آج کا کالم

قومی ترانہ: جعلی حب الوطنی کا نیا شکار

ڈاکٹر سلیم خان

قوم پرستی کی آگ میں سیاسی مفاد کے پیش نظر قومی شعائر کو پھونکنے کا خطرناک کھیل جاری  ہے جس ایک مظہر قومی ترانے کا تنازع ہے۔ اول تو وندے ماترم کے لزوم  پر ہنگامہ کیا گیا جو سرے سے قومی ترانہ ہی نہیں ہے اور پھر جن گن من کو لے کر سرکار نت نئے پینترے بدلتی رہی۔ نومبر2016  جبکہ لوگ نوٹ بندی سے پریشان تھے  غالباًان کی توجہات کو نفسِ مسئلہ سے  ہٹانے کی خاطر اور قوم پرستی کے نشے میں چور کرکے ان کا غم غلط کرنے کے لیے شیام نارائن چوکسی کی عرضی پر سپریم کورٹ نے سنیما ہال میں ہر فلم کی پیشکش سے پہلے قومی ترانہ چلانا لازمی کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ قومی ترانہ  ہندوستان کی آزادی کا اٹوٹ حصہ ہے. اس سے حب الوطنی  کے جذبات وابستہ ہیں ۔ اسطرح کی باتیں  سپر اسٹار امیتابھ بچن بھی کہہ چکے تھے۔ انہوں نےکہا تھا کہ سنیما گھر اگر قومی ترانہ بجاتے ہیں تو یہ اچھی بات ہوگی۔ دہلی میں فلم سے پہلے قومی ترانہ بجتا تھا تو بہت اچھا محسوس ہوتا تھا۔ ممبئی کے کسی سنیما گھر میں قومی ترانہ بجتا ہے تو جسم میں کپکپی پیدا ہو جاتی ہے. مجھے ہندوستانی ہونے پر بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔ اس سے برعکس اتحادالمسلمین کے رکن  اسمبلی امتیاز جلیل کا کہنا تھا کہ سنیما گھروں میں قومی بجانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ لوگ وہاں تفریح ​​کےلئےجاتےہیں ۔سنیمامیں قومیترانہکسیکومحبوطننہیں بناتا۔ ایک سال بعد سپریم کورٹ امیتابھ بچن کے بجائے امتیاز جلیل کی تائید کردی۔

اس گھوم جاو سے  قبل 2016 میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ تھا کہ  فلم دکھانے سے پہلے سینما گھروں میں قومی ترانہ لازمی ہوگااور سینما گھروں میں پردے پر پرچم دکھانا پڑے گا۔ جس وقت قومی ترانہ بجے  تمام ناظرین کو اس کے احترام میں کھڑا ہونا ہوگا۔ عدالت نے  یہ بھی کہا تھا  کہ ہر شہری کو قومی ترانے کا احترام کرنا ہوگا۔ ریاستی حکومتوں کو ہدایات دی گئی  کہ وہ توجہ رکھیں کہ کہیں قومی گیت کی توہین تو نہیں  ہورہی ہے۔ پہلے تو ایسی سختی تھی کہ فلم اور سیریل کے درمیان قومی ترانہ نہیں بجایا جا سکتا ہےبعد میں یہ ترمیم کی گئی درمیان ترانہ بجے تو کھڑا ہونا ضروری نہیں ہے نیز معذور اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ عدالت نے حکومت کو قانون کے نفاذ کی ذمہ داری دی لیکن ہمارے ملک میں دیش بھکتوں کی ایک فوج ہمیشہ اس طرح کے غیر ضروری معاملات پر تشدد کی تاک میں رہتی ہے۔ اس فیصلے کے ایک ماہ بعد  چنئی کے کاسی سنیما گھر میں قومی ترانہ کے دوران کھڑے نہ ہونے پر  ناظرین نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئےکچھ لوگوں کے ساتھ مارپیٹ  شروع کردی۔

