قانون کی بجائے پروگرامنگ سے فیصلہ کیوں؟

وراگ گپتا

مذہب-تبدیلی کرکے نکاح کرنے والی کیرالہ کی اكھلا اشوكن عرف ہادیہ کو ماں باپ کی نگرانی سے آزاد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہاسٹل میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے دی. ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے تسلیم کیا کہ ایسا معاملہ انہوں نے پہلے نہیں دیکھا. سپریم کورٹ کی طرف سے اس معاملے میں لمبی سماعت اور عبوری حکم سے کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں.

سپریم کورٹ سے ہائی کورٹ کو پھٹکار کیوں نہیں

صدر، وزیر اعظم اور چیف جسٹس نےیوم آئین  میں کہا کہ ملک میں قانون کا راج ہونا چاہئے. لیو ان ریلیشنز کے اعتراف کے دور میں بالغ شخص کے شادی کو کیرل ہائی کورٹ نے کس قانون کے تحت منسوخ کیا؟ ہادیہ کی خواہش کے برعکس اس کے ماں باپ کی نگرانی میں رکھنے کا حکم کیا آئین کے آرٹیکل -19 اور 21 کے خلاف نہیں ہے؟ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں نوٹس جاری کرتے وقت کیرالہ ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار اور انصاف پر حیرت کا اظہار کیا تھا. ہادیہ کی جانب سے  کھلی عدالت میں واضح طور پر اپنی بات رکھنے کے باوجود کیرالہ ہائی کورٹ کے غلط فیصلے پر سپریم کورٹ نے ڈانٹ کیوں نہیں لگائی؟

ہادیہ ہی کیوں، عدالتیں بھی ہیں پروگرامنگ کی شكار

مرکزی حکومت اور ہائی کورٹ کے مطابق ہادیہ جیسے تمام لڑکیوں کا بنیاد پرست قوتوں کی طرف سے لو-جہاد کے لئے پروگرامنگ کی جا رہی ہے. ڈیجیٹل انڈیا میں بچے اور نوجوان سوشل میڈیا کی پروگرامنگ کا شکار ہو کر خاندان اور سماج سے دور ہو رہے ہیں. ابھی پرائم ٹائم ٹی وی ڈبیٹس کی پروگرامنگ سے عدالتوں کی سماعت اور فیصلے متاثر ہونے لگے ہیں. جب پورے ملک کو ایپ کی پروگرامنگ سے چلانے کا تشدد ہو رہا ہو تو صرف ہادیہ کی پروگرامنگ پر سوال کیوں؟

اوپن کورٹ میں ہادیہ کی پرائیویسی کی خلاف ورزی كيوں

سپریم کورٹ بھارت کی عدالت عظمی ہے، جہاں عموما آئینی معاملات پر بحث ہونی چاہئے. سپریم کورٹ کے 9 ججوں کی آئین بنچ نے متفقہ طور پر پرائیویسی کو بنیادی حق مانا ہے. اوپن کورٹ میں سماعت کی بجائے سپریم کورٹ کی طرف سے مجسٹریٹ یا کورٹ کمشنر مقرر کرکے ہادیہ کے بیان کو درج کرایا جا سکتا تھا. اس کے بجائے اوپن کورٹ میں لڑکی سے سوال جواب سے ٹرائل کورٹ کا سین کیا، یہ سپریم کورٹ کی روایت اور عزت کے برعکس نہیں ہے؟ ذاتی معاملات میں کھلی سماعت کرنے سے کیا ہادیہ کے پرائیویسی کے حق کی سپریم کورٹ کی طرف سے اللنگھن ہوا ہے؟

این آئی اے تحقیقات کی بھاری بھرکم رپورٹ کے باوجود کاروائی کیوں نہیں

قانون کے مطابق لو-جہاد جیسے معاملات کی این آئی اے کی طرف سے تحقیقات نہیں ہو سکتی ہے. مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا کہ اس معاملے میں این آئی اے کی طرف سے 11 معاملات کی تفتیش کی گئی ہے. این آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ویب سائٹ کے ذریعے سموہن اور مذہب-تبدیلی کرانے کے بعد لڑکیوں کے نکاح کرانے کا کٹر پنتھیوں کی جانب سے  منظم گینگ چلایا جا رہا ہے. ان الزامات کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن سوال یہ ہے کہ اتنی لمبی تحقیقات کے باوجود اصل مجرم ابھی تک گرفتار اور سزا کیوں نہیں ہوئے؟

پدماوتي کی طرح ہادیہ معاملے میں انتخابی سياست

ملک میں جی ایس ٹی، این پی اے، بے روزگاری جیسے بہت سے مسائل ہیں. گجرات انتخابات میں ترقی کے مسئلے سے بچنے کے لئے پدماوتي جیسے معاملات سے مذہبی پروگرامنگ کی کوشش ہو رہی ہے. کیا ہادیہ کے ذریعے جنوبی بھارت میں سیاسی قبضے کے لئے فرقہ وارانہ پروگرامنگ کی گھمسان ہو رہا ہے؟ آدھار جیسے عوامی مفاد کے وسیع معاملات پر جلد سماعت کے لئے سپریم کورٹ کے پاس وقت نہیں ہے. پھر ہادیہ جیسے معاملات میں لمبی سماعت کرکے عدالتیں سیاست کی پروگرامنگ کی کیوں شکار ہو رہی ہیں؟



⋆ وراگ گپتا

وراگ گپتا

وراگ گپتا سپریم کورٹ ایڈووکیٹ اور آئینی امور کے ماہر ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

یکساں سول کوڈ- قانونی ذمہ داری کے بجائے سیاست کیوں؟

وراگ گپتا ملک میں یکساں سول کوڈ (یونیفارم سول کوڈ- يوسی سی) لاگو کرنے کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے