آج کا کالم

شری روی شنکر، کانٹا لگے نہ کنکر

ڈاکٹر سلیم خان

زندگی کا فن  (Art of living)سکھانے والے شری شری روی شنکر کی حالت  مضحکہ خیز (Funny)  ہوتی جارہی ہے۔ یہ الگ بات ہے  کہ وہ دھن کے پکے ہیں اور جس کام کا بیڑہ اٹھالیتے ہیں  اس کو غرق کیے بغیر باز نہیں آتے۔ ایک مرتبہ دہلی میں آرٹ آف لیونگ کی کانفرنس کا ارادہ کیا اور اس میں وزیراعظم کو دعوت دی۔ اس کانفرنس سے قبل اجتماع گاہ کی تیاری کے دوران ہونے والے ماحولیات کے نقصان پرقومی سبز عدالت نے ماہرین کو اندازہ لگانے کی ذمہ داری سونپی  تو ۱۲۰ کروڈ کا تخمینہ لگایا گیا۔ سری سری روی شنکر کو جینے کا فن سکھانے کیلئے   ان پر کم از کم ۲۵۰  کروڈ کا جرمانہ لگایا جانا چاہئے تھا لیکن گوں ناگوں وجوہات کی بناء پر  عدالت نے ۱۰۰ کروڈ پر اکتفاء کیا۔ روی شنکر جی نے اپنے فن اوررسوخ کا استعمال کرتے ہوئے جرمانے کو گھٹا کر۵ کروڈ کروا دیا۔ اس سے ان کے حوصلے بڑھ گئے اور وہ رام مندر کے تنازع میں کود پڑے لیکن سابق رکن  پارلیمان اور شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کےرہنمارام ولاس ویدانتی کے شری شری روی شنکرپر ایودھیا میں داخلہ پر پابندی لگانے کےمطالبے کے بعد انہیں (living) کے بجائے (leaving) ایودھیا  کا فن نیرو مودی سے سیکھنا پڑے گا جو گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوگیا ہے۔

رام ولاس ویدانتی کا  کہنا ہے کہ شری شری کا ایودھیا معاملہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ بلا وجہ ماضی میں ہونے والے معاہدوں سےالگ فارمولہ بنا رہے ہیں جو رام جنم بھومی قضیہ  سے وابستہ لوگوں کو برداشت نہیں ہوگا۔ ویدانتی کے مطابق  جس وقت رام جنم بھومی کے لئے سنت، پریشدکے کارکن اور بی جے پی لیڈر تحریک چلارہے تھے اور جیل جارہے تھے  شری شری کا کہیں پتہ نہیں تھا۔ اب  ان کی اچانک دخل اندازی کو تحریک سے منسلک کوئی بھی شخص یا تنظیم قبول نہیں کرے گی۔ شری شری  چونکہ کسی دیوی دیوتا کو نہیں مانتے اس لیےبھگوان شری رام کے تئیں اچانک یہ محبت کسی کے گلے نہیں اتر تی۔ ویدانتی اس سے قبل نومبر میں بھی شری شری پر کئی سنگین الزامات عائد کر چکے ہیں۔ انہوں  نے کہا تھا کہ ’’ شری شری روی شنکر کون ہوتے ہیں ثالثی کرنے والے؟ انہیں چاہئے کہ وہ اپنی این جی او چلائیں اور بیرونی فنڈ لینا جاری رکھیں۔ ‘‘ ویدانتی نے  اندیشہ ظاہر کیا  تھاکہ ’’ شری شری نے بے شمار دولت جمع کی ہوئی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ کسی طرح کی جانچ سے بچنے کے لئے اس تنازع میں کود پڑے ہیں۔ ‘‘

وشوا ہندو پریشد کے رہنما ویدانتی نے جس طرح کی الزام تراشی شری شری روی شنکر کے خلاف کی ہے اسی طرح کے الزامات   بابری مسجدرام مند ر تنازع کے ایک اہم فریق ’نرموہی اکھاڑہ ‘نے خود وی ایچ پی پر  بھی  لگائے ہیں۔ نرموہی اکھاڑہ کے مہنت سیتا رام داس کے مطابق  رام مندر تعمیر کے نام پر وی ایچ پی نے ۱۴۰۰ کروڑ روپے جمع  کئے۔ سیتا رام نے بی جے پی کو بھی  نہیں بخشا اور ببانگ دہل اعلان کیا کہ ’’ رام مندر تنازع میں ہم اہم فریق ہیں لیکن سیاسی رہنماؤ ں نے اس پرقبضہ کر لیا۔ مندر تعمیر کے نام پر اکٹھا کئے گئے روپیوں کا استعمال کرتے ہوئے حکومت بنا لی۔ سیاسی رہنماؤں نے رام مندر کے نام پر ووٹ اور نوٹ دونوں کمائے، لیکن رام مندر کےلیے  کبھی ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا۔ وی ایچ پی نے گھر گھر جا کر لوگوں سے ایک ایک اینٹ اور روپیہ مانگا اور اسے کھا گئے‘‘۔وی ایچ پی رہنما ونود بنسل نے ان الزامات  کو مسترد کرتے ہوئے یہ تو کہاکہ وی ایچ پی نے ہر چندے کا حساب دیا ہے۔ یہ حساب کس کو  دیا گیا کوئی نہیں جانتا۔

