آج کا کالم

فوج کے وقار سے کھلواڑ

فوج کی اہمیت بی جے پی کے  احمق رہنما تو نہیں جانتے لیکن فوج کو اس کا ادراک ہے اس  لیے خود وی کے سنگھ نے یوگی کے بیان کی  نہایت سخت الفاظ میں مذمت کی۔

ڈاکٹر سلیم خان

سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی  شخصیت  خاصی  متنازع  ر ہی ہے۔ اپنے ریٹائرمنٹ کی توسیع کے لیے وہ   تاریخ پیدائش پر وبال کھڑا کرکے حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا  اولین اعزاز حاصل کرچکے ہیں ۔  اس پرعدالت عظمیٰ نے جب یہ کہہ کر مداخلت سے انکار کردیا کہ وہ تین مرتبہ اس تاریخ پیدائش کی توثیق کرچکے ہیں جس کی اب تردید کی جارہی ہے تو سنگھ صاحب اپنا سامنہ لے کر لوٹ آئے۔ سبکدوشی سے قبل  انہوں نے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیا کہ انہیں رشوت کی پیشکش کی گئی  مگر حکومت سے  شکایت کرنے کے باوجود اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کے جواب میں سابق وزیردفاع اے کے انٹونی نے لکھا کہ حکومت کے  اصرار پر بھی وہ خود رپورٹ دینے سے قاصر رہے ہیں۔ اس جواب سے  پھر ان کا منہ لٹک گیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انا ہزارے کی تحریک میں شریک ہو کر وہ بولے ’ملک ایمرجنسی  والی( ۱۹۷۵ ) صورتحال  سے گزر رہا ہے۔ اُس وقت جئے پرکاش نارائن نے کہا تھا ’سنگھاسن کو خالی کرو اب جنتا آئی ہے‘۔ اب بھی وہی حالت  ہے۔ بدعنوانی  ملک کے سارے مسائل کا سرچشمہ  ہے۔

وی کے سنگھ کے ان اقدامات سے  چونکہ سیاسی عزائم ظاہر ہوگئے تھے     اس لیے  بی جے پی نے باہیں کھول کر ان کا  استقبال  کیا  اور دہلی سے قریب غازی آباد سے پارلیمانی انتخاب کا  ٹکٹ دے دیا۔ انہوں  نے ۲۰۱۴؁ میں  وزیراعظم مودی سے بھی زیادہ ووٹ کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔  لوگ توقع کررہے تھے کہ انہیں وزیر دفاع بنایا جائے گا لیکن ان کو وزیر مملکت برائے امور خارجہ  کا قلمدان دے دیا گیا۔ سشما سوراج کی نیابت کا  یہ منصب   وی کے سنگھ کے شایان شان نہیں تھا اس لیے انہیں اس کو قبول کرنے سے انکار کردینا چاہیے تھا  لیکن انہوں نے اس پر اکتفاء کرلیا اور پانچ سالوں میں کوئی قابلِ قدر کارنامہ انجام نہیں دے سکے۔  اس بار بی جے پی نے اپنے بہت سارے ارکان پارلیمان کا ٹکٹ کاٹا لیکن وی کے سنگھ ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جنہیں پھر سے نوازہ گیا۔  مودی سرکار کی ناکامی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ  اکھلیش کے دور میں  زبردست کا میابی درج کرانے والے  وزیر موصوف کو اپنی سیٹ بچانے کے لیے یوگی ادیتیہ ناتھ کی مدد لینے پر مجبور ہونا پڑا۔

گورکھ ناتھ مندر کے مہنت یوگی جی    کیا جانیں کہ فوج اور اس کا وقار کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے غازی آباد کے ایک  انتخابی جلسہ میں کہہ دیا   ’کانگریس کے لوگ دہشت گردوں کو بریانی کھلاتے ہیں اور مودی جی کی سینادہشت گردوں کو گولی اور گولہ دیتی ہے‘۔ بی جے پی والوں نے مفتی محمد سعید پر بھی پاکستانی دہشت گردوں کو بریانی کھلانے کا الزام لگا کرملک بھر میں ہنگامہ مچایا تھا لیکن مودی جی  نے پہلے تو نواز شریف کو دہلی میں بلا کر بریانی کھلائی اور پھر خود بن بلائے بریانی کھانے کے لیے پاکستان پہنچ گئے۔ یہی نہیں بلکہ جس مفتی محمد سعید پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایاگیا تھا ان کے ساتھ مل  کر مخلوط حکومت قائم کرلی۔ مفتی محمد سعید اور ان کی موت کے بعد محبوبہ مفتی کی قیادت والی سرکار میں بی جے پی جونیر پارٹنرکی حیثیت سے شامل ہوئی اور انتخاب سے قبل جموں کے ہندووں کی خوشنودی  کے لیے حکومت گرادی۔ بریانی کے معاملے میں  بی جے پی یعنی’ مودی کی فوج ‘  کا  یہ ریکارڈ  ہے۔