اس کے بعد چنئی کے پلاجو سنیما ہال میں چل رہے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے دوران ایک بلغارین فلم کی اسکریننگ کے دوران ایک اسکول ٹیچر سمیت تین افراد قومی ترانہ کے وقت کھڑا نہ ہونےپر منتظمین اور ناظرین کی ناراضگی جھیلنی پڑی انہیں نکل جانے کے لئے کہا گیا۔جب وہ لوگ باہر نہیں گئے تو ان کے ساتھ ہاتھاپائی کی گئی۔ پولس نے تین افراد کوگرفتار کرلیا جن  میں قانون کی طالبہ شریلا، ان کی ماں اور کیرالہ کے ونود شامل ہیں ۔ اب سپریم کورٹ کا فیصلہ بدل جانے کے بعد ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ تشدد کرنے والی دیش بھکتوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے۔ ابھی حال میں سنگھ پریوار کی پرچمی دیش بھکتی نے سپریم کورٹ میں ایک نئی قلابازی کھائی۔ مرکزی حکومت کے ایک حلف نامہ داخل  میں عدالتِ عظمیٰ سے درخواست کی گئی کہ سنیما گھروں میں فلم سے قبل قومی ترانہ بجانا اور اس دوران کھڑا ہونا لازمی نہیں ہونا چاہئے۔ یہی بات اگر کانگریسی حکومت کی جانب سے کہی جاتی تو یہ بھگوادھاری نہ جانے کتنا واویلا مچاتے لیکن خود انہوں نے عدالت میں  کہا کہ وزارتی کمیٹی ابھی اس پر غور کر رہی ہے لیکن کورٹ خود ہی قومی ترانہ کی لازمیت میں ڈھیل عنایت کر دے تو بہتر ہوگا۔ تین طلاق کے معاملے میں سختی اور قومی ترانے کی بابت ڈھیل حیرت انگیز ہے۔

 مرکزی حکومت کی جانب سے ہری جھنڈی دیکھنے کے بعد عدالت عظمیٰ کے ججوں نے قوم پرستی کا چولا اتار پھینکا اور نہ صرف اپنا پرانا فیصلہ بدل دیا بلکہ حب الوطنی کی بابت وہ حقیقت پسندانہ باتیں کیں جن کو دیکھ کر دل خوش ہوگیا لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت کا حلف نامہ  اگر پرچم کے حق میں ہوتا تو کیا اس صورت میں  بھی عدالت یہ جرأت رندانہ دکھا پاتی؟ عدالت کا  تازہ فرمان یہ ہے کہ  حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجنے پر کھڑا ہونا ضروری نہیں ہے اگر کوئی شخص سنیما گھر میں قومی ترانہ بجنے پر کھڑا نہیں ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ محب وطن نہیں ہے۔ جسٹس دیپک مشرا،جسٹس اے کے خانویلکر نے کہا کہ سماج کو اخلاقی پہرے داری کی ضرورت نہیں ہے، اگر ایسا ہی رہا تو کل آپ لوگوں کو سنیماگھروں میں ٹی شرٹ اور شرٹس میں جانے سے روکنے لگیں گے اس لیے کہ اس سے قومی ترانہ کی توہین ہوتی ہے۔ جسٹس چندر چوڑ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ لوگ سنیما گھروں میں تفریح کے لئے جاتے ہیں ۔ وہاں حب الوطنی کو ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہونا چاہئے۔ عدالت عظمیٰ  نے یہاں تک کہہ دیا کہ  کسی بھی شہری کیلئے یہ ضروری نہیں کہ وہ  اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے آستین پر کسی طرح کا بیج باندھے یا پٹی لگائے۔

عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے کی روشنی میں یوگی سرکار کے احکامات اور الہ باد ہائی کورٹ کے فیصلے پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے ؟یوپی کے اندر یوگی  سرکارنے یوم آزادی کے موقع پر مدرسوں میں قومی پرچم لہرانے اور قومی  گیت گانے کو لازمی قرار دے دیا  تھانیز اس کی  فلمبندی کراکے متعلقہ افسر کو روانہ کی ہدایات جاری کردی تھی۔۔ اس احمقانہ فیصلہ میں صرف دینی مدارس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ جن مدارس نے ویڈیو جمع نہیں کی ان کے ذمہ داروں پر قومی سلامتی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائیگی  گویا یہ بغاوت ہوگئی۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ آسارام باپو اور بابا رام رحیم جیسے لوگ  قومی سلامتی کی دھجیاں اڑارہے ہیں دینی مدارس کو شکوک کے دائرے میں کھڑا کرنامارو گھٹنا پھوٹے آنکھ والی حرکت تھی۔

