آج کا کالم

سیلاب ہمارے لئے کتنا فائدہ مند؟

رویش کمار

جب بھی سیلاب آتا ہے ہم سیلاب کو آفت کی طرح کور کرنے لگتے ہیں. پوری سرکاری مشینری ریلیف کیمپ بنانے لگتی ہے اور وزیر اعلی ہیلی کاپٹر سے دورہ کرنے لگتے ہیں. اب کچھ لوگ گود میں بھی دورہ کرنے لگے ہیں. اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم سیلاب کے بارے میں کیا جانتے ہیں اور کیا نہیں جانتے ہیں اور کئی بار تو لگتا ہے کہ ہمیں کچھ جاننے سے مطلب ہی نہیں ہے. چینلوں پر سیلاب کی جو تصویریں تیر رہی ہیں وہ کیوں صرف تباہی کا منظر پیش کرتی ہیں. کیا سیلاب کی کہانی صرف جائیداد اور جان مال کے نقصان کی ہی کہانی ہے؟ جب ہمیں اسکول سے لے کر کالج تک یہی پڑھایا گیا ہے کہ سیلاب اچھی چیز ہے، تو ہم سیلاب کو لے کر جشن کیوں نہیں مناتے ہیں؟ کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ سیلاب نہ آنے پر دریا کے کنارے کی زمین اور اس کی زرخیزی پر کیا اثر پڑتا ہے؟ اگر میں یہ کہوں کہ ملک کے کئی علاقوں میں سیلاب آیا ہے، بہت اچھا سیلاب آیا ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے تو ایک ناظرین کے ناطے آپ کی رائے کیا ہوگی؟ اسکول اور کالج میں جب استاد یہی بات کہتے تھے، تب آپ کی رائے کیا ہوتی تھی؟

جب آپ بھی بہت محنت سے یاد کرکے امتحانوں میں لکھتے تھے کہ سیلاب آتا ہے تو اس کے ساتھ پہاڑوں سے زرخیز گاد میدانوں کی طرف آتا ہے. غذائی عناصر سے لیس مٹی کی نئی پرت بن جاتی ہے. پونے کے پروفیسر وشواس کالے سے ہم نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ سیلاب دریائی زندگی کی کارکردگی کا اہم حصہ ہے. سیلاب کے بغیر دریائی زندگی کا جیون چکر مکمل نہیں ہوتا ہے. سیلاب کے ساتھ آنے والی نئی مٹی کی وجہ سے کھیتوں کی زرخیزی کافی بڑھ جاتی ہے. یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال سے گنگا جمنا کے میدان میں کاشت ہو رہی ہے، لیکن وہاں کی زرخیزی کبھی کم نہیں ہوئی. ملک کی پچاس کروڑ کی آبادی گنگا جمنا کے میدان میں بستی ہے. یہی نہیں سیلاب آنے سے ندی کا چینل مسلسل کلیئر ہوتا رہتا ہے. بڑی یا چھوٹی ندیاں اپنے ساتھ معمول کے وقت میں جو سیڈيمینٹ، ریت پتھر اپنے ساتھ لاتی ہیں اور کناروں کے ارد گرد جمع کرتی جاتی ہیں، اس سے ندی کا چینل تنگ اور اتھلا ہوتا جاتا ہے جس سے ندیوں میں پانی بہنے کی جگہ کم ہوتی جاتی ہے. جب بڑا سیلاب آتا ہے تو وہ اس پورے گاد کو آگے لے جاتا ہے اور دریاؤں کے چینل کو صاف کرتا رہتا ہے. نالے کے طور پرتنگ ہو چکی ندی دوبارہ پھیل جاتی ہے. اس کے جن کناروں پر ریت مافیا سے لے کر زمین مافیا تک کا قبضہ ہو چکا ہوتا ہے، ان علاقوں کو ندی کے سیلاب ایک جھٹکے میں ہی آزاد کرا دیتے ہیں.

سیلاب آنے سے دریاؤں کے ارد گرد کے علاقوں میں انڈر گراؤنڈ پانی ریچارج ہوتا ہے، جو سال کے باقی وقت میں پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے کام آتا ہے. جتنے بڑے علاقوں میں سیلاب آئے گا، اتنے علاقوں میں پانی ریچارج ہوگا. ہم نے سیلاب پر پوری زندگی مطالعہ کرنے والے پروفیسر دنیش مشرا سے بات کی. بہت کم لوگ ہیں جو سیلاب پر تحقیق کرتے ہیں. میں چاہتا تھا کہ وہ ‘پرائم ٹائم’ میں آ جائیں، لیکن انہیں آج کسی سفر پر جانا تھا. جب میں نے پروفیسر مشرا سے پوچھا کہ کیا سیلاب آفت ہے، تباہی ہے؟ تو ان کا جواب تھا کہ بہار کے لئے سیلاب آفت نہیں ہے. اگر آفت ہوتا، تباہی لاتا تو بہار میں آبادی کی کثافت بہت کم ہوتی. لوگ ریاست چھوڑ کر چلے جاتے. کوئی اپنی زمین چھوڑ کر اس لئے نہیں جاتا، کیونکہ بہار کی زمین اسی سیلاب کی وجہ سے زرخیز ہے. یہاں پانی کی سطح بہتر ہے، اسی لئے آپ ہریانہ یا راجستھان کی طرح خواتین کو سر پر گگری لئے دور سے پانی لاتے جاتے نہیں دیکھتے ہیں. پروفیسر مشرا نے کہا کہ سیلاب ایک منفعت بخش دھندہ ہے. بہار میں 9 سال بعد اس طرح کا سیلاب آیا ہے، جس سے یہاں کی زمین پھر سے نئی ہو گئی ہے.