سوئے اتفاق سے جس طرح کے الزامات  نرموہی اکھاڑے نے وی ایچ پی پر اور ویدانتی نے شری شری روی شنکر پر لگائے اسی طرح کا الزام ایودھیا سدبھاونا سمنویہ سمیتی کے جنرل سکریٹری  امرناتھ مشرا نے مولانا سلمان ندوی کے خلاف تحریری شکل میں  لکھنو کے حسن گنج تھانہ میں جاکر لگائے۔   مالی مطالبات کے علاوہ جنہیں پرسنل لاء بورڈ نے بھی مسترد کردیا مشرا کا کہنا تھا  کہ مولانا ندوی کو تجویز لکھ کر دیدی  گئی تھی۔مولانا  ندوی کو اس تجویز پر پہلے بورڈ میں تبادلہ خیال کرنا چاہئے تھا    مگر انہوں نے اسے میڈیا میں منکشف کردیا، جس کی وجہ سے بورڈ مولانا سے ناراض ہوگیا۔ کیا یہ عجیب بات  نہیں ہے کہ امرناتھ مشرا جیسا فتنہ پرور انسان   مولانا کو نصیحت کر رہا ہے کہ انہوں بورڈ کے اندر گفت و شنید   کرنے کے بجائے پریس میں جاکر  غلطی کی؟

رام مندر کی تعمیر پر تو مختلف زعفرانی تنظیموں میں اتفاق رائے ہے مگر اس کی  ملکیت اور انتظام وانصرام  کو لے کر وہاں پر کئی دعویدار ہیں جو ایک دوسرے کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ نرموہی اکھاڑہ کی قیادت مہنت بھاسکر داس  کررہے تھے اور وشو ہندو پریشد کا  رام جنم بھومی نیاس ہےجس کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس ہیں۔ وہ دونوں   ایک دوسرے کو غاصب کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مہنت جنمےجئے شرن نےرام جنم بھومی نرمان نیاس سمیتی قائم کررکھی ہے۔  امرناتھ مشرا  اس رام جنم بھومی نرمان نیاس سمیتی کا جنرل سکریٹری  اور ایودھیا سدبھاونا  سمنویہ سمیتی کا صدر تھا۔ مولانا سلمان ندوی  پر الزام تراشی کےبعدسمیتی نے مشرا کو نکال  باہر کیا۔ مہنت جئے شرن کے مطابق  امرناتھ مشرا کا سمیتی کی اجازت کے بغیر ہی ادھر ادھرایسے  بیانات دینا  جس سے سمیتی کا لینا دینا نہ ہو پالیسی کے ورزی  ہے۔  مشرا  کی طرح مولانا سلمان نے بھی بورڈ کی اجازت کے بغیر بیانات دیئے ان کے ساتھ بورڈ نے وہی معاملہ کیا جو مشرا کے ساتھ کیا گیا۔ اس طرح روی شنکر کے دو دوست اپنی اپنی تنظیموں میں یکساں  انجام سے دوچار ہوے۔

اپنی تما م تر ناکامیوں کے باوجود شری شری روی شنکر کے کانٹے اور کنکر کی برسات جاری ہے۔ امرناتھ مشرا سے ہاتھ جھٹکنے کے بعد انہوں نے مسلمانوں کو مل بیٹھنے کی دعوت دی تو مولانا سلمان ندوی کے انجام سے عبرت پکڑ کر کوئی مسلم رہنما شری شری کے پاس نہیں پھٹکا  لیکن وہ مایوس نہیں ہوے۔ انہوں نے بنگلور سے لکھنو کا ٹکٹ خریدا اور ازخود  مولانا کی خدمت میں ندوہ پہنچ گئے۔ اس سے قبل مولانا نے اپنے ویڈیو بیان میں دو ٹوک  فرما دیا تھا کہ اب ایودھیا کے معاملے سے وہ الگ ہورہے ہیں۔ اس معاملے میں چونکہ دونوں فریق گفت و شنید کے لیے راضی نہیں ہیں اس لیے وہ خود بھی عدالتی فیصلے کا انتظار کریں گے۔ اس کے باوجود روی شنکر نے ان سےملاقات کے بعد کہا کہ عدالت میں معاملہ ہے، اس کا حل تبھی نکل سکتا ہے جب دونوں فریق ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کریں۔ مولانا سے اس مہم کا حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی متعدد لوگوں سے ان کی ملاقات  ہو چکی ہے۔ عدالت سے اس معاملے کا کوئی حل نہیں نکل سکتا، کسی ایک فریق کو شکست قبول کر نا پڑے گا۔ ملک میں پر امن ماحول بنا رہے اس کے لئے دونوں فریق کے درمیان بات چیت چل رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ۲۸ مارچ کو ایک میٹنگ بلائی گئی ہے۔اس میٹنگ میں دونوں مذہب کے دانشوروں کو بلایا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا سلمان ندوی اس میں شریک ہوتے ہیں یا اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں ؟

شری شری روی شنکر کی یہ کوششیں پہلی بار ماہ نومبر میں  منظر عام پر آئیں۔ اس کی ابتداء انہوں نے یوگی ادیتیہ ناتھ کے ساتھ ملاقات سے کی  لیکن یوگی جی  نے کہہ دیا شری شری روی شنکر سے ملاقات کے دوران رام مندر کے مسئلہ  پر تفصیل سے بات نہیں ہوئی۔ اس طرح گویا  یوگی نے شری شری کو اہمیت دینے سے انکار کردیا  اور ایک  خبروں کےچینل پر یہ کہتے ہوئے دکھائی دئیے کہ ثالثی کے لئے اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ یوگی جی پر جب داوں نہیں چلا تو شری شری نے اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی پر دام ڈالا اور وہ پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی گود میں آگرے۔ رضوی نے۱۷ نومبر کو  نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا  تھا کہ جو لوگ ملک میں امن چاہتے ہیں ان کوششوں کی ستائش کررہے ہیں اور امید ظاہر کی کہ  شری شری روی شنکر کی کوشش سے مسئلہ کا حل نکل آئے گا۔

اس میں شک نہیں کہ بابری مسجد کے تنازع سے اعلان برأت کرتے ہوئے جو بیان مولانا سلمان ندوی نے دیا اس کے اندر اور وسیم رضوی کے سابقہ  بیان میں خاصی مشابہت ہے  لیکن  اب وہ اور آگے بڑھ گئے ہیں۔ ایک زمانے تک ہندو شدت پسند تین مسجدوں پر دعویٰ کرتے تھے اور مداہنت پسند مسلم دانشور ان کو دے دلا کر امن کے خواب دیکھتے تھے لیکن اب رضوی صاحب نے ازخود اس میں ۶ کا اضافہ کرکے ۹ مساجد دینے کی پیشکش کردی ہے۔ یہ سلسلہ کہاں رکے گا یہ تو شری شری یا مولانا سلمان ندوی ہی بتا سکتے ہیں۔  روی شنکر سے ملاقات کے بعد رضوی نے  ایک ایسے منچ کی ضرورت پر زور دیا تھا  جہاں دونوں فرقے کے لوگ بھائی چارے اور خیر سگالی کے ماحول میں بات چیت کریں۔  مولانا سلمان ندوی  نے اس منچ کو فلاح انسانیت بورڈ کا نام دیا مگر مقصد وہی ہے اس لیے امید ہے کہ وسیم رضوی کو اس کی رکنیت سے سرفراز کیا جائے گا اور ممکن ہے کسی عہدے سے بھی نوازہ جائے۔

ایسا لگتا ہے کہ  امن و شانتی کا پیغام دینے والے شری شری روی شنکر کا پیمانۂ صبر لبریز ہورہا ہے ورنہ وہ ایک ٹیلیویژن ملاقات میں نہیں کہتے کہ ’’ ایودھیا تنازعہ کا حل اگر جلد نہیں نکالا گیا تو ہندوستان شام بن جائے گا۔ انہوں نے صاف اعلان کیا کہ  ایودھیا مسلمانوں کا مذہبی مقام نہیں ہے اس لئے انہیں اپنا دعویٰ چھوڑکر ایک مثال پیش کرنی چاہئے۔ اس ملک کے مستقبل کو ان کے حوالہ مت کیجئے جو جھگڑے پر  اپنا وجود قائم کرتےہیں۔ یہاں امن قائم رہنے دیجئے ہمارے ملک کوشام جیسا نہیں بنانا چاہئے۔ ایسے حالات یہاں بن جائیں تو ستیا ناس ہو جائے گا۔ عدالت میں ایک  فریق کو شکست قبول کرنی پڑے گی ایسے میں شکست خوردہ فریق ابھی تو مان جائے گا لیکن کچھ وقت کے بعد پھر تنازع شروع ہو جائے گا اور وہ سماج کے لئےیہ اچھا نہیں ہوگا‘‘۔ مناسب معلوم ہوتا ہے شری شری روی شنکر کے رفیق کار مولانا سلمان ندوی اور وسیم رضوی وضاحت فرمائیں کہ یہ دھمکی کس کو دی گئی ہے؟  سچ تو یہ ہے کہ  شری شری روی شنکر کے کانٹے نے وی ایچ پی اور کنکر نے نرموہی اکھاڑے کو مات دی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close