آج کا کالم

سی بی آئی کے بعد اب آر بی آئی کی باری؟

مودی حکومت پر آئینی اداروں کے کام کاج میں دخل دینے کا الزام طول پکڑ رہا ہے۔

اکھلیش شرما

(اکھلیش شرما NDTV انڈیا کے سیاسی ایڈیٹر ہیں۔)

کیا سی بی آئی کے بعد اب حکومت نے ریزرو بینک آف انڈیا یعنی آر بی آئی کے کام کاج میں بھی دخل اندازی کی تیاری کر لی ہے؟ کیا آر بی آئی کی آزادی خطرے میں ہے؟ یہ سوال اس لیے ہے کیوں کہ آر بی آئی کے کام کاج میں دخل اندازی کے الزامات کے بعد حکومت کو اب صفائی دینے کے لیے سامنے آنا پڑا ہے۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ حکومت نے تاریخ میں پہلی بار آر بی آئی قانون کی دفعہ سات (7) کے تحت اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے کمزور بینکوں کے لیے نقد رقم مہیا کرانے، چھوٹے اور وسطی صنعت کاروں کو قرض دینے اور غیر بینکاری مالیاتی کمپنیوں کے لیے نقد رقم جیسے مسائل پر آر بی آئی کو کہا ہے۔

آر بی آئی کے ڈپٹی گورنر ویرل آچاریہ نے بے حد سخت الفاظ میں حکومت کی دخل اندازی کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جو حکومتیں مرکزی بینک کی آزادی کا احترام نہیں کرتیں، انہیں دیر سویر مالیاتی بازاروں کے غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اقتصادی بحران کھڑا کر دیتی ہیں اور اس دن کے لیے پچھتاتی ہیں جب انہوں نے ایک اہم منظّم ادارے کو نظر انداز کیا۔”

وہیں وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے تیکھے انداز میں پوچھا ہے کہ یو پی اے کے دور میں 2008 سے 2014 کے درمیان قرض دینے کی بات کو آر بی آئی کیوں نہیں روک پائی، جس کی وجہ سے ڈیڑھ سو ارب ڈالر سے زیادہ کا بقایا ہو گیا۔ آج وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ "آر بی آئی سے تفصیلی تبادلہ خیال مفاد عامہ میں ہے۔ حکومت اس بحث کو نہیں، بلکہ صرف فیصلوں کو عوامی کرتی ہے۔ حکومت مختلف مسائل پر اپنا اندازہ لگاتی ہے اور ممکنہ تجویز دیتی ہے۔ وہ آگے بھی ایسا ہی کرتی رہے گی۔ ” وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ حکومت اور آر بی آئی کے درمیان ہوئی بحث کو آج تک کبھی عوامی نہیں کیا گیا ہے۔

حالاں کہ جانکار، آر بی آئی اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی پر حیران ہیں۔ رگھو رام راجن کے جانے کے بعد حکومت کی پسند سے ہی اُرجت پٹیل کی تقرری کی گئی۔ نوٹ بندی جیسے متنازعہ اقدامات کے وقت پٹیل نے آنکھ بند کرکے ہدایات پر عمل کیا اور تنقید کے شکار بنے۔ مودی حکومت نے آر بی آئی کو سود کی شرح مقرر کرنے کی آزادی دی۔ پہلی بار اس کے لیے چھ رکنی کمیٹی بنائی گئی۔ پھر تنازعہ کیوں ہوا؟ اس کے کئی وجوہ بتائے جا رہے ہیں۔

آر ایس ایس کے بے حد قریبی اور مقامی ’جاگرن منچ‘ سے منسلک رہے ایس گرومورتی کو آر بی آئی بورڈ کا رکن بنانے کے بعد کچھ مسائل پر تنازعہ ہوا۔ گرومورتی نے اچھے، چھوٹے اور درمیانے یعنی ایم ایس ایم ای طبقوں کے لیے قرض کے قوانین اُدار بنانے کی وکالت کی۔ انہوں نے ویرل آچاریہ کے مقبول ترین  تقریر کے خلاف اُرجت پٹیل کو خط بھی لکھا ہے۔ انتخابی سال میں اپنا خرچ بڑھانے کے لیے حکومت کی نظریں آر بی آئی کے 3.6 لاکھ کروڑ روپے کے ریزرو پر نظر ہے اور وہ چاہتی ہے کہ آر بی آئی حکومت کو یہ پیسہ دے۔ آر بی آئی اس کی مخالفت کر رہا ہے، کیونکہ اس سے معیشت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ حکومت نے ایل آئی سی سرمایہ کاری، آئی ڈی بی آئی کو مدد پہنچانے میں کی اور پی پی ایف کی رقم کا استعمال ایئر انڈیا کو فائدہ پہنچانے کے لیے جا رہا ہے۔ حکومت، بجٹ خسارہ  اور جی ڈی پی کا 3.3 فیصد رکھنے کا ہدف پورا کرنا چاہتی ہے، لیکن انتخابی سال میں خرچ بھی کرنا چاہ رہی ہے۔ حکومت ڈجیٹل ادائیگی کو آر بی آئی کے دائرے سے باہر لا کر آزاد ریگيولیٹر بنانا چاہتی ہے جو آر بی آئی کو منظور نہیں۔ آر بی آئی سرکاری بینکوں پر کنٹرول بڑھانا چاہتی ہے جس کے لیے حکومت تیار نہیں۔

مودی حکومت پر آئینی اداروں کے کام کاج میں دخل دینے کا الزام طول پکڑ رہا ہے۔ ایسے میں کیا مودی حکومت آر بی آئی کی آزادی کو کم کرنے کا خطرہ مول لے سکتی ہے؟ یا پھر آر بی آئی کا بحران بعض افراد کے مفاد کا ٹکراؤ ہے؟ ظاہر ہے ایسے میں جب انتخابات میں چند ماہ باقی ہیں، آر بی آئی جیسی ادارے سے تصادم کرکے مودی حکومت اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مار رہی ہے۔

مترجم : محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close