آج کا کالم

فرانس کے صدارتی انتخابات میں میكرون کی فتح!

رويش کمار

دو تین سال سے تمام سیاسی رہنما، یوروپی یونین کے ریفرنڈم، امریکہ کے صدارتی انتخابات کے بعد ان رہنماؤں کی پروفائل کرنے میں لگے تھے، جو اپنے ملکوں میں دائیں بازو کی قیادت کرنے لگے تھے. ایسے لیڈروں کو اس طور پر دیکھا جانے لگا کہ بس انتخابات ہونے کی دیر ہے، جیت ان کا انتظار کر رہی ہے. تمام جگہوں میں دائیں بازو bulge کے تین چار اہم نقطہ ہوتے ہیں، جیسے دہشت گردی کو لے کر مسلمانوں کے خلاف غصہ، روزگار دوسرے ملکوں کے نوجوان کھا جا رہے ہیں ، باہر سے آکر بسنے والے ٹیکس ڈکار رہے ہیں ، دوسرے ممالک کے شہریوں کو مسئلہ بتانا، گلوبلازیشن کو ملیریا کی طرح پیش کیا جانے لگا، جیسے دوسرے ملک سے مچھر آکر ان کے ملک کے لوگوں کو کاٹ لے رہے ہیں.

ہمارا ملک، ہماری کمپنی، ہماری روزگار. اس قسم کی سیاست کو فتح کرنے کا فارمولا مان لیا گیا. جس بھی ملک میں اس طرح کی باتیں کرنے والا کوئی لیڈر دیکھا جاتا ہے، میڈیا کو اس میں مستقبل کے وزیر اعظم یا صدر نظر آنے لگتا ہے. سب کو لگتا ہے کہ قوم پرستی کی جو بھی بات کرے گا، عوام بہکاوے میں آتی رہے گی. برطانیہ میں یورپی یونین کے خلاف ریفرنڈم کے نتائج اور امریکی صدر کے انتخابات میں ٹرمپ کی فتح کے بعد تو مان لیا گیا کہ دس بیس سال تک داییں بازو والے چھایے رہے گیں. تبھی 16 مارچ کو ہالینڈ میں انتخابات کے نتائج آتے ہیں اور وہاں اس طرح کی باتیں کرنے والے دائیں بازو لیڈر یا پارٹی ہار جاتے ہیں. 7 مئی کو فرانس کے صدارتی انتخابات کے نتائج آتے ہیں اور دائیں بازو جسے بلج کے زور پکڑنے کے بعد بھی ان کی کراری شکست ہوتی ہے. مجھے ڈر ہے کہ سیاسی چرچاكار اب یہ نہ لکھنے لگے کہ دنیا میں دائیں بازو پارٹی اب ختم ہونے لگی ہے.

میكرون محض 39 سال کے ہیں . نپولین کے بعد پہلی بار کسی اتنے کم عمر نوجوان  فرانس کے اقتدار کی چوٹی پر بیٹھنے جا رہا ہے. میكرون خود کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ نہ لیفٹ ہیں نہ رائٹ ہیں. دونوں کے امتیازات وخصوصیات کا ایک مرکب ہیں. ایسا آدمی ہوتا خطرناک ہے، پتہ نہیں کب لیفٹ ہوجائے اور کب رائٹ ہو جائے. پھر بھی میكرون کو 66 فیصد ووٹ ملے ہیں. دائیں بازو لاپین کو 34 فیصد ووٹ مل ہیں. فرانس میں ابھی تک دائیں بازو والوں کو کبھی اتنے ووٹ نہیں ملے تھے. میکرون گلوبلایزیشن کے حامی ہیں. یوروپین یونین میں فرانس کے رہنے کی وکالت کرتے ہیں. وہ امگریٹ یعنی مہاجرین سے بھی نفرت نہیں کرتے ہیں، ٹرمپ کی طرح نہیں کہتے کہ دوسرے ملک سے آنے والے نوجوان امریکی روزگار نہیں کھا سکتا. میكرون کی بیوی برگٹ میكرون 64 سال کی ہیں. میكرون جب 15 سال کے تھے تب برگٹ انہیں ڈراما سکھایا کرتی تھیں. 16 سال کی عمر میں ہی میكرون نے شادی کا فیصلہ کر لیا تھا. میكرون جس کلاس میں تھے اس کلاس میں برگٹ کی بیٹی بھی پڑھتی تھی، مگر میكرون کو اپنی ٹیچر سے محبت ہو گیی تھی. برگٹ کی پہلی شادی سے تین بچے بھی ہیں . میكرون  محبت کو کسی سے چھپاتے نہیں بلکہ دنیا کے سامنے پورے اعتماد کے ساتھ بتاتے ہیں. لگتا ہے فرانس میں اینٹی رومیو ٹیم نہیں ہے. مینكرو اور برگٹ کی محبت کی کہانی پر ہی ایک الگ پرائم ٹائم ہو سکتا ہے.