جب کوسی کا سیلاب آیا تھا تب انوپم مشرا نے ایک مضمون لکھا تھا- تیرنے والا سماج ڈوب رہا ہے. ان کا کہنا تھا کہ سیلاب مہمان نہیں ہے. وہ اچانک نہیں آتا ہے، بلکہ اس کے آنے کی تاریخ مقرر ہے. یہی وجہ ہے کہ جب سیلاب آتا ہے تب ہم اس کے ساتھ آفت کی طرح برتاؤ کرتے ہیں. انوپم مشرا نے لکھا تھا کہ سوچئے جب حکومتیں نہیں تھیں، ہیلی کاپٹر نہیں تھا تب لوگ سیلاب سے کیسے اپنا تحفظ کرتے ہوں گے، کیونکہ جس زمین پر وہ رہتے آئے ہیں، وہاں سیلاب تو صدیوں سے آ رہا ہے. ہم سیلاب کی راستے میں جاکر بسے ہیں، سیلاب ہمارے راستے میں کبھی نہیں آتا ہے.

سیلاب سے تباہی کیوں ہوتی ہے؟ ایک وجہ یہ ہے کہ ہم سب نے دریا کے کنارے کی زمین پر بے مداخلت کر لی ہے. چونکہ کئی سال تک سیلاب نہیں آتا ہے، تو ہم سوچتے ہیں کہ سیلاب کبھی نہیں آئے گا. پھر ہم دریاؤں کو طرح طرح سے جوڑنے کے نظریہ پر کام کرنے لگتے ہیں. کچھ کا کچھ دماغ لگاتے چلتے ہیں. مگر ایک دن سیلاب آ جاتا ہے. اب پوچھئے کہ جان مال کا نقصان کیوں ہوتا ہے؟ کیا اسے بچایا جا سکتا ہے؟

آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں بابا آدم کے زمانے سے سیلاب کی پیشن گوئی کی جا رہی ہے. یہ پیشن گوئی خطرے کے نشان کی بنیاد پر کی جاتی ہے. آپ خبروں میں سنتے بھی ہوں گے کہ فلاں جگہ پر گنگا یا پنپن کا پانی خطرے کے نشان سے اتنا سینٹی میٹر اوپر بہہ رہا ہے تو سیلاب آئے گا. ملک میں تقریبا 175 مقامات پر ایسے خطرے کے نشان بنے ہیں جس کی بنیاد پر سیلاب کی پیشن گوئی کی جاتی ہے. اس نظام کو گیج ٹو گیج كورلیشن کہتے ہیں. جیسے آپ نے سنا کہ پٹنہ میں گنگا کا پانی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے. اس کے لئے قریب ساٹھ ستر کلومیٹر پہلے ایک اور جگہ پر پانی کی سطح کو ناپا جاتا ہے. اس کا ایک تاریخی اعداد و شمار ہوتا ہے، جس کی بنیاد پر کہہ دیا جاتا ہے کہ اگر وہاں پانی خطرے کے نشان سے اوپر ہے تو پٹنہ کے مہیندرو گھاٹ یا ایل سی ٹی گھاٹ میں سیلاب کا پانی آ جائے گا. اگر آپ پٹنہ میں پرانے ہیں تو یاد کیجئے ہم اور آپ بچپن میں کس طرح بانس گھاٹ یا مہیندرو گھاٹ جاتے تھے، یہ دیکھنے کہ کتنی سیڑھیوں تک پانی آ گیا ہے. اگر اتنی سیڑھی تک پانی آ گیا تو سیلاب کا پانی شہر میں گھس جائے گا. ظاہر ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ پانی کی سطح سے سیلاب کا خطرہ ناپنے کا سسٹم عوامی زندگی کا حصہ بن گیا ہوگا. اس سے درست پیشن گوئی ہوتی ہوگی تبھی حکومت سے لے کر عام شہری تک اس پیشن گوئی پر انحصار کرتے ہیں. ریڈیو اناؤنسر جب كھنک دار آواز میں کہتے تھے کہ پٹنہ میں گنگا کی آبی سطح خطرے کے نشان سے دس سینٹی میٹر اوپر بہہ رہی ہے، اتنا سنتے ہی لوگ آلو پیاز لے کر چھت پر چلے جاتے تھے. آسمان میں دیکھنے لگتے تھے کہ ہیلی کاپٹر سے چنا اور بسکٹ کوئی گرائے گا. مگر آہستہ آہستہ سیلاب کی ساری تصاویر تباہی کی ہونے لگیں. لوگ مرنے لگے، مکان ڈوبنے لگے اور کتنا کچھ تباہ ہونے لگا.

