آج کا کالمہندوستان

غریبی بے روزگاری سے جنگ کا اعلان- کب تعینات ہوں گے اینکر؟

رویش کمار

کیا پیر کو جنگ کے متمنی اینکر اور چینل غریبی، غذائی قلت، بے روزگاری اور بچے کی شرح اموات کے اعداد و شمار نکال کر پرائم ٹائم میں بحث کریں گے؟ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ان باتوں پر جنگ کرنا ہوگا تو جنگ کے متمنی اینكروں کو غذائی قلت اور غریبی پر بحث کرنے کے لئے ان ہی لوگوں کو بلانا ہوگا جنہیں وہ دن رات بددعائیں دیتے رہتے ہیں. جنہیں این جی او ٹائپ بتا کر پاکستان کے پریمی بتاتے ہیں. میں وزیر اعظم کی تقریر سے خوش بھی ہوں. یہ سوچ کر ہنسی بھی آ رہی ہے کہ پاکستان سے ہر طرح کے تعلقات توڑ لینے والے ماہرین کیا سوچ رہے ہوں گے۔ جن اینكروں نے زمانے سے غربت اور بے روزگاری جیسے بنیادی سوالوں کو چھیڑ دیا تھا، کیا وہ ریٹائرڈ ہو چکے چند جرنیلوں کو ہٹا کر بم کی جگہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ترقی کے جنگ کی بات کریں گے؟ وزیر اعظم نے صرف بھارت کی ترقی کی بات نہیں کی ہے. اس پاکستان کی ترقی کی بھی بات کی ہے جسے مٹی میں ملا دینے کے گھنٹوں پروگرام چلا کر ناظرین کو ٹھگا گیا ہے.

کیرالہ میں جب وزیر اعظم نے دہشت گردی پر اپنی پرانی باتوں کو دہرانا شروع کیا تو اسٹیج پر ان کے ساتھیوں میں بھی بے حسی جھلک رہی تھی. لگ رہا تھا کہ کب تقریر ختم ہو اور ہم چلیں. وزیر اعظم بھی سوشل میڈیا اور میڈیا کے بڑے حصے کے ذریعہ پیدا کئے گئے مصنوعی طور سے مبینہ قومی احساس کے خلاف جاکر خطاب کرتے ہوئے جدوجہد کر رہے تھے. انہیں جنگ کے متمنی جذبات اور امن چاہنے والوں کے درمیان توازن بھی بٹھانا تھا. تقریر کرنا ان کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن ساحل سمندر پر ڈھلتے سورج کے درمیان توازن بنانے کی ایسی جدوجہد شاید ہی انہیں کبھی کرنی پڑی ہو گی. ان کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ بولنا تو چاہتے ہیں بی جے پی لیڈر کی طرح لیکن بولنا پڑ رہا ہے وزیر اعظم کی طرح. وہ پرائم ٹائم کے جنگ کے متمنی اینكروں اور سوشل میڈیا کے وزیر اعظم نہیں ہیں. پھر بھی تقریر سے پہلے چینلوں پر خوب ماحول بنایا گیا. اڑی حملے کے بعد پہلی بار بولیں گے وزیر اعظم، کیا سخت پیغام دیں گے وزیر اعظم ٹائپ کی سپر اچھال کر.

وزیر اعظم نے جیسے ہی جنگ کا چیلنج قبول کرنے والی بات کہی، کیمرہ ان کے وزیر جتندر سنگھ پر تھا. وہ خوشی سے اچھل گئے. تالی بجانے لگے. عام کارکنان بھی کرسی چھوڑکر تالی بجانے لگے. انہیں لگا کہ یہ ہوئی نہ مودی والی بات. یہ ہوئی سب کے دماغ کی بات. لیکن چند سیکنڈ کے اندر سب غلط ثابت ہوگیا. وزیر اعظم نے دماغ کی بات نہیں کی. مودی والی بات نہیں کی. وزیر اعظم والی بات کر دی. وہ اس جنگ کی بات کرنے لگے جس کی بات آج کل کوئی نہیں کرتا. ویسے یہ بات بھی پہلی بار نہیں کر رہے تھے. کئی بار کر چکے ہیں. آپ گوگل کر سکتے ہیں.

آپ کو ٹی وی کے بکسے میں غربت اور غذائی قلت کو لے کر بھارت پاکستان کے درمیان ہوڑ کا تصور کرنے والے کہاں نظر آتے ہیں. پھر بھی یہ چینل اپنی عادت سے باز نہیں آئیں گے. یہ اب بھی غربت اور غذائی قلت پر بحث نہیں کریں گے. وزیر اعظم کی ستائش کرنا ہے تو وہ ان کی تقریر سے ان جملوں کو چن لائیں گے کہ دیکھو، دھمکا دیا وزیر اعظم نے پاکستان کو. یہ ہوتی ہے للکار. سخت الفاظ میں ہو گئی مذمت. جس کا تھا ملک کو انتظار. اس ٹائپ کے سپر چینلوں پر فلیش لگیں گے.

پاکستانی عوام سے بات کرکے وزیر اعظم نے ایک بار پھر ان لوگوں کی بنائی اس روایت کا احترام کیا ہے جو تمام جنگ کے متمنی لوگوں کی گالیاں سنتے ہوئے پاک بھارت سرحد پر ہوش مندی کی موم بتياں جلانے جاتے ہیں. گزشتہ کئی دنوں سے وہاٹس ایپ، ٹوئٹر اور ٹی وی پر ایسے لوگوں کو گالی دی جا رہی تھی. انہیں پاکستان کا دلال بتایا جا رہا تھا. ایسے وقت میں میں پاکستانی عوام سے بات چیت کرنے کی بات کا قائل ہو گیا. جب اس بات پر قائل ہو رہا تھا تب میں وزیر اعظم کے لئے نہیں، کلدیپ نیر جیسے دیوانوں کے لئے تالی بجا رہا تھا. میں اس بزرگ صحافی کے اعزاز میں کھڑا ہونا چاہتا ہوں جو اپنے لڑکھڑاتے قدموں سے آج بھی اپني راہ چلتا ہے.

