آج کا کالم

فرقہ پرستی اور اس کا تدارک

 ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

ہندوستان کا ہر شہری اس چیز کو بہت شدت سے محسوس کر رہا ہے کہ یہاں فرقہ واریت کی جڑیں بہت گہری ہو گئی ہیں۔ ذات پات کی سیاست نے انسانوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہر گروہ اپنی بالادستی قائم رکھنے اور اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے سر گرم عمل ہے اور نہ صرف یہ کہ دیگر گروہوں کے حقوق غضب کرنے میں اسے کوئی باک نہیں ہوتا، بلکہ وہ ان پر ظلم و ستم ڈھانے اور انہیں اذیتیں پہنچانے میں بھی آگے آگے رہتا ہے۔ اس رویے نے امن و آشتی اور باہم الفت و محبت پر مبنی ملک کی فضا کو مسموم کر دیا ہے۔ فتنہ و فساد کا بول بالا ہے، ایک دوسرے کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ جو صلاحتیں ملک کی تعمیر و ترقی میں لگنی چاہئے تھیں وہ تخریب، فتنہ انگیزی اور شر پسندی کی نذر ہو رہی ہیں۔

ہندوستان زمانہ قدیم سے مختلف تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے مل جل کر امن وسکون اور پیار و محبت کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ وہ اپنے اپنے مذہب، کلچر اور رسم و رواج پر عمل پیرا ہوتے تھے، لیکن انسانیت ان کی مشترکہ میراث اور بھائی چارہ ان کا مشترکہ وصف تھا۔ وہ باہم شیر و شکر ہو کر رہتے اور ایک دوسرے کے کام آتے تھے۔ یہاں مسلمان آئے اور انہوں نے بودوباش اختیار کی، پھر وہ یہاں کے حکم راں بنے اور صدیوں تک اقتدار کے مراکز پر قابض رہے۔ لیکن مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان اعتماد اور رواداری کی جو فضا یہاں پہلے سے قائم تھی اس میں ذرا بھی فرق نہ آیا۔ انیسویں صدی عیسوی میں انگریزوں نے یہاں قدم جمانے شروع کئے تو ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل جل کر ان کے خلاف جدو جہد کی۔ پھر جب انگریزوں کا اقتدار یہاں قائم ہو گیا تو ان کے خلاف معرکہ آرائی اور آزادی کی لڑائی میں وہ برابر کے شریک رہے۔

انگریزوں نے ہندوستان میں اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے لئے یہاں کے مختلف طبقات اور گروہوں میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے’ تقسیم کرو اور راج کرو ‘کی پالیسی اختیار کی۔ جناب مارکنڈے کاٹجو، سابق جج سپریم کورٹ آف انڈیا نے اپنے ایک مضمون بہ عنوان ’بھارت میں پھیلی فرقہ واریت ‘میں اس کی متعدد مثالیں ذکر کی ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ہندوستان کے لئے وزیر خارجہ سر چارلس ووڈ نے ۱۸۶۲ءمیں وائس رائے لارڈ الجن کو ایک خط میں لکھا کہ ’’ہم نے بھارت میں اپنا اقتدار ایک برادری کو دوسری برادری کے خلاف کھڑا کر کے قائم رکھا ہے اور ہمیں اسے جاری رکھنا چاہئے۔ اس لئے ان کو ایک متحد احساس سے باز رکھنے کے لئے آپ جو کچھ کر سکتے ہیں، کریں۔ وزیر خارجہ وسکاؤنٹ کراس نے ۱۸۸۷میں گورنر جنرل ڈفرن کو ایک خط میں لکھا کہ "مذہبی احساس کی تقسیم ہمارے مفاد میں ہے اور ہم ہندوستانی تعلیم اور تعلیمی مواد پر آپ کی تفتیشی کمیٹی سے اچھے نتائج کی امید کرتے ہیں "۔ اسی طرح وزیر خارجہ جارج ہیملٹن نے گورنر جنرل لارڈ کرزن کو لکھا :’’اگر ہم ہندوستان کے تعلیم یافتہ طبقے کو دو حصوں (ہندو اور مسلمان )میں تقسیم کر سکتے ہیں تو اس سے ہماری پوزیشن مضبوط ہوگی۔ ہمیں درسی کتب کو اس طرح تیار کرنا چاہئے کہ دونوں مذاہب کے اختلافات میں مزید اضافہ ہو

