آج کا کالم

عدلیہ کے شیر کو بلی بنانے کی ناکام  کوشش

ڈاکٹر سلیم خان

ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار پچھلے سال جب سپریم کورٹ کے ججوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا تو  نریندر مودی حکومت سکتہ میں آگئی۔   اپنے تقرر سے صرف ۹ ماہ  قبل حکومت سے پنگا لے لینا چیف جسٹس رنجن گگوئی کاکوئی معمولی اقدام نہیں  تھا۔ کبر سنی میں انسانی قویٰ مضمحل ہوجاتے ہیں۔  ملازمت کے آخری مراحل میں انسان خطرات سے گھبرانے لگتا ہے کیونکہ  مستقبل کی فکر ستانے لگتی ہے۔   ایسے میں ارباب سیاست  سے ٹکرانے کی جرأت کم ہی لوگ کرپاتے ہیں اور اگر مسند اقتدار پر منموہن سنگھ کی مانند نرم خو انسان  کے بجائے نریندر مودی کی طرح کا کینہ پرور شخص فائز ہو تب تو اچھے اچھوں کے ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں۔  سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس  دیپک مشرا کے بعد سینئر ترین جسٹس جستی چلمیشور،  جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس مدن بی لوکور اور جسٹس کورین جوزف نے عدالت عظمیٰ  میں انتظامی ضابطوں کی خلاف ورزی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے کہا تھا کہ منصف اعظم کی  عدالتی بنچوں کے من مانے ڈھنگ سے الاٹ کرنے سے عدلیہ کی  اعتباریت پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔

اس پنڈورا بکس کے کھلنے کی بنیادی وجہ جسٹس لویا کا معاملہ تھا۔ عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس  کے ساتھ اختلافات اس وقت ناقابلِ برداشت ہوگئے جب  سہراب الدین جعلی مذبھیڑ  کی تحقیقات کرنے والے جسٹس بی ایچ لویا کی پراسرار موت کا معاملہ ایک جونیئر بینچ کے سپرد کردیا گیا۔  مذکورہ ججوں نے پریس کانفرنس میں اس بات کا ذکر کیا کہ  اس بابت  دائر مفادِ عامہ کی عذرداری کو سماعت کے لیے پہلے چار بینچوں کے بجائے کورٹ نمبر دس کے سپرد کیا گیا تھا۔ ان حضرات  نے پریس میں آنے سے قبل  اپنی گزارشات جسٹس دیپک مشرا کے سامنے پیش کیں لیکن جب  قائل لرنے میں ناکام رہے تو مجبوڑاً  میڈیا کے سہارے  قوم کومخاطب کرناپڑا۔ جج حضرات نے بتایا کہ  اگر عدلیہ غیر جانبدار نہیں رہے گی تو ملک سے جمہوریت کا خاتمہ ہو جائے گا۔یہ بات چیف جسٹس دیپک مشرا بھی سمجھتے تھے لیکن چونکہ جسٹس لویا  کے معاملے شک کی سوئی امیت شاہ کی جانب گھوم جاتی تھی اس لیے وہ احتیاط برت رہے تھے۔

اس تاریخی پریس کانفرنس میں جب  نامہ نگاروں نے سوال کیا کہ کیا چیف جسٹس کو ان کے منصب سے برطرف کر دیا جانا چاہیے؟ تو جواب ملا  قوم کو ان کے مواخذے کی بابت  فیصلہ کرنے دیا جائےلیکن اس بات پر چاروں کا اتفاق تھا کہ عدلیہ میں بہت سی ناپسندیدہ باتیں ہو رہی ہیں۔جسٹس رنجن گگوئی کا یہ جملہ طلائی حروف سے لکھنے کے قابل تھا کہ کہ عدلیہ کو عام لوگوں کی خدمات کے قابل بنائے رکھنے کے لیے اصلاحات نہیں  بلکہ انقلاب درکار ہے۔  اس پریس کانفرنس میں شریک ہوکر سب سے بڑا خطرہ جسٹس رنجن گگوئی نے مول لیا تھا اس لیے دیپک مشرا کے بعد ان  کا نمبر تھا۔ مرکزی حکومت سے قطعی توقع نہیں تھی کہ وہ جسٹس رنجن گگوئی کو منصف اعظم کے عہدے  پر فائز ہونے دے گی لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی۔ جسٹس کے ایم  جوزف کی تقرری کے معاملے میں حکومت نے زور لگا کر دیکھا کہ عدلیہ اس کے آگے کتنی جھکتی ہے؟ لیکن جب وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تو ہتھیار ڈال دیئے اور بادلِ ناخواستہ جسٹس رنجن گگوئی کے تقرر پر راضی ہوگئی۔

