آج کا کالم

صدارتی انتخابات: اپوزیشن اتحاد میں پھوٹ!

رويش کمار

صدارتی انتخابات کو لے کر اپوزیشن اتحاد میں پھوٹ پڑ گئی ہے. ویسے بھی اپوزیشن کے پاس امیدوار جِتانے کے قابل اکثریت نہیں تھی، مگر ایسا لگ رہا تھا کہ اپوزیشن اپنی طرف سے امیدوار اتار کر انتخابات کو الیکشن بنائے گا. جب سے بی جے پی نے رام ناتھ كووند کو صدر کے عہدے کا امیدوار بنایا ہے، اپوزیشن کی کئی جماعتوں کو مخالفت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے. بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار بھی اب كووند کی حمایت میں ہی جائیں گے. ان کی پارٹی 22 جون کو دہلی میں ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ میں شامل نہیں ہوگی.

اس سال اپریل میں نتیش کمار نے ہی سونیا گاندھی کو فون کر اپوزیشن کی طرح یکجہتی دکھانے کی پہل کی تھی، مگر دو دن پہلے انہوں نے سونیا گاندھی کو بتا دیا کہ وہ بی جے پی کے امیدوار کے ساتھ جائیں گے. نتیش بہار کے گورنر کو صدر بننے سے روکتے ہوئے نہیں نظر آنا چاہتے تھے.اس کے دو وجوہات ہیں. ایک تو ان کا سیاسی بنیاد مہادلت ووٹ میں ہے اور دوسرا بہار کے گورنر کے طور پر كووند کی مدت کارکرگی. نتیش کمار مانتے ہیں کہ كووند نے اپنی کوئی آئینی عزت نہیں توڑی اور وہ بی جے پی کی سیاست نہیں کرتے تھے. جے ڈی یو کے سینئر لیڈر کے سی تیاگی نے کہا تھا کہ اس سے اپوزیشن اتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا.

صدارتی انتخابات کی اپنے الگ حالات ہوتی ہیں . پچھلی بار جب یو پی اے نے پرنب مکھرجی کو امیدوار بنایا تھا، تب نتیش کمار نے این ڈی اے میں رہتے ہوئے ان کی حمایت کر دی تھی. شیوسینا نے بھی این ڈی اے میں رہتے ہوئے یو پی اے کے امیدوار کی حمایت کر دی تھی. جب سے رام ناتھ كووند کی امیدواری کا اعلان ہوا ہے، این ڈی اے کے پاس حمایت کی دوڑ لگ گئی ہے. شیوسینا مان گئی ہے. بیجو جنتا دل بھی این ڈی اے کے ساتھ ہے. مایاوتی کا رخ بھی مثبت ہی ہے. سی پی آئی لیڈر ڈی راجہ مانتے ہیں کہ نتیش کا فیصلہ اپوزیشن کے لئے سیٹ بیك ہے. شرد پوار کے بھی كووند کی حمایت میں آنے کے آثار ہیں .

اب کانگریس کے سامنے چیلنج ہے کہ کیا وہ اب بھی امیدوار اتارے گی. جب كے آر نارائنن کی امیدواری کا اعلان ہوا تھا تب بی جے پی نے حمایت کر دی تھی. ادھر گورنر کے عہدے سے استعفی دینے کے بعد این ڈی اے امیدوار رام ناتھ كووند نے آج دہلی میں یوگا ڈے کے پروگرام میں حصہ لیا. انہوں نے کناٹ پلیس میں شہری ترقی کے وزیر وینكيا نائیڈو، لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل، وزیر اعلی اروند کیجریوال، مرکزی وزیر وجے گوئل، ایم پی میناکشی لیکھی کے ساتھ یوگا کیا. اس کے بعد انہوں نے بی جے پی کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی سے ملاقات کی. لال کرشن اڈوانی سے بھی ملاقات کی. پیر کو كووند کے نام کا اعلان ہوا تھا، وہ اسی شام دہلی بھی آ گئے، وزیر اعظم اور بی جے پی صدر سے ملاقات کی. تین دن کے بعد بدھ کو رہنمائی منڈل کے رکن مرلی منوہر جوشی اور لال کرشن اڈوانی سے ملاقات ہوئی.

صدارتی انتخابات کی سیاست ڈرائنگ روم کی سیاست ہوتی ہے. امیدواری کو لے کر سیاسی ٹیکسٹ ہوتا رہے گا اور ہونا بھی چاہیے. اگر صدر کے لئے دلت امیدوار پر اتنی رائے ہو سکتی ہے، تو کیا یہی رضامندی کسی دلت کو وزیر اعظم بنانے کے لئے بن سکتی ہے. آج تک کوئی دلت وزیر اعظم نہیں ہوا اور آج تک کسی نے اس امکان پر غور کیوں نہیں کیا. تب اتحاد کی یہ سیاست کا کوئی اور شکل کو دکھائے دیتا. پتہ چلتا کہ کوئی راستے سے ہٹنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے. کیا پتہ کوئی راستے سے ہٹ بھی جائے.

بہرحال صدر کا انتخابات ہو رہا ہے تو ان کے کردار اور طریقہ کار پر بحث لازمی ہے. بہت سے لوگ کہتے ہیں صدر ربر سٹیمپ ہوتا ہے، پھر کئی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسا شخص ہونا چاہئے جو آئین کی حفاظت کر سکے. کیا ہندوستان کے آئین کی حفاظت کوئی ربڑ سٹیمپ کے بھروسے ہے. ہم اسی پر بات کریں گے. مگر آئین میں کیا لکھا ہے وہ بھی جان لیتے ہیں تاکہ اگر کہیں وکینسی نکلتی ہے تو طالب علموں کو کام آ سکے. اگر وكینسي نکلتی ہے تب. آئین کی آرٹیکل 52 کہتا ہے کہ بھارت کا ایک صدر ہوگا. آرٹیکل 53 میں لکھا ہے کہ بھارت یونین کی کاریپالکا طاقت صدر میں موجود ہو گا اور وہ اس کا استعمال اس آئین کے مطابق خود یا آپ کے ماتحت حکام کی طرف سے کرے گا. پوروگامی اپبدھ کی کوریج پر تعصب کے بغیر، یونین کے دفاع فورسز کا اولین سمادیش صدر میں موجود ہوگا اور اس کا استعمال طریقہ کی طرف ونيمت گے. ریگولیٹیڈ ہوگا.

صدر کی پانچ سال کی مدت ہے. صدر اپنا استعفی نائب صدر کو دیتے ہیں . نائب صدر فوری طور پر اس کی اطلاع لوک سبھا اسپیکر کو دیتے ہیں . صدر کو مواخذے کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے اس وقت جب انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی ہو. امیدوار ایک بار منتخب ہونے پر دوبارہ منتخب ہونے کی اہلیت بھی رکھتا ہے. پینتیس سال سے کم کے نوجوان صدر نہیں بن سکتے ہیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close