آج کا کالم

علی گڑھ اور کھٹوعہ : بنت حوا ہوں میں یہ مرا جرم ہے

علی گڈھ اور کھٹوعہ کےسانحات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مجرم پیشہ افراد ہر سماج میں ہیں  اور ان کی زیادتی کا شکار ہونے والےمظلومین  کا تعلق بھی  مختلف مذہب سے ہوتا ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

خواتین پر مظالم کا جائزہ لینی والی ایک رپورٹ کے مطابق 2012  سے 2018  کے درمیان خواتین کے خلاف جنسی زیادتیوں اور عصمت ریزی کے واقعات میں بدتریج اضافہ ہوتارہا ہےلیکن  2019 ملک کی مظالم نسواں  کےحوالے سے عذاب بن کر وارد ہوا۔  رواں سال  کے پہلے ہی مہینے  میں  آبرو ریزی کے پچاس سنگین واقعات درج کئے گئے۔ ان سانحات  کو سنگین قرار دینے کی وجہ ہے یہ ہے کہ معمولی واردات تو یونہی دبا دی جاتی ہے۔جنسی جرائم میں اُترپردیش سرفہرست تھا جہاں  عصمت دری کے 15،اس کے بعدبہار میں 8، دہلی، مغربی بنگال  و اُتراکھنڈ میں5،5، ممبئی میں 3،مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور کرناٹک میں2، 2 نیز اڑیسہ میں1 ایک واقعہ کی شکایت درج ہوئی۔  16 دسمبر 2012 کو راجدھانی  دہلی میں رونما ہونے والے  نربھیامعاملے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کررکھ دیا تھا۔ اس  کے بعد جنسی جرائم سے متعلق قوانین میں ترمیم کرکےانہیں  سخت کیا گیا۔ مردوں کی عمرِبلوغت کو 18 سے گھٹا کر 16 کی گئی لیکن اس کا خاطر خواہ اثر نظر نہیں ہوا۔ یہ   غیرفطری تعین بھی عجیب حماقت ہے۔ اس کی بناء پر عصمت دری میں ملوث درندوں کو نابالغ قرار دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے حالانکہ اس فعلِ قبیح کا ارتکاب ہی مجرم  کے بالغ ہونے کی  دلیل ہے۔

انتخابی عمل کی گہما گہمی نے ذرائع ابلاغ  کو اس عفریت سے عارضی طور پر غافل کر دیا  لیکن مئی کے اواخر تک الیکشن اور اس کے نتائج کا نشہ اترا تو یکے بعد دیگرے رونگٹے کھڑے کرنے والے واقعات منظرِ عام پر آنے  لگے۔اجین، بھوپال، احمدآباد، علی گڈھ اور اتر پردیش کے کئی شہروں سے دل دہلانے والی واراداتیں شائع ہونےلگیں۔ اس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ کو صوبے کے اہم  پولس افسران کو لکھنو میں طلب کرکے ان کے ساتھ خواتین کے تعلق سے نظم و نسق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر غورو خوض   کرنا پڑا۔ ملک بھر  اور اتر پردیش کے بیشتر  واقعات میں  جنسی جرائم کا شکار ہونے والی خاتون یا بچی اور اس کا ارتکاب کرنے والے درندے کا تعلق اکثریتی طبقہ سے تھا اس لیے ہندو فرقہ پرست قوتوں کےلیے اس کے سیاسی استحصال  کا موقع نہیں ملا مگر علی گڑھ  میں مل گیا کیونکہ وہاں پر ڈھائی سالہ  بچی ٹوئنکل  کا  بہیمانہ قتل محمد زاہد اور محمد اسلم نے کیا  تھا۔

اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی سوشیل  میڈیا پر فیک نیوز کی آندھی آگئی۔ سماجی ذرائع ابلاغ کے  شدت پسند صارفین نے اس کو مذہبی تشدد اور فرقہ وارانہ  رنگ دیتے ہوئے اشتعال انگیزی شروع  کردی۔ اول تو  واٹس  ایپ پر دو مسلمانوں کے  ذریعہ ایک ہندو بچی کا قتل کا معاملہ اچھالا گیا اور پھر اس میں ریپ کااضافہ  کردیا گیا۔ بچی  کے جسم پر تیزاب ڈالنے کی وجہ سے اس کا چہرہ جھلسنے اور آنکھیں باہر نکل آنے کی خبر اڑائی گئی۔ ان افواہوں کی  علی گڑھ پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آکاش کلہاری نے بروقت  تردید کی اور  بتایا کہ بچی کا قتل گلا دباکر کیا گیا تھا اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں ریپ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ قتل بچی کے والد اور محمد زاہد کے درمیان آپسی رنجش کی وجہ سے ہوا ہے جو دس ہزار کے قرض کو لے کر تھا۔ قاتل نے گرفتاری کے بعد اپنا جرم قبول بھی کرلیا۔  ایس ایس پی  اشوک کلہاری نے قاتل محمد زاہد اور اس کے معاون محمد اسلم کو جیل بھیجنے کی تصدیق کرکے معاملہ کو رفع دفع کرنے کی مستحسن  کوشش کی۔ انہوں نے سی او پنکج شریواستو کو اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی  کےسبب  معطل کرکے غم و غصہ کو کم کرنے کا  بروقت اقدام کیا۔ اس کے باوجود فرقہ پرست عناصر نے مظفر نگر کے فسادات کو دوہرانے کی مذموم کوشش کی  جسے صوبائی  حکومت  نے ناکام کردیا اور اس کے لیے وزیر اعلیٰ  یوگی ادیتیہ ناتھ  مبارکباد  کے مستحق ہیں۔

علیگڑد میں فرقہ وارانہ فساد برپا کرنے کی غرض سے  مظفر نگر کے خطوط پر  مہاپنچایت کا اعلان کیا گیا  اور حکم امتناعی کے باوجود مظاہرین سڑکوں پر اتر آئے۔ پولس اہلکاروں کو لاٹھی چارج کرکے احتجاج کرنے والوں کو بھگانا پڑا۔موقعہ واردات پر پہنچنے کی ضد کرنے والی  سادھوی پراچی کو وہاں جانے سے بزور قوت روک کر  لوٹا دیا گیا۔مہاپنچایت کا اہتمام کرنے والے چار افراد کو پولس نے حراست میں لے لیا اور پورے علاقہ میں فورس تعینات کردی گئی۔ قریب کےجلال پور تھانے نے بجرنگ دل اور ہندو یوا منچ کے مظاہرین کو قابومیں کر کے پانچ رہنماوں کو حراست میں لیا۔ کرنی سینا نےسخت قانون کا مطالبہ کرنے کے بعد  عدالت کی ناکامی پر خود پھانسی کی سزا دینے کی دھمکی دی۔ اس کو ایسا صرف ایک معاملے کے بجائے ہر واردات پر کرنا چاہیے۔ سڑک پر فرقہ پرستوں کے ساتھ  نمٹتے ہوئے پولس نے سوشیل میڈیا پر بھی  کڑی نگاہ رکھی بلکہ  عارضی طور پر انٹر نیٹ کو معطل کردیا۔ ان اقدامات سے ہندو شدت پسندوں کو یہ پیغام ملا کہ ان کے ساتھ نرمی نہیں کی جائے گی۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ اگر ریاستی حکومت  چاہے تو وہ فرقہ وارانہ صورتحال کو قابو میں کرسکتی ہے لیکن  اس کے لیے قوت فیصلہ کے ساتھ جرأت کا مظاہرہ لازم  ہے۔

اتفاق سےاس دوران عدالت کے دو حوصلہ افزا  فیصلے بھی سامنے آئے جن میں سے ایک جھارکھنڈ کے دمکا  اور دوسراجموں کشمیر کے  کٹھوعہ کا تھا۔ دمکا ضلع کی سیشن کورٹ  نے ایک خاتون کی اجتماعی عصمت دری  کےمعاملے میں گیارہ لوگوں کوتاعمر قید بامشقت کے ساتھ ۲۰، ۲۰  ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی۔ بدقسمتی سے ان ۱۱ درندوں میں بھی ایک مسلمان کا نام ہے۔اس معاملے سے متعلق دیگر۶ نابالغوں کا معاملہ بچوں کی  خصوصی عدالت میں زیر غور ہے۔ ویسے تو اجتماعی عصمت دری کے ہر معاملہ میں کچھ نام نہاد نابالغ نوجوانوں کا نام شامل ہوتا ہے لیکن یہاں پر آدھا درجن نوجوانوں کا اس جرم میں ملوث ہونا ملک کی آئندہ نسل  کے بارے میں خوفناک صورتحال کا اشارہ کرتا ہے۔ جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں نابالغ بچی کی آبروریزی اور قتل کے معاملہ میں پنجاب کے پٹھانکوٹ کی ایک خصوصی عدالت نے ۷ میں سے ۶ ملزمان کو قصوروار  ٹھہراکر تین کو عمر قید، تین کو پانچ پانچ سال کی سزا سنائی اور ایک بری کر دیا۔

