غیر قانونی ہورڈنگ؍پوسٹروں پر کارروائی کب ہوگی؟

رويش کمار

ہماری ساری بحثیں آخر میں ویوستھا کی اس میز پر آکر ختم ہوتی ہیں جہاں کسی عام آدمی کو اس کا حق ملنا ہے. یہ حق، حق اطلاعات سے لے کر جینے کے حق تک اور قانون کے عمل تک کا ہوتا ہے. ہم اکثر انتظامات کو بہت رعایت دے دیتے ہیں. جب ان کی لاپرواہی سے کسی کی جان چلی جاتی ہے تو سمجھ نہیں پاتے کہ اس کے لئے ذمہ دار کون ہے. آپ کو آپ کے شہروں میں سے ہی ہوں گے، کوئی تہوار آیا نہیں کہ رہنماؤں کی تصاویر بجلی سے لے کر ٹریفک کی بتیوں کے کھمبے پر ٹنگ جاتی ہے. ہر پارٹی کے لوگ یہی کرتے ہیں. بغیر مطلب ایک ہی پوسٹر میں چار چار تہوار کی مبارکباد اور اس میں تیس چالیس چہرے ٹھونس کر آپ کو گھور رہے ہوتے ہیں. ان کی وجہ سے كتنے حادثات ہوتے ہوتے بچتے ہوں گے یا پھر آس پاس کا نظارہ کتنا بھدا لگنے لگتا ہے ، یہ آپ سمجھ سکتے ہیں. کئی بار یہ جان لیوا بھی ہو جاتے ہیں.

ہمارے ساتھی سیم ڈینیل نے بتایا ہے کہ كويمبٹور کے اوناشی سڑک کے بيچوں بیچ تورن دروازہ بن رہا تھا، اس کے اوپر جو مزدور چڑھے ہیں وہ بھی ہیلمیٹ نہیں پہنے ہیں. یہ گر گئے تو ان کا کیا ہوگا آپ سمجھ سکتے ہیں. اس تورن دروازے کے لئے سڑک میں گڑھے کھود ڈالے گئے. یہ نظارہ آپ غازی آباد سے لے کر پونے ہر جگہ دیکھتے ہوں گے. ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ملک کی مالک ہیں، جہاں چاہیں، وہاں اپنے لیڈر کا تصویر لگا سکتے ہیں. ہماری حالت یہ ہو گئی ہے کہ ایک دن یہ گھروں میں بھی بل بورڈز لگا کر چلے جائیں گے اور ہم کچھ نہیں بول پائیں گے. بہرحال، 30 سال کے رگھو کی موٹر سائیکل اس تورن دروازے سے یا گوپر دروازے کے لئے بنایا گڑھے میں پڑ لڑکھڑا گئی، رگھو گر گیا اور ایک ٹرک کے نیچے آ کر مر گیا.

امریکہ سے یہ نوجوان اپنے ہونی والی عورت سے ملنے آیا تھا. دو دو خاندان تباہ ہو گئے، اس ہورڈنگ کی وجہ. یہ ہورڈنگ حکمراں اے اي ڈي ایم كے کا تھا، جو ایم جی آر کے جنم آشتمي تقریب کے لئے بنایا جا رہا تھا. ٹرک ڈرائیور تو گرفتار ہو گیا لیکن ہورڈنگ لگانے والے کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے. پولیس کہتی ہے کہ رگھوپتی نے ہیلمیٹ نہیں پہنا تھا. پر کیا وہاں ہورڈنگ قانون کے مطابق لگا تھا. کیا کسی بھی شہر میں ہورڈنگ قانون کے مطابق لگتے ہیں. سوشل میڈیا پر لوگ اس واقعہ کو لے کر اپنا غصہ ظاہر کر رہے ہیں. رگھو کو کس نے مارا، hashtag چل رہا ہے.

نیشنل ہائی وے کے بيچوں بیچ عظیم تورن دروازہ بن رہا تھا. لوگوں نے پینٹ سے لکھ دیا ہے، رگھو کو کس نے مارا. ‘دی كووي پوسٹ’ نے اس واقعہ کو تفصیل سے بیان کرتا ہے. ڈی ایم کے ایک لیڈر نے ہائی کورٹ میں سارے ہورڈنگز کو ہٹانے کے لئے عرضی داخل کر دی اور خاندان کے لئے معاوضے کا بھی مطالبہ کیا. ہفتہ کو كويمبٹور کے کمشنر نے ان سارے ہورڈنگز کو جن کے لئے اجازت نہیں لی گئی تھی ہٹانے کا حکم دیا.

