آج کا کالم

فکرفردا – میں کس کے ہاتھ پراپنالہو تلاش کروں؟

 احمد جاوید

یہ محض اتفاق ہے کہ اقوام متحدہ یمن میں برسرپیکارسعودی عرب اور اس کے حلیفوں کو معصوم بچوں کے بے تحاشہ قتل کے لیے جس وقت بلیک لسٹیڈ کررہی تھی عین اسی وقت گجرات کی ایک خصوصی عدالت 2002ءکےفرقہ وارانہ فسادات کے دوسرے سب سے بڑے قتل عام کا فیصلہ سنارہی تھی۔ اقوام متحدہ نے سعودی عرب اور اس کے حلیفوں کو اسکولوں اور اسپتالوں پر اندھادھند حملوں کا مرتکب پایا ہے، اس کی رپورٹ کے مطابق یمن میں اقتدار پر قبضے کی جنگ میں مارے اورزخمی کیے گئے بچوں میں 60فیصد سعودی عرب اور اس کے حلیفوں کی بربریت کے شکار ہوئے ہیں،اس جنگ میں مرنے والے بقیہ 40؍ فیصدبچوں کی موت کے ذمہ دار ان کے حریف حوثی اور دوسرے باغی گروہ ہیں۔ان گروہوں کو بھی فہرست سیاہ میں ڈالا گیا ہے ۔عالمی تنظیم نے اس فہرست میں یمن کے برسرپیکار گروہوں کے علاوہ افغانستان ، کانگو، وسط افریقی جمہوریہ، عراق، مالی، برما، صومالیہ، جنوبی سوڈان، شام، کولمبیا، نائجیریا اور فلپائن کی مسلح تنظیموں کا نام بھی شامل کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون نے 193؍ارکان ممالک سے اپیل کی ہے کہ دنیاکے امن و سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی لڑائیوں کے جواب میں وہ بین الاقوامی قوانین پر عمل کریں۔ ایسا نہ کرنے کی وجہ سے بچوں کے حقوق کی بے پناہ پامالیاں ہورہی ہیں جو ناقابل قبول ہے۔ بغور دیکھیں تو اقتدار کی جنگ میں انسانی حقوق کی پامالی یا معصوم بچوں کا قتل عام مشرق و مغرب میں ہراس جگہ ہورہاہے جہاں سیاست نے تشدد اختیار کیا ہے، اس میں سعودی عرب اور اس کے حلیفوں یاحریفوں کی کیا تخصیص ، اس ناپاک کھیل میں تو عالمی امن کا سب سے بڑاٹھیکیداراور اس کے حلیف و اتحادی بھی کسی سے کم نہیں ہیں، خود اسی رپورٹ میں افغانستان میں قندوز کے ایک خیراتی اسپتال پر اس ہلاکت خیز حملے کا تفصیلی ذکر ہے جو بین الاقوامی فوج نے کیا تھا لیکن اس کے لیے امریکہ یا افغانستان میں برسرپیکار بین الاقوامی فورسزکو بلیک لسٹیڈ نہیں کیا گیا ہے۔

آپ کہیں گے کہ گجرات میں احمدآباد کی گلبرگ سوسائٹی یا نرودہ پٹیا کے قتل عام اور یمن ، افغانستان ، کانگو، عراق، برما، صومالیہ، جنوبی سوڈان، شام، کولمبیا، نائجیریا، فلپائن یا وسط افریقی جمہوریہ میں نہتے انسانوں اور معصوم بچوں کے قتل میں کیا نسبت؟ لیکن ذراٹھہر کر سوچیے کہ کیا واقعی گجرات کے قاتلوں، معصوموں اور نہتوں کے خون سے ہاتھ رنگنے،ان کے خون میں منھ ڈالنے والے درندوں اورمشرق و مغرب کے ان ملکوں میں معصوم بچوں، عورتوں، ضعیفوں اور بیماروں کے خون سے وحشت و بربریت کی تاریخ رقم کر نے والوں میں کوئی نسبت نہیں ہے؟ کیا یمن کے معصوموں کے قتل میں بھی وہی سیاست کارفرماں ہیں ہے جوگجرات کی درندگی میں کارفرما تھی؟ کیا یہاں بھی اقتدار پر قبضے کی اسی ناپاک خواہش نے سیاست کے اس عفریت کو جنم نہیں دیا جو یمن میں معصوموں اور بے گناہوں کا خون پی رہاہے۔ انسان جب تک سیاست اور اقتدار کی ناپاک خواہشوں کا غلام رہےگاکیا ان خوں ریزیوں سے نجات کا تصور کرسکتا ہے جس نے مختلف شکلوں میں مشرق و مغرب میں قہرڈھایا ہوا ہے اور امن و سلامتی کے ٹھیکیدار بعنوان مختلف ان کے خون کا ماتم کرکے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کررہے ہیں جب کہ معصوموں کا لہو ان کی اپنی آستینوں سے بھی ٹپک رہاہے اور بے گناہوں کی لاشیں ان کے اپنے قدموں میں بھی  چیخ رہی ہیں کہ ’ وہ کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں‘۔ وہ کونسا ہاتھ اور کونسی آستین ہے جواقتدار کی جنگ میں شامل ہو اوربے گناہوں کے لہو سے تر نہ ہو۔ یمن ہی کو لے لیجیے، سعودی عرب اور اس کے اتحادی حوثی باغیوں اور ان کے ہمدردوں کو انسانی حقوق کی پامالی کے ہزاروں واقعات کا ذمہ دار بتاتے ہیں، ایران پر یمن کا ملبہ ڈالنا چاہتے ہیں اور حوثی باغیوں یا علی عبداللہ صالح کے حامیوں اور ایران نے سعودی عرب اور منصور ہادی کے پشتیبانوں کو انسانیت کا دشمن، معصوم بچوں، عورتوں، ضعیفوں اور بیماروں کا قاتل ثابت کرنے کا کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا ہے۔ اصل گنہگار کون ہے، قتل و غارت کے بازارکا سب سے بڑے سوداگر کون ہیں، خوردبینوں کی مدد سے بھی تلاش و تحقیق کریں تو کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے لیکن معصوموں کے چھینٹے آپ کو ہر آستین پر نظر آئیں گے۔