اڑی کے واقعہ کے بعد جب جنگ کا اعلان نہیں ہوا، ملک میں پاگل پن نہیں پھیلا، تب چینلوں نے ایک دوسری بحث تھام لی کہ ہندوستان آئے پاکستانی فنکاروں کو بھگا دینا چاہئے. بہت پڑھے لکھے بے وقوف ٹویٹ کرنے لگے. اب ایسے لوگ کیا کریں گے؟ ان کے قابل صد احترام لیڈر تو پاکستانی عوام سے بات کرنے لگے ہیں. آپ جب فنکاروں کو بھگا دیں گے تو کس کے ذریعہ پاکستانی عوام سے بات کریں گے؟ یہ آرٹسٹ بھی پاکستانی عوام کے ہی حصے ہیں. وزیر اعظم مودی نے پاکستانی عوام کو اپنی جنگ کا ساتھی بنا لیا ہے. ان کی اس بات سے پاکستانی عوام کو دہشت گرد کہنے والوں کو بھی سوچنا ہوگا. وزیر اعظم نے بہت صفائی سے پاکستانی حکمراں اور فوج کی ساکھ کو دہشت گردی کا استاد قرار دے دیا. انہیں ان کی عوام کی نگاہ میں الگ تھلگ کر دیا. انہوں نے پاکستانی عوام میں اپنا اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستانی عوام دہشت گردی کے خلاف سڑکوں پر اترے گی.

وزیر اعظم نے فوج کی تعریف کی اور کہا کہ فوج نے 17 بار دراندازی کی کوششوں کو ناکام کیا ہے. پڑوسی ملک ایک واقعہ میں کامیاب ہوا ہے. "اگر ان 17 واقعات میں وہ کامیاب ہو جاتے تو ملک کو کتنا تباہ کر دیتے یہ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں.” وزیر اعظم اڑی کے واقعہ کو ایک واقعہ کی چوک مانتے ہیں. کیا ماہرین ان کی اس بات سے مطمئن ہوں گے؟ جس ایک واقعہ کو لے کر میڈیا  کا ایک حصہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں ٹائپ پرجوش تھا، وہ کیا اسے قبول کر لے گا؟ اگر دراندازی کے 17 واقعات میں ملک کو تباہ کرنے کی صلاحیت تھی تو پھر ہندوستان کیوں خاموش رہا؟ پھر اڑی میں چوک کیسے ہو گئی؟ ماہرین نے ان 17 واقعات پر نظر کیوں نہیں ڈالی؟ کیا اینكروں کو یہ سب نہیں دکھا؟

فی الحال جنگ کے متمنی جذبات آرام کر سکتے ہیں. سوشل میڈیا کے جنگی بہادروں کو ایک بات سمجھ لینی چاہئے. سیاست ان کا استعمال کرتی ہے مگر ان کے حساب سے سیاست نہیں چلتی ہے. اس وہاٹس ایپ پر وزیر اعظم ، مجھے اور کچھ صحافیوں کو چوڑی پہناکر دکھانے والے محتاط رہیں. ہوش مندی سے کام لیں. چوڑی پہنانے کا مطلب ہے بیٹی بچانا. بیٹی پڑھانا. ہمت ہارنا نہیں. میں آج جنگ کے متمنی جذبات کی شکست پر خوش ہوں۔ وزیر اعظم نے آج ایک جنگ جیت لی ہے. کیرالہ سے انہوں نے یہی بتایا ہے کہ وہ حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف کو بلانے، انہیں مبارکباد دینے لاہور جانے سے لے کر پاکستانی عوام کو پکارنے میں اپنی ایک رائے پر ابھی تک قائم ہیں. یہی کہ واحد نہیں تو کم سے کم اہم راستہ بات چیت کا ہی ہے. اس بار وزیر اعظم نے کروڑوں پاکستانیوں سے بات چیت کا اعلان کیا ہے. بات چیت کی بات کرنے والوں کو وزیر اعظم کی حمد خوانی کرنی چاہئے.

آج ان کے مشتعل حامی ضرور مایوس ہوں گے. فیس بک اور ٹوئٹر کے اپنے اسٹیٹس کو وہ چپکے سے ڈیلیٹ کر سکتے ہیں. سرف کی خریداری میں ہی سمجھداری ہے! کچھ چیزیں للتا جی سے بھی سیکھی جا سکتی ہیں. وہ لوگ جو ایک دانت کے بدلے جبڑے نکال رہے تھے وہ جبڑے کو بچا کر رکھیں. پاکستانی عوام سے بات کرنے کے لئے بہت سارے جبڑوں کی ضرورت ہوگی. بات ہوگی تو چائے پانی بھی ہوگا. بریانی سے لے کر پراٹھے کھانے چبانے کے کام آئے گا. لاہور میں پنیر کے پراٹھے بھی ملتے ہیں. پاکستانی عوام صرف بریانی نہیں کھاتی ہے. چلتے چلتے چٹکی لینے کی عادت سے باز نہیں آنا چاہتا. کیرالہ کی زمین سے غریبی، غذائی قلت اور بے روزگاری سے لڑنے کی بات پر کہیں کمیونزم کا تو اثر نہیں ہو گیا!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close