آج کا کالم

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش یوگی!

ڈاکٹر سلیم خان

عشق ویسے بھی خطرناک کھیل  ہے لیکن اگر یکطرفہ ہوتو اس کی تباہ کاری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔  ا س پر  اگرعاشق خاتون اور  معشوق  یوگی یا سنیاسی ہوتواس کی فتنہ سامانی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے نیز  اقتدارپر فائز  سیاستداں  اس شراب کو دوآتشہ کردیتا ہے۔  ہیما نامی ایک طلاق شدہ خاتون کےمعاملے میں یہ سب بیک وقت ہوگیا۔ وہ بیچاری  اپنا پریم پتر  لے کر وزیراعلیٰ  یوگی کے دفتر پہنچ گئی اور استقبالیہ میں اسے جمع کردیا۔  وہاں سے باہر نکلی تو کیمرے اور مائک  سے لیس  نامہ نگار وں نے اسے گھیر لیا کیونکہ ایک نامعلوم خاتون ان کے لیےرکن پارلیمان ہیما مالنی سے بھی زیادہ اہم ہوگئی۔ اس ہیما نے کیمرے  کے سامنے ببانگِ دہل دعویٰ کیا کہ   وہ یوگی جی سے ویڈیوکانفرنسنگ کے ذریعہ رابطے میں ہیں۔  وہ ان کے عشق میں گرفتار ہوچکی ہیں اور چاہتی ہیں کہ یوگی جی ملاقات کرکے بتائیں کہ کیا وہ اس کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔  یہ ویڈیو آناً فاناً وائرل ہو گیا۔  اس  میں وہ بار بار  کہتی ہے کہ جو اس خط میں لکھا ہے اگر جھوٹ ہوتو اسے جیل بھیج دیا جائے۔ اس طرح پیار کا اظہار کرکے ہیما نے  انارکلی کی یاد دلا دی جومغل اعظم کے سامنے اعلان کرتی ہے؎

جب پیار کیا تو ڈرنا کیا ، جب پیار کیا تو ڈرنا کیا

پردہ نہیں جب کوئی خدا سے بندوں سے پردہ کرنا کیا

  اس یکطرفہ دعویٰ  کو یوگی جی بہ آسانی نظر انداز کرسکتے تھے لیکن اس معاملے میں  پرشانت کنوجیا نامی صحافی کو گرفتار کرکے انہوں نے  ظاہر کر دیا  کہ دال میں کچھ  کالا ضرور ہے۔  سچ تو یہ ہے پرشانت کی گرفتاری نے ہی  اس خبرسے ساری دنیا کو روشناس کرادیا ورنہ اس کا رفع دفع  ہوجانا بہت ہی آسان    تھا۔ فری لانس صحافی پرشانت کنوجیا دی کسی زمانے میں  وائر ہندی سے وابستہ تھے۔  انہوں نے یہ ویڈیو نہیں بنائی بلکہ اسے اپنے ٹویٹرپر اس کمنٹ کے ساتھ شیئر کیا کہ ‘عشق چھپتا نہیں چھپانے سے یوگی جی’۔   عصر حاضر میں یہ کوئی سنگین جرم نہیں ہے کیونکہ بی جے پی کامیڈیا سیل دن رات لوگوں کی کردار کشی میں مصروف عمل ہے۔  اس کی پاداش میں کنوجیا  کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ ۵۰۰ اور آئی ٹی ایکٹ ؁۲۰۰۸ کے دفعہ ۶۶ کے تحت مقدمہ درج کرکے ۱۱ دنوں کے لیے جیل بھیج دیا جانا ایک حیرت انگیز اور قابلِ مذمت حرکت تھی۔

