آج کا کالم

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ’لائلٹی ٹیسٹ‘

تحریر:پروفیسرمحمدسجاد (شعبۂ تاریخ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

پروفیسرمحمد عاصم صدیقی (شعبۂ انگریزی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

ترجمہ: نایاب حسن قاسمی

        گزشتہ دنوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی خبروں میں تھی اوراس کی وجہ یہ تھی کہ ریپبلک ٹی وی کی صحافی نالینی شرما اور علی گڑھ شہر کے بی جے پی لیڈر مکیش لوڑھی نے یونیورسٹی کے طلبہ کے خلاف دو ایف آر درج کروائی، جس کے بعد14؍طالب علموں پر غداری کا مقدمہ درج کیاگیا، جبکہ پچاس سے زائد طلبہ کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کردیا گیا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ 12؍فروری کو ریپبلک ٹی وی کی ٹیم، یونیورسٹی کے سکیورٹی اسٹاف اور کچھ طلبہ کے درمیان معمولی کہاسنی ہوئی، اس کے بعدجب نالینی نے مبینہ طورپر یونیورسٹی کو دہشت گردی کی آماجگاہ قراردیا، تو معاملہ بگڑگیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے دائیں بازوکی ہندوتنظیموں سے تعلق رکھنے والے مسلح نوجوانوں کی بھیڑیونیورسٹی کی بے حرمتی اور طلبہ سے ہاتھاپائی کرنے لگی، ایک طرف ریپبلک ٹی وی کی ٹیم اور بھگوائی بھیڑ کے گٹھ جوڑ اور دوسری طرف پولیس کی لاپروائی نے ایک بار پھر یونیورسٹی کے ماحول کو مکدر کردیا، نتیجتاً طلبہ دھرنے پر بیٹھ گئے، ان کا مطالبہ تھا کہ یونیورسٹی کے احاطے میں گھس پیٹھ کرنے والوں پر کارروائی کی جائے۔

        اسی حادثے کے دوران بعض ایسے مسائل بھی زیر بحث آئے، جو پہلے بھی آتے رہے ہیں، مگر خاص طورپر گزشتہ پانچ سال کے عرصے میں ان کی چرچا زیادہ ہوئی ہے، ان میں سے ایک ہے مقامی سیاسی شخصیات کا یونیورسٹی کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنا اور دوسرا مسئلہ، جس کا تعلق قومی سیاست سے ہے، وہ ہے یونیورسٹی پر حب الوطنی کے معاملے میں باربار اپنی صفائی پیش کرنے کا دباؤ بنانا۔ شہر کی سیاسی جماعتوں سے یونیورسٹی کے ہمیشہ خوشگوار تعلقات نہیں ہوتے؛بلکہ عموماً علی گڑھ یونیورسٹی اور علی گڑھ شہرکے درمیان ایک گونہ فاصلہ ہی رہتا ہے اور اس کا براپہلو یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے تئیں مشکوک و مشتبہ رہتے ہیں۔

ہندوانتہاپسندوں کی شرانگیزی کی حالیہ تاریخ:

