آج کا کالم

شہرکاشہر ہی سوگیاہے جگائیں کس کو

رمیض احمد تقی
یہ عہد مسلمانوں کے ہمہ گیر زوال کا عہد ہے۔ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ہرطرف سے انسان نما بھیڑیے مسلمانوں کا ناطقہ بند کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔اس وقت پوری دنیا میں 195 ممالک ہیں جن میں تقریباً 51 ممالک میں مسلمانی اور مسلم اکثریت حکومتیں ہیں،مگرصدافسوس کہ ہماری حالت اس قوم کی طرح ہوکر رہ گئی ہے،جس کے رہبر کو پابہ زنجیر زنداں میں پھینک دیا گیا ہو۔مسلمانوں کی زبوں حالی کی تاریخ کا آغاز، تو اسی وقت ہوگیاتھا ،جب خود اسی کے سپوتوں نے اپنے ہی ہاتھوں ترکی خلافت کا گلا دبوچ لیاتھا،پھر جہاں کہیں بھی خلافت قائم کرنے کی کوشش کی گئی ،اقوام عالم نے ا س کے گلے میں دہشت گردی جیسے دوسرے الفاظ کی بھدی تعویذ لٹکادیا۔افغانستان میں طالبان کا عروج وزوال اس کی واضح اور زندہ مثال ہے۔ملک عرب بالخصوص جی سی سی ہمیشہ سے مسلمانانِ عالم کی توجہات کے مراکز ر ہے ہیں۔ آج خود ان کی حالت صحرا میں جلتے اورجھلستے ہوئے ببول کے درختوں کی طرح ہوکر رہ گئی ہے؛نہ ہی سرسبز ہے کہ ان سے سایہ حاصل کیا جاسکے اور نہ ہی صحرائی تپش نے انہیں جھلسا کرایسا خاکستر بنادیا ہے کہ ایک راہ گیر کو ان سے اپنی منزل کا پتہ نہ مل سکے۔بہ الفاظِ دیگر ان کی حالت نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کی مانند ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ملک کسی مسلمان ملک یا مسلمانوں کوا پنے ظلم وستم کا نشانہ بناناچاہتا ہے، تو اس وقت ان کے منھ میں زبان نہیں ہوتی ۔تقریباًپانچ سالوں سے شام میں جنگ جاری ہے۔ امریکہ، روس اور لعین بشاراپنی دوغلی پالیسی ’انسدادِدہشت گردی‘ اور’ قیامِ امن‘ کی آڑمیں انسانیت کوفراموش کرکے ظلم وبربریت کی ایک نئی تاریخ رقم کررہے ہیں۔یہ دور انسانی تاریخ کا سب سے بدترین دورہے۔پوری تاریخِ ظلم وبربریت میں انسانوں پر وہ مظالم کبھی نہیں ڈھائے گئے جو آج کے یہ حکمراں ان بے قصور اور نہتے مسلمانوں پر ڈھارہے ہیں،کہ ظلم بھی اس کی کسک محسوس کیے بغیر نہیں رہ پاتا۔صرف گذشتہ ایک ہفتہ میں وہاں جو انسانی قتلِ عام ہوا ہے وہ ہر طرح کے تخمینہ سے باہر ہے ،گویا پورا حلب لاشوں کے انبار میں دب گیا ہے ؛سڑکوں اور گلیوں میں مردوعورت کی بے گوروکفن لاشیں،چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے بکھرے اعضا ،زخمیوں اور نیم مردہ مسلمانوں کی چیخ وپکار بشار افواج کی سفاکیت کی گواہی دے رہے ہیں!ا ور بالکل ایسی ہی حالت برماکے مسلمانوں کی ہے ۔کیاتاریخ نے اس بھی بدترین دن کا مشاہدہ کیا ہوگا، جب معصوم بچوں کو برقی آلات کے ذریعہ خوف زدہ کرکے ماردینے کی کوشش کی گئی ہو؟واہ رے حضرتِ انسان،تیری انسانیت کوسلام!
ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ اگر کوئی فرانس میں ماردیا جاتا ہے،تو پوری دنیا کے چوٹی کے لوگ اسے بلیک ڈے کے طور پر مناتے ہیں،کینڈل مارچ نکالتے ہیں، مگر یہاں تو پورا کاپورا ملک ہی خون میں لت پت ہے ،مگرکسی نے اُف تک نہیں کہا!کوئی ان کی لاشوں پر رویا نہیں اور نہ ہی کسی نے کوئی کینڈل مارچ نہیں نکالا! اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ ماردیے جانے والے کوئی انسان نہیں تھے؛ انسان تو صرف فرانس ،امریکہ، بلکہ غیرمسلم ممالک میں بستے ہیں،شام وبرما میں مرنے والے مسلمان، تو طاعون کی مرض میں مرنے والے جانور تھے اور وبائی امراض سے مرنے والے جانوروں پر کیارونا!
حقیقت بھی یہی ہے کہ کوئی دوسراہماری لاشوں پر کیوں روئے،ہم جوخودآنکھیں پتھروں کی لگارکھی ہیں!ہماری ماؤں اور بہنوں کی ننگی لاشوں کو دوسراکوئی کیوں چھپائے،ہم نے جو کبھی ان کو چھپایا ہے!ہمارے بچوں کے بکھرے اعضاکو دوسراکوئی کیوں سمیٹے،ہم نے جو کبھی ان کو اپنایا ہے!کہتے ہیں کہ آنکھیں اشکبار ہیں،دل پھٹا جارہا ہے،کلیجہ منھ کو آتا ہے،لیکن کیا ہمارے مسلم حکمراں واقعی اس حالتِ زار پر ماتم کناں ہیں؟کیاانہیں عالمی سطح پر مسلمانوں کی زبوں حالی کااحساس ہے؟ہم ایک منٹ کے لیے حلب وفلسطین کے مسئلہ سے ذراہٹ کر گفتگو کرتے ہیں کہ ملک ’برما‘کی عالمِ سیاست میں کسی بھی اعتبار سے ان ٹکڑوں میں بٹے ہوئے کسی ایک بھی مسلم ملک کے سامنے کوئی حیثیت ہے؟ اگران میں سے کوئی ایک ملک ہی اس کے سامنے کھانس دے تو برماحکومت کے حلق سے آواز نہ نکلے،مگران کی بے حسی تو ملاحظہ کیجیے کہ انہوں نے خود اپنے ہی ہاتھوں انسانی اور اسلامی اقدار کا گلادبادیا ہے۔نتیجۃً پوری دنیا میں آج مسلمان گاجر مولی کی طرح کاٹے جارہے ہیں اور کوئی ان کا پُرسانِ حال نہیں!یہ توشاید تاریخ کا مغالطہ ہے کہ مسلمان وہ قوم ہے،جس کے بادشاہ کوقوم کی ایک بیٹی کے خط نے باولابنادیاتھااوروہ بغداد سے ہزاروں میل دوراپنی اس بیٹی کابدلہ لینے کے لیے ہندوستان پر چڑھ آیاتھا۔ آج تو ہزاروں بیٹیاں اپنی عفت وعصمت کی گوہار لگارہی ہیں،مگرآج کون آگے بڑھ کر اپنی ان بہن بیٹیوں کی لٹتی ہوئی عفت وعصمت پر چادر ڈالے گا؟عمر بھی تو ایک سلطان تھے جو ایک عیسائی لڑکی کی عزت کی خاطر اس وقت کی سوپر پاورحکومتِ ایران سے ٹکر لے کر اس کی عزت بچائی تھی ،آج تو شام وبرما میں ہزاروں معصوم ماؤں اور بہنوں کی عزتیں لٹ رہی ہیں،مگرآج ان کاوہ بیٹاعمر اور ان کاوہ بھائی محمد نہیں رہے!
