہے۔ ہندو اخبار میں شاٗئع اپنے ایک مضمون میں سابق وزیر اعظم نے یہ ضرور کہا ہے کہ آدھی آبادی یعنی ساٹھ کروڑ ہندوستانی ایسے گاؤں  یا شہروں میں رہتے ہیں، جہاں ایک بھی بینک نہیں ہے جبکہ 2001 سے اب تک گاؤں میں بینک شاخوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے۔ آئیڈیل حالات تو یہ ہوتی کہ جب سابق وزیر اعظم کی تنقید کا جواب وزیر اعظم دے رہے ہوں تو کم سے کم ایک دوسرے کی بات کو صحٰیح سے بیان کریں۔

کبھی مخالفین کو پاکستان بھیجنے یا پاکستانی سے موازنہ گری راج سنگھ جیسے وزیر کرتے تھے۔ امت شاہ پاکستان بھیج دینے کی بات کرتے تھے، اس وقت بھی وزیر اعظم اس بات سے بچتے تھے۔ لیکن اب وہ بھی نوٹ بندی کی مخالفت کرنے والوں کا موازنہ دہشت گردوں کی مدد کرنے والی پاکستانی فوج سے کرنے لگے ہیں۔ جیب كترا اور اس کے دوست کے قصے کے سہارے مخالفین کو جواب تو دے دیا لیکن کیا وزیر اعظم کے لئے یہ مناسب تھا؟ ویسے ان پر بھی حملے کم نہیں ہوتے؟ ان حملوں میں بھی کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا جاتا ہے۔

یہی نہیں وزیر اعظم نے نوٹ بندی کی مخالفت کرنے والے سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کے لئے میلے میں آئے جیب كترے اور اس کے ساتھی کا قصہ سنایا۔ کہا کہ جب جیب كترا جیب کاٹے گا تو اس کا ساتھی دور کھڑا رہتا ہے۔ کام ختم ہونے پر ادھر کی طرف دوڑتا ہے کہ چور بھاگ گیا، چور بھاگ گیا. پولیس ادھر بھاگےگي اور جیب کترا نکل جائے گا۔ بے ایمانوں کو بچانے کے لئے نہ جانے کتنی ترکیبیں اپنائی جا رہی ہیں۔

 گاندھی جی بہت اچھے مقرر نہیں تھے۔ کم بولتے تھے اور آہستہ آہستہ بولتے تھے۔ ہنکار نہیں بھرتے تھے اور پھپھکار نہیں مارتے تھے۔ اپنی سوانح عمری تلاش حق میں انہوں نے بولنے پر کچھ کہا ہے اس کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ لکھتے ہیں کہ ایک بار میں وینٹر گیا تھا۔ وہاں مجمدار بھی تھے۔ وہاں کے ایک انا ہار کے گھر میں ہم دونوں رہتے تھے۔ وہاں اناهار کوترقی دینے کے لئے ایک اجتماع کیا گیا۔ اس میں ہم دونوں کو بولنے کا دعوت نامہ ملا دونوں نے اسے قبول کیا۔ میں نے جان لیا تھا کہ لکھی ہوئی تقریر پڑھنے میں کوئی برائی نہیں ہے. میں دیکھتا تھا کہ اپنے خیالات کو تسلسل اور مختصر طور پر ظاہر کرنے کے لئے بہت سے لوگ لکھا ہوا پڑھتے تھے۔ میں نے اپنی تقریر لکھ لی۔ بولنے کی ہمت نہیں تھی۔ جب میں پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو پڑھ نہ سکا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور میرے ہاتھ پیر کانپنے لگے۔ مجمدار کی تقریر تو اچھی ہوئی۔ شائقین ان کی باتوں کی ستائش تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے کرتے تھے۔ میں شرمايا اور بولنے کی اپنی نا اہلیت کے لئے اداس ہوا۔ اپنے اس شرمیلے نیچر کی وجہ سے میری فضیحت تو ہوئی پر میرا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ اب تو میں دیکھ سکتا ہوں کہ مجھے فائدہ ہوا ہے۔

انہیں کے الفاظ ہیں کہ کم بولنے والا بغیر سوچے سمجھے نہیں بولے گا، وہ اپنا ہر لفظ تول کر بولے گا۔ تلاش حق میں لکھتے ہیں کہ اکثر انسان بولنے کے لئے بے چین ہو جاتا ہے۔ ‘میں بھی بولنا چاہتا ہوں’، اس ارادے کے خطوط کس چیئرمین کو نہیں ملتے ہوں گے۔ پھر بولنے کے لئے انہیں جو وقت دیا جاتا ہے وہ بھی مناسب نہیں ہوتا۔ وہ زیادہ بولنے دینے کی مانگ کرتے ہیں۔ ان سب لوگوں کے بولنے سے دنیا کو فائدہ ہوتا ہے، ایسا شاید ہی ہوا ہے۔ پر اتنے وقت کی بربادی توصاف دیکھی جا سکتی ہے.

 ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں یہی ماڈل چل پڑا ہے۔ سوشل میڈیا پر جہاں لوگ لکھ کر بولتے ہیں، وہاں بولنا بدل گیا ہے۔ گالیاں لکھ کر دی جا رہی ہیں اور زبان تشدد سے بھری ہوئی ہے۔ یہ وزیر اعظم مودی کا انداز رہا ہے کہ جہاں بھاشن دینے گئے پہلے وہاں کے علامات اور عظیم لوگوں کو ضرور یاد کرتے تھے۔ اب راہل گاندھی بھی کرنے لگے ہیں۔

 راہل گاندھی وزیر اعظم مودی کی ٹیكنك استعمال کرنے لگے ہیں اور وزیر اعظم لوک سبھا انتخابات سے پہلے اپنے مخالفین کی طرح بولنے لگے ہیں۔ پہلے ان کے مخالف ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے، اب وہ بھی اڑانے لگے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close