گجرات میں 2002ء میں کیا ہوا۔ ایک اقلیتی فرقہ کے کمزور،نہتے اور بے بس لوگوں کے قاتل کون تھے۔عدالتوں میں 14؍برسوں کی جانگسل قانونی جدوجہد کے بعد 60؍ملزمین میں سے 36چھوٹ جاتے ہیں اس لیے کہ وہ بھیڑ کا حصہ تھے اس بھیڑ کا حصہ جس نے اپنی درندگی میں حیوانیت کو بھی شرمسار کردیا تھا لیکن بھیڑ کے جرائم اور اس میں شامل درندوں کی شناخت کو ثابت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ہمارے ملکوں کے قوانین میں افراد کے جرائم کی سزائیں توکڑی سے کڑی معین ہیں لیکن بھیڑ نے اگر وہی جرائم انجام دئے ہوں تو مجرموں کے لیے بچنے کی طرح طرح کی گنجائشیں موجود ہیں۔ اگر پوری پوری قومیں بھیڑ بن گئی ہوں، بھیڑ کی نفسیات میں مبتلا ہوں،درندوں اورجانوروں کا غول بن جائیں تو کہنے ہی کیا ہیں۔ اگر آج گلبرگ سوسائٹی میں ایک ساتھ 69 نہتے، بے سہارا، بے بس انسانوں، معصوم بچوں،عورتوں، ضعیفوں اور بیماروں کو زندہ جلانے والوں، ان کے ہاتھ پیرکاٹنے اورتڑپاتڑپاکرجان لینے والوں کی جماعتیں اور ان کے لیڈران نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ گجرات میں کوئی پہلی باراس نوعیت کےفسادات نہیں ہوئے، 1967ء میں تو تین ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے، اس کے بعد بھی اس قسم کے فسادات ہوتے رہے لیکن ریاست میں پہلی بار کسی دنگے کے مجرموں کو سزائیں سنائی جارہی ہیں اور وہ اپنے سے بڑا گنہگار ان سیاستدانوں کو بتارہے ہیں جو ان کے سامنے کھڑے ہیں تو کیا وہ یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ لکیر کی دنوں طرف درندوں کی بھیڑ کھڑی ہے اور ان کا شکار ہربار، ہرجگہ نہتے، کمزوراور بےبس لوگ ہیں۔ آج انسانیت صرف اس لیے شرمسار نہیں ہے کہ عدالتیں بے بس ہیں، گجرات کی نچلی عدالت ہو یا اقوام متحدہ درندوں کو قرارواقعی سزائیں نہیں دے سکتیں، افسوس تو یہ ہے کہ یہ دنیا دن بدن بھیڑ بنتی جاتی ہے، حتی کے وہاں بھی لکیر کی دونوں جانب بھیڑ ہی بھیڑ ہے جہاں کوئی ایسا نہیں جو حرم خداو رسول کی پاسبانی کا دعویدار نہ ہو، خود کو اسلام، قرآن اور توحیدکا علمبردار نہ بتاتا ہواور رسول رحمت کی غلامی تمغہ سینے پر سجائے نہ پھرتا ہو۔

  یمن اور گجرات کرہ ٔ ارض پروہ خطے ہیں جہاں انسانوں کی اولیں بستیاں آباد ہوئیں۔ آثاربتاتے ہیں کہ جب جزیرۃ العرب میں کہیں کوئی بستی نہ بسی تھی یمن میں انسانی بستیاں بس چکی تھیں۔ یمن کے قدیم باشندے اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ دس ہزار سال پہلےجزیرہ نما عرب میں سب سے پہلے انہوں نے ہی گاؤں بسائے اور وہاں مستقل طور پر رہنے لگے۔ بقیہ عرب علاقوں میں خانہ بدوش یا بدو آباد تھے جو جہاں پانی اور سبزہ دیکھتے، پڑاؤ ڈال دیتے۔ گجرات بھی دنیا کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں دنیا کی قدیم ترین انسانی بستیوں کے آثار پائے گئے ہیں۔ موہن جوداڑو اور ہڑپا احمدآباد سے بہت دور نہیں ہیں لیکن افسوس صد افسوس! آج انہیں مقدس سرزمینوں پر انسانیت شرمسار ہورہی ہے، انسانی درندگی کی شرمناک ترین تاریخیں رقم کی جارہی ہیں اور وہ بھی اس شان سے کہ یہ کوئی پہلی بار ہواہے کیا، جب قومیں بھیڑ بن جائیں تو ایسا ہی ہوتا ہے، کہیں پرچموں پر کلمہ توحید رقم کرکے انسانوں پرحیوانیت نکالتی ہیں کہیں قومیت کو سرخرو کرنے کے لیے معصوموں اور بے گناہوں کے خون کی ہولیاں کھیلی جاتی ہیں، کبھی اپنے گریبانوں میں بھی منھ ڈالیے کہ کہیں ہم بھی اسی بھیڑ کاحصہ تو نہیں ہیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close