آج کا کالم

شیرخوار بچوں کی چتا پر جنم اشٹمی

ڈاکٹر سلیم خان

ست یگ میں کہاوت تھی ’’جھوٹ بولے کوا کاٹے‘‘. کل یگ میں خود کوا جھوٹ بولنے لگا ہے. اگریقین نہ ہوتا ہو گورکھپور دواخانے میں ہونے والے سانحہ پر یوگی ادیتیہ ناتھ کا بیان پڑھ لیجیے۔  مودی جی کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک واقعی بدل گیا ۔ پہلے وزراء اپنے ملک میں ہونے والے حادثات پر افسوس کا اظہار کرتے تھے آج کل دیگر ممالک کے لوگوں کے غم میں ٹویٹ سے  شریک ہو جاتے ہیں۔ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب وزراء  اخلاقی ذمہ داری قبول کرکےاستعفیٰ تک پیش کردیتے لیکن اب بے قصور لوگوں کو بلی کا بکرا بنا کر اپنی دلیری جھاڑتے ہیں ۔ اخلاق و کردار سے عاری پردھان سیوک اپنے ملک کےمصیبت زدگان کی صرف  نگرانی پر  اکتفاء کرتاہے۔ مودی جی کے دفتر کا ٹویٹ اس  حقیقت کا غماز ہے۔ کیا اسی لیے ملک کی عوام نے انہیں چوکیدار بناکر بٹھایا تھا ؟اور کیا ان سنگین معاملات میں وہ اسی طرح خاموش تماشائی بنے رہنے  کی تنخواہ لیتا ہے؟

ایک زمانے تک لوگ سیاسی رہنماوں کو احترام کیا کرتے تھے پھر یہ رائے بنی کہ سیاستداں  ابن الوقت اور موقع پرست ہوتے مگر صحافی حضرات قوم کی آواز بلند کرتے ہیں ۔ مودی سرکار نے صحافیوں  کا بازار لگاکر ایسےخرید وفروخت کی کہ ان پر سے بھی اعتبار اٹھ گیا (الاماشااللہ)جوضمیر کا سودہ نہیں کرتا اس کو کچلنے کی سعی جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدر بڑا سانحہ ہو جانے کے  بہت بعدجب پانی سر سے اونچا ہوگیا تو ذرائع ابلاغ اپنی ساکھ بچانے کے لیے مجبوراً  ہوش میں آیا۔ گورکھپور سانحہ میں مرنے والوں کی تعداد مظفر نگر فساد سے تجاوز کرچکی ہے اس کے باوجود بہت سوں کی  زبان پرہنوز رشوت کا تالہ پڑا ہوا ہے اور جب ان کا  منہ کھلتا ہے تو اندر سے وندے ماترم نکلتا ہے۔

صحافیوں کے اوپر سے بھی جب عوام کا عتماد اٹھ گیا تو لوگوں نے سادھو سنتوں سے امیدیں وابستہ کرلیں۔ مودی جی نے ادیتیہ ناتھ کووزیراعلیٰ بنا کر سادھو برادری کا بھی بیڑہ غرق کردیا۔ عوام کو پتہ چلا اول سادھو فساد بھڑکاتا ہے۔ پھر اس پر فخر جتاکر سیاسی روٹیاں سینکتا  ہے لیکن  جب مقدمہ کھڑا ہوجاتا ہے تو ڈر کر ضابطے کی آڑ میں چھپ جاتا ہے۔ صوبائی انتظامیہ یوگی کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت کیوں نہیں دیتا۔ وہ اگر اپنے دعویٰ کے مطابق بے قصور ہیں تو رہا ہوجائیں گے۔ اب تو کوئی پولس پر کوئی سیاسی دباو بھی نہیں ہوگا اس لیے وہ ان کی تابعدار ہے اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ سرکاری وکیل عدالت سے بھاگتا پھرتا ہے اور سپریم کورٹ میں ڈانٹ پھٹکار سنتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ عوام میں اونچی  آواز کے اندر دھمکی دینے والا اور ایوان پارلیمان کے اندر دہاڑیں مار مار کر رونے والے وزیر اعلیٰ میں کتنا دم خم ہے۔