چنئی میں 30 اکتوبر کو ایسی ہی ایک تقریب میں ایس یو وی گاڑی پر ایکٹر وجیے کا کٹ آؤٹ گر گیا. کٹ آوٹ 28 فٹ بلند تھا. اس حادثے میں 38 سال کا نوجوان شدید زخمی ہو گیا. رگھوپتی کی موت کو لے کر كويمبٹور میں کافی غصہ ہے. ہندو اخبار کی خبر ہے کہ اسی سال 25 اکتوبر کو ہی مدراس ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پوری ریاست میں کٹ آوٹ. ہورڈنگز، فلیكس نہیں لگیں گے. ہائی کورٹ نے ریاست کے چیف سکریٹری سے کہا تھا کہ اس حکم کو نافذ کرائیں. مگر ‘دی كووي پوسٹ’ نے بتایا ہے کہ كويمبٹور میں ہی کتنے ہورڈنگز غیر قانونی طور پر بنا دیے گئے ہیں. 16 مئی 2002 کو ایک سڑک ٹرانسپورٹ اور موٹروے نے سرکلر جاری کیا تھا، جس میں صاف صاف کہا گیا تھا کہ موٹروے پر کسی بھی قسم کے اشتہارات کے ہورڈنگز کی اجازت نہیں ہے، سوائے مفاد عامہ سے متعلق اطلاعات کے. کسی بھی شہر میں دیکھئے، جسے جہاں دل کرتا ہے، وہاں ہورڈنگز لگا دیتا ہے. کئی بار تو ریڈلایٹ ہی نظر نہیں آتی. اس کے اوپر نوجوان لیڈر اپنا پوسٹر ٹانگ دیتا ہے. اس پوسٹر میں دس بیس اور رہنماؤں کی تصویر ہوتی ہے. کئی بار اس طرح ٹنگے رہتے ہیں کہ ذرا سی آندھی چلتی ہے، یہ ہورڈنگز گرنے لگتے ہیں.

گزشتہ سال نوئیڈا کے ڈی ایل ایف مال کے پاس ایسا ہی واقعہ ہوا تھا. آندھی آئی اور 20 فٹ لمبا اور 12 فٹ چوڑا ہورڈنگ گر گیا. اس کے نیچے سے گزر رہے موٹر سائیکل سوار پشپیندر کو چوٹ آئی اور ان کے پیچھے بیٹھے منا کمار کی موت ہو گئی. 6 مئی 2016 کو غازی آباد کے ہنڈن پل کے قریب ایک بڑا سا ہورڈنگ گر گیا. پانچ افراد زخمی ہو گئے، دو آٹو اور ایک گاڑی تہس نہس ہو گئی. اتفاق سے ہمارے ساتھی سشیل مهاپاترا کئی دنوں سے دہلی میں ہورڈنگز پر ہی رپورٹ تیار کر رہے تھے. سشیل نے اسے قوانین کی خلاف ورزی اور گندگی کی نظر سے دیکھا ہے مگر اس کا ایک پہلو کافی خطرناک ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ رویش کمار

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

جی ہاں، مجھے معلوم ہے گجرات انتخابات کا نتیجہ!

مجھے گجرات انتخابات کا رزلٹ معلوم ہے لیکن میں 18 کو رزلٹ آنے کے بعد بتاؤں گا. میں چاہتا ہوں کہ پہلے دیکھ لوں کہ الیکشن کمیشن کا رزلٹ صحیح ہے کہ نہیں. میرے رزلٹ سے ملتا جلتا ہے کہ نہیں! اس وقت تک مجھ سے رذلٹ کے بارے میں نہ پوچھیں. کچھ صحافی ٹویٹر پر ڈول گئے ہیں. بیلنس کرنے یا دونوں ہی پوزیشن میں کسی ایک سائیڈ سے مستفید ہونے کے چکر میں اپنا پوسٹ تبدیل کر رہے ہیں، بیچ بیچ کا لکھ رہے ہیں.انتخابی سیاست بکواس ہو چکی ہے. صحافیوں نے مجموعی طور پر دس پانچ زاویہ ہی دکھائے، جبکہ انتخابات کے کئی زاویہ ہوتے ہیں جو صحافیوں کی نظر سے دور ہوتے ہیں. جن کی نظر میں ہوتے ہیں وہ لکھتے نہیں کیونکہ وہ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے