آج کا کالم

شر پھیلانے والے کو عدلیہ کا بھی ڈر نہیں؟

رويش کمار

یہ تصویر 14 دسمبر کی  ہے۔ جس دن نیوز چینل ایگزٹ پول آنے کا انتظار کر رہے تھے، وزیر اعظم کا روڈ شو ہوا اور الیکشن کمیشن نے راہل گاندھی کو ان کے انٹرویو کے لئے نوٹس بھیجا تھا. آپ ان تصاویر کو دیکھتے ہوئے خود بھی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ راجستھان کے ادئے پور کی عدالت کے دروازے کی چھت پر مذہبی پرچم لہرا دینے کی یہ تصویر ان تمام خبروں پر ترجیح دیتے ہوئے سب سے اوپر ہونا چاہئے تھی. ایک طرح سے اچھا ہوا کہ اس دن میڈیا نے اس واقعہ کو نظر انداز کر دیا، کیا پتہ اس سے ماحول خراب ہی ہوتا، مگر کیا یہ واقعہ ہمیشہ کے لئے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟

راجستھان کے ادئے پور کی عدالت کے گیٹ کی چھت پر چڑھ کر بھگوا پرچم لہرانے کی یہ تصویر آئین کے بنائے ہوئے  تمام  حدود سے کھلواڑ کرتی ہے. جب آپ سپریم کورٹ کے گنبد پر قومی پرچم کو لہراتے دیکھتے ہیں تو عقیدت امڑتي ہے کہ یہ ادارہ قومی پرچم کے سائے میں سب کے لئے انصاف کے لیے مصروفِ عمل ہے. کیا آپ یہ برداشت کر سکیں گے کہ کوئی سپریم کورٹ کے اوپر ترنگے کے علاوہ کوئی اور پرچم لہرا دے، کیا آپ یہ بھی برداشت کر سکیں گے کہ عدالت کی کارروائی کو متاثر کرنے کے لئے باہر بڑی تعداد میں لوگ نعرے بازی کرنے جا رہے ہوں. ہم انصاف کے دروازے پر جاکر رک جاتے ہیں، اس کی طرف نگاہ کئے رہتے ہیں کہ فیصلہ آئے گا اور اصول، قانون اور ثبوتوں کی بنیاد پر آئے گا.

کیا اس واقعہ پر بات نہیں ہونا چاہئے تاکہ اس بھیڑ میں شامل نوجوان جو کسی مذہبی کے نام پر یا جائز غصے کے سہارے ہی سہی، عدالت کی جانب دوڑے چلے آئے تھے، اس تصویر کو پھر سے دیکھیں اور ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ وہ کیا کرنے جا رہے تھے. ہندو مسلم کے ڈبیٹ اور بات بات پر قانون کے عمل سے باہر معاملے کو نمٹانے کا عمل معاشرے کے لئے مہلک تو ہے ہی، قانون کے اداروں کے لئے بھی بڑا چیلنج بن سکتا ہے.

گزشتہ تین سال کے دوران ترنگے کو لے کر کتنی بحث ہوئی. یونیورسٹی میں طالب علموں نے جمہوری جلوس نکالے تو کہا گیا کہ ان میں قوم پرستی کی کمی ہے، اس لیے وہاں 207 فٹ کی اونچائی پر ترنگا لہرایا جائے گا. 19 فروری 2016 کے اخبارات اور ویب سائٹ چیک کیجیے. اس وقت کی انسانی وسائل و ترقی کی وزیر اسمرتی ایرانی کے ساتھ تمام مرکزی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی میٹنگ ہوئی. اس میں فیصلہ ہوا کہ تمام مرکزی یونیورسٹیاں قومی پرچم لگائیں گی. سب سے پہلے جے این یو میں ترنگا لهرائے گا، جبکہ وہاں پہلے ہی ترنگا لہراتا رہا ہے. اخبارات میں چھپا تھا کہ اعلی تعلیمی اداروں کے طالب علموں میں اتحاد اور ہم آہنگی کا احساس پیدا کرنے کے لئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے اور اس اقدام سے مضبوط بھارت کا پیغام جائے گا.