فرانس میں بے روزگاری بہت بڑا مسئلہ تھا. بے روزگاری کی شرح دس فیصد ہے. چار میں سے ایک نوجوان بے روزگار ہے. اس کے بعد بھی امریکہ کی طرح مسئلہ نہیں چلا کہ دوسرے ملک کے لوگ ان کی روزگار کھا جا رہے ہیں ، جیسے امریکہ میں چل گیا. صدر ٹرمپ تو امگریٹ کے خلاف خوب بولتے ہیں . حال ہی انفوسس کو بھی کہنا پڑا کہ وہ کئی ہزار امریکیوں کو اپنی کمپنی میں بھرتی کرے گی. امگریٹس کے خلاف اتنا غصہ بھڑکا کہ اسکے  شکار بھارتی بھی ہوئے. امریکہ میں ہندوستانیوں کا قتل ہوگیا. عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ بے روزگاری بڑھتی ہے تو داییں بازو والے گرم ہونے لگتے ہیں . نوجوانوں کو قوم پرستی کی زبان اچھی لگنے لگتی ہے، مگر فرانس میں ایسا نہیں ہوا. وہاں امریکہ سے زیادہ بے روزگاری ہے، مگر وہاں دائیں بازو کے رہنما لا پین ایک نئے سیاستدان سے ہار گئیں جو پہلی بار انتخابات ہی لڑ رہا تھا. جیت کے بعد میكرون نے کہا کہ وہ فرانس اور یورپ کا دفاع کرے گا. یورپ اور پوری دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے اور انتظار کر رہا ہے کہ ہم کئی مقامات پر خطرے میں پڑے صوابدید کی حفاظت کے لئے آگے آئیں . انہوں نے کہا، ‘میں پوری کوشش کروں گا تاکہ آگے سے آپ کے سامنے انتہا پسندی کے لئے ووٹ ڈالنے کا پھر کوئی وجہ باقی نہ رہے. تمام کہہ رہے تھے کہ میری جیت ناممکن ہے، لیکن ایسے لوگ فرانس کو نہیں جانتے تھے. ‘

میكرون کو بھلے ہی 66 فیصد ووٹ ملے ہیں ، لیکن فرانس کی تاریخ میں 40 سال میں سب سے کم پولنگ ہوئی ہے. ایک تہائی ووٹروں نے تو نہ مینكرو کو ووٹ دیا نہ لا پین کو. ایک کروڑ بیس لاکھ ووٹروں نے ووٹ ہی نہیں دیا. تین سال پہلے تک فرانس کی سیاست میں انہیں کوئی نہیں جانتا تھا. آخر فرانس میں لوگوں نے داییں بازو کو کیوں مسترد کردیا، اعتدال پسند سوشلسٹ اولاد کو کیوں مسترد کردیا. ایک ایسے لیڈر کو کیوں اپنا رہنما چن لیا جو نہ لیفٹ سے آتا تھا نہ رائٹ سے. 39 سال کا نوجوان پہلا انتخاب لڑتا ہے، فرانس کا صدر بن جاتا ہے.

مارچ کے مہینے میں ٹھیک ایسا ہوا جب ہالینڈ میں 30 سال کا نوجوان یشی كلاور مسلم مخالف، دوسرے ممالک سے کام کے لئے آئے لوگوں کے خلاف سیاست کی آندھی کو روک دیتا ہے. وہ ماحولیاتی مسائل کو لے کر جیت جاتا ہے. ہالینڈ میں هرتھ ولڈر کی جیت مانی جا رہی تھی، جو مدارس اور مساجد کو بند کرنے کی بات کر رہے تھے. ہالینڈ کے انتخابات پر دنیا کی نظر تھی کہ ہالینڈ بھی دائیں بازو کے رہنما کی باتوں میں بہہ جائے گا، لیکن ہالینڈ کے عوام نے کٹر دائیں بازو پارٹی کو شکست دی. ہالینڈ میں ورتھ ولڈر تو امریکی صدر ٹرمپ کے کاپیر تھے. وہ بھی ہالینڈ کی حدود پر دیوار بنانے کی بات کرنے لگے، ان کے اشتعال انگیز تقریر سے لگتا تھا کہ اب کوئی دلیل نہیں بچی ہے، عوام پاگل ہو چکی ہے، اس نے سوچنا چھوڑ دیا ہے، اسے بس مذہب کی باتیں اچھی لگتی ہیں ، مسلمان مخالف باتیں اچھی لگتی ہیں . فرانس کے مینكرو کی طرح گرین لیفٹ لیڈر جیسيها بھی کھل کر کہنے لگے کہ وہ خود امگریٹ کی پیدائش ہیں . وہ امگریٹ کی مخالفت نہیں کریں گے. ان کی ماں انڈونیشیا اصل ہیں اور والد مراکش نژاد ہیں . اس الیکشن میں ان چار سے چودہ رہنما ہو گئے.

یہی نہیں ، ہالینڈ کے دائیں بازو کے رہنما ہالینڈ دوبارہ عظیم بنانے کی بات کرنے لگے. ٹھیک اسی طرح ٹرمپ نے امریکہ کو پھر سے عظیم بنانے کا نعرہ دیا تھا. فرانس میں بھی دائیں بازو کے رہنما لا پین نے فرانس کو دوبارہ عظیم اور فرانسیسی بنانے کا نعرہ دیا. ٹرمپ تو جیت گئے مگر ہالینڈ اور فرانس میں عظیم بننے کی دكانداري فی الحال بند ہو گئی ہے. لوگ سمجھ گئے کہ ملکوں کو عظیم بنانے کا نعرہ بوگس ہوتا ہے اور ایک لیڈر اپنی دکان چمکانے کے لئے استعمال کرتا ہے. فرانس کا نتیجہ بتا رہا ہے کہ بڑی تعداد میں ووٹر ان سب باتوں سے چڑ گئے تھے لہذا ووٹ ہی دینے نہیں گئے اور جو گئے وہ جانتے تھے کہ اصلی مسئلہ بے روزگاری ہے. مذہب اور قوم پرستی کے نام پر دائیں بازو کے رہنما ملازمتوں کے سوال سے محفوظ کی جاتی ہیں . فرانس میں صدارتی 11 امیدوار تھے، ان میں سے اکیلے میكرو ہی تھے جنہوں نے گلوبلائزیشن کی حمایت کی.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close