آج کا کالم

عام آدمی پارٹی ای وی ایم کے معاملے کو لے کر واپس آئی!

رويش کمار

خبروں کے نام پر سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا ہی آج کی صحافت کا حق ہے اور آپ کے زائرین کی بدقسمتی. جو لوگ نیوز چینلز پر ملازمتوں کے سوالات اور ہسپتالوں میں پریمیم اوپی ڈی کے نام پر خبریں دیکھنا چاہتے ہیں، ان کو میری ایک مشورہ ہے .. وہ کچھ دن بے روزگار رہنے کا صبر کریں اور ہسپتال جو مانگے وہ دے دیں، کیونکہ ابھی چینلز کو سیاسی پارٹیوں کا ایجنڈا پورا کرنا ہے. ریلوے امتحان کی تیاری میں مصروف کئی طالب علم کئی دن سے نیوز چینلز سے رابطہ کرنے میں لگے ہیں کہ کیا ان کی ملازمتوں میں بھاری کمی کی گئی ہے. طالب علم اگر ریلوے کے وزیر کے ٹوئٹر کے ہینڈل پر پوچھ لیتے تو کیا درست بات کا پتہ چل جاتا. آپ کتنی بھی تیاری کر لیجئے، ایک رہنما کا بیان یا سٹنٹ ٹی وی کی سکرین کو لے اڑتا ہے. کئی بار بتایا ہے، پھر سے بتا رہا ہوں … اب وقت زیادہ نہیں بچا ہے.

ذرائع ابلاغ کے حوالے سے خبریں آ رہی ہیں کہ الیکشن کمیشن جلد ہی سیاسی جماعتوں اور ان کی طرف منتخب کردہ ٹیکنالوجی ایکسپرٹ کو موقع دینے والا ہے. وہ کسی بھی ریاست میں جائیں .. وہاں سے کسی بھی بوتھ کی ایک مشین کا انتخاب کریں. اسے دہلی لایا جائے گا اور پھر ہیک کرکے دکھا دیں. اسے هیكاتھان کا نام دیا گیا ہے. کمیشن نے اعلان نہیں کیا ہے، مگر هیكاتھان جب بحث میں آ ہی گیا ہے، تو آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق هیكاتھان مطلب جان لیتے ہیں . هیكاتھان کئی دنوں یا کئی گھنٹوں تک چلنے والا واقعہ ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں، کسی کمپیوٹر پروگرامنگ کے لئے کام کرتے ہیں. مل کر بناتے ہیں یا بگاڑ بھی سکتے ہیں. اسے هیكاتھان کہتے ہیں.

میرے حساب سے ای وی ایم مشین کے معاملے میں اس کا نام بھارتی پرمپرا کے حساب سے ہونا چاہئے. ہیک سويمور کہنا چاہیئے. ہم خاکے کے ذریعہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ اگر ہوا تو بھارت کا پہلا ہیک سويمور کیسا ہوگا. آج کل سننے میں آ رہا ہے کہ پرانی تاریخ مٹا کر، نیی تاریخ لکھی جا رہی ہے. میری اتنی گزارش ہے کہ جو صفحات خالی ہیں وہاں کسی کونے میں میرا نام بھی لکھ دیا جائے، کیونکہ ہیک سويمور کا تصور سب سے پہلے میں نے کیا ہے. بلکہ کیا لکھنا ہے، وہ بھی بتا دیتا ہوں. جس دور میں نیوز اینكرو کا بلڈ پریشر ماحول کے دباؤ سے پار چلا گیا تھا، اس وقت ایک اینکر ہیک سويمور بننے کے تخیل میں لگا تھا. آئیے ہیک سويمور کا تصوراتی دنیا میں داخل ہوتے ہیں.

هیكاتھان میں 16 جماعتوں کے ٹیکنالوجی ویر آئیں گے. ان جماعتوں کے لئے سب سے بڑا سر درد یہی ہوگا کہ کسی قابل ہیکر کو منا لیں جوای وی ایم کو ہیک کرکے دکھا دے. ابھی ہیکر پر انحصار کرے گا کہ وہ بدلے میں اس فوج سے کتنی فیس لے گا. جو بھی ای وی ایم کو ہیک کرکے دیکھیے گا، وہ ہندوستانی جمہوریت کو بچانے کا سويمور جیت جائے گا. اس کے گلے میں مالا ڈال دی جائے گی. اگر کوئی بغیر ہیک کئے ہیک سويمور پینل سے باہر نکلا تو پورے ملک میں اس پارٹی کا مذاق پرواز کریں گے، جس کی طرف سے وہ ہیک کرنے ہال میں گیا تھا … ٹھیک ویسے ہی جیسے رامانند سمندر کے رامائن سیریل میں سیتا سويمور کے منظر میں دخش نہ اٹھا سکنے والے بادشاہ جب واپس لڑکھڑانے لگتے تھے تو ہنسی کی گونج پس منظر میں سنائی دیتی تھی. لہذا بہتر ہے کہ سیاسی جماعتیں ابھی سے سوچ لیں کہ اپنا ہیکر هیكاتھان میں بھیجنا ہے یا نہیں. میری رائے میں ہیکر کے انتخاب کے لئے انہیں بھی اپنے یہاں هیكتھان کرانا چاہئے. معاملہ بہت شعری ہے.