پرشانت کی اہلیہ  جگیش اروڑہ کے مطابق  سادہ لباس میں پولیس اہلکاروں نے  بغیر وارنٹ کے ان کے شوہر کو حراست میں لے لیاجبکہ حضرت گنج تھانہ انچارج رادھا رمن سنگھ نے پرشانت کنوجیا کی گرفتاری کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی۔  ایف آئی آر درج کرنے والے تفتیش کار ویجندر کمار مشرا  نےبھی  گرفتاری سے انکار کیا۔  یوپی پولیس کے پریس انچارج آشیش دویدی نے بتایا کہ وہ  پرشانت کوتلاش کر رہے ہیں۔  سوال یہ ہے کہ یوگی سرکار اگرحراست کی تصدیق سے اس قدر خوفزدہ تھی  تویہ حماقت کرنے  کی ضرورت ہی  کیاتھی؟ پرشانت کی گرفتاری کے بعدیوگی جی کی  بوکھلاہٹ میں مزید اضافہ ہوگیا اور اگلے دو دنوں  میں ان کا مذاق اڑانے کے الزام میں مزید ۴ لوگوں کوحراست  میں لیا گیا  بلکہ آگے چل کر یہ تعداد ۸ پر پہنچ گئی۔ یوگی جی کی اس من مانی  پر یہ شعرصادق آتا ہے؎

دل سنگ ملامت کا ہر چند نشانا ہے  

   دل پھر بھی مرا دل ہے دل ہی تو زمانا ہے

ان  گرفتاریوں  سے صحافت کی دنیا میں بھونچال آگیا۔ نئی دہلی کے پریس کلب سے صحافیوں نے احتجاجی جلوس  نکال کر ہتک عزت کا مقدمہ واپس لینےاورفوری رہا ئی کا مطالبہ کیا۔  ایڈیٹرس گلڈ نے  اس گرفتاری کو ‘ قانون کا غلط استعمال ‘ اور پریس کو ڈرانے کی کوشش بتایا۔ اس جبرو ناانصافی کے خلاف پرشانت کی اہلیہ عدالت عظمیٰ میں پہنچ گئیں اور وہاں جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس رستوگی کی بنچ نے کہا کہ ،شہریوں کی آزادی مقدس ہے اور اس سے سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس کو آئین کے ذریعہ یقینی بنایا گیا ہےاور اس کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔ اس پر سرکاری وکیل نے پینترا بدل کر کہا کہ پرشانت کو دسمبر ۲۰۱۷؁ میں دیوی دیوتاوں کی توہین کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس  اقدام کے  لیے پرشانت کے عشقیہ تبصرے کا انتظار کیوں کیا گیا؟  سپریم کورٹ نےسرکاری دلائل مسترد  کرکے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا اور یوگی سرکار  کی کھنچائی کرنے کےبعد پرشانت کو فوراً بری کرنےکا حکم دےدیا۔ اپنے شوہر کی رہائی کامژدہ سن کر جگیش اروڑہ کی زبان پر یہ شعر آیا ہوگا؎

مجھ کو اسی دھن میں ہے ہر لحظہ بسر کرنا

 اب آئے وہ اب آئے لازم انہیں آنا ہے

شریف آدمی کو اپنی عزت و ناموس کا خیال احتیاط پر مجبور کرتا ہے مگر  کچھ لوگوں کو بے عزتی کرانے کا شوق ہوتا ہے۔  یوگی جی ان میں سے ہیں جو اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ ’بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا ’۔ ویسے یہ  ان کی ایک مجبوری ہے۔ انہوں نے بدمعاش بھکتوں کی ایک ایسا ٹولہ  تیار کررکھا ہے جو ان کی جابرانہ سفاکی  پر خوش ہوتی ہے۔ ان کو اگر پتہ چل جائے کہ یوگی جی سدھر گئے ہیں تو وہ کسی اور بدزبان  رہنما کےگرویدہ ہوجائیں گے۔  بی جے پی میں ساکشی مہاراج اور گری راج سنگھ جیسوں کی ویسے بھی بھرمار ہے۔  اپنے مریدوں کی خوشنودی  کے لیے یہ لوگ مختلف حماقتیں کرتے رہتے ہیں۔  راہل  گاندھی نے بجا طور پر پرشانت کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا کہ اگر ان کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنےوالوں کی گرفتاری ہوجائے تو کئی خبر رساں ایجنسیوں اور چینلوں میں نامہ ناگار کم پڑجائیں ۔  راہل گاندھی کانا م  اب تک نہ جانے کتنی لڑکیوں سے جوڑا جاچکا ہے۔ سیاست سے قطع نظرفیک( جعلی) عشق کی ان داستانوں  نے جگرمراد آبادی کے مندرجہ ذیل  شعر کی تکذیب کردی ہے جس  کےمطابق عاشق صادق کو ایک آگ کے دریا میں ڈوب کر پارنکلنا ہوتا تھا۔   عصر حاضر کا عاشقِ کاذب خود کو بچا کر دوسروں کو آگ کے سمندر میں ڈھکیل دیتا ہے۔

یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے 

  اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

ایک زمانے تک پولس فورس عام لوگوں کو ڈراتی تھی مگر صحافیوں سےکسی قدر خوف کھاتی تھی ۔  یوگی جی نے انتظامیہ کےدل  سے صحافیوں کا ڈر نکال دیا۔  مثل مشہور ہے‘ جب سیاںّ بھئے کوتوال تو ڈر کاہے کا’۔ پولس والوں کو  جعلی مڈبھیڑ(فیک انکاونٹر) کی کھلی چھوٹ دے کر یوگی جی  نے اتنا جری بنادیا ہے کہ وہ صحافی تک کو خاطر میں نہیں لاتے۔  اس کی ایک  مثال پرشانت کنوجیا کے رہائی  والے دن ہی سامنے آگئی۔  ہوا یہ کہ اتر پردیش کے شاملی ضلع میں ایک  مال گاڑی پٹری سے نیچے اتر گئی۔  اس خبر کو اپنے ناظرین تک پہنچانے  کے لیے نامہ نگاروں کی فوج اپنے کیمروں کے ساتھ جائے حادثہ پر  پہنچ گئی۔  ان میں سے ایک  امیت شرما بھی تھا جس کی جی آر پی (گورنمنٹ ریلوے پولس) کےاک  اہلکار نے خوب جم کر  پٹائی کردی۔ صحافی کا الزام ہے کہ پولس والے نے اس سے کیمرہ چھیننے کی کوشش کی تو وہ  نیچے گر گیا۔ جیسے ہی وہ بیچارہ اپنا کیمرہ اٹھانے کے لئے نیچے جھکا پولس والا اس پر ٹوٹ پڑا اور ننگی  گالیاں دینے لگا۔ راوڈی سنیل کمار نے اس بات کی پرواہ بھی نہیں کی وہاںموجود دیگر صحافی اپنے کیمروں اس  کے تشددکی فلمبندی کررہے ہیں۔   انتظامیہ کو یقین  ہے کہ یوگی جی کے ہوتے کوئی ان کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔

یہ معاملہ دھیمانپور پھاٹک پر ختم نہیں ہوا جہاں مال گاڑی کے ڈبے پٹری سے اترے تھے بلکہ پولس والےامیت شرما  کو جی آر پی تھانہ لے گئے۔ وہاں پر  تھانہ انچارج راکیش کمار نے اس کا موبائل چھین لیا اور خوب کُٹائی  کی۔ اس پر بھی اس کا من شانت نہیں ہوا تو  اپنی پرانی رنجش کے چلتےساتھیوں سمیت اس کے منہ پر پیشاب کرنے کی کوشش بھی کرڈالی۔ شرما سے تھانہ انچارج راکیش کمار  اس لیے ناراض تھا کہ اس نے کچھ دن قبل ریلوے میں جی آر پی کے ذریعہ غیر قانونی وینڈرنگ کی خبر چلادی تھی۔  اس حرکت پر سبق سکھانے اور دوسروں کو ڈرا نے دھمکانے کی خاطر یہ غنڈہ گردی کی گئی۔  یہ شرمناک معاملہ جب  روشنی میں آیاتوڈی جی پی او پی سنگھ  نے حوالدارسنیل کمار سمیت راکیش  کو معطل کر دیا  نیز  اگلے۲۴ گھنٹوں میں رپورٹ  پیش کرنے کے احکامات صادر کردیئے۔ بہت ممکن ہے کہ یہ اقدامات عوام کا غم و غصہ کم کرنے کے لیے کیے گئے ہوں  اور رپورٹ کے اندرامیت  شرما کو اسی طرح قصوروار ٹھہرا دیا جائے جیسے پرشانت کنوجیا کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس لیے کہ یوگی کے مایا جال میں  یہ عین ممکن ہے بقول ابن انشاء؎

سب مایا ہے،

سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے​

اس عشق میں ہم نے جو کھویا

جو پایا ہے​

جو تم نے کہا ہے،

فیض نے جو فرمایا ہے​

سب مایا ہے​

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close