علی گڑھ مسلم یونیورسٹی:ہمارے سیکولر اقدار کا امتحان

ڈاکٹر عبدالخالق

گزشتہ چند ماہ کے دوران ہوئے واقعات ہماری عوامی زندگی میں تشویشناک رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ طاقتور اور مخصوص مراعات والے گروپوں کے جن حالات و واقعات کے زیر اثر حکمراں طبقہ نے ہمارے درمیان دائمی تفرقات کے تئیں آنکھیں بند کر رکھی ہیں اس سے کاجی انصاف اکثریت کی اتفاق رائے کے بوجھ تلے دب گیا ہے۔تنگ نظری، مساوی مواقع اور قابلیت کے اعتراف پر حاوی ہوگئی ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ انتہائی حاشیہ پر زندگی گذار رہے طبقوں کیلئے جو مراعات و مفادات مخصوص کئے گئے ہیں، ان پر راست حملہ ہورہا ہے۔ ایس سی/ایس ٹی کیلئے مثبت عمل کے برخلاف چیخ و پکار، غریبوں کیلئے سرکاری سبسڈی کی کٹوتی اور اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کیخلاف ملی جلی آوازیں اس بات کا پختہ ثبوت ہیں کہ ایک نظام ایسا ہے جو ترقی کو نفع اور طاقت کے آئینہ میں دیکھتا ہے، نہ کہ عوام کی نظروں سے۔ ایسا لگتا ہے کہ سماج کی بساط پر آخری سرے پر موجود افراد کیلئے چند استحقاقات کو درکنار کرنے کیلئے ہم مائل ہورہے ہیں۔
سپریم کورٹ میں اے ایم یو کیس میں اٹارنی جنرل نے بیان دیا ہے کہ ’’ایک سیکولر مملکت میں مرکزی حکومت سے امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایک اقلیتی ادارہ قائم کرے۔‘‘ یہ بیان ہمارے آئین کو دھکا دیتا ہے جو سیکولرزم کی قسم کھاتا ہے۔ اس میں اقلیتوں کیلئے مخصوص آئینی گنجائشیں رکھی گئی ہیں جن میں بنیادی حق شامل ہے کہ ’’وہ اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرسکیں اور ان کا انتظام چلاسکیں‘‘۔ہمارے سیکولرزم کو ایک نیا موڑ دینے پر فاضل اٹارنی جنرل کو چاہئے کہ وہ وضاحت کریں کہ مملکت کیوں دھارمک کیلاش مانسروور یاترا اور حج زیارت کیلئے سبسڈی دیتی ہے۔حقیقی معنوں میں ایک آزاد اور منصفانہ سماج کا طرۂ امتیاز ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ امریکہ کے نسل پرستی کیخلاف جہاد کرنے والے ونڈیل فلپس کے الفاظ میں ’’حکومتوں کا وجود ہی اس لئے ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں‘‘۔ جواہر لال نہرو نے اقلیتوں کے تحفظ کے بارے میں بے تحاشہ باتیں کہی تھیں اور خبردار کیا تھا کہ ’’یہ اکثریتی طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی طرح اپنے مرتبہ کا اس طرح استعمال نہیں کرے کہ جس سے قوم کے سیکولر آدرش کو بھید بھاؤ کا سامنا کرنا پڑے‘‘۔ ہم نے ان کے مخلصانہ مشورے کو نظر انداز کردیا ہے۔ آج سیکولرزم کے بنیادی اصولوں کی دھجیاں ایک مکروہ ایجنڈے کے خنجر سے اڑائی جارہی ہیں جو محروم گروپوں کو مل رہی مراعات کو نشانہ بنارہا ہے۔ اور نام لیا جارہا ہے مساوات اور سماجی برابری کا۔ اے ایم یو کو اقلیتی ادارے کا درجہ دینے کی کوشش کو حکومت کی تائید اسی نکتے کی وضاحت کرتا ہے۔