مذکورہ بالا حقیقت  کے باوجود ملک کی فوج کو  سابق فوجی سربراہ کے حلقۂ انتخاب میں  یوگی نے’ مودی کی سینا‘ کہہ کر   تنازع کھڑا  کردیا۔ فوج ایک پروقار قومی ادارہ ہے۔ اس کی وفاداری کسی فردِ خاص سے نہیں بلکہ ملک سے ہوتی ہے۔ سیاسی حکمراں تو  آتے جاتے رہتے ہیں ایسے میں  فوج  کو کسی شخص   سےمنسوب کر دینا اس کی توہین ہے۔ سنگھ پریوار کو نہ تو اپنی عزت نفس کا خیال ہے اور نہ وہ کسی اور کے احترام کی پرواہ کرتاہے۔ پچھلے سال سنگھ کے سربراہ  موہن بھاگوت نے یہ کہہ کر ہنگامہ کھڑا کردیا تھا کہ ’’اگر ضرورت پڑتی ہے تو ملک کے لئے لڑنے کی خاطرآرایس ایس کے پاس تین دن کے اندر فوج تیار کرنے کی صلاحیت ہے۔ فوج  کو جوانوں کی تیاری  میں چھہ سے سات مہینے لگ جائیں گے لیکن سنگھ کارکنان کو لے کر یہ تین دن میں تیار ہوجائے گی‘‘۔ یہ لوگ جو پولس  تحفظ کے بغیر مکھی نہیں مار سکتے اپنے آپ کو فوج سے برتر سمجھتے ہیں۔ بھاگوت کے اس بیان کی جب خوب تنقید ہوئی  اور اس کو توہین قرار دے کر معافی کا مطالبہ کیا گیا تو سنگھ مدافعت میں آگیا اور اس کو کہنا پڑا  کہ موہن بھاگوت  ہندوستانی فوج کا موازنہ آر ایس ایس سے نہیں کررہے تھے، درحقیقت انہوں نے کہا تھا کہ فوج اپنے جوانوں کو تیار کرنے میں چھ ماہ کا وقت لیتی ہے، اگر آ ر ایس یس ٹریننگ دے تو جوان تین دن میں سویم سیوک بھی بن سکتے ہیں‘‘لیکن سوال یہ ہے فوج تو قوم کی خدمت کے لیے وقف ہی ہے وہ ان  احمقوں سے تربیت لے سیوم سیوک کیوں بنے ؟ کیا یہ لوگ فوج کو بھی دنگا فساد کے کام میں استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ کیا فوجی تربیت میں کوئی کمی یا خامی ہے جسے سنگھ پوری کرنا چاہتا ہے؟

وزیر مواصلات نتن گڈکری بھی ممبئی کے اندر  وائس ایڈمرل گریش لوتھراکمانڈر ان چیف ویسٹرن نیول کمانڈ کی موجودگی میں فوج کی اسی طرح  تذلیل کرچکے ہیں انہوں نے ایک عوامی جلسہ میں  کہا تھا ۔ ’’مجھے پتہ چلا ہے کہ ہائی کورٹ نے بحریہ کے اعتراض کے بعد تیرتی جیٹی کو منظوری دینے سے انکارکردیا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ ملبارہل سےبحریہ کا تعلق کیا ہے، وہ پاکستان کی سرحد پرجائے۔ ہم اقتدار میں ہیں اور بحریہ یا وزارت دفاع کو کوئی اختیار نہیں۔بحریہ کو سرحد کی حفاظت کرنا چاہئے ناکہ جنوبی ممبئی میں ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہئے‘‘۔ جس  وزیر کو یہ  تک نہ معلوم کہ پاکستانی سرحد پر حفاظت بحریہ کی نہیں بلکہ بارڈر سیکیورٹی فورس کی ذمہ داری ہے وہ سرِ عام فوج کو دھمکاتا ہے۔ دراصل  بحریہ کا کام  ہی سمندری سرحدوں کی حفاظت ہے اور ممبئی ساحل سمندر پر واقع ہے۔ اس پر سمندر کے راستے ۲۶ نومبر کا مشہور حملہ ہوچکا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ ’ میں ایک انچ زمین بحریہ کو نہیں دوں گا‘ ایسا ہے جیسے ان لوگوں نے ممبئی شہر خرید رکھا ہے اور وہ اس میں فوج کو نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔

الیکشن  کمیشن بظاہر تو ایک آزاد ادارہ ہے لیکن سرکاری دباو  کس پر نہیں  ہوتا؟  اس کے باوجود وہ   وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ کے بیان پر   اس نے نوٹس  جاری کر  ہی دیا ۔ اس کی وجہ بحریہ  کے سابق چیف ایڈمرل ایل رام داس  کا  وہ سخت خط ہے جو انہوں نے  الیکشن  کمیشن کو لکھا۔ اس میں  یوگی آدتیہ ناتھ کی شکایت کرتے ہوے کہا  گیا ہے کہ فوجی طاقت کسی خاص فردسے منسلک  نہیں ہوتی ہیں اور  یہ دعویٰ بھی  کیا کہ اس غیر ذمہ دارانہ بیان سے  کئی سبکدوش فوجی فکرمند ہیں۔ سچ تو یہ کہ سابق ہی کیوں فی الحال فوج میں موجود اہلکار اور عام شہری  بھی بے چین ہے۔ ایڈمرل رام داس کے موقف  کی تائید کرتے ہوئے  لیفٹننٹ جنرل (سبکدوش)ایچ ایس پناگ نے کہا  چونکہ پچھلے پانچ سال میں کئی رہنماؤں نے اس طرح کا تبصرہ کرتے ہوئے قوم پرستی کو فوج  سے جوڑنے کی کوشش کی ہے اس لیے یہ حیران کن بیان نہیں ہے۔پناگ نے  اندیشہ ظاہر کیا کہ’’ ایسے بیان فوج کو سیاست کی طرف مائل کرتے ہیں‘‘۔

فوج کی اہمیت بی جے پی کے  احمق رہنما تو نہیں جانتے لیکن فوج کو اس کا ادراک ہے اس  لیے خود وی کے سنگھ نے یوگی کے بیان کی  نہایت سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا اگر کوئی کہتا ہے کہ ہندوستان کی فوج ‘مودی جی کی سینا’ہے تو وہ غلط ہی نہیں، دیش دروہی (غدارِ وطن)  بھی ہے۔ اپنے آپ کو دیش بھکتوں کا سرخیل کہنے والی بی جے پی کے لیے خود اپنے ہی وزیر کی جانب سے وطن دشمنی کا لقب قابلِ تعریف ہے لیکن کافی نہیں ہے۔ وی کے سنگھ نے واضح کیا کہ’’  ہندوستان کی فوجیں ہندوستان کی ہیں، یہ کسی سیاسی جماعت  کی نہیں ہیں۔ ‘ ہندوستان کی فوج غیر جانبدار  اور سیاست سےپرے  ہے۔ پتہ نہیں کون ایسی بات کر رہا ہے؟ ایک ہی دو لوگ ہیں جن کے دل میں ایسی باتیں آتی ہیں کیونکہ ان کے پاس تو کچھ اور ہے ہی نہیں‘‘۔ ہندوستان کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ کو یہ تو معلوم ہے کہ ایسی  باتیں کیوں  کہی جاتی ہیں؟ اس لیے کہ  ان لوگوں کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے لیکن انہیں یہ نہیں پتہ کہ کون ایسی بات کررہا ہے ؟ وی کے سنگھ کے  اس  تجاہل عارفانہ پر میر تقی میر کا یہ شعر(ترمیم کی معذرت  کے ساتھ) صادق آتا ہے؎

بچہ بچہ، یوگی نقوی  راز ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے سنگھ ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

یوگی کی توہین آمیزی پر سبکدوش جنرل وی کے سنگھ  کی  یہ جملہ بازی کافی نہیں ہے۔ اپنی فوج کے وقار کا  اگر انہیں حقیقی پاس و لحاظ ہوتا تووہ  اس توہین  کے عوض   یوگی ادیتیہ ناتھ کوان کے عہدے سے  برخواست کرکے جیل بھیجنے کا مطالبہ کرتے یا اس پارٹی سے استعفیٰ دے کر  کنارہ کشی اختیار کرلیتے جس کا وزیراعلیٰ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتا پھرتا ہے۔   سوچنے والی بات یہ ہے کہ وی کے سنگھ اگر ایسے خوددار ہوتے تو بی جے پی جیسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرکے سیاست کے گندے تالاب میں چھلانگ کیوں لگاتے؟   انتخابی کمیشن  کے نوٹس کا بی  جے پی پر کوئی اثر نہیں دکھائی دیتا۔ یوگی کےبعد مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے الیکشن  کمیشن کو ’ٹھینگا‘ دکھا تے ہوے   رام پور میں کہہ دیا ’’مودی کی سینا تو دہشت گردوں کو ان کے گھروں میں گھس کر مار رہی ہے‘‘۔ پہلے والے  بیان کی طرح اس کی بھی  انتخابی کمیشن میں شکایت بھی کی گئی اور اس نے  نوٹس جاری کیا لیکن پھر تحقیق و تفتیش کا ناٹک ہوگا اور سارا معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوکر رہ جائے گا۔ اس کے بعد کوئی نیا بیان سامنے آجائے گا نیز فوجی کارناموں کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کا یہ مذموم سلسلہ دیش بھکتوں کے ذریعہ اس وقت تک  جاری و ساری رہے گا  جب تک کہ ملک کے عوام ان کو اقتدار سے محروم نہ کردیں۔   فوج کے وقار کو بحال کرنے کی ذمہ داری اب عوام کے سپرد ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس کو کس طرح نبھاتے ہیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close