 2014ء میں پہلی بار اس وقت حالات خراب ہوئے تھے، جب علی گڑھ سے بی جے پی کے ایم پی ستیش گوتم نے زبردستی یونیورسٹی میں گھسنے اور کیمپس میں جاٹ راجہ مہندر پرتاپ(1886-1979) کا مجسمہ نصب کرنے کی کوشش کی، ان کا دعویٰ تھا کہ راجہ مہندر پرتاپ اے ایم یوکے بانیوں میں تھے اور اس کی بنیاد میں ان کا حصہ بھی اتنا ہی تھا، جتنا کہ سرسید احمد خان کا تھا، بالآخر جب اے ایم یو نے ایک الومنائی کے طورپر راجہ مہندر پرتاپ کے اعزاز اور ان کی یاد میں ایک سمینار کے انعقاد کا فیصلہ کیا، تو یہ ہنگامہ کسی طرح فرو ہوا۔ اس سے شہر کے ہندوانتہاپسند گروپوں کو حوصلہ مل گیا اورانھیں لگا کہ وہ معمولی ہنگامہ آرائی کرکے  یونیورسٹی میں دخل اندازی کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں، اسی سے تحریک پاکر کچھ فسادیو ں نے 2؍ مئی2018ء کویونیورسٹی کیمپس میں گھس کر ہنگامہ آرائی کی، یونیورسٹی میں آنے والے سابق وائس چانسلر و نائب صدرحامد انصاری کی سکیورٹی توڑ دی۔ اب اِس سال12؍فروری کو مکیش لوڑھی کی قیادت میں مسلح رائٹ ونگ گروپ ریپبلک ٹی وی کی ٹیم کے ساتھ مل کر یونیورسٹی میں گھس گیااور طلبہ و سکیورٹی گارڈ کے ساتھ ہاتھاپائی کی ہے۔ مئی2018ء اور گزشتہ فروری کے واقعات میں مقامی پولیس نے ان فسادیوں کو نہ صرف یونیورسٹی میں گھسنے کی اجازت دی؛بلکہ وی سی سکریٹیریٹ سے چند سوکیلومیٹر دوریونیورسٹی سرکل میں روکنے کی بجاے بھر پورتحفظ کے ساتھ انھیں اندرتک گھسادیا؛حالاں کہ اس کے برخلاف جب یونیورسٹی کے طلبہ نے کیمپس سے باہر نکل کراحتجاج کرنا چاہا، توان پر اسی طرح لاٹھی چارج کیاگیا، جیسے مئی2018ء میں جناح کے پورٹریٹ والے معاملے میں ہوا تھا۔

 فرقہ پرستی میں مسابقت :

صرف باہر سے کی جانے والی سیاست ہی یونیورسٹی کو نقصان نہیں پہنچاتی؛بلکہ یہاں اندر طلبہ کی سیاست کی نوعیت بھی بسااوقات صورتِ حال کو پیچیدہ بنادیتی ہے۔ یہاں طلبہ یونین کا الیکشن سیاسی پارٹیوں کے خطوط پر نہیں لڑاجاتا، مگراس کے باوجودمتعدد طلبہ لیڈر اپنے مخصوص سیاسی عزائم کو فروغ دیتے ہیں اور یونین انھیں ریاستی یا قومی سیاست میں اتارنے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ اسدالدین اویسی کو طلبہ یونین کے سکریٹری حذیفہ عامر رشادی کے ذریعے یونیورسٹی میں بلایاگیا تھا، حذیفہ ایک مسلم سیاسی جماعت راشٹریہ علماکونسل کے سربراہ مولانا عامر رشادی کے صاحبزادے ہیں، حالاں کہ آخری وقت میں اویسی نے اس دعوت پر یونیورسٹی آنے کا اپنا ارادہ منسوخ کردیاتھا، مگر اس کے باوجودان کے نام پر شدت پسند ہندووں نے ہنگامہ آرائی کی اورانھیں یونیورسٹی کے اندر سے بی جے پی ایم ایل اے کے پوتے اجے سنگھ نے مددفراہم کی۔ اجے سنگھ اور حذیفہ دونوں کے بارے میں کہاجارہاہے کہ وہ آنے والے لوک سبھا الیکشن میں اترسکتے ہیں۔ اسی طرح اویسی یوپی کی کچھ نشستوں پر اپنے امیدوار اتارنے کی سوچ رہے ہیں اور موجودہ بی جے پی ایم پی ستیش گوتم، اجے سنگھ جیسے لوگوں کے بالمقابل پارٹی کے سامنے اپنی قابلیت دکھانے کی کوشش میں ہیں ؛تاکہ آنے والے دنوں میں ان کا ٹکٹ کٹ نہ جائے۔

        اجے سنگھ یونیورسٹی کیمپس میں نفرت انگیز و فرقہ وارانہ سرگرمیاں انجام دے کر اپنے سیاسی کیریر کو مضبوط کرنے میں مصروف ہے، یونین الیکشن میں ناکام ہونے کے بعد اس نے یومِ جمہوریہ کے موقعے پر ’’ترنگایاترا‘‘کا سوانگ رچایاتھا، جو گزشتہ سال کے کاس گنج سانحے کی یاد دلارہاتھا، بیدار یونیورسٹی انتظامیہ نے اس سے جواب مانگاتھا کہ ہفتہ بھر یونیورسٹی کی جانب سے منعقد ہونے والی یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں وہ کیوں حصہ نہیں لے رہاہے؟

