آج کا کالم

سی بی ایس ای امتحان کا پرچہ لیک کیسے ہوا؟

رويش کمار

الیکشن کمیشن کی تاریخ لیک ہو جاتی ہے، سی بی ایس ای کے امتحان کے پرچے لیک ہو جاتے ہیں. سی ای سی سے لے کر سی بی ایس ای تک سب لیک ہی لیک ہے. ملک بھر کے 16 لاکھ 40 ہزار بچے سی بی ایس ای کی دسویں کا امتحان دے کر بدھ کو جب گھر پہنچے اور امتحان ختم ہونے کے بعد پارٹی کرنے کی تیاری کر رہے تھے تبھی امتحان منسوخ ہونے کی خبر نے انہیں اچمبھے میں ڈال دیا. 28 مارچ کو ریاضی کے پرچے کے ساتھ امتحان ختم ہونا تھا لیکن اس فیصلے نے لاکھوں ماں باپ اور بچوں کو جھنجھوڑ دیا ہے. تین ماہ سے اپنی ملازمت سیریز کے دوران ایک ہی سوال کر رہا ہوں. کیا ہندوستان کے نوجوانوں کو ایماندار امتحانی نظام ملے گا؟ جب وزیر اعظم نے کتناؤ دور کرنے کے لئے ایک کتاب لکھی اس وقت بھی کہا تھا کہ طالب علموں کے تناؤ کی وجہ امتحان نہیں ہے، امتحانی نظام ہے. نہ تو بغیر چوری کے  امتحان ہوتے ہیں، نہ ہی بغیر دھاندلی کے رذلٹ آتے ہیں. اگر امتحان کا نظام ٹھیک کر دیا جائے تو تناؤ نہیں ہوگا. پھر وزیر اعظم کو اپنا اہم وقت تناؤ دور کرنے کی کتاب لکھنے میں نہیں لگانا پڑے گا.

آج ہی ایک نوجوان نے بی آر امبیڈکر بہار یونیورسٹی سے خط لکھا ہے کہ کئی ہزار طالب علموں کا رذلٹ ایک سال سے اٹکا ہوا ہے، وہ بھی یونیورسٹی کی وجہ سے. اس بہار میں جہاں نیتا نوجوانوں کو فسادات کی طرف ہانک رہے ہیں. ہماری نوکری اور امتحان سیریز کا یہ بنیادی سوال ہے کہ فیصلہ کریں کہ بچوں کو فسادی بنانا ہے یا ڈاکٹر بنانا ہے. سی بی ایس ای  کو 10 ویں کی ریاضی کا امتحان اور 12 ویں کی معاشیات کا امتحان منسوخ کرنا پڑا ہے. کل سے ماں باپ پریشان تھے، کہہ رہے تھے کہ وہاٹس اپن يونورسٹی میں ریاضی کا پرچہ گھوم رہا ہے، کیا صحیح ہے. ہمارا جواب یہی تھا کہ امتحان سے پہلے ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہی پرچہ ہے. شاید وہ صحیح نکلے، سی بی ایس ای  کو یہ فیصلہ لینا پڑا کہ 10 ویں کے امتحانات منسوخ کیے جاتے ہیں.

ریاضی کا پرچہ ویسے ہی تناؤ پیدا کر دیتا ہے، بہت سے طالب علم اس کے تناؤ کو ہینڈل نہیں کر پاتے ہیں اس لیے اس کا امتحان آخر میں رکھا جاتا ہے تاکہ اس کے اثر سے باقی امتحانات خراب نہ ہو جائیں. والدین کورٹ میں جانے کی سوچ رہے ہیں، غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں. لاکھوں گھروں میں اس وقت کہرام مچا ہوا ہے. حال ہی میں انڈین ایکسپریس کی رتكا چوپڑا کی ایک رپورٹ چھپی تھی. این سی ای آرٹی نے ایک نیشنل اچیومنٹ سروے کرایا ہے. ملک بھر کے 700 اضلاع میں 22 لاکھ طالب علموں کا سروے ہوا ہے. تیسری سے آٹھویں کلاس کے طالب علموں میں ریاضی کے سوالوں کے جواب دینے کی صلاحیت میں بھاری کمی آئی ہے. آپ یوپی بہار مدھیہ پردیش کے بورڈ میں ریاضی رذلٹ دیکھئے پتہ چلے گا کہ اس ایک موضوع نے امتحان اور تعلیم پر کتنا دباؤ بنا دیا ہے. ایسے میں اگر پرچہ لیک ہونے لگے، وهاٹس اپ پر  لکھا سوال گھومنے لگے پھر آپ سوچئے گزشتہ دو دنوں میں ماں باپ اور بچوں پر کیا بیتی ہو گی.