  سنگھ پریوار  اور اس کے وسیم رضوی جیسے چمچوں کی دیش بھکتی تو اندھی ہوتی ہے لیکن الہ آبا دہائی کورٹ نے بھی گزشتہ سال اکتوبر میں  یوگی ادتیہ ناتھ کی حکومت کے احکامات کوحب الوطنی کا احیاء قراردےدیا۔چیف جسٹس ڈی بی بھوسلے اور جسٹس یشونت ورما کی بنچ نے مدرسوں کو قومی ترانےسے استثنیٰ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہرشخص اور ادارے پر قومی ترانے او رقومی پرچم کا احترام لازمی ہے۔ اس لیے دینی مدارس کو مستثنیٰ نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح بات  مدارس سے پھیل  کر سب پر محیط ہوگئی۔۔ ہائی کورٹ کےمطابق قومی ترانہ گانا اپنی روایت کو عزت دینا ہے لیکن پھر   یہ احترام صرف مدارس تک محدود کیوں ہو اور دیگر اداروں پر اسے کیوں نہ لازم کیا جائے؟  اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔

مسلمان جب یوگا کے لزوم پر اعتراض کررہے تھے تو اسے قوم سے غداری قرار دیا گیا لیکن اب ایک نیا تنازع مدھیہ پردیش کےونایک شاہ کی سپریم کورٹ میں درخواست  سے سامنے جس میں مرکزی اسکولوں کے تمام طلبہ کے لیے مبینہ طور پر ہندو مذہب کی بنیاد پر پرارتھنا کی لازمیت کو چیلنج کیا گیا۔ ایک استاد کی طرف سے دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضی میں کہاگیاہے کہ سرکاری مدد سے چلنے والے اسکولوں میں کسی خاص مذہب کو مشتہر کرنا مناسب نہیں ہے۔ جسٹس آر ایف نرمن اور جسٹس نوین سنہا کی بنچ نے  اس عرضی کو قبول کرتے ہوئے مرکز اور کیندریہ ودیالیہ اسکول انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ونایک شاہ کے مطابق  ملک بھر میں تمام مرکزی اسکولوں میں صبح  کے وقت ایک ایسی  پرارتھنانافذ ہےجو طلباءکی سائنسی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ بھگوا مذہبی عقیدہ  طالب علموں کے ذہن نشین کرایا جا رہا ہے۔اس  پرارتھنا کا نفاذاقلیتی فرقہ اور ملحد ین سرپرست کے لیے آئینی اعتبار سے غیر مناسب ہے۔شاہ کے مطابق  سب کے لئے ‘ایک پرارتھنا’آئین کے آرٹیکل ۲۸کے تحت ‘ مذہبی ہدایات’کے خلاف ہے  اس لیے اس پر روک لگنی  چاہئے۔ اب دیکھنا ہے اس نئی اگنی پریکشا سے عدالتِ عظمیٰ کیسے عہدہ برا ہوتی ہے اس لیے جب بات اقلیتوں کی ہو تو اس میں صرف مسلمان نہیں بلکہ عیسائی، سکھ، بدھ اور جین بھی شامل ہوجاتے ہیں اور ان سب کو ناراض کرنا حکومت کو مہنگا پڑسکتا ہے۔ ویسے یہ سلسلہ 1964 سے جاری ہے لیکن مودی سرکار کے دوران اس جانب توجہ مبذول ہوئی اور اگر اس پر روک لگ جائے تو یہ شرمیں سے نکلنے والا خیر ثابت ہوگی۔ ورنہ موجودہ صورتحال پر ندا فاضلی کا یہ شعر صادق آتا ہے؎

نقشہ لے کر ہاتھ میں بچہ ہے حیران 

کیسے دیمک کھا گئی اس کا ہندوستان

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close