اس فیصلے کے تناظر میں راجستھان کے ادئے پور کی عدالت کے دروازے کی چھت پر بھگوا پرچم لہرانے کی موجودگی کو دیکھا جائے. کیا ان لوگوں میں اتحاد اور ہم آہنگی کا احساس کم ہے، کیا قومی پرچم کا احترام کا احساس کم ہے جو آپ کی تنظیم کا پرچم لے کر چھت پر چڑھ گئے اور لہرا آئے. 14 دسمبر کے دن یہ نوجوان ادئے پور کی عدالت کی چھت پر بھگوا پرچم لے کر چڑھ گیا. نیچے اس کے حامیوں کی بھیڑ کھڑی تھی. پرچم پر جئے شري رام اور رام جی کی تصویر ہے. ابھی تک اس نوجوان کی شناخت نہیں ہو پائی ہے. یہ لوگ کس تنظیم سے وابستہ ہیں، اس کی بھی شناخت نہیں ہو پائی ہے.

ہمارے ساتھی سنجے ویاس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مظاہرین شہر سے باہر کے تھے. 14 دسمبر کو پولیس اور ان کے درمیان کئی بار جھڑپ ہوئی. پولیس جتنی بار انہیں ہٹاتي، یہ لوگ دوسری جگہ جمع ہو جاتے تھے. شام ہوتے ہوتے ادئے پور عدالت کے احاطے کے باہر جمع ہو گئے اور وہاں بھی ماحول غصے کا ہو گیا. تبھی کچھ نوجوان عدالت کے احاطے کی چھت پر چڑھ گئے اور بھگوا پرچم لہرا دیا. سوچئے، نہ تنظیم کا پتہ نہ شناخت کا پتہ ہے اور عدالت میں اتنے لوگ آبھی جاتے ہیں اور اس کی چھت پر پرچم بھی لہرا دیتے ہیں. پولیس نے فورا تیاری سے کارروائی نہ کی ہوتی تو ماحول اور خراب ہو سکتا تھا.

آپ نے کچھ دن پہلے ایک ویڈیو دیکھا ہوگا، جس میں شبھو لال ریگر بنگال سے آئے مزدور افراضل کا قتل کرتا ہے اور جلا کر مار دیتا ہے اور پھر ویڈیو بھی بناتا ہے. شبھولال راجسمند کا رہنے والا تھا جو ادئے پور سے 70 کلومیٹر ہے. راجسمند میں مختلف ضلعی عدالتیں ہیں. ادئے پور میں جو لوگ جمع ہوئے تھے وہ مسلم سبھا کے ارکان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے. مسلم اجتماع کا کوئی ویڈیو وائرل ہوا تھا، جس میں قابل اعتراض نعرے لگائے جا رہے تھے. پولیس نے وائرل ہوئے ویڈیو کی صورت میں 10 لوگوں کو گرفتار کیا تھا، چار اب جیل میں ہے اور چھ کی ضمانت ہو گئی ہے. پولیس کو ان سے بھی سختی سے پیش آنا چاہئے اور پوچھا جانا چاہئے کہ ایسے نعروں کو لگا کر وہ کس کا بھلا کر رہے ہیں. کیا وہ کسی جوابی بھیڑ کے لئے جان بوجھ کر آگ لگا رہے ہیں. افراضل کا قتل ہوا ہے، شرمناک ہے، وزیر اعلی وسندھرا راجے نے بھی کہا ہے کہ یہ شرمناک ہے اور پولیس نے گرفتاری میں تاخیر نہیں کی ہے، لیکن مجمع لگا کر ایسے نعرے لگانے کی ہمت کہاں سے آئی. ایسے لوگوں پر بھی پولیس کو مسلسل نظر رکھنی چاہئے.