ایسا کیوں ہوا؟ ہم نے اس میدان کے ایک اور ماہر سے بات کی. ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں واٹر لیول فوركاسٹ کا انتظام ہے یعنی آبی سطح کی بنیاد پر پیشن گوئی کی جاتی ہے. بھارت کو اب سیلاب فوركاسٹ کرنا چاہئے یعنی یہ بتانا چاہئے کہ آپ کے علاقے میں سیلاب کا پانی کب تک آئے گا، کتنا اوپر چڑھے گا اور کب تک رہے گا؟ ایسا شاید دنیا کے باقی ممالک میں ہوتا ہے. پانچ چھ دن پہلے الرٹ جاری ہونے لگتے ہیں.

اگر ہندوستان میں سیلاب فوركاسٹ ہوتا تو چنئی میں سیلاب سے سینکڑوں لوگ نہیں مرتے، لوگ اپنے ہی مکان میں ڈوب کر نہیں مرتے. اگر ہمیں سیلاب سے ہونے والے نقصان کو روکنا ہے تو سیلاب فوركاسٹ کی طرف قدم بڑھانے ہوں گے. اس وقت پانی کی سطح کی پیشن گوئی سینٹرل واٹر کمیشن کرتا ہے. آبی سطح کی پیشن گوئی کی ایک حد ہے. آپ پچاس ساٹھ کلومیٹر کے درمیان دو جگہوں پر خطرے کے نشان کو ناپتے ہیں، لیکن اگر درمیان میں اچانک سے پانی آ جائے اور ارد گرد کے علاقے میں پھیل جائے تو اس کی پیشن گوئی کا کوئی انتظام نہیں ہے. جیسے مان لیجیئے چنئی کے کنارے کی ندی میں پانی کی سطح بڑھ گئی لیکن بھاری بارش کی وجہ سے شہر میں پانی کا مقدار دوسری طرف سے بڑھ گیا. اب اس کا حساب لگا کر بتانے کی انتظام ہونا چاہئے کہ چنئی میں کتنی گہرائی تک سیلاب آنے والا ہے. اس لیے جو لوگ پہلی منزل کے مکان میں رہ رہے ہیں انہیں کم از کم دو منزلہ مکان کی چھت پر جانا ہوگا. یہ نہیں ہوتا ہے.

دوسری کمی یہ ہے کہ ہم اسٹارم واٹر فوركاسٹ نہیں کرتے ہیں. اسٹارم واٹر بارش کے پانی کو کہتے ہیں. یہ ایک قسم کا شہری سیلاب ہے. جہاں ندیاں نہیں ہوتی ہے وہاں، اسٹارم واٹر سے سیلاب آتا ہے. اگر ہم بارش کی مقدار کی بنیاد پر یہ بتا سکیں کہ گڑگاؤں یا دہلی میں اتنی ملی میٹر بارش ہوگی تو سڑکوں پر پانی بھر سکتا ہے. آپ کی گاڑی ڈوب سکتی ہے تو کافی کچھ بچ سکتا تھا. اس لئے ہمیں واٹر لیول سے آگے جاکر سیلاب فوركاسٹ اور اسٹارم واٹر فوركاسٹ کی طرف بڑھنا ہوگا تبھی ہم جان مال کا نقصان بچا سکتے ہیں. ہمیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ سیلاب کا پانی آپ کے علاقے میں کب تک رہے گا.

مدھیہ پردیش اور راجستھان سے سیلاب کی صورت حال میں بہتری کی خبر ہے یعنی پانی کی سطح کم ہونے لگی ہے. مدھیہ پردیش میں ستنا اور ریوا سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر رہے. ادھر اتر پردیش میں الہ آباد، مرزا، وارانسی، مہوبا، باندہ اور اناؤ کے کئی علاقوں میں سیلاب آیا ہوا ہے. گنگا اور اس کی ذیلی ندیاں یہاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں.

وارانسی میں گنگا کے پانی میں  آس پاس کے گھاٹ ڈوبے ہوئے ہیں. مڑیكڑكا گھاٹ اور ہريش چندر گھاٹ ڈوبنے کی وجہ سے لاشوں کو  جلانے کی رسم یہاں اب گھاٹوں سے اوپر ہو رہی ہے. یہاں تک کہ گنگا آرتی بھی چھتوں پر ہو رہی ہے. وارانسی میں ورونا دریا بھی شباب پر ہے، جس کی وجہ سے اس کے اس کے آس پاس بسے دس ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں. الہ آباد میں بھی گنگا کا پانی رہائشی علاقوں میں گھس گیا ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close