نئے منصف اعظم کی حلف برداری  سے قبل ان کی تقرری کو سپریم کورٹ میں  چیلنج کردیا گیا۔ عرضی گزارایڈوکیٹ آرپی لوتھرا نے ان کی  میڈیا سے بات چیت کا حوالہ دے کر انہیں نامناسب ٹھہراتے ہوئے اپیل کی  کہ "عدالت کے ۴ سب سے سینئرججوں کے اس عمل نے ملک کی نظام عدل کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نےعدالت کے اندرونی معاملات کو لے کرملک کے شہریوں کے درمیان ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش کی‘‘۔ مدعی نے  مرکزی حکومت اورچیف جسٹس آف انڈیا کی طرف سے ان چیزوں کو نظرانداز کرنے کی حیرانی جتائی۔  لوتھرا کو اعتراض  تھا کہ عدلیہ کے خلاف کئے گئے اس غیرقانونی عمل کے بعد جسٹس رنجن گگوئی کو پھٹکارلگائے جانے کے بجائے انہیں اگلا چیف جسٹس مقرر کیا جارہا ہے۔ اس درخواست کو مسترد ہونا تھا سو ہوا نیز ۳ اکتوبر ۲۰۱۸؁ کو جسٹس رنجن گگوئی نے ملک کے ۴۶ ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف لے لیا۔

شمال مشرقی صوبہ آسام سے پہلی مرتبہ کوئی فرد  ۱۳ ماہ کے لیے اس اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہوا تھا۔ نیا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے  سنگھ پریوار کی فسطائی ذہنیت پر پہلا بلاواسطہ  حملہ  تویہ کہہ کر کیا کہ ’’ شاید ہم مذہب اور ذات کی بنیادپر پہلے سی کہیں زیادہ بٹے ہوئے ہیں۔  ہمیں کیا پہننا چاہیے،  کیا کھانا چاہیے، کیا کہنا چاہیے، کیا پڑھنا چاہیے اور سوچنا چاہیے یہ سب ہماری نجی زندگی کے چھوٹے اور غیر اہم سوال نہیں رہ گئے ہیں‘‘۔ ان کے آنے سے عدالت عظمیٰ کے ماحول میں جو تبدیلی آئی اس کا اندازہ معروف وکیل اور سابق اضافی سالیسیٹر جنرل  اندرا جئے سنگھ کی اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ مشرا جی کے زمانےکوئی اہم قضیہ جب عدالتِ عظمیٰ میں جاتا تو کہا جواب ملتا  پہلے ہائی کورٹ میں جائیں   لیکن اب شکایت کو سنا جاتا ہے اور اس پر فیصلےہوتے  ہیں۔ جسٹس رنجن گگوئی کے تیور کا اندازہ این آر سی کے آسام کو آرڈینٹر پرتیک ہجیلا کو دی گئی  سپریم کورٹ کی  پھٹکار  سے لگایا جاسکتا ہے۔ ہجیلا کے اخباری انٹرویو  پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں یہ کہنے والے کہ تازہ ڈاکیومنٹ دیں؟ سپریم کورٹ نے ہجیلا سے پوچھا کہ آپ کو عدالت کی توہین  کرنے کے لیے جیل کیوں نہ بھیجا جائے؟ سپریم کورٹ نے خبردار کیا کہ مستقبل میں ہوشیار رہیں۔ ہم آپ کو جیل بھیج سکتے تھے۔ لیکن ہم نے خود کو روکا ہے۔ اس کے بعد  ہجیلا کومعافی مانگنی پڑی۔  نام نہاد  غیر ملکیوں کو جیل میں رکھنے پر بھی انہوں نے آسام کی بی جے پی حکومت کو بری طرح پھٹکارہ  اور شہریت بل  پر مرکز کی نیند حرام کردی۔