 دمکا کے مقابلے  کھٹوعہ پر بہت زیادہ گفتگو ہوئی اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اول تو کھٹوعہ میں ایک   آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کو وحشیانہ عصمت دری  کے بعد قتل  کردیا گیا تھا۔ دوم یہ معاملہ مندر کے اندر پیش آیا تھا۔ اس میں پجاری کےعلاوہ پولس بھی ملوث تھی لیکن اس کا  سب سے وحشت ناک پہلو یہ  تھا کہ اس بہیمانہ درندگی پر بھی  سیاسی  روٹیاں سینکنے کی مذموم حرکت کی گئی اور بی جے پی سمیت پورا سنگھ پریوار ظالموں  کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگیا۔  ان لوگوں سڑکوں سے لے کر عدالت تک ہرجگہ  بڑی بے حیائی کے ساتھ سفاک زانیوں کی حمایت کی اور خود اپنی صوبائی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا۔ زعفرانی مظاہرین نے پولس کی تفتیش پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور سرکاری وکیل کو ڈرانے دھمکانے کی سعی تک کرڈالی  لیکن عدالت نے اپنے فیصلے میں  دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے۔ ایسے میں ان سیاستدانوں کی بھی سرزنش ہونی چاہیے جو ظالم مجرمین  کی  حمایت میں آسمان اور زمین کے قلابے ملا رہے تھے۔

کھٹوعہ  معاملے میں مجبور ہوکر بی جے پی کو اپنے وزراء چندر پرکاش گنگا اور چودھری لال سنگھ کو لال جھنڈی دکھا کر ان سے استعفیٰ  لینا پڑا تھا لیکن وہ لوگ  باز نہیں آئے۔ آصفہ کیس کی سی بی آئی انکوائری کے مطالبے کو لےکر چودھری لال سنگھ نے باغیانہ تیور دکھاتے ہوئے جموں میں اپنی سرکاری رہائش گاہ سے ضلع کٹھوعہ تک جلوس نکالا۔ اس دوران متعدد مقامات مثلاً ستواری چوک جموں، سانبہ اور کٹھوعہ میں اپنے حامیوں سے خطاب کیا۔ لال سنگھ کی ریلی میں درجنوں چھوٹی بڑی گاڑیاں شامل تھیں جن پر سی بی آئی انکوائری سے متعلق بینرس لگے ہوئے تھےنیزچند گاڑیوں پر لاؤڈ اسپیکر بھی نصب تھے۔مستعفی وزیر لال سنگھ بضد تھے کہ‘‘چاہے کچھ بھی ہو، سی بی آئی انکوائری کراکے ہی رہوں گا’’۔ لال سنگھ اپنی ہی حکومت کی  وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے استعفیٰ  کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کو علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کا ہمنوا ثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ اس معاملہ کا سب سے دلچسپ پہلو مستعفی وزراء کا  یہ دعویٰ تھا کہ جس جلسہ میں شرکت کے سبب ان پر کارروائی کی گئی وہاں جانے احکامات خود پارٹی نے صادرکیے تھے۔

علی گڈھ اور کھٹوعہ کےسانحات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مجرم پیشہ افراد ہر سماج میں ہیں  اور ان کی زیادتی کا شکار ہونے والےمظلومین  کا تعلق بھی  مختلف مذہب سے ہوتا ہے۔ اس لیے ان معاملات میں بلا تفریق مذہب و ملت  ظالم کی سرزنش کی جانی چاہیے ا ور مظلوم کی حمایت ہونی چاہیے۔ ملک بھر اور خاص طور اترپردیش کےمختلف شہروں مثلاًگورکھپور۔ وارانسی۔ میرٹھ، مظفرنگر،بریلی، آگرہ، لکھیم پور کھیری  اور دوسرے ضلعوں میں معصوم بچی کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنے میں مسلمان پیش پیش تھے۔اس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ کی تنظیم  بھی شامل تھی۔۔ ان  سب نے قاتلوں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا جو عین شریعت کا تقاضہ  ہے۔کسی مسلم تنظیم نے اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی اوچھی حرکت  نہیں کی  لیکن افسوس کہ جموں اور علی گڑھ ہر دو مقامات پر زعفرانی  فرقہ پرست اس سے اپنے آپ کو روک نہیں سکے۔  اس  موقع میں علی گڑھ کے معاملے میں  انتظامیہ  اور کھٹوعہ کی بابت چندی گڑھ کی خصوصی عدالت نے منصفانہ رویہ اختیار کرکے عدل و قسط کی لاج رکھ لی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close