آج کا کالممعاشیات

شیئر بازار کو بھی پورا دن لگا بجٹ سمجھنے میں!

سدھیر جین

بہت ہی کم ہوتا ہے کہ عام بجٹ کا جائزہ ایک دن سے زیادہ چلتا ہو. بجٹ میں جس بھی طبقے سے لیا اور جس طبقے کو دیا جاتا ہے اس کا پتہ بجٹ تقریر کے دوران ہی ہو جاتا تھا. اس بار ایسا نہیں ہوا. بجٹ والے پورا دن پتہ ہی نہیں چلا کہ اس سے آنے والے سال میں کسے فائدہ ہوگا اور کسے نقصان. حالانکہ ایسا بھی نہیں تھا کہ بجٹ کی چالاکیوں کو پکڑنے کا کوئی انتظام نہ ہو. مثلا شیئر بازار اس معاملے میں بڑی گہری نظر رکھتا ہے. چند سال پہلے تک بجٹ پیش ہی اس وقت ہوا کرتا تھا جب شیئر بازار کا کام کاج بند ہو جایا کرتا تھا. ابھی بجٹ دوپہر 11 بجے ہونے لگا تو شیئر بازار  بجٹ تقریر کے ہر فقرے کے مطابق بجٹ اوپر سے نیچے ہوتا چلتا ہے. اس بار بھی شیئر بازار نے پل پل کی نظر رکھی. لیکن یہ پہلی بار ہے کہ شیئر بازار کو حال کے حال سمجھ میں ہی نہیں آ پا رہا تھا کہ وہ کس قسم کی رائے دے.

بازار نے کیا رخ دکھایا بجٹ کے دن

بجٹ پیش ہوتے وقت شروع سے آخر تک وہ اپنا کوئی مقررہ عمل نہیں دکھا پایا. اگرچہ مارکیٹ میں کمی کا رخ رہا. لیکن ڈھائی تین سو پوائنٹس گر کر سبھلتا بھی رہا اور کاروبار کے آخری گھنٹے تک کوئی سنسنی خیز گراوٹ نہیں نظر آئی. یہ حیرت انگیز تھا. جو بھی شیئر بازار کے جانکار ہیں وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ شیئر بازار کو کسی بھی بڑے حادثے کی تلاش ہوتی ہے اور اس سے بنے تاثر سے ہی وہ دولن کرتا ہے. بجٹ جیسے سب سے بڑی اقتصادی واقعہ کا کوئی اثر نہ پڑے یہ حیرت انگیز تھا. اس کا جواب یہی بن سکتا ہے کہ ملک کے سرمایہ کاروں کو پہلے ہی دن یہ پیچیدہ بجٹ صاف صاف سمجھ میں ہی نہیں آیا. میڈیا میں بجٹ کو سمجھنے سمجھانے کے جو قواعد ہو رہی تھی وہ سرکاری اور غیر سرکاری نوك جھوك میں ایسی الجھی کہ سرمایہ کار حال کے حال کوئی تاثر نہیں بنا پائے. اسے ہم سرکاری ماہرین اور میڈیا کے ایک طبقے کا موثر انتظام مان سکتے ہیں کہ انہوں نے شیئر بازار تک کو غفلت میں ڈال دیا. بہرحال بجٹ پیش ہونے کے دن نہ سہی لیکن اگلے دن یعنی آج جمعہ کو شروع سے ہی شیئر بازار  نے بجٹ پر اپنی دہشت بھری رائے دینی شروع کر دی.