الیکٹرانک مشین کو لے کر الیکشن کمیشن کو صرف 16 سیاسی جماعتوں سے ہی نہیں نمٹنا ہے، بلکہ عدالتی احکامات کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا. اتراکھنڈ میں ہائی کورٹ نے سات اسمبلی حلقوں میں استعمال ہوئی الیکٹرانک مشینوں کو ضبط کرنے کے احکامات دیئے ہیں. الزام ہے کہ ایک بی جے پی لیڈر نے فیس بک پوسٹ پر کئی بوتھوں کے بارے میں کس پارٹی کو کتنا ووٹ ملے گا، اس کی پیشن گوئی کی تھی، جو قریب قریب صحیح نکلی. ایک الزام ہے کہ جس بوتھ پر جو مشینیں بھیجی گئی تھیں، ان کی فہرست کے مطابق، پولنگ بوتھ پر مشینیں نہیں تھیں … دوسری مشینیں تھیں. ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن، ریاستی الیکشن کمیشن کو نوٹس دیا ہے. یہی نہیں، بامبے ہائی کورٹ نے پونے کے پربتي اسمبلی کی ای وی ایم کی فارنسک جانچ کرانے کا حکم دیا ہے. 2014 میں ہوئے اسمبلی انتخابات کا یہ معاملہ ہے. لگتا ہے اس طرح کا حکم بھی پہلی بار ہوا ہے. بامبے ہائی کورٹ نے 9 سوال بھی پوچھے ہیں کہ …

1۔ کیا وی ایم میں کوئی الیکٹرانک آلات لگ سکتا ہے، جسے بلوٹوت کے ذریعہ آپریٹ کیا جا سکتا ہے؟

2۔ کیا وی ایم میں کوئی میموری چپ ڈالا جا سکتا ہے؟

حیدرآباد کی فارنسک لیب میں پربتي اسمبلی کی تمام مشینوں کی فارنسک جانچ ہوگی. دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے بعد لگا تھا کہ عام آدمی پارٹی بھی باقی جماعتوں کی طرح وی ایم کے مسئلے سے کنارہ کر لے گی، مگر اسمبلی میں اپنے حساب سے ایک مشین بنا کر لے آئے اور اپنے کوڈ نمبر سے بتایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے توڑ کیا جا سکتی ہے. اس بات کو ذہن میں رکھنا ہی ہوگا کہ رکن اسمبلی سوربھ بھاردواج نے جس مشین کو پیش کیا وہ وی ایم نہیں ہے .. نہ ہی اس سے ملتی جلتی ہے. کمار وشواس نے سوربھ بھاردواج کی تعریف کی ہے اور کمار وشواس کے حامی مانے جانے والے کپل مشرا نے تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے الزامات سے توجہ بھٹکانے کے لئے یہ سب کیا گیا ہے. بی جے پی نے کہا ہے کہ جو سوال کیجریوال پر اٹھ رہے تھے، اس سے بچنے کے لئے ای وی ایم کا سہارا لیا گیا ہے.

اس دوران اس معاملے پر الیکشن کمیشن کے جواب آ گئی ہے … الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایسی ملتی جلتی مشین تو کوئی بھی لا سکتا ہے .۔

یہ وی ایم جیسی مشین ہے، ای وی ایم نہیں.

اور اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے.

اس طرح کی مشینوں سے من پسند نتائج حاصل کر سکتے ہیں.

جبکہ الیکشن کمیشن کے EVM مکمل طور پر محفوظ ہیں.

اس طرح کی مشینوں سے EVM کو بدنام نہیں کیا جا سکتا.

الیکشن کمیشن 12 مئی کے اجلاس میں سیکورٹی کے  بارے میں گفتگو کرے گا.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close