        دوسری طرف حذیفہ عامر رشادی نے مکیش لوڑھی کے ذریعے یونیورسٹی کیمپس میں مندر بنوانے کی دھمکی دے کر ماحول خراب کرنے کی کوشش کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ایک اعزازی تقریب میں اویسی کو بلانے کا فیصلہ کیااور پروگرام فیکلٹی آف سوشل سائنس میں رکھاگیا، حالاں کہ اگر سٹوڈینٹ یونین کو کوئی پارلیمنٹری ڈبیٹ کا پروگرام رکھنا ہی تھا، تو اس کے لیے انیسویں صدی سے ہی یونین ہال کا استعمال ہوتاآرہاہے، نہ کہ فیکلٹی آف سوشل سائنس کا۔

        جس طرح حالات وواقعات رونما ہوئے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فرقہ وارانہ جتھہ بندی کے کھیل کا گویامقابلہ چل رہاہے۔ حذیفہ اور اجے سنگھ دونوں یونیورسٹی کو اپنے سیاسی عزائم کے لانچنگ پیڈ کے طورپر استعمال کررہے تھے، اس الزام کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ دست بہ دست جھڑپ ہونے کے باوجود سٹوڈینٹ یونین نے نہ تو اجے سنگھ اور نہ مکیش لوڑھی کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا، پولیس نے یونین کی شکایت کو ایف آئی آر میں تبدیل نہیں کیا، توناہی یونین نے ایف آئی آر رجسٹر کروانے کے لیے کورٹ کا سہارالیا اور ناہی اے ایم یو ٹیچرس ایسوسی ایشن نے ہی کورٹ سے رجوع کیا۔

اے ایم یوکے اساتذہ کاکردار:

        اے ایم یوٹیچرس ایسوسی ایشن نے اس پورے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی، بس رسمی تجویز پاس کرکے اپنے آپ کومحفوظ کرلیا، حالاں کہ اساتذہ کوباہر نکل کر طلبہ سے ملنا چاہیے اور سیاسی عزائم رکھنے والے طلبہ لیڈروں کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کوبہتربنانے اور طلبہ کو سنجیدہ سیاسی موقف تک پہنچانے میں مدد کرنی چاہیے تھی، اساتذہ کے عدم تعاون و دلچسپی کا نتیجہ تھا کہ اے ایم یوسٹوڈنٹ یونین نے15؍فروری کو ایس آئی اوسے اتحاد کرکے دہلی میں پریس کانفرنس کی اورپلواما سانحے کے بعد کی قومی سیاسی صورتِ حال کو یکسر نظر انداز کردیاگیا۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے کہ پلواماحملے کے بعد بی جے پی اپنی سیاسی ریلیوں میں مصروف رہی، اسی طرح اس قسم کے پروگرام کو ایسے وقت میں میڈیاکی پہنچ سے دور رکھنے کی حکمت عملی سے بھی یونین نے ناواقفیت کا ثبوت فراہم کیا۔

        اے ایم یو سٹوڈینٹ یونین اب بھی مسلم سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس منعقد کرنے کے لیے پرعز م ہے؛ تاکہ ان کی شکایتوں کو قومی سطح پر اٹھائے، شاید یونین کو اس حقیقت کا علم نہیں ہے کہ ہندی علاقوں میں مسلم سیاسی جماعتوں کو خود مسلمان بھی سنجیدگی سے نہیں لیتے، ایسے میں مسئلے کی باریکیوں کو نہایت دقت نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسے عہد میں جبکہ قومی سیاست میں اکثریت پسندی کا رجحان بڑھ رہاہے، مسلم رائے دہندگان کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے، سیکولر ادارے بھی مسلمانوں کی شکایتوں پر کوئی توجہ نہیں دے رہے، ماب لنچنگ کو ریاست کا تعاون حاصل ہے، حتی کہ غیر بھگوائی و مسلم دوست سیاسی جماعتیں بھی مسلمانوں کے تحفظ کا مسئلہ اٹھانے سے احتراز کرنے لگی ہیں، ایسے میں اویسی جیسے پولرائزنگ کرنے اور شورش کا سبب بننے والے مسلم لیڈر کو کم ازکم مسلم نوجوانوں کی ایک جماعت کے مابین توجہ حاصل ہونے لگی ہے۔