سوال ہے کہ اگر ہندو تنظیم کا مطالبہ صحیح بھی تھی تو بھی کیا یہ درست تھا کہ وہ مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت تک آتے اور چھت پر چڑھ کر بھگوا پرچم لہرا دیتے. کیا ان نوجوانوں کے ذہنوں میں آئین کے تئیں کوئی احترام نہیں بچا تھا. غنیمت ہے کہ مظاہرین نے اس جگہ کو نہیں چھیڑا جہاں واقعی ترنگا لہرا رہا ہوتا ہے. آج بھی ادئے پور کی عدالت کے احاطے میں آج بھی ترنگا محفوظ ہے. راجستھان کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریا جی بھی ادئے پور سے ہی آتے ہیں. کیا حکومت کو اس واقعہ کو لے کر خصوصی توجہ نہیں برتنی چاہئے. اگر اسی طرح بھیڑ اپنی طاقت مذہبی شناخت سے حاصل کرتی رہی تو حالات کیا ہو سکتے ہیں. کیا ہم دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کا واقعہ آخری ہے. کیا ہم کبھی سوچ سکتے تھے کہ ایسی تصویر دیکھنے کو ملے گی، عدالت کا احاطہ ہوگا، باہر بھیڑ ہوگی اور چھت پر کوئی بھگوا جھنڈا لئے کھڑا ہوگا.

پولیس نے ادئے پور کے واقعہ کے معاملے میں اس دن 200 افراد کو حراست میں لیا تھا. کئی ایسے بھی تھے جو اپنے عدالتی کام سے وہاں گئے تھے. بعد میں سب کو ضمانت پر چھوڑ دیا گیا. ترنگے کی ایک غلط تصویر نظر آجاتی ہے تو ٹویٹر کی دنیا فعال ہو جاتی ہے. ٹی وی چینلز میں طوفان کھڑا ہو جاتا ہے. میڈیا اور معاشرے کے لئے ادئے پور کے واقعہ کو بھلا دینا کیا اتنا آسان ہو سکتا ہے. آئینی دستاویزوں سے لیس کسی بھی سیاسی شناخت کے شہریوں کو کیا اس تصویر سے محتاط نہیں ہو جانا چاہئے. ہم ادئے پور پولیس کے آئی جی کا بیان دکھانا چاہتے ہیں جو انہوں نے واقعہ کے دن میڈیا سے بات کرتے ہوئے دیا تھا.

حالت یہ ہے کہ ٹویٹر پر کچھ لوگ وزیر اعلی وسندھرا راجے کی بھی تنقید کرنے لگے کہ انہوں نے مظاہرین پر کارروائی کیوں ہونے دی. ایسے دلائل کو بھی جگہ مل رہی ہے اور آئے دن لوگ ایسے واقعات سے ہموار ہوتے جا رہے ہیں. بہت سے لوگوں نے اس واقعہ کی مذمت بھی کی. اس ایونٹ کو جذباتیت یا غصہ سے مت دیکھئے، ٹھنڈے دماغ سے دیکھئے اور سوچئے کہ کہیں ہم نے بات چیت کے سارے موقع کھو تو نہیں دیئے ہیں. کیا مذہبی وجوہات کو لے کر کوئی اس حد تک مشتعل ہو سکتا ہے کہ عدالت کی عمارت کے قریب پہنچ جائے. ہمارے ساتھی منے بھارتی نے پرشانت بھوشن سے بات کی، وہی اس طرح کے معاملات میں سب سے پہلے بولنے کا خطرہ بھی اٹھاتے ہیں.

ہندو اور مسلمان کے درمیان کئی بار تصادم کی نوبت آتی ہے. ایسی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر بھیڑ کی تعمیر ضروری ہے، اسے ہانک کر کورٹ کی طرف لے جانا چاہئے، کیا کرنا چاہیے تھا، اس پر آپ ہی غور کریں. ایسی کسی بھی بھیڑ جسے عدالت اور قانون کا خوف نہ ہو، ہمارے معاشرے کو کیسے بدل رہی ہے. قانونی اداروں کے لیے ہمارے نظریے کو کیسے بدلتی ہے سب سمجھنا چاہئے. میں سنیچر کو گوا میں تھا. وہاں ایک دیوار پر ایک پوسٹر دیکھا. یہ پوسٹر ہندو جن جاگرتی سمیتی کا ہے. اس پوسٹر میں راشٹریہ پرچم کے اعزاز کی باتیں لکھی ہیں. کہا گیا ہے کہ پلاسٹک کے پرچم کر استعمال نہ کریں، چہرے اور جسم پر راشٹریہ پرچم کی شکل نہ بنائیں. کہیں پر راشتریہ پرچم پڑا ملے تو اسے احترام کے ساتھ حکومتی دفتر میں جمع کیجیے، لیکن ادئے پور کے یہ نوجوان کسی نامعلوم ہندو تنظیم کے نام پر جمع ہوکر عدالتی احاطے تک آگئے اور چھت پر رام پتا کا لہرا دیا. کیا ہندو جاگرن کمیٹی کے لحاظ سے ایسا کرنا قومی پرچم کا احترام ہوگا؟ ہمارے سامنے دو طرح کے ہندو تنظیموں کا نظریہ ہے، فیصلہ آپ کیجئے.

