آج کا کالم

فیصلے کی نیت تو صحیح ہے لیکن۔۔۔۔۔۔

رویش کمار

میں نے کبھی نیت کی بنیاد پر کسی فیصلے کی ایسی تعریف نہیں دیکھی. مودی جی کی نیت فیصلے کے اثر سے بھی بڑی ہو گئی ہے۔ نوٹ بندی کے دو حصے ہیں۔ سب سے پہلے، نیت اور دوسرا نفاذ کے نام پر کہرام۔ دنیا کا یہ پہلا فیصلہ ہے، جو کم سے کم دس دنوں تک بری طرح ناکام ہے، اس کے بعد بھی فیصلہ لینے کے ارادے کے پیمانے پر ضلع بھر میں ٹاپ ہے۔ للن ٹاپ ہے۔ مطلب جس فیصلے سے آپ کااسی فیصد بزنس چوپٹ ہو جائے، پھر بھی آپ اس کی تعریف کر رہے ہیں کیونکہ فیصلہ لینے کی نیت صحیح تھی۔  کیا کسی فیصلے کی ایسی نیت ٹھیک ہے کہ آپ کا اسی فیصد بزنس ڈوب جائے۔ آپ کی نیت تو ٹھیک ہے نہ!

آٹھ نومبر کی آدھی رات سے نوٹ بندي ہی نہیں ہوئی ہے، بلکہ اس دن سے فیصلے کا ایک نیا تجزیہ بھی بازار میں لانچ کیا گیا۔ طے ہوا کہ صحیح یا غلط کا اس کے نفاذ سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ فیصلے کی نیت  ٹھیک تھی۔ تاریخی تھی۔ اس کے لئے کافی ہمت چاہیئے تھا۔ نیت اچھی تھی۔ بولنے والا کہہ رہا ہے کہ اس کا دھندہ چوپٹ ہو گیا مگر فیصلے کی نیت صحیح ہے۔ اگر نوٹ بندی سے وزیر اعظم مودی نے کچھ حاصل کیا ہے تو وہ یہی کہ ان کے ارادے کی پختگی میں اضافہ ہوا ہے۔ نافذ کرنے کے ارادے کی پختگی میں کمی آئی ہے. اب کی بار نیت سرکار۔ ہندوستان ایک نیت پردھان ملک ہو گیا ہے۔ ہر کوئی یہاں نیت کا ڈاکٹر ہے۔ اس سے متاثر اب وزیر اعظم جی کچھ بھی فیصلہ لے سکتے ہیں۔ ان کی نیت پر مینڈیٹ آ گیا ہے۔ بلکہ اب وہ نفاذ پر وقت ضائع نہ کریں۔ صرف فیصلہ لینے کی نیت کا خیال رکھیں۔

مودی نے فیصلہ تو شاندار لیا ہے لیکن …. سب کی زبان پر یہ لائن کہاں سے آ گئی؟ کیا میڈیا سے سب نے ایک ہی بات بولنا سیکھا؟ اچانک ہندوستان میں نیت کے ایکسپرٹ کہاں سے پیدا ہو گئے۔ کیا لوگ ‘لیکن’ سے بھی پہلے کچھ کہنا چاہتے ہیں مگر کہہ نہیں پا رہیں؟ یہ کیسا فیصلہ ہے جس کی تنقید ‘لیکن’ لفظ کے وقفہ کے بعد سے شروع ہوتی ہے۔ پچاس سے زیادہ لوگ نوٹ بندی کی کشیدگی کی وجوہات سے مر گئے۔ غریب لوگ پیسوں کے لئے ترس گئے۔ منڈی سوکھ گئی۔ پاور لوم تھم گیا۔ کسان سہم گیا۔ لوگ اپنا پیسہ نہیں نکال سکتے۔ شادیوں کے گھر میں مارا ماری ہے۔ کئی دن تک دہاڑی مزدور کمانے نہیں نکلے۔ بچے دودھ کے لئے ترس گئے۔ بیمار دوا کے بغیر مر گئے۔ کوئی لکھ رہا ہے کہ بازار میں مندی رہے گی۔ ملک کی جی ڈی پی کی رفتار تھم جائے گی۔ پھر بھی یہ اچھا فیصلہ ہے کیونکہ مودی جی کی نیت صحیح تھی۔ کیا یہ سب اس فیصلے کا حصہ نہیں ہے؟

 کیا مودی جی نیت سے فیصلہ لیتے ہیں؟ تو مودی جی کی کابینہ کیا کرتی ہے؟ وزارت کیا کرتی ہے؟ وزیر خزانہ کیا کرتے ہیں؟ ان کے افسران کیا کرتے ہیں؟ جب یہ لوگ کچھ نہیں کرتے تو پھر مودی جی کیا کرتے ہیں؟ ان کی كمیٹياں کیا کرتی ہیں؟ کیا ہندوستانی حکومت نیت سے چلتی ہے؟ چھ ماہ سے کیا تیاری چل رہی تھی؟ کیا نیت کی مشق ہو رہی تھی؟ نیت کی اتنی تعریف ہو رہی ہے جیسے مودی جی نے پالیسی نہیں نیت نافذ کی ہے۔ کیا ہم تمام پالیسیوں کا تجزیہ اسی پیمانے پر کریں گے کہ جانے دو نیت صحیح تھی۔

اگر ایسا ہے تو حکومت ہند کو فوری طور پر پالیسی کمیشن کو تحلیل کر دینا چاہئے۔ نیت کمیشن بنانا چاہئے۔ نیت کمیشن ہر فیصلے کو سرٹیفیکیٹ دے گا۔ نیت درست ہے تو کر چلو۔ چاہے یہ نافذ نہ ہو سکے۔ اب کسی پالیسی پر بحث ہی نہ ہو۔ کہہ دیا جائے کہ مودی جی کی نیت صحیح ہے۔ آپ سمندر میں کود جاؤ۔ ڈوب جاؤ۔ پھر بولو کہ تیرنے کی منشا صحیح تھی پر تیرنا نہیں آتا تھا۔ لوگوں کو کس قسم کی معلومات کی بنیاد پر اعتماد ہے کہ یہ فیصلہ نیت کی وجہ سے صحیح ہے؟ الٹا کچھ دنوں کی تکلیف کو تین دن بعد پچاس دنوں کی افراتفری میں بدل دیا گیا۔ جیسے تکلیف نہ ہوئی بلیک منی ہو گیا!