گورکھ پور ر کے سانحہ نے یہ بات بھی عیاں کردی کہ بھگوادھارن کرنے کے باوجود یہ شخص  کھلے عام جھوٹ بولتا ہے ۔   وزیراعلیٰ اور صوبائی وزیر صحت کا یہ دعویٰ کے بچوں کی موت  آکسیجن کی کمی سے نہیں ہوئی ایک ایسا جھوٹ ہے جس کے خلاف خود ان لوگوں کا عمل گواہی دے رہا ہے۔ ہر سال کی طرح اگر اس سال بھی ماہِ اگست میں اموات ہوئی ہیں تو بی آرڈی کے پرنسپل کو کیوں ہٹایا گیا؟ گیس کمپنی پر چھاپے کیوں مارے گئے؟ اس کامالک کیوں فرار ہے؟ اب تو اخبارات میں کئی ایسے ثبوت شائع ہوچکے ہیں جن سے ظاہر ہے کہ بار بار یاددہانی کے باوجود یوگی انتظامیہ غفلت کی نیند سوتا رہا اور معصوم بچے بے موت تڑپ تڑپ کر مرتے رہے۔   یہ سفید جھوٹ ہے جو ایک مجرم  ٹھیکےدارکو بچانے کے لیے دوسرا پاکھنڈی سیاستداں   بول رہا ہے کیونکہ دونوں ہی  عوام کے  قاتل ہیں ۔ان دونوں کے منہ میں وندے ماترم اور بغل میں چھری ہے۔

گورکھپور یوگی  ادیتیہ ناتھ کا حلقۂ انتخاب ہے ۔ گزشتہ 12 سالوں میں 20 مرتبہ وہ ایوانِ پارلیمان میں اس مسئلہ کو اٹھا کر حکومت آڑے ہاتھوں لے چکے ہیں اس لیے   وہاں کے لوگوں کو امید تھی کہ اگر ان کا نمائندہ وزیراعلیٰ بن گیا تو ان کے اچھے دن آجائیں گے لیکن افسوس وہ  عہدہ سنبھالتے ہی بھول گئے اس بابت حکومت کی بھی کوئی ذمہ داری ہے؟ اب وہ اپنی حکومت کے علاوہ ہر ایک موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں اور جب سخت کارروائی کی دھمکی دیتے ہیں ان کے اپنے وزراء پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ان کی حمایت میں بی جے پی کے صدر امیت شاہ بے حیائی کے ساتھ کھڑے ہیں جن کے پاس ہر سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ یہ کانگریس کے زمانے میں بھی ہوچکا ہے۔ یہ درست ہے لیکن کیا اس وقت بی جے پی نے احتجاج نہیں کیا تھا؟ کیا اس کا ایسا کرنا سیاست بازی تھی ؟ نیز عوام نے کانگریس کو اس کی سزا دی اور اقتدار سے ہٹادیا۔ کیا امیت شاہ یہ چاہتے  ہیں کہ ان کی جماعت  سے بھی اقتدار چھین کر اسے حزب اختلاف کی جماعت بنا دیا جائے؟ حد تو یہ ہے کہ یوگی جی اس اندوہناک سانحہ کے باوجود دھوم دھام سے جنم اشٹمی منانے کی تلقین کررہے ہیں اور شاہ جی اس کے وجہ جواز فراہم منارہے ہیں ۔

اس سانحہ کے بعد 5 دنوں تک  یوگی نے افسوس کا اظہار تو دور حقیقت کا انکار کرکے اپنی ذمہ داری سے پلہّ جھاڑ لیا۔ کیا بھگوا وستر دھارن کرنے والے کو ایسی گھناونی حرکت زیب دیتی ہے ۔ اگر یہی صورتحال رہی تو عوام کو خاکی چڈی اور بھگوا دھوتی سے بھی ویسی ہی نفرت ہوجائیگی جیسی کہ کھادی کے کرتے اور گاندھی ٹوپی سے ہوگئی ہے۔  لوگ اس کا احترام تو دور اس جانب دیکھناتک گوراہ نہیں کریں گے۔انتخاب سے قبل مودی جی نے ہاتھ پسار کرکہا تھا ۔ متروں  آپ نے کانگریس کو 60 سال دیئے تھے مجھے 6 سال دیجیے اور پھر دیکھیے کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ انہوں نے اپنا وعدہ نبھایا اور 3 سال کے اندر سنگھ پریوار کی مٹی پلید کردی اور یوگی تو ان سے بھی تیز نکلے تین سال میں مودی جوکارنامہ  نہ کرسکے وہ یوگی نے تین ماہ کے اندر کردکھایا۔

یوگی ادیتیہ ناتھ نے سانحہ کے دو  روز قبل  بی آر ڈی اسپتال کا دورہ کیا تھا ۔ وہاں پر انہوں نے عملہ کواپنی عادت کے مطابق  پھٹکار لگائی اور دماغی  بخار کے مریضوں کا خیال رکھنے کی ہدایت کرکے لوٹ آئے۔ اس دواخانے کے افسران نے یوگی کی بدسلوکی کا بدلہ ان کے رائے دہندگان سے لیا اور معصوم  بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یوگی جی اگر اسپتال کے افسران کے ساتھ بیٹھتے ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو وہ بتلاتا کہ یوگی جی آپ کی سرکار آکسیجنوالے کی بقایہ رقم  66 لاکھ روپئے نہیں چکا رہی ہے۔ اس نے دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ کسی بھی وقت یہ سپلائی بند کرسکتا ہے ۔ اسپتال کے مریضوں کو بھاشن کی نہیں آکسیجن چاہیے اس لیے کچھ کیجیے لیکن یوگی جی اس کاموقع ہی نہیں دیا  اور لکھنو لوٹ آئے۔لکھنو آنے کے بعد وزیراعلیٰ  مدرسوں کے لیے وندے ماترم والا متنازع   فرمان جاری کرنے میں جٹ گئےاور اسی دوران قدرتی  عذاب کا کوڑا برس پڑا۔  اس مصیبت کا شکار وہ لوگ بھی ہوئے جنہوں نے کمل کو ووٹ دیا تھا اور وہ بھی جنہوں اس سے گریز کیا تھا کیونکہ آسمانی عذاب عام ہوتا ہے اس سے کوئی نہیں بچ پاتا۔

اس اندوہناک سانحہ کے بعد یوگی نے پہلے ردعمل کا اظہار کرنے سے گریز کیا اور  دباو بڑھ جانے کے بعد  پریس کانفرنس میں آکر آئیں بائیں شائیں بکنے لگے۔ پردھان منتری نے یہ وعدہ کیا ہے۔ وزیرصحت نےنڈا ّ نے اپنا نمائندہ بھیجا ہے۔ ہمارے افسر دورہ کررہے ہیں۔ رپورٹ جلد ہی جمع ہوجائیگی۔ کسی کو بخشا نہیں جائیگا وغیرہ وغیرہ۔  ساکشی مہاراج تک اس کو قتل عام قرار دے دیا مگر یوگی جی اپنی کارکردگی بتانے کے بجائے مودی   جی کابھجن سناتےرہے۔ ذرائع ابلاغ میں پھیلی  بدنامی جب ناقابلِ برداشت  ہوگئی تو دوبارہ اسپتال کا دورہ کیاجو مریضوں اور ان کے رشتے داروں کے لیے نئی  مصیبت بن گیا۔  وزیراعلیٰ کے حفاظتی دستے نے کسی کو اس کے بچے کی لاش کے ساتھ بھگا دیا تو کوئی اپنے مریض کو ہاتھوں سے اٹھا کر بھاگنے پر مجبور کردیا گیا۔ اسپتال کے اندر مریضوں یا ان کے رشتے داروں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے بجائے   ڈاکٹرکفیل خان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ۔ یہ  احمقانہ کارروائی  اس لیے کی گئی  کہ   اس فرشتہ صفت انسان  کی بے لوث  اور انتھک  خدمت نے  ان پاکھنڈی شیطانوں کی قلعی کھول کررکھ  دی تھی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close