آج کا کالم

علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی دو قومی نظریہ کی تائید نہیں کرتی

طلبا کی طرف سے جناح کی تصویر کو ہٹانے کے خلاف مزاحمت کا مطلب جناح کی نظریات کی توثیق نہیں ہے بلكہ یہ صرف اپنے فیصلے خود لینے کے جمہوری حق  کا استعمال ہے۔

ڈاکٹر فیضان مصطفی

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کے بالمقابل  دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کے مقاصد  جناح کے مقاصد  سے زیادہ مماثلت رکھتے ہیں۔ طلبا کی طرف سے جناح کی تصویر کو ہٹانے کے خلاف مزاحمت کا مطلب جناح کی نظریات کی توثیق نہیں ہے, بلكہ یہ صرف اپنے فیصلے خود لینے کے جمہوری حق  کا استعمال ہے۔

برصغیر  میں محمد علی جناح نے مسلم مفاد کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے. اس  دعوی  کی  وجہ  یہ  ہے کہ اتنا عظیم وکیل جس نے بال گنگا  دھر تلک  جیسے معاملے  کے لیے وکالت کی تھی  اتنی واضح بات سمجھنے سے قاصر رہا  کہ ہندوستان ہندو بادشاہت نہی بلکہ ایک جمہوری ملک بننے جارہا تھا۔ بحیثیت وکیل کیا جناح یہ سمجھ رہے تھے کہ آئین میں آئندہ ترمیم  اکثریت کی حکومت کرنے والی ہے؟

مسلم آبادی کو دو (بلکہ بنگلہ دیش کے بعد تین) حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد، جناح نے مستقل طور پر مسلمانوں کی پوزیشن کو کمزور بنا دیا کیونکہ اس کے بعد سے ہندوستان میں مسلمان عددی اقلیت بن گئے ہیں. پاکستان کے قیام کے 25 سال کے اندر ہی بنگلہ دیش کی تشکیل نے  جناح کے نظریے کو بالکل غلط ثابت کردیا۔

در اصل ان  وجوہات  کے  مد نظر ہندوستان کے مسلمان اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کو جناح سے زیادہ تکلیف ہونی چاہئے۔ بلکہ انکو اس بات پر  تبادلہ خیال بھی کرنا چاہئے کہ جناح کو عطا  کی  گئی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلبا  تنظیم کی تا حیات رکنیت کو واپس لے لیا جائے۔ لیکن کسی بیرونی شخص کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ   ان کے لئے  حکم صادر کرے یا انہیں دھمکی دے. طلبا کی طرف سے جناح کی تصویر کو ہٹانے کے خلاف مزاحمت کا مطلب جناح کی نظریات کی توثیق ہرگزنہیں ہے یہ توصرف اپنے فیصلے لینے کے جمہوری حق کا استعمال ہے.

اگر غور کیا جائے تو انتہاپسند ہندو گروہوں جیسے کہ یوگی ادیتیا ناتھ کی سرپرستی میں چلنے والی ہندو یوا واہنی ، آر ایس ایس اور وی ایچ پی وغیرہ کے کام کرنے کے طریقے و مقاصد قوم پرست اور وطن پرست مسلمانوں کے مقابلے میں جناح کے طریقے سے زیادہ مماثلت رکھتے ہیں۔ ہندو رہنما جیسے وی ڈی ساورکر اور ایم ایس گوالکر بھی جناح کی طرح گنہگار ہیں، جناح کی طرح ان کا بھی ماننا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قوم ہیں.

مسلم علماء پاکستان بننے کے خلاف متفق تھے. یہاں تک کہ تقریبا 11 فیصد مسلمان جنہوں نے ہندوستانی حکومت ایکٹ، 1935 کے تحت ووٹ لینے کا حق حاصل کیا تھا، ان میں سے بہت سارے لوگ مسلم لیگ کی مخالف میں تھے اور ایک بڑی اکثریت نے اپنی مرضی کے مطابق ہندوستان کو اپنا ملک منتخب کیا. یہ بہت عجیب بات ہے کہ دائیں بازو کی ہندو تنظیمیں ایسے محب وطن مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں جنکا ایمان ہے کہ ہندوستان سے محبت کرنا اور اپنے منتخب ملک کے لئے سب کچھ قربان کردینا ان کے مذہب کا حصہ ہے۔