اس طرح انگریزوں نے ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی منافرت پھیلانے اور فرقہ وارانہ تنازعات کو ابھارنے اور ہوا دینے کی منصوبہ بند کوشش کی اور اس کے لئے مختلف تدابیر اختیار کیں، جن کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں ہے۔

ملک کو آزادی ملی تو جن لوگوں کے ہاتھوں میں اس کی زمام اقتدار آئی، ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ یہاں مختلف طبقات کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھنے کی کوشش کرتے اور انگریزوں نے منافرت، بد اعتمادی اور بغض و حسد کے جو بیج بودئے تھے ان کا قلع قمع کرتے، لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا، بلکہ اس کے برعکس انہوں نے اپنی حکومت کو مضبوط کرنے اور اپنا وووٹ بینک بڑھانے کے مقصد سے فرقہ واریت کو بڑھاوا دیا۔ اس طرح آزاد ہندوستان میں مختلف طبقات کے درمیان دوریاں بڑھتی گئیں اور کشیدگی میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس کا اثر یوں تو ملک کی تمام اقلیتوں، لسانی گروہوں اور مذہبی اکائیوں پر پڑا ہے، لیکن خاص طور پر اس سے سب سے زیادہ متاثر مسلمان ہوئے ہیں۔

ملک کے باشندوں کے ذہن و دماغ میں فرقہ واریت کا زہر گھولنے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کی گئیں اور مختلف خطوط پر کام کیا گیا۔ اس کا ایک پہلو یہ تھا کہ تاریخ کی نصابی کتابوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی گئی اور مسلم حکم رانوں پر یہ الزامات عائد کئے گئے کہ انہوں نے مندروں کو منہدم کیا، ہندوئوں پر ظلم ڈھائے اور ان کو جبریہ مسلمان بنایا۔ ان حکم رانوں میں خاص طور پر مغل حکم رانوں اورنگ زیب عالم گیر اور میسور کے حکم راں ٹیپو سلطان کو نشانہ بنایا گیا۔ حالاں کہ بہت سے انصاف پسند مورخین مثلاً بی این پانڈے وغیرہ نے فرقہ پرستوں کے ان الزامات کا بالکلیہ رد کیا ہے اور تاریخی دستاویزات سے ثابت کیا ہے کہ ان حکم رانوں نے بہت سے مندروں کو باقاعدہ جاگیریں عطا کی تھیں اور جبریہ تبدیلی مذہب کے ان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔

گزشتہ کچھ برسوں سے ملک میں دہشت گردی کا ہوّا کھڑا کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے خاص طور پر مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اصلاً یہ مسلمانوں کے خلاف رچی جانے والی عالمی ساش ہے، جس میں ہندوستان کے حکم راں سرگرم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس کے تحت بغیر کسی پختہ ثبوت کے محض شک و شبہ کی بنیاد پر ہزاروں مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا ہے۔ برسوں کی عدالتی کارروائیوں کے بعد وہ بے گناہ ثابت ہوتے ہیں، مگر اس وقت تک ان کا تعلیمی کیریر برباد ہوچکا ہوتا ہے اور وہ سماجی طور پر کسی کام کے نہیں رہ جاتے۔

فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لئے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے بعض ایشوز کو نمایاں کیا جاتا ہے اور بات کا بتنگڑ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی لوجہادکا شوشہ چھوڑا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ مسلم نوجوان ہندو لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر ان کو مسلمان بنارہے ہیں۔ کبھی آبادی کا ہوّا کھڑا کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ مسلمان چار چار شادیاں کر کے اپنی آبادی بہت تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔ اس طرح بہت جلد ہندو اقلیت میں ہو جائیں گے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ بنگلہ دیشی مسلمان بہت بڑی تعداد میں ملک میں آگئے ہیں، جس سے آبادی کا تواز ن بگڑ رہا ہے۔ کبھی دینی مدارس کو دہشت گردی کے اڈے قرار دیا جاتا ہے اور الزام لگایا جاتا ہے کہ وہاں انتہا پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے اور ملک سے غدّاری سیکھائی جاتی ہے۔ کبھی مسلمانوں کی معتبر اور محترم شخصیات کو مطعون کیا جاتا ہے، ان پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر پس دیوار زنداں کر دیا جاتا ہے، یا انتہا پسندی کو فروغ دینے والا کہہ کر ان کی دینی و سماجی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جیسا گزشتہ دنوں معروف مبلغ ا سلام ڈاکٹر ذاکر نائک کے ساتھ کیا گیا۔

ان دنوں ہماراملک فرقہ وارانہ تشدد کی ایک اور بھیانک صورت حال سے دوچار ہے۔ پہلے گئو مانس کی مہم شروع کی گئی۔ صوبہ اتر پردیش کے ضلع غازی آباد کے بسہڑا نامی گاؤں میں اخلاق نامی ادھیڑ عمر کے ایک مسلمان کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا اور اس کے نوجوان بیٹے کو شدید طور پر زخمی کر دیا گیا، محض اس شبہ میں کہ ان لوگوں نے گائے کا گوشت کھایا ہے۔ جانوروں کے کاروبار میں لگے ہوئے کچھ نوجوانوں کو پھانسی دے دی گئی، یہاں تک کہ ان لوگوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو مردہ جانوروں کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے جا رہے تھے یا ان کی کھال اتار رہے تھے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ملک کوفرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کر دیا جائے اور ان کے درمیان بغض و نفرت کے جذبات ابھار دئے جائیں، تاکہ ان کے ووٹ بینک میں اضافہ ہو اور اقتدار پر ان کی گرفت باقی رہے۔

دیکھا یہ گیا ہے کہ ملک کے جو ادارے یا پارٹیاں فرقہ پرستی کی اس لہر کو روکنے اور اس پر قدغن لگانے میں کسی حد تک اپنا کردار ادا کر سکتی تھیں، وہ بھی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتی ہیں، یا اس آگ کو مزید بھڑکانے کے لئے ایندھن فراہم کرتی ہیں۔ مثلاً اس میدان میں میڈیا اپنا مثبت اور تعمیری رول ادا کر سکتا تھا، لیکن افسوس کہ تخریب، فتنہ انگیزی اور فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے میں وہ کچھ زیادہ ہی سرگرم دکھائی دیتا ہے۔ کسی نوجوان کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے تو کئی روز تک چینل دن و رات اس کی خبر نشر کرتے ہیں، اس کی اسٹوری بناتے ہیں اور اس پر مباحثے کرواتے ہیں۔ لیکن کئی سال کے بعد جب وہ بے گناہ ثابت ہو کر جیل سے باہر آتا ہے تو چینلوں پر اس کا مطلق ذکر نہیں ہوتا۔ حکومت یا تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے کسی مسلم شخصیت، ادارے یا جماعت پر کوئی شبہ ظاہر کیا جاتا ہے یا کوئی الزام لگایا جاتا ہے تو چینلوں پر اس کا تذکرہ اس طرح کیا جاتا ہے جیسے جرم ثابت ہوگیا ہو، اس طرح چینل اس پر سزا سنانے کا کام بھی اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔

سیاسی پارٹیوں کا معاملہ اور بھی دگر گوں ہے۔ وہ فرقہ وارانہ منافرت کم کرنے اور مختلف گروہوں کے درمیان ہم آہنگی اور یکجہتی بڑھانے کے لئے بہت کچھ کرسکتی تھیں۔ لیکن ہر پارٹی کو اپنے ووٹ بینک کی فکر ہے۔ اسے اندیشہ ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں اس پر طرف داری اور چاپلوسی کے الزامات لگائے جائیں گے اور اس کے مضبوط ووٹرس کی بڑی تعداد ناراض ہو جائے گی۔ اس لئے وہ ایسا کرنے کی ہمت نہیں کر پاتی۔