بجٹ کے ایک دن بعد مارکیٹ اور میڈیا کا رخ

بجٹ کی پہیلی بوجھنے کے لئے میڈیا اور سرمایہ کاروں کو کافی وقت لگا. بجٹ کے دن میڈیا میں یہ بحث و مباحثہ چلا کہ اس بجٹ سے کس طبقے کو فائدہ ہو گا. پہلے دن جو تاثر بنایا جا رہا تھا وہ یہ  تھا کہ یہ بجٹ کسانوں، خواتین اور غریبوں کے حق میں ہے۔ وہ خیال شام تک ختم ہوتا نظر آیا. اب بات آئی کہ پھر کسے فائدہ ہوا. پھر سرمایہ کاروں کو یہ سمجھنا تھا کہ صنعتی تجارتی دنیا کو کیا سہولیات بڑھ کر کیوں ملیں؟ سو حساب لگا کر اسے یہی اکتفا کرنا پڑا ہو گا کہ اس پر زیادہ بوجھ نہیں بڑھا ہے. لیکن لگتا ہے کہ یہ اطمینان حوصلہ افزا نہیں تھا. اس ملک میں اقتصادی سرگرمیاں بڑھنے یعنی صنعتی تجارت کے سازگار ماحول بننے کا انتظار تھا اور تبھی وہ اطمینان کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے کی ہمت کریں گے. ایک دن کے حساب کتاب لگانے کے بعد یہ تاثر بنا کہ آنے والے وقت میں شیئر بازار اس کے لئے ٹھیک نہیں. آخر اگلے دن سویرے ہی شیئر بازار سے پیسہ غائب ہونا شروع ہوا. سینسیکس ڈھنے لگا. اس قدر منہدم ہوا کہ کام کاج بند ہونے کے وقت وہ 888 پوائنٹس کا غوطہ لگا گیا.

تجارتی صحافت سے بھی نہیں سبھلے حالات

ہرچند کوشش ہوئی کہ شیئر بازار میں تباہی کا بجٹ سے تعلق نہ بن پائے. لیکن اس علاقے کی صحافت کو کوئی بھی دوسری وجہ نہیں مل پائی. دوسرے ایشیائی بازاروں کے اثر کو دکھانے کی بھی کوشش ہوئی. لیکن اس کے سائز اور مختلف وقت کی وجہ سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ شیئر بازار  پر بجٹ کے علاوہ کوئی بیرونی یا اوپری اثر پڑ گیا. آخر شیئر بازار کا کام کاج بند ہونے کے بعد کاروباری نیوز ٹی وی چینلز کو آخر یہ بحث کرنی ہی پڑی کہ اس بجٹ نے صنعتی تجارت کی مشکلیں بڑھا دی ہیں اور یہ بھی کہ اس صنعت کے کاروبار کے لئے سب سے زیادہ ضروری شرط یعنی صارفین کی جیب میں کسی طرح پیسہ ڈالنے کا بھی کام نہیں ہوا. سرمایہ کاروں میں مایوسی بڑھنے کے لئے یہ بہت بڑی وجہ تھی.

کتنا فرق پڑا مارکیٹ کے مایوس ہونے سے

بجٹ کے اگلے دن شیئر دھڑام ہونے سے ایک ہی جھٹکے میں پانچ لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہو گیا. اگرچہ کوئی یہ دلاسہ دلائے کہ حکومت آگے اپنے سرمایہ کاروں کو حوصلہ افزائی کرنے کے لئے دوسرے اعلان کر دے گی لیکن اس طرح کی تلافی میں مارکیٹ کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے. بجٹ آرام دہ اور پرسکون واقعہ نہیں ہے. اسے شیئر بازار کی زبان میں فنڈامینٹل کہا جاتا ہے یعنی وہ رجحان جو مستقل یا ديرتک اپنا اثرات دکھاتا ہے. جان کار اور ماہرین یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اس جھٹکے سے قابو پانے کے لئے شیئر بازار کو بجٹ کے تصادم کی تقریب کے ذریعے کسی اچھی خبر کی ہی ضرورت پڑے گی. اس بارے میں ایک اندازہ یہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب حکومت اپنے مقبول منصوبوں اور پروگراموں کے لئے رقم کا انتظام نہیں کر سکی تو سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے قریب سال میں کیا کر پائے گی. یعنی اگر شیئر بازار  کسی نئی شکل کے سہارے پنپا بھی تو وہ عارضی ہی ہوگا. شیئر بازار کو بجٹ کا ایک جائزہ مانیں تو ملک کی اقتصادی سرگرمیوں کے لحاظ سے یہ بجٹ خراب اشارات دے رہا ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close