گذشتہ چند روز قبل کی بات ہے کہ ایک شامی دوشیزہ نے مسلمانانِ عالم کے نام ایک خط لکھا کہ’ میں خود کشی کررہی ہوں‘،بظاہر اس کے اس جملہ میں شکایت تھی،مگردرحقیقت وہ کوئی ہم سے اپنی عصمت وعزت کی گوہار نہیں لگارہی تھی، وہ شام میں مسلمانوں کی لٹتی ہوئی عفت وعصمت پرنالاں بھی نہیں تھی،وہ معصوم بچوں کے کٹے اعضا اور بکھری لاشوں کا تذکرہ بھی نہیں کررہی تھی،وہ اجڑتے محلات، مسمار ہوتے انسانی گھر اور جھلستی گلیوں کا بھی گلہ نہیں کررہی تھی ،وہ تو ایک خوددار باپ کی پاک باز بیٹی تھی،دنیا سے چلی گئی مگر بشاری بھیڑویوں کو اپنے جسم پر قابو پانے نہیں دیا!
یہ کوئی فرضی قصہ اور افسانہ نہیں ہے۔دنیا کے چوٹی کے اخباروں نے اس خبر کوشائع کیا تھا،کہ شامی لڑکیاں بشار ملعون کی فوج کے ہاتھوں برباد ہونے سے بچنے کے لیے اپنے والدین سے یہ مطالبہ کررہی ہیں کہ وہ انہیں ماردیں یاخودکشی کرنے دیں۔اس بات سے قطعِ نظر کہ ان حالات میں خودکشی کی شرعی اور معاشرتی کیا حیثیت ہے،مگرصدآفریں اے حلب کی پاکباز دوشیزائیں،تیرے جذبۂ خودداری کوہرپاک طنیت سلام کرتاہے؛شاید یہ کہنابالکل بھی مناسب نہیں ہوگا کہ ہم مجبورولاچارہیں کہ اپنی ان بہنوں کو ان ظالموں کے چنگل سے نہ بچا سکیں؛البتہ ہاں…. !ہم بہت زیادہ خودپرست اور خودغرض ہیں۔ ہم تاریخ کی کتابوں میں بارہا پڑھتے آئے ہیں اور بڑے شوق سے اس کا تذکرہ کرتے ہیں کہ پورااسپین جل رہا تھا،قرطبہ کی تاریخ مسخ کی جارہی تھی،مگر وہاں کے مسلمان مناظرے اورآپسی بحث ومباحثوں میں اپنا سرکھپارہے تھے ،لیکن اب آنے والامؤرخ یہ بھی لکھے گا کہ شام تباہ وبرباد ہوگیا، عالمِ عرب خاموش رہا !شام وبرما میں مسلمانوں کی عفت وعصمت لٹتی رہی،باہر مسلمان عیش وعشرت کی محفلیں روشن کرتے رہے اور ان بے بس مسلمانوں کے چیخ وپکار کی صدا انہیں متأثر نہ کرسکی اور ان کا قصہ بھی ماضی بن گیا!
یہ قص�ۂ الم ناک کوئی صرف شام وبرما ہی کا نہیں ہے،پوری دنیا میں نظر اٹھا کردیکھ لیجیے ،ہرچہارطرف سے مسلمان نرغے میں ہے،دنیا کا کوئی ایسا خطہ نہیں جہاں مسلمان اپنے آپ کو محفوظ سمجھ سکیں، بلکہ یہ جو نقشہ پر کچھ نام نہاد مسلم ممالک نظر آتے ہیں،المیہ یہ ہے کہ آج وہاں بھی مسلمان محفوظ نہیں ہیں۔جب کوئی چاہتا ہے یہاں بھی شب خون مارکر چلاجاتا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے اسے تکتے رہ جاتے ہیں۔صدیاں گذرگئیں اور ہم مسلمان مذہبی،معاشی،معاشرتی اور تعلیمی اعتبار سے مسلسل زوال کی طرف بڑھ رہے ہیں؛افغانستان وعراق میں ہماری ہی بستیاں آباد تھیں،لیبیامیں مسلمان ہی قابض تھے،فلسطین کو ہم ہی نے سجایا اور سنواراتھا،مگرسب ایک ایک کرکے تباہ وبرباد کردیے گئے اور ہم صرف گرتے ملبہ کے دھول اور جلتے مکانات کے دھوؤں کودیکھتے رہ گئے،ہم کچھ نہ کرسکے اور اگر یہی حالت رہی تو کچھ کربھی نہیں پائیں گے اور شاید ہمارے انجام کار کی تصویریں یہ دنیابھی دیکھی گی!!!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Back to top button
Close