        اس خطرناک صورتِ حال میں ملک کے لبرل، سیکولر دانشوروں کو مسئلے پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اے ایم یو کے اساتذہ کو چاہیے کہ انتہاپسندی کے خاتمے اور سیکولر تکثیریت کو مضبوط کرنے کے لیے اپنے نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور اس سمت میں اپنی ذمے داری، استعداداور عظیم مستقبل بینی کا مظاہرہ کریں۔ گمراہ کیے گئے یا خود غرض قسم کے نوجوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ ایک قسم کی فرقہ واریت کو فروغ دینے سے دوسری قسم کی فرقہ واریت کو شہ ملتی ہے۔ اقلیتی تحفظ پسندی اکثریت پسندی کو ہوادیتی ہے، اقلیتی قدامت پرستوں کی آغوش میں پناہ لینے سے اکثریت پسندانہ منافرت کو ختم کرنے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔ فروری 2017ء میں طالبہ ایکٹوسٹ شہلا راشد کو اے ایم یو میں ایک پروگرام میں شامل ہونے سے اس لیے روک دیا گیا تھا کہ اس کی ایک فیس بک پوسٹ کیمپس کے بعض اسی قسم کے عناصر کے نزدیک قابل اعتراض تھی، وہ اس کے خلاف ایف آئی درج کروانے چلے گئے تھے، یہی حرکت انھوں نے ان طلباکے ساتھ کی، جن کی رمضان کے مہینے کی ایک شام دہلی کے ایک ریسٹورینٹ میں کھانے کی تصویر سوشل میڈیاپر عام ہوگئی تھی۔

        اہم بات یہ بھی ہے کہ قدرے پرسکون ماحول میں بھی یونیورسٹی کو رجعت پسندوں، غداروں، حتی کہ دہشت گردوں کا اڈہ قرار دیاجاتا ہے، ایسا صرف اس وقت نہیں ہوتا، جب یونیورسٹی کا کوئی سابق یا موجودہ طالب علم انٹیلی جینس یا پولیس کے رڈار پر آجائے، پھر اگر کوئی منان وانی کسی مشکوک سرگرمی میں پکڑا جاتا ہے، تو اس کی وجہ سے ساری یونیورسٹی مشتبہ سمجھی جاتی ہے، حالاں کہ ظاہر ہے اگر الہ آباد یونیورسٹی یا بنارس ہندو یونیورسٹی کاکوئی طالب علم کسی جرم میں پکڑا جائے، تو اس کی وجہ سے پورے ادارے پر شک نہیں کیا جائے گا۔ اے ایم یو ہمیشہ ہی انتہاپسندہندووں اور میڈیا کے نشانے پر رہتی ہے، جو اس قسم کی سٹوریزکو بڑھاچڑھاکر شائع کرتا ہے۔

بٹوارے کی غلطی:

        اس یونیورسٹی پر ہونے والا ایک اور عام حملہ تقسیم ِ ہند میں اس کا مفروضہ کردارہے، کچھ ایسی تحریریں ہیں، جو دائیں بازوکے مفکرین مثلا وی ڈی ساورکر کے حوالے سے اے ایم یوکی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی اور 1947ء میں جو کچھ ہوا، اس کا اسے ذمے دار ٹھہراتی ہیں۔ تقسیمِ ہند اب بھی ایک نامکمل موضوع ہے، ہندستان وپاکستان دونوں ملکوں میں تقسیم ہند پر لکھی جانے والی کتابوں میں اس کی متضاد تصویریں پیش کی گئی ہیں، ویسے مابعد استعمار کی دونوں ریاستوں کی زیادہ ترنظریاتی مجبوریوں کو دیکھتے ہوئے اس حقیقت کو رد کرنا دشوار ہے کہ تقسیمِ ہند میں ہندواور مسلم دونوں کی مسابقتی فرقہ واریت کا دخل رہاہے۔