ملک کی یہ نازک صورتحال یہاں کے سنجیدہ اور باوقار شہریوں کو غوروفکر کی دعوت دیتی ہے۔ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ملک کو کم زور کرنے، اس کی پر امن فضا کو مسموم کرنے اور دنیا میں اس کو رسوا کرنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کو روکنے کی جدّوجہد کریں، فتنہ پردازوں کا ہاتھ پکڑیں اور انہیں ان کی مذموم حرکتوں سے باز رکھیں۔ ان کی مثال ایک کشتی پر سوار افراد کی ہے۔ اگر ان میں سے کچھ لوگ شر انگیزی پر آمادہ ہوں اور کشتی میں سوراخ کرنے کے درپے ہوں تو دوسرے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کا ہاتھ پکڑیں اور انہیں سوراخ نہ کرنے دیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو تمام لوگ غرقاب ہو جائیں گے اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچے گا۔

اس معاملے میں مسلمانوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ اس ملک کے معزز شہری ہیں۔ ملک کی نیک نامی میں ان کی نیک نامی ہے اور اس پر بدنامی کاداغ لگتا ہے تو اس میں ان کی بھی رسوائی ہے۔ ملک میں فتنہ و فساد پھیلانےسےفرقہ پرستی کو فروغ ملتا ہے اور مختلف گروہوں کے درمیان کش مکش برپا ہوتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ شکار وہ خود ہوتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی جانب سے ایک ابدی پیغام کے امین ہیں۔ وہ جس دین کے علم بردار ہیں وہ تمام انسانوں کے لئے ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ تمام انسان ابتدا میں ایک امت تھے، بعد میں ان میں اختلافات پیدا ہو گئے اور مختلف گروہ بندیاں وجود میں آگئیں۔ وہ کہتا ہے کہ تمام انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں، اس لئے ان کے درمیان رنگ، نسل، ذات پات، علاقہ، کسی بنیاد پر بھی تفریق روا نہیں۔ وہ تمام انسانوں کو بھائی بھائی قرار دیتا ہے۔ اس کی تعلیم یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے بھی خوش گوار انسانی اور سماجی تعلقات رکھے جائیں اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کیا جائے۔

ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے اور فرقہ واریت کے ازالہ کے لئے مختلف پہلوئوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لازم ہے کہ ملکی تاریخ کو مسخ کرنےکی کو ششوں کی سرکوبی کی جائے۔ نصابی کتابوں میں مسلم حکم رانوں کے خلاف جو جھوٹے واقعات منسوب کئے گئے ہیں انہیں خارج کیا جائے۔ مسلم دہشت گردی کا ہوّا کھڑا کرنے کی جو مذموم کوشش کی جارہی ہے اس پر بند لگایا جائے اور حقیقی مجرموں کو پابند سلاسل کیا جائے۔ مختلف مذاہب اور فرقوں کی سرکردہ شخصیاتکے ساتھ مل کرمشترکہ فورم تشکیل دیے جاییں، شہر شہر قریہ قریہ ایسی امن کمیٹیاں بنایی جاییں جن میں مختلف مذاہب اور فرقوں کی نمائندگی ہو۔ ان افراد اور پارٹیوں کی مذمت کی جائے اور ان کی مذموم کارروائیوں کو طشت ازبام کیا جائےجو اشتعال انگریز بیانات اور بھڑکانے والی تقریروں کے ذریعے ملک کی پر امن فضا کو پراگندہ کرتے ہیں۔ میڈیا کے ان چینلوں اور ان کے زہریلے اینکروں کا بائیکاٹ کیا جائے جو مختلف فرقوں اور گروہوں کو ایک دوسرے سے بدگمان کرنے کے لئے جھوٹی خبریں نشر کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ہرایسی کارروائی پر قدغن لگانے کی ضرورت ہے جس سے فرقہ واریت کو بڑھاوا ملتا ہو اور امن و امان غارت ہوتا ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close