کیا اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے  کہ مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا بنگال اور سندھ کے صوبائی حکومتوں میں اتحادی شریک تھے؟ جب مسلم لیگ نے پاکستان کی قرارداد منظور کی، ہندو مہاسبھا اس کے اتحادی تھے. چلیے یہ ماضی کی باتیں ہیں انھیں بھول جائیے۔ کیا بی جے پی اس وقت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور دوسری جماعتوں کے ساتھ  شمال مشرق میں اتحاد میں نہیں ہے؟ کیا پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے اتحاد توڑنے کے لیے ہندو یوا  واہنی بی جے پی  پر دباو ڈالنے کی جرات کرسکتی ہے ؟

ہندو مہا سبھا  اور مسلم لیگ دونوں رجعت پسند اور تقسیم کرنے والے  نظریات کی حامل تھیں. ساورکر کے نظریات کے وارثین اب یونیورسٹیوں کو تباہ کرنے پر تلے  ہیں جبکہ اصولی طور پر یونیورسٹیوں میں  ایسی آزادفضا ہونی چاہیے جہاں ہر قسم کے افکار  پروان چڑھ سکیں۔جواہرلعل نہرو یونیورسٹی کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ان کا نیا ہدف ہے اور یہ ایک آسان شکار بھی ہے کیونکہ ملک میں فرقہ ورانہ  ماحول   برپا کرنے میں  انکے لئے معاون بھی ہو سکتا ہے.

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی دو قومی نظریہ کی تائید نہی کرتی ہے

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی مذہب کی بنیاد پر قوموں کے قیام کی رجعت پسند نظریات کی تائید نہیں کرتی ہے. اگر قومیں واقعی مذہب کے نام پر بنائی جاتیں تو ایک عیسائی ملک دوسرے عیسائی ملک سے یا ایک  مسلم ملک دوسرے مسلم   ملک سے  کیوں لڑتے ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی مکمل طور پر ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کے لئے پر عزم ہے. لیکن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس  تاریخی حقیقت سے انکار بھی نہیں کر سکتی کہ 1938 میں جناح کو یونیورسٹی کی طلبا تنظیم (اے ایم یو  ایس یو   )کی تا حیات رکنیت دی گئی تھی۔    سیاسی نظریہ کے طور پر  بھی  جناح ایکے لمبے عرصے تک ہندو مسلم اتحاد کی وکالت کرتے تھے۔ یہاں تک کہ سروجینی نایڈو جناح ہندو مسلم یکجہتی کا سب سے بڑا پل کہتے تھے.

محمڈن اینگلو اورینٹل کالج  کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تبدیل ہونے سے کئی   دہائی   پہلے  محمڈن اینگلو-اورینٹل کالج  کےانگریز  پرنسپل موریسن نے   طلبا تنظیم کو قائم کیا تھا۔ اے ایم یو  ایس یو   طلبا کی تنظیم ہے  اور بحیثیت  طلبا تنظیم  یہ کلی طور پر  وائس چانسلر کے ما تحت نہی ہے وائس چانسلر صرف رسمی طور پر اس کے سرپرست ہیں.اس لیے  اصولی  طور پرطلبا تنظیم کے ہال  میں آویزاں  جناح کی تصویر  کو   ہٹانے کے لیے علی گڑھ کے ایم پی ستیش گوتم  کو اپنا خط طلبا تنظیم کے صدر کو بھیجنا چاہیے تھا کیونکہ وائس چانسلرطلبا تنظیم پر اپنی مرضی نہی تھوپ سکتے۔  اور نہ ہی   اے ایم یو  ایس یو   کےصدر کسی بھی تصویر کو ہٹا سکتا ہے۔ طلبا    تنظیم  کی  جنرل باڈی میں موضوع پر بحث کیے بغیر    تنظیم کے صدر کو حق حاصل نہی ہیکہ  وہ تن تنہا کوئی فیصلہ لے۔

اس طرح کی ایک بحث میں ہر قسم کے خیالات کا اظہار ہوگیا  ہوتا ، اور قوی امکان تھا کہ طلبا خود اس تصویر کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیتے.  چونکہ دائیں بازو کی انتہا پسند ہندو تنظیمیں جمہوری طریقوں  اور آزادانہ غور و فکر پر یقین نہیں رکھتیں۔ ان کے جارحانہ رویے نے ایک غیر ضروری تنازع کھڑا کردیا ہے. جب بھی اس طرح کی بحث منعقد کی جائے تو وہاں مسلم   دائیں بازو کی جانب سے ایسے اسپیکرز کو بلایا جائے جوسخت موقف اختیار کرنے  کی صلاحیت رکھتے ہوں اور غیر ریاستی اداکار جیسے ہندو یوا  واہنی کے بیرونی دباؤ کے تحت نہ آ ئیں۔