تاریخی ریکارڈ اور قانونی عدالتیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ناقابل تردید مسلم کردار کو تسلیم کرتی ہیں۔ یہ حقیقت بھی تسلیم کرتی ہیں کہ اسے مسلم فرقے نے پالا پوسا اور استحکام بخشا۔ محمڈن اورئینٹل کالج کی بنیاد 1875 میں ڈالی گئی تھی اور اے ایم یو کے تصور کی داغ بیل سرسید احمد خان کے ذہن کی پیداوار تھا جو اس بات پربے چین تھے کہ مسلمان حاشیہ پر آگئے ہیں کیونکہ وہ تعلیم میں پچھڑ گئے تھے۔ انہوں نے ایک لبرل تعلیمی ادارے کا تصور کیا جو اصلاح و ترقی کی مخالفت کی لہر کا توڑ کرے گا۔ یہ بیحد تیز رفتاری سے ہندوستان میں مسلم تعلیمی تحریک کا مرکز بن گیا۔ 1898 کے اوائل میں کالج انتظامیہ نے ’’سرسید میموریل فنڈ‘‘ قائم کیا تاکہ ان کی یاد میں ایک یونیورسٹی کا قیام عمل میں آسکے اور جون 1911 میں حکومت ہند نے وزیر خارجہ سے سفارش کی کہ علی گڑھ میں ایک ایسی یونیورسٹی قائم کی جائے۔ بشرطیکہ مسلم فاؤنڈیشن کمیٹی کم از کم 30 لاکھ روپیہ جٹاسکے، جوکہ باقاعدہ جٹائے گئے۔ 1920 کے اے ایم یو ایکٹ میں جس کے تحت اے ایم یو قائم ہوئی تمہیدی طور پر مسلم فرقے کے مرکزی رول کو نمایاں کیا گیا ہے اور یہ حقیقت کہ ایم اے او کالج مرکزی نکتہ تھا، اس عبارت سے تشریح پاتا ہے:
’’ ہرگاہ کہ یہ قرین مصلحت ہے کہ علی گڑھ میں ایک تعلیمی و رہائشی مسلم یونیورسٹی قائم کی جائے اور اس کا وجود ہو اور مذکورہ سوسائٹیوں کو تحلیل کیا جائے جو ایم اے او کالج کے نام سے معنون ہیں اور اس یونیورسٹی میں مذکورہ سوسائٹیوں کی تمام املاک اور حقوق سلب کردئے جائیں ‘‘۔ یونیورسٹی کیلئے بنیادی ڈھانچہ، سرمایہ اور دیگر سازو سامان کی فراہمی کے بعد کون انکار کرسکتا ہے کہ اے ایم او صرف اور صرف مسلم طبقہ کی تخلیق نہیں اور پس ایک اقلیتی ادارہ ہے، لیکن اس ناقابل تردید سچائی کے باوجود اے ایم یو کا درجہ کٹر مسئلہ بن گیا ہے ۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ کے ججوں نے ایک اہم فیصلہ عزیز باشا بنام یونین آف انڈیا (1967) میں سنایا جس میں علی گڑھ یونیورسٹی کو اقلیتی درجہ عطا کرنے کیخلاف دلائل کا معمہ بھرا پڑا ہے۔ اس فیصلہ میں سمجھ بوجھ کی لہریں کم اور الجھاوے زیادہ ہیں۔ یہ فیصلہ ایسی معقولیت کی نادرمثال جس نے سچائی کو توڑ مروڑ دیا ہے۔ عدالت نے یہ تسلیم کیا کہ علی گڑھ یونیورسٹی کا مرکز ایم اے او کالج تھا اور مسلم فرقہ کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا کہ وہ یونیورسٹی کے قیام کیلئے لیجسلیچر (مقننہ) سے رجوع کرے کیونکہ حکومت صرف ان یونیورسٹیوں کی ڈگریوں کو عموماً تسلیم کرتی ہے جو قانون کے تحت قائم ہوتی ہیں‘‘۔ صدمہ کی بات ہے کہ مسلم فرقے کی حصے داری کو ہلکا کرنے کیلئے فیصلہ میں اس تکنیکی پوائنٹ کا سہارا لیا گیا، اوریہ تبصرہ کیا کہ ’’اس کالج کو ایک یونیورسٹی میں مسلم فرقے نے نہیں بدلا بلکہ یہ 1920کے ایکٹ کے تحت بدلا گیا جسے مرکزی مقننہ نے منظور کرلیا تھا۔ مزید برآں لفظ قائم (Establish) کا آرٹیکل 30(1) کا سہارا لے کر اور یہ فیصلہ کر کے کہ اس کا مطلب ہے ’’وجود میں لانا‘‘،نہ کہ ’’بنیاد ڈالنا‘‘ (Found)۔ اس طرح عدالت نامعقول منطق کو کھینچ کر یہ نتیجہ نکالتی ہے کہ اے ایم یو حکومت کے ذریعہ قائم (Establish) کی گئی تھی۔ عدالت کے حساب سے توثیقی اتھارٹی یعنی مقننہ اس ادارے کی مورث اعلیٰ ہے نہ کہ وہ جنہوں نے ادارہ بنایا جو کہ انجام کار یونیورسٹی بنی۔ فاضل عدالت کی منطق اتنی ہی گھٹیا ہے جتنی کہ اس پبلشر کی جو ایک کتاب تصنیف کرنے کا دعویٰ کرتا ہے کیونکہ اس نے اسے شائع کیا۔ یہی خوبی ہے کہ ایچ ایم سیروائی نے تبصرہ کیا کہ ’’فیصلہ صاف طور پر غلط اور عوامی شرانگیزی کا جنم داتا ہے‘‘۔ اگرچہ کہ عزیز باشا فیصلہ نقص سے بھر پور تھا۔ اے ایم یو ترمیمی ایکٹ 1981 نے اس کی جگہ غیر مبہم الفاظ میں اعلان کیا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک اقلیتی ادارہ ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ آرڈر مجریہ 2005 نے 1981 کے ترمیمی ایکٹ کو مسترد کردیا اور کہہ ڈالا کہ ’’پارلیمانی قانون کے ذریعہ اے ایم یو کو اقلیتی ادارہ ڈکلیئر کرنا پارلیمنٹ کے دائرۂ کار سے ماوراء ہے کیونکہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ (عزیز باشا کیس) درست ہے۔ دیگر الفاظ میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق عزیز باشا فیصلہ واجب التعظیم ہے اور دائمی ہے اور آئین سازوں کے دائرۂ عمل سے پرے ہے کہ وہ اس میں ترمیم کرسکیں۔ عدالت یک بارگی نتیجہ نکالتے وقت عدالت سپریم کورٹ کی بعد والی اور بڑی بنچ کو نظر انداز کر گئی (کیرالہ بنام مدر پراونشیل اے آئی آر 1970، سینٹ زیوئرس کالج بنام گجرات سرکار اے آئی آر 1974) کہ جس نے عزیز باشا فیصلہ کی بنیاد پر اور اس کی تشریح پر سوال اٹھایا۔ الہ آباد فیصلے نے نہ صرف سیاسی ایگزیکٹیو (عاملہ) کے اختیار کو کم کر کے دکھایا ہے بلکہ یہ لسانی و مذہبی اقلیتوں کے ذریعہ قائم کردہ تمام یونیورسٹیوں کے آئینی حقوق کیلئے خطرہ بھی ہے۔ ہمارے ججوں کو ضرورت ہے کہ وہ امریکہ کے مرحوم صدر فرینکلین ڈی روزویلٹ کے بصیرت انگیز تبصرے پر دھیان دیں کہ ہم ایسی عدالتیں چاہتے ہیں جو آئین کے تحت انصاف کریں، نہ کہ اس پر سوار ہوکر۔‘‘ عدالتوں کا کام قانون بنانا یا اس میں ترمیم کرنا نہیں بلکہ اسکی تشریح ہے۔یہ صاف ہے کہ حکومت اس حق میں نہیں کہ وہ سپریم کورٹ میں زیر التواء اپیل کی حمایت کرے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی درجہ دیا جائے۔ اب یہ کام سپریم کورٹ کا ہے کہ وہ اس تاریخی ادارے کی تقدیر کا فیصلہ کرے جو کہ ایک اہم ثقافتی ورثہ ہے، بلکہ مسلم طبقے کی امنگوں کا امتیازی نشان بھی ہے۔ یہ کیس ایک سیکولر ڈیموکریسی اور اقلیتوں کی تشویش کا ایک ٹیسٹ ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے کئی دہائیوں قبل کہا تھا کہ ’’ جس طریقہ سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قومی زندگی کے متفرق شعبوں میں شرکت کرتی ہے، وہ ہندوستانی قومی زندگی میں مسلمانوں کے مقام کا تعین کرے گا۔ جس طرح بھارت علی گڑھ کی طرف اپنا رویہ رکھے گا، وہ ان خدوخال کو طے کرے گا جو کہ ہماری قومی زندگی مستقبل میں اختیار کرے گی۔‘‘
(مضمون نگار لوک جن شکتی پارٹی کے سکریٹری جنرل اور سابق سول سرونٹ ہیں )



⋆ ڈاکٹر عبدالخالق

مضامین ڈیسک

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ایک آن لائن مشاعرے کی روداد

دیارِ میر وہاٹس ایپ پر ایک باوقار ادبی گروپ ہے۔ اس پر ادبی موضوعات پر …