 نوٹ بندی کا فیصلہ لیا گیا۔ ابھی اسے صحیح غلط کا سرٹیفیکیٹ کیسے دیا جا سکتا ہے، جبکہ خود مودی جی نے پچاس دنوں کا وقت مانگا ہے۔ قائدے سے یہ کہیے کہ ہمیں پچاس دن بعد پتہ چلے گا کہ فیصلہ صحیح ہے یا غلط ہے لیکن اب تو جان نکل گئی ہے۔ پھر بھی یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ اچھے اچھوں کو پتہ نہیں ہے کہ پچاس دن بعد کیا ہوگا۔ ماہر اقتصادیات کبھی کچھ لکھتے ہیں، کبھی کچھ ۔ وزیر کبھی کچھ بولتے ہیں کبھی کچھ ۔ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں کم لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ ابھی تو آپ اس فیصلے سے دہشت گردی سے لڑ رہے تھے۔ اب ٹیکس کو بنیاد بنانے لگے؟

ہو سکتا ہے کہ یہ بہت اچھا فیصلہ ہو لیکن کیا یہ دعوی کسی معلومات کی بنیاد پر ہے یا نیت ہی معلومات ہے۔ حکومت نے بتایا ہے کہ پچاس دن بعد کیا ہوگا؟ ہم نے آپ نے دیکھا ہے کہ بڑے لوگوں کا پیسہ برباد ہو گیا۔ ہر جگہ سے کچھ کمیشن دے کر پیسہ وائٹ ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔ یہ کتنا شرمناک ہے۔ جب یہی بچ گئے تو فیصلہ کس طرح درست ہوا۔ کیا حکومت بتائے گی کہ اتنے ڈاکٹرس اتنے انجینئرس کے یہاں سے کالا دھن نکل گیا. دس پانچ چھاپے مار کر کیا ہو جائے گا۔ وہ تو ایسے بھی پڑھتے رہتے ہیں۔ روز بتاتے ہیں کہ بینکوں میں اتنا لاکھ کروڑ جمع ہواہے۔ یہ نہیں بتاتے کہ کتنا یپیسہ بلیک منی میں جمع ہوا۔

 مہم بلیک منی ختم کرنے کا ہے اور اعدادوشمار مختصر بچت کا دے رہے هیں۔ معاشیات ایک پیچیدہ موضوع ہے۔ اس کے بے شمار پہلو ہیں۔ فی الحال تو ہر طرف ہاہاکار ہے مگر نیت کی وجہ سے فیصلے کی تعریف ہو رہی ہے۔ کیا لوگ اس فیصلے کی نیت کی تعریف اس خوشی میں کر رہے ہیں کہ اس کی وجہ سے بینکوں میں ان کی گھریلو بچت سود کم ہو گیا ہے؟ اب انہیں پہلے سے کم پیسے ملیں گے؟ کیا اس خوشی میں کر رہے ہیں کہ بینکوں کا لاکھوں کروڑوں لے کر بھاگنے والوں کو پھر سے قرض ملے گا؟

اس وقت لوگوں کو جو خوفناک پریشانی ہو رہی ہے وہ اسی پالیسی کی وجہ سے ہے جس کی نیت صحیح بتائی جا رہی ہے۔ مسئلہ صرف اے ٹی ایم کی قطار میں نہیں ہے۔ بازار کاروبار میں بھی ہے۔ ڈر کے مارے کوئی بول نہیں رہا۔ تمام نیت کی تعریف کر بربادی کا درد ہلکا کر رہے ہیں۔ کیا اس کی نیت یہ ہے کہ لوگ پریشان ہوں؟ ان کی اپنی کمائی کیسے خرچ ہو یہ حکومت طے کرے گی، کس طرح؟ کیا لوگ اس بنیاد پر تمام ناکام فیصلوں کو پاس کر دیں گے کہ ان کی نیت ٹھیک تھی۔ یکم جنوری سے کیا ہوگا، ہم نہیں جانتے۔ شاندار ہوگا تو ہم بھی کہیں گے کہ فیصلے کا اثر اچھا ہے۔ لیکن ابھی کس طرح شاندار کہہ سکتے ہیں۔ کس بنیاد پر؟ لوگ پریشان ہیں اور ہم کہیں کہ جانے دو کیا تو ملک کے لئے نہ۔ ارے تو جو پریشان ہوا ہے وہ بھی تو اسی ملک کا ہے۔ کیا اس کی قسمت یہی ہے کہ اسے پریشان کرنے والے فیصلے کی نیت ٹھیک ہے! یہ مقام مودی جی کو ہی حاصل ہے کہ فیصلے تو صحیح لیتے ہیں لیکن …… کے بعد سے ان کے جائزے شروع ہوتے ہیں۔ یعنی آپ کی تنقید ‘لیکن’ کے بعد بینکوں کی لائن میں لگی ہے۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close