ہمارے ساتھی سشیل کمار مهاپاترا نے ریٹائرڈ جسٹس سوڑھي سے بات چیت کی. انہوں نے کہا کہ عدلیہ اس طرح نہیں چل سکتی ہے. ہمارے ساتھی ہمانشو شیکھر مشرا نے راجیہ سبھا رکن اور وکیل كے ٹي ایس تلسی سے بھی بات کی. ہم نے راجستھان کے اٹارنی کو بھی فون کیا مگر بات نہیں ہوئی. امید ہے ملک کے وزیر قانون یا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس واقعہ کا نوٹس لیں گے.

کیسی کیسی آوازیں آ رہی ہیں. مدھیہ پردیش کے گناہ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی پناّ لال شاكيہ تقریر کر رہے ہیں کہ وراٹ کوہلی اور انوشکا شرما نے ملک کے باہر جاکر کیوں شادی کی. ممبر اسمبلی جی کہہ رہے ہیں کہ اس ملک میں رام کی شادی ہوئی ہے، کرشن کی ہوئی ہے، يدھشٹھر کی ہوئی ہے، آپ لوگوں کی بھی ہوئی ہے، مگر دونوں نے بیرون ملک شادی کی. پیسہ یہاں سے حاصل کیا اور روپیہ لے گیا بیرون ملک. آخر یہ سوچ کہاں سے آ رہی ہے. بات بات میں مذہب کا مخالف قرار دیا جانا، بات بات میں ملک کا مخالف قرارا دیا جانا. ممبر اسمبلی جی جس پلیٹ فارم سے تقریر کر رہے تھے، اس پر وزیر اعظم مودی کا ہی پوسٹر نظر آ رہا تھا. ایک اور تصویر آئی ان دنوں.

ہفتہ کو جودھپور جیل سے عدالت میں پیشی کے لیے آئے آسا رام باپو کے پاؤں ایک سابق چیف جسٹس ایس این بھارگو نے جاکر چھو لیا. عام طور پر پولیس کسی قیدی کے قریب جانے سے روکتی ہے مگر جسٹس بھارگو نے ان کے پاؤں چھو لئے. کیا ہائی کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس کو ایسا کرنا چاہئے تھا، کیا انصاف کے تئیں لوگوں میں اچھا پیغام جائے گا. جسٹس بھارگو سکم کے گورنر بھی رہ چکے ہیں.

کیا ہم نے غلط کو غلط کہنے کی ہمت کھو دی ہے یا اب بہت سے لوگ ایسے واقعات سے متفق ہونے لگے ہیں، جس میں میڈیا بھی شامل ہے. ایک نظریہ یہ ہو سکتا ہے کہ ان نوجوانوں سے سختی سے پیش آیا جائے، یہ ہونا چاہئے مگر میرا نظریہ کچھ اور بھی ہے. مسلم سبھا اور ادئے پور کی عدالت کے دروازے پر بھگوا جھنڈا لہرانے والے تمام نوجوانوں سے کسی کو بات کرنا چاہئے. کیا وہ کام نہ ملنے سے پریشان ہیں، ان کے اندرونی مذہب کو لے کر اتنا غصہ کس طرح آ جاتا ہے، کسان خودکشی کرتے ہیں، اسے لے کر ان کے اندر شفقت یا نظام کے تئیں غصہ کیوں نہیں آتا ہے. ہمیں ان سے آنکھ ملا کر بات تو کرنی ہوگی، پوچھنا تو ہوگا کہ جان بوجھ کر یہ اپنی زندگی اور دوسروں کی زندگی داؤ پر کیوں لگا رہے ہیں، کیا کسی بڑی تنظیم نے ان سے کچھ وعدہ کیا ہے، کوئی انہیں بچا لینے کا بھروسہ دے رہا ہے، کیا بات ہے. بات کرنے سے ہی پتہ چلے گا.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close