چیف جسٹس گگوئی نے جب سے ذمہ داری سنبھالی ہے وہ حکومتِ وقت کے لیے مصیبت بنے ہوئے ہیں۔  مظفرپور شیلٹر ہوم  کے معاملے میں انہوں نے سخت احکامات دیئے۔ سی بی آئی کے معاملے میں حکومت کی  غیر آئینی  دھاندلی کو مسترد کرکےآلوک ورما کو ان کے عہدے پر بحال کردیا۔ اس کے بعد جب وزیراعظم مودی ان کے تبادلے پر اڑ گئے تو اس فیصلے سے خود کو دور رکھنے کے لیے دوسرے ساتھی کو بھیج دیا۔  مرکزی حکومت کے منظور نظر  سی بی آئی کے سابق عبوری سربراہ ناگیشور راؤ کو توہین عدالت کا قصوروار قرار دےکر شام تک عدالت کے کمرے میں بیٹھے رہنے کی سزا دی اور ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔  ناگیشور راو کو عدالت نے صرف روز مرہ کے انتظامی امور دیکھنے اور اہم فیصلے نہ کرنے کی تلقین کی تھی مگر انہوں نے سرکاری کی خوشنودی کے لیے ایک اہم کیس کی تفتیش کرنے والے اعلی اہلکار کا تبادلہ کر دیا۔ یہ سرکار کے منہ پر طمانچہ تھا حالانکہ اس پرسابق عبوری سربراہ نے اپنی غلطی تسلیم کرکےغیر مشروط معافی  بھی مانگی لیکن گگوئی  نہیں مانے اور  یہ کہاکہ  ‘عدلیہ کی شان اور اس کا وقار برقرار رکھنا ضروری ہے اور یہ توہین عدالت سے نہیں ہوتا۔’

رام مندر کے معاملے میں سنگھ پریوار کو جس طرح جسٹس گگوئی پھٹکارہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ یہ ہماری ترجیحات  شامل نہیں ہے اور اس کے بعد ثالثی شروع کروا کر بی جے پی کو اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے سے محروم کردیا۔ رافیل کے معاملے میں کلین چٹ دیتے ہوئے اس رپورٹ کا ذکر کردیا جس کو سرکار نے بند لفافہ میں بنیاد بنایا تھا مگر  موجود ہی نہیں تھی۔  اس سے سرکار کی خوب سبکی ہوئی۔ رافیل کی دوبارہ سماعت کو روکنے کے لیے سالیسیٹر جنرل نے کاغذات کی چوری کا الزام لگا کر درخواست کوخارج  کرنے کا مطالبہ کیا مگر جسٹس گگوئی نے اسے تسلیم نہیں کیا۔  الیکشن کمیشن کے دوہرے رویہ پر بھی سپریم کورٹ نے اس کے کان اینٹھے اور اس کے بعد یوگی اور دیگر رہنماوں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوا۔  وزیراعظم نریندر مودی کی زندگی پر بنی فلم پر روک لگائی گئی۔  راہل گاندھی کے سپریم کورٹ کی جانب سے نریندر مودی کو چور کہنے کی بات پر عدالت عظمیٰ کا ردعمل تھا ’کہا تو نہیں ہے‘ اس کا مطلب یہ بھی  ہوسکتا ہے کہ کہا نہیں لیکن حقیقت یہی ہے۔