بہت سے والدین نے ای میل کیا ہے کہ ہمارا بچہ جو تناؤسے گزرے گا اس کی ذمہ داری کون لے گا. میرے موبائل پر مہاراشٹر کے جلگاؤں  کی ایک بڑی تعداد بار بار فون کر رہی تھی. ہم نے اٹھایا تو ادھر سے ایک دسویں کلاس کی لڑکی تھی، آواز میں غصہ بھی تھا، مایوسی بھی تھی. اس آپ کے سوال تھے تو ہم نے کہا کہ ویڈیو ریکارڈ کرکے بھیج دو.

وزیر اعظم نے انسانی وسائل کے وزیر پرکاش جاوڈیکر سے بات کی ہے. ایسا ذرائع کا کہنا ہے. ملک بھر میں امتحانات کے پرچے لیک ہو رہے ہیں، ان کی فکر کوئی نہیں کرتا. مگر یہاں معاملہ اس مڈل کلاس کا ہے، ان سی بی ایس ای اسکولوں کا ہے، اس لیے وزیر اعظم کی ایکٹیویشن بھی قابل ذکر ہے.

آپ نے دہلی میں دیکھا ہوگا. جب ایس ایس سی کے طالب علم امتحانی نظام میں دھاندلی کو لے کر کئی دنوں تک دہلی میں دھرنے پر بیٹھے رہے. ان دھرنوں کو سیاسی طور پر  توڑنے کی کوشش ہوئی، کبھی کوچنگ مافیا کا ہاتھ بتایا گیا تو کبھی کچھ مگر یہ طالب علم یہی تو کہہ رہے تھے کہ ایماندار امتحانی نظام کا بندوبست چاہئے. مایس ایس سی کے امتحانات میں جو دھاندلی ہو رہی ہے اس کی جانچ سی بی آئی سے ہو اور سپریم کورٹ اس کی نگرانی کرے. ان کی بات پر ایس ایس سی نے بھی توجہ نہیں دی مگر بعد میں جب تحریک تیز ہوئی تو کچھ امتحانات منسوخ کرنے پڑے. اب یہ طالب علم دوبارہ 31 مارچ کو دہلی آ رہے ہیں. پھر آپ ٹی وی کھول کر دیکھئے گا کہ ان کی درخواست پر کون سا چینل توجہ دیتا ہے.

اسٹاف سلیکشن کمیشن کے امتحان میں دھاندلی ہونے اور اس کے بعد آندولن سے ہی سی بی ایس ای کو محتاط ہو جانا چاہیے تھا. ایس ایس سی نے بھی پہلے توجہ نہیں دی مگر بعد میں سمجھا کی لیک ہو سکتا ہے اور 21 فروری کے امتحان کو منسوخ کرنا پڑا. طالب علم مطالبہ کر رہے ہیں کہ دوبارہ سے ہوگا. آج ہی دہلی سے خبر ہے کہ دہلی پولیس نے ایس ایس سی کی لوئر ڈویژن کلرک امتحان پرچہ لیک معاملے میں چار افراد کو گرفتار کیا ہے. ان کے پاس سے 51 لاکھ نقد، 3 لیپ ٹاپ، 10 موبائل فون، بہت سے پین ڈرائیو اور ہارڈ ڈسک برآمد ہوئے ہیں. دہلی پولیس اور یوپی ایس ٹی ایف نے مل کر یہ آپریشن کیا ہے.

منگل یعنی 28 فروری کو جب ہزاروں طالب علم آن لائن امتحان دے رہے تھے تبھی یوپی ایس ٹی ایف کی اطلاع پر دہلی پولیس نے ان کے ساتھ گاندھی وہار میں چھاپہ ماری کی. یہ لوگ آن لائن کاغذ حل کرا رہے تھے. آن لائن امتحان بھی چوری سے آزاد نہیں ہے. اس کے لئے بہت  سے فلیٹ بھی کرایہ پر لئے گئے تھے. ہمارے ساتھی مکیش سنگھ سانگر کی رپورٹ کا یہ حصہ ہے. مکیش سنگھ سانگر کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے گاندھی وہار میں تقریبا 15 کمپیوٹر لیب بنا رکھے تھے. یہیں سے آن لائن سوالات کا جواب تیار کیا جاتا تھا. ایک ایک طالب علم سے 15 لاکھ روپے لے کر یہ نوکریوں میں پاس کرا رہے ہیں. پولیس کے مطابق یہ لوگ 180 طالب علموں کے پرچے سولو (حل) کر چکے ہیں. اب اگر آپ 15 لاکھ سے ضرب کیجیے تو یہ رقم ہوتی ہے 27 کروڑ. کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس میں بڑے بڑے لوگ بھی شامل ہوں گے.