        جہاں تک تقسیمِ ہند میں علی گڑھ کے رول کی بات ہے، تو اس سلسلے میں متعددمؤرخین مثلاً مشیر الحسن نے اس کی طویل تاریخ میں رجعت پسندانہ و ترقی پسندانہ دونوں قسم کے سیاسی رجحانات و افکار کی نشان دہی کی ہے۔ تقسیمِ ہند کی لبرل، سیکولر تاریخ میں بھی تقسیم کی ساری ذمے داری مسلم لیگ پر ڈال دی جاتی اورعام علمی حلقوں میں مسلمانوں اور مسلم لیگ کو یکساں سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ برطانوی استعماری قوت، کانگریس کے کم تر درجے کے ہندواکثریت پسند اور ہندومہاسبھاوراشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا کردار بھی اس سلسلے میں اہم تھا، یہ بات آج تک وسیع پیمانے پر لوگوں کو معلوم نہیں ہے اورناقص قسم کی تاریخ نگاری ہندستانی مسلمانوں کو احساسِ جرم میں مبتلا کرنے اور ان کے خلاف نفرت پھیلانے میں اہم کردار اداکررہی ہے۔

        پھر یہ کہ اگر یہ فرض بھی کرلیاجائے کہ 47ء کے دنوں میں اے ایم یو کے اساتذہ اور طلباسب مجموعی طورپر مسلم لیگ کی سائڈ لے رہے تھے اور تقسیمِ ہند میں ان کا رول تھا، توبھی طلبہ کی موجودہ نسل کو اس کے لیے ذمے دار کیوں کر ٹھہرایاجاسکتا ہے؟مگراس کے باوجود تقسیم کا بوجھ اے ایم یو کوباربار اپنی وطن پرستی کے اثبات اورچیخ چیخ کر حب الوطنی کے نعرے لگانے پر مجبور کرتا ہے۔ اسی سے ہمیں سٹوڈینٹ یونین کے ذریعے اتنا لمبا جھنڈالہرانے کی منطق سمجھ میں آتی ہے، جو ناگپور سے بھی دیکھا جاسکے، اسی سے یہ بھی سمجھ میں آتاہے کہ سٹوڈینٹ یونین کی جانب سے پلواماکے مقتولین کے لیے کینڈل مارچ کیوں کافی نہیں سمجھاجاتا اور کیوں یونین کے صدر سلمان امتیاز کی جانب سے دہلی میں وزیر اعظم کی رہایش گاہ کے باہراُس وقت تک دھرنا دینے کی بات کی جاتی ہے، جب تک ہندستان پاکستان پر جوابی حملہ نہ کرے۔ اسی سے یہ بھی سمجھ میں آتاہے کہ یونین کی جانب سے یہ اعلان کیوں کیاگیا کہ مقتول فوجیوں کے بچے اے ایم یو بھیجے جائیں اور یونین ان کی تعلیم کا خرچہ برداشت کرے گی، جبکہ دوسری طرف اے ایم یو طلبا یونین فرقہ وارانہ فسادیاماب لنچنگ کے متاثر مسلم خاندانوں کو اس قسم کا آفر نہیں پیش کرتی، ناہی 2013ء میں اے ایم یو سے قریب ہی واقع مظفر نگر و شاملی کے فسادمیں بے گھر ہونے والے مسلمانوں کو ایسی کوئی پیشکش کی گئی۔

        بہرکیف ہندستان کو اگر ایک بہتر و متنوع رنگوں ؍تہذیبوں اور مذاہب والا پرسکون ملک بناناہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سطح سے اوپر اٹھ کر اس قسم کے نفرت و تعصب کے عوامل و اسباب کو مناسب طریقے سے دور کیاجائے اور خود اے ایم یو اوراس کے طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ کوئی بھی قدم قومی منظرنامے کو سامنے رکھتے ہوئے، عقلیت پسندی و سنجیدگی کے ساتھ اٹھائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close