جسٹس گگوئی پر لگائے گئے  جنسی ہراسانی کے الزامات  کواس تناظر میں  دیکھا  جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ کی ایک سابق    ملازمہ نے ۲۲ ججوں کو خط لکھ‌کر الزام لگایا ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی)جسٹس رنجن گگوئی نے گیارہ  اکتوبر ۲۰۱۸؁  کو اس پر دست درازی کی۔   اس  کی مخالفت کے بعد سے ہی اسے اوراہل خانہ  کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ ا۔خاتون نے جنسی ہراسانی اور تبادلوں کے علاوہ جو الزامات لگائے انہیں پڑھ کر ہنسی آتی ہے مثلاً دہلی پولس میں  زیر ملازمت شوہر اور اس کے بھائی برخواستگی۔  یہ بھلا سپریم کورٹ کیسے کرسکتا ہے؟  ۹ مارچ۲۰۱۹؁  کو راجستھان کے گاوں میں  دہلی  پولیس کا  دھوکہ دھڑی کے ایک معاملے میں تفتیش اوراس کو  ایک دن کے لئے تہاڑ جیل بھیجا جانا۔ ۔  یہ انتطامیہ کی ذمہ داری ہے۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں اس کی ضمانت کا خارج ہونا۔  اس سے بھی چیف جسٹس کا کوئی سروکار نہیں ہے؟ جسٹس  گگوئی کے مطابق  اگلے ہفتے کئی اہم معاملات  کی سنوائی ہو نی ہے،  اس لئے جان بوجھ ایسے الزامات گھڑے  گئے۔  جس خاتون نے یہ الزامات لگائے،  وہ کسی شخص کو سپریم کورٹ میں نوکری دلانے کا جھانسہ دےکر روپئے لینے کےالزام میں ۴ دن کے لیے جیل جاچکی ہے۔ اس خاتون پر ملازمت میں آنے سے پہلے ہی معاملہ درج تھا۔ اس کے شو ہربھی ایسے ہی معاملات میں ملوث ہے۔

ان الزامات کی  سپریم کورٹ کے سکریٹری جنرل نے فرضی بتاتےقرار دے کر مسترد کردیا۔ انہوں نے خاتون اور اس کے شوہر کو کام میں بے اطمینانی کے سبب اصول کے مطابق برخاست کرنے کی بات کہی۔  انہوں نےکہا  کہ ان جھوٹے اور توہین آمیز الزامات کے پیچھے ‘سوچی-سمجھی حکمت عملی’ہےکیونکہ برخاستگی سے پہلے خاتون کی ایسی کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان جھوٹے الزامات کو قانونی کارروائیوں سے باہر نکلنے کے لئے دباؤ کی حکمت عملی کے طو رپر استعمال کیا جا رہا ہے۔  بہت ممکن ہے کہ ادارے کو بدنام کرنے کے ارادے سے ان سب کے پیچھے شاطر طاقتوں کا ہاتھ ہو۔ ‘وہ طاقتیں کون سی ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