پولیس کے مطابق ایس ایس سی نے امتحانات کا ٹینڈر SIFY نام کی ایک کمپنی کو دیا ہوا ہے. اس کے بھی ملازم اس کھیل میں شامل ہو سکتے ہیں. تو کیا طالب علموں کی مانگ میں دم نہیں تھی کہ میٹرک کے امتحان میں دھاندلی ہو رہی ہے. آج ہی اخبارات میں اسٹاف سلیکشن وزیر مملکت جتندر سنگھ کا بیان آیا ہے کہ ایس ایس سی  كمبائنڈ گریجویٹ لیول 2017 کے امتحان دوبارہ نہیں ہوں گے. اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے. ایک طرف دہلی پولیس ایس ایس سی کا امتحان میں آن لائن سوال حل کرنے کے گروہ کو پکڑ رہی ہے، دوسری طرف وزیر کہہ رہے ہیں کہ دوبارہ امتحان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کیونکہ ایس ایس سی  سي جي ایل 2017 کے امتحان میں سوالات کے پرچے لیک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے. یہ جواب جتندر سنگھ نے لوک سبھا میں تحریری طور پر دیا ہے. وزیر جی کا تحریری جواب کچھ ہے، دوسری طرف دہلی پولیس امتحان لیک کرنے کے معاملے میں 4 افراد کو گرفتار بھی کر رہی ہے.

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جب یہ طالب علم 12 ویں پاس کرکے کالج کی طرف جائیں گے تو وہاں کہاں جائیں گے. کبھی آپ نے ریاستوں میں کالجوں کی حالت دیکھی ہے، وہاں استاد ہیں یا نہیں، یہ پتہ کیا ہے، پتہ کر لیجئے پھر اسکول کی پڑھائی کو لے کر ٹینشن کیجیے. آپ کے بچوں کے لئے اچھے کالج نہیں ہیں. لیڈروں نے کالجوں کو برباد کر دیا ہے. آپ کو یقین نہ ہو تو آپ اپنی ریاست بتائیے، وہاں آکر میں دکھا سکتا ہوں. یونیورسٹی سیریز میں آپ نے دیکھا ہوگا کالج کباڑ میں بدل چکے ہیں. کچھ کالج بچے ہیں وہاں بھی نئے مسائل دستک دے رہے ہیں. جب آپ یہ خبر سنتے ہیں کہ حکومت اب کالجوں سے کہے گی کہ 100 میں 70 روپیہ دیں گے مگر 30 روپے کا انتظام آپ کو خود کرنا ہوگا، لون لینا ہوگا، اس کا سود دینا ہو گا تو کیا آپ کو سمجھ پاتے ہیں کہ اس فیصلے کا آپ کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا. انہی سوالوں کو لے کر دہلی یونیورسٹی میں ایک ہفتے تک ہڑتال رہی ہے مگر کہیں کوئی بحث نہیں.

 ملک بھر کے کالجوں کی حالت بہت ہی خراب ہے. اتنی کہ آپ اگر میری یونیورسٹی سیریز کے 27 ایپی سوڈ دیکھ لیں گے تو کھانا ہضم نہیں ہو گا. جتنی تقریر رام نومی کے جلوس کو لے کر ہے، اتنی تقریر کالجوں کی خستہ حالت کو لے کر نہیں ہے. آہستہ آہستہ اعلی تعلیم مہنگی ہوگی تو غریب ماں باپ اپنے بچوں کو کالج میں کس طرح بھیج سکیں گے. اول تو کسی بھی ریاست میں ایک بھی کالج ابھی ڈھنگ کا نہیں بچا ہے. کافی تعداد میں اساتذہ کی کمی ہے. سشیل مهاپاترا اور امتیش نے اس ریلی میں آئے طلبا سے جاننا چاہا کہ ان کے درمیان ان سوالات کو لے کر کیسی سمجھ ہے. امتیش سے ایک لفٹ مین نے کہا کہ جے این یو والے پردرشن ہی کرتے رہتے ہیں،جب امتیش نے بتایا کہ وہ اس وجہ سے ہیں کہ آپ کے بچے جب کالج میں جائیں تو اچھی اور سستی تعلیم مل سکے تو وہ ادھر ادھر جھانکنے لگے. جب حقیقت سامنے رکھی جاتے ہے تو جواب دیتے نہیں بنتا ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close