اے ایم یو  ایس یو   کی قابل قدر تا حیات رکنیت مہاتما گاندھی، نہرو، چندر شیکھر آزاد اور بی آر امبیڈکر جیسی عظیم شخصیات کو بھی عطا کی گئی ہے. علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتی کہ جناح نے اسے پیسہ دیا تھا اور شاید اس ادارے کا ذکر اپنی وصیت میں ریسوڈیری جانشین کے طور پر کیا تھا. بمبئی یونیورسٹی بھی ایسی ہی ایک جانشیں ہے۔

جناح اور بامبے  ہائی کورٹ

ہم ہندوستان میں دالہوسی شہر اور وکٹوریہ میموریل کی میزبانی کرتے رہیں گے۔ کیا جناح سے نفرت کی وجہ سے ہم تاریخی حقائق کو مسترد کرسکتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو بامبے ہائی کورٹ کو بھی بطور وکیل جناح کی داخلہ سرٹیفکیٹ اپنے میوزیم سے ہٹا دینی چاہیے۔ یہ سرٹیفکیٹ تو ہائی کورٹ کی 150 ویں سالگرہ پر وزیراعظم نریندر مودی کو بھی دکھائی گئی تھی. ممبئی میں پیپل جناح ہال اور جناح ہاؤس آج بھی ہے. شییو سینا یا دیگر دائیں بازو کی ہندو جماعتیں اس کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتی ہیں؟ گنتور میں مہاتما گاندھی روڈ پر امن اور ہم آہنگی کے نشان کے طور پر جناح ٹاور کیوں ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ جناح کی تصویر، ہندوتوا کے مہارتھی   ساما پرشاد مکھرجی کے ساتھ ابھی بھی پارلیمنٹ میں آویزاں ہے۔

کیا ہم اس تاریخی  حقیقت سے غمازی کرسکتے ہیں کہ ہندوستانی حلقہ اسمبلی مع پہلی پارلیمان نے جناح کی موت پر انکو شاندار خراج عقیدت پیش کیا تھا؟ یہاں تک کہ ایل. کے ایڈوانی  بحیثیت نائب وزیراعظم جناح کی قبر کی زیارت کی  اور انکو ایک عظیم سیکولرسٹ کہا تھا۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ جناح خود مذہب اور سیاست کے خلط ملت کے مخالف تھے. اس طرح مظاہرین کے نعرے : "جناح تو صرف ایک بہانا ہے”میں کچھ حقیقت موجود ہے۔

یہ ایک نیا ہندوستان  ہے، جو کہ پوری طرح لبرل اور ترقی پسند  ہندوستان  سے مختلف ہے، جسے گاندھی، نہرو اور دیگر آزادی کے متلاشی جنگجوؤں نے تصور کیا تھا۔ ان عظیم نظریات جس نے  آزادی کی قومی  جد و جہد میں ہمارے لیے مہمیز کا کام کیا تھا  اسکی  اتباع کرنے اور اس کو فروغ دینے کے بجائے اب ہم ان لوگوں کے راستہ پر چلنا چاہتے ہیں جنہوں نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ نہیں لیا تھا  اور نہ ہی ہماری مشترک و جامع ثقافت اور آئین میں متعین بنیادی فرض منصبی  پر یقین رکھتے تھے۔

مترجم: ڈاکٹر ابو معاذ ترابی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر فیضان مصطفی

ڈاکٹر فیضان مصطفی نلسار یونیورسٹی آف لا، حیدرآباد کے وائس چانسلر ہیں۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور قانون میں گریجویشن کیا، بعد ازاں اسی یونیورسٹی سے نمایاں نمبروں سے قانون میں ماسٹرز کیا۔ انہوں نے کاپی رائٹ قانون میں ڈاکٹریٹ اور بین الاقوامی و تقابلی قانون حقوق انسانی پر بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ برائے حقوق انسانی سے ڈپلوما کیا۔ نلسار کے وائس چانسلر بننے سے قبل وہ نیشنل لا یونیورسٹی، اڑیسہ کے بانی وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Close