یہ الزامات بظاہر بے بنیاد لگتے ہیں اس کے باوجود ان کے منظر عام پر آنے جسٹس گگوئی گھبرا گئے۔  انہوں چھٹی کے دن سپریم کورٹ کی  خصوصی سماعت کا اہتمام کرڈالااور اس کے لیے قائم کی جانے والی بینچ میں خود کو بھی شامل رکھا نیز میڈیا کو احتیاط برتنے کی نصیحت  کردی۔دراصل ان کو یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ دودن بعد سپریم کورٹ میں یہ معاملہ آتا  تو ان گھبراہٹ سامنے نہیں آتی۔ عدالت کا ایک اصول یہ ہے کہ انسان خود اپنے بارے میں جج نہیں بن سکتا اس لیے انہیں اس پینل سے دور رکھنا چاہیے تھا۔  جسٹس گگوئی  جرأتمند اور بیباک عدلیہ و صحافت کے علمبردار ہیں اس لیے اگروہ میڈیا کو کوئی تلقین نہیں کرتے تو اچھا تھا لیکن موجودہ سرکار نے میڈیا کی مدد سے جو ماحول بنایا ہے اس سے ہر عزت دار انسان خوفزدہ ہے۔ جسٹس گگوئی کو اس موقع پر کہنا پڑا کہ جج کے طور پر ۲۰ سال کی بےلوث خدمات کے بعد میرا بینک بیلنس ۸ء۶ لاکھ روپے ہے۔ کوئی مجھے پیسوں کے معاملے میں نہیں پکڑ سکتا، لوگ کچھ ڈھونڈنا چاہتے ہیں اور ان کو یہ ملا‘۔انہوں نے اعتراف کیا کہ  ‘اس کے پیچھے کوئی بڑی طاقت ہوگی، وہ سی جے آئی کے دفتر کو غیر فعال کرنا چاہتی  ہو لیکن میں اس کرسی پر بیٹھوں‌گا اور بلا خوف و خطر عدلیہ سے جڑے اپنا فرض پورا کروں‌گا۔ ‘سی جے آئی نے کہا، ‘میں نے آج عدالت میں بیٹھنے کا  غیر معمولی قدم اٹھایا ہے کیونکہ چیزیں بہت آگے بڑھ چکی ہیں۔ عدلیہ کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جا سکتا۔ ‘عدالت نے اعتراف کیا کہ عدلیہ کی آزادی ‘بےحد خطرے ‘ میں ہے۔  یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ عوام اپنی آزادی کو محفوظ رکھنے کے لیے جس ادارے سے رجوع کرتے ہیں خود اسی آزادی خطرے میں ہے۔

اس  نازک معاملے کے چار دن بعد ایک اور موڑ آگیا۔  جسٹس ارون مشرا، آر ایف نریمن اور دیپک گپتا کی عدالت میں جسٹس رنجن گگوئی   کے خلاف سازش رچنے کا ایک مقدمہ درج ہوا۔  اس میں اتسو بینس نامی ایک وکیل نے حلف نامہ داخل کیا کہ انہیں مذکورہ  خاتون کا مقدمہ لڑنے کے لیےاجئے نام کے ایک شخص نے ڈیڑھ کروڈ رشوت کی پیشکش کی۔  پہلے تو وہ تیار ہوگئے لیکن تفصیلات کے تضاد نے انہیں چونکا دیا۔ انہوں نے وضاحت کی خاطر عورت سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو اجئے نے اسے گھر یا دفتر میں لانے سے انکار کردیا۔  اجئے اس عورت کے ساتھ اپنے تعلق کا بھی  اطمینان بخش جواب نہیں دے سکا۔  تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ اجئے دلال ہے جو روپیوں کے عوض اپنی مرضی کے فیصلے کروانے کا کام کرتا ہے۔ جسٹس گگوئی  نے چونکہ ایسے دلالوں کی کمر توڑ دی ہے اس لیے یہ سازش کی گئی ہوگی۔ یہ حقیقت ہے یا سرکار کو بچانے کے لیے کسی اجئے کو بلی کا بکرا بنایا جارہا ہے کوئی نہیں جانتا لیکن وزیرخزانہ نے اس موقع پر عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہونے کا بلاگ لکھ کریہ تسلیم کرلیا ہے کہ اگر یہ اقدام حکومت کے ایماء پر ہوا تھا تو اس نے اپنی شکست تسلیم کرکے رجوع کرلیا ہے۔ مودی جی کب تک اقتدار میں رہیں گے کوئی نہیں جانتا اور کسی کو یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ جانے سے قبل کس کس ادارے کو تباہ و برباد کرکے جائیں ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. واقعی قابلِ تعریف مضمون
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

متعلقہ

Back to top button
Close