آج کا کالم

شری شری روی شنکر کیا چاہتے ہیں؟

پریہ درشن

مترجم: محمد اسعد فلاحی

آرٹ آف لِونگ کے گرو شري شري روی شنکر کہہ رہے ہیں کہ اس ملک کو سیریا ہونے سے بچایا جائے، اس لیے  ایودھیا میں متنازعہ مقام پر رام مندر کی تعمیر پر عام رائے بنائی جائے. وہ کہتے ہیں، تمام کمیونٹیز کے لوگوں سے بات کرکے اس کا راستہ نکالا جائے. وہ کہتے ہیں کہ عدالت کا فیصلہ مندر کے حق میں آئے یا اس خلاف- لیکن اس سے ماحول بگڑے گا. مسلمان دکھی ہوں گے یا پھر ہندو ناراض. ملک خانہ جنگی کے دہانے پر چلا جائے گا.

ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کا اکلوتا اقدام ان کی نگاہ میں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر ہے. ظاہر ہے، جو ڈائیلاگ وہ دوسرے فرقوں سے کرنا چاہتے ہیں، اس کا نتیجہ انھوں نے پہلے سے طے کر لیا ہے. ان سے کون پوچھے کہ جس کے نتیجے پہلے سے طے ہوں، اس سلسلے بات چیت کرنے کے کیا معنیٰ ہیں. ان کو بس دوسروں کو سمجھانا ہے کہ رام مندر بن جائے، اسی میں ان کا بھلا ہے، وہ محفوظ ہیں، ان کو پر امن طریقے سے بھارت میں رہنے کی ضمانت ہے. یہ بات وہ بار بار مدھر آواز میں دہرا رہے ہیں.

اس ترتیب میں وہ بھارتی قومی ریاست اور بھارتی عدلیہ کی توہین بھی بہت آرام سے کر رہے ہیں. بھارتی قومی ریاست جس تنوع کی ضمانت دیتا ہے، جسے اپنا منفرد سرمایہ سمجھتا ہے، وہ صرف اس وجہ سے محفوظ ہے کہ یہاں سب کو برابری کی حیثیت دینے والا ایک آئین ہے جس پر عمل کی ذمہ داری ہم سب نے لے رکھی ہے. اسی آئین میں اس کا بندوبست ہے کہ جب کمیونٹیز یا انفرادی علاقوں کے درمیان کوئی تنازعہ اس موڑ تک پہنچ جائے کہ وہ آپس میں کوئی سمجھوتہ نہ کر سکیں، تو اس معاملے سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی فیصلہ ہو گا. کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان کاویری کا پانی بانٹنے کو لے کر جب کوئی عام رائے نہیں بن پائی تو سپریم کورٹ نے ہی فیصلہ کیا.

اگر سارے فیصلے شري شري روی شنکر کے سدوبھاو والے رویہ سے ہی کر لئے جاتے تو ملک میں سپریم کورٹ کی ضرورت ہی نہ پڑتی. سپریم کورٹ اسی لیے بھی ہے کہ اس ملک میں بہت ساری کمیونٹیز ہیں، ان کے بہت سارے مذہب ہیں، آپس میں ٹکراتے نظریات ہیں اور ان کے درمیان ایک آئینی حل نکالنے کی ضرورت ہے. ویسے آئینی نظام کی توہین شري شري روی شنکر کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے، یہ جمنا کنارے ان کے پروگرام کو لے کر این جي ٹي کے فیصلے پر ان کے رویہ سے ثابت ہو چکا ہے.

کچھ دیر کے لئے مان لیں کہ شري شري روی شنکر کی ہم آہنگی کا خیال کرتے ہوئے ایودھیا میں متنازع مقام کو رام مندر کی تعمیر کے لئے چھوڑ دیا جائے. لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ یہ ضمانت کون دے گا کہ رام مندر کے بعد کاشی وشوناتھ یا متھرا یا کسی چوتھے مندر کا مسئلہ لوگوں کی آستھا کا مسئلہ نہیں بنے گا؟ یا گؤركشا سے لے کر لَو جہاد تک پر پہلے زخمی اور پھر جارحانہ ہوتی آستھائیں سڑکوں پر بے گناہوں کی پٹائی نہیں کریں گی، گھروں سے لوگوں کو نکال کر نہیں ماریں گي؟

اگر ملک میں سب کو برابری کی آئینی ضمانت ہے تو اس کا ایک مطلب بھی یہ ہے کہ آئین کے دائرے میں ہر کسی کو اختلاف کرنے کا حق ہے. اس اختلاف میں آخری فیصلہ صرف سپریم کورٹ کا ہی چلے گا جو بھارتی آئین اور پارلیمنٹ کے بنائے قوانین کے تحت کام کرتا ہے.

جہاں تک رام مندر کا معاملہ ہے، یہ بہت عام سوال ہے کہ رام مندر بھارت میں یا ایودھیا میں نہیں بنے گا تو کہاں بنے گا؟ اس کے بعد یہ سوال پیدا  ہوتا ہے کہ کیا ایودھیا میں رام کے مندر کے لئے جگہ نہیں ہے؟ جبکہ اس ملک میں یا ایودھیا کے اندر بھی رام کے ڈھیر سارے مندر ہیں. اصل اعتراض  رام کا مندر اس زمین پہ بنانے  کا ہے جس کی ملکیت پر کسی اور کا دعوی ہے. سپریم کورٹ کا کام یہی ہے کہ وہ اس دعوے کی تصدیق کرے یا پھر اسے مسترد کرے. یہ کام دراصل ہائی کورٹ کو بھی کرنا تھا لیکن ہائی کورٹ نے ہم آہنگی کے نام پر ہی زمین کے تین حصے تینوں دعویداروں کے نام کر دیے، کیونکہ اس کے بعد بھی یہ اندیشہ تھا کہ کسی ایک طرف ہوئے فیصلے سے ملک میں امن  بگڑے جائے گا. لیکن جب امن کے نام پر انصاف کا راستہ چھوڑتے ہیں تو امن بھی نہیں ملتا اور انصاف تو ملتا ہی نہیں ہے.

انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اس ملک کے قوانین کے تحت ہی ایودھیا تنازعہ کا فیصلہ ہو اور سپریم کورٹ یہ کام غیر جانب دار ہو کر کرے. اس کا جو بھی نتیجہ ہو، کیوں یہی موقف اس ملک میں آئین کی بالادستی کو قائم کرے گا اور بالآخر باہمی اختلافات حل کرنے کے آئینی راستے کو کچھ اور مضبوطی ملے گی.

بحران یہ ہے کہ اس کے راستے میں صرف شري شري روی شنکر ہی نہیں آ رہے، پوشیدہ طور پر کچھ منتخب کردہ عوامی نمائندے اور چنی ہوئی حکومتیں تک آ رہی ہیں. دراصل اس ملک کی جمہوریت کے سامنے حقیقی چیلنج یہ نہیں ہے کہ رام مندر بنتا ہے یا نہیں بنتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے بننے یا نہ بننے کا راستہ سپریم کورٹ سے ہوکر جاتا ہے یا نہیں؟ اگر ہم اتنی بات سمجھ لیں تو یقین کے ساتھ ہم اس ملک کو شام یا عراق ہونے سے بچا لیں گے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close