آج کا کالم

لال قلعہ سے وزیر اعظم کی چوتھی تقریر

حفیظ نعمانی

15 اگست 2017 ء کو لال قلعہ سے وزیراعظم نریندر مودی کی یہ چوتھی تقریر تھی۔ اور اس کے بعد 15  اگست 2018 ء کو وہ اس پارلیمنٹ کی آخری تقریر کریں گے۔ اس تقریر میں انہیں صرف یہ بتانا تھا کہ گذرے ہوئے تین برسوں میں انہوں نے اور ان کی حکومت نے کس کا کتنا ساتھ دیا اور ملک کا کتنا وکاس کیا؟ اور جن بے روزگار نوجوانوں نے 2014 ء میں ہر قدم پر مودی مودی کے نعرے لگائے تھے اور کسی دوسرے کے منھ سے ایک لفظ بھی سننے کے بجائے بس مودی مودی کے نعرے لگائے تھے ان میں سے کتنوں کو روزگار ملا۔ اور انہوں نے نعرے لگانے چھوڑے تو کیا اس وجہ سے کہ ان کا پیٹ بھر گیا یا اس وجہ سے کہ وہ اپنے کو فریب خوردہ محسوس کرنے لگے؟

وزیراعظم اپنی دہاڑ اور اپنی چیخوں میں ہر بات کو اُڑا دینا چاہتے ہیں اور یہ عوام کی مایوسی ہے کہ سینہ کھول کر سامنے کھڑے نہیں ہوتے اور اس دن کو رو رہے ہیں جس دن انہوں نے لوک سبھا کی 280  سیٹیں مودی کی جھولی میں ڈال دی تھیں ۔ 2014 ء میں آج کے مقابلہ کھانے پینے کے سامان کی جو قیمت تھی وہ 75  فیصدی کم تھی اور عوام چیخ رہے تھے کہ کہاں سے کھائیں ؟ مودی جی نے انہیں ڈھارس دی تھی کہ تم صرف مجھے ووٹ دے دو مہنگائی میرے نام سے ختم ہوجائے گی۔ آج پانچ سو روپئے کلو بکری کا گوشت مل رہا ہے ٹماٹر، پالک، تورئی، پروَل، بھندی، شملہ مرچ سب پچاس سے زیادہ اور سو کے قریب ہیں ہری مرچ اور ہرا دھنیا دس روپئے کا اتنا ملتا ہے جس میں چٹنی نہ بن سکے۔ مودی جی نے کورس کی طرح اچھے دن آئیں گے خود بھی گایا تھا اور بے روزگار نوجوانوں سے بھی سنگت مانگی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے بس مودی جی کرسی پر بیٹھے اور اچھے دن آئے۔

وزیراعظم نے اپنی تقریر میں ہندوستان جوڑو کا نعرہ دنیا بھی ضروری سمجھا اور آستھا کے بل پر تشدد اور ہنسا سے بچنے کی بھی نصیحت کی۔ انہوں نے کہہ دیا کہ گاندھی اور بدھ کی سرزمین پر آستھا کے نام پر تشدد ناقابل برداشت ہے۔ اور جو کہا وہ جانتے ہوئے کہا کہ اب عوام صرف اپنے مطلب کی بات پر عمل کرتے ہیں اور جو اُن کے مطلب کی نہ ہو اُسے بھول جاتے ہیں ۔ وہ آستھا کے نام پر تشدد پر ناگواری کا اظہار کررہے تھے اور گجرات میں ایک مردہ گائے کی کھال اتارنے کی سزا میں دلتوں پر جوتے برسائے جارہے تھے۔

وزیر اعظم نے تین برس اپنی مرضی کی حکومت کرکے ایک بار بھی نہیں کہا کہ دیکھو تین سال میں میں نے اتنا کردیا اور اس کے باوجود کردیا کہ مجھ سے اور کام بھی کرنا تھے۔ اور اب یہ کام رہ گئے ہیں ان کو دو سال میں کردوں گا۔ وہ آج بھی کہہ رہے ہیں کہ نیو انڈیا کی تعمیر میں نوجوانوں کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔ اب نئے ہندوستان میں بدعنوانی اقربا پروری اور دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ مودی جی نے کہا کہ نیو انڈیا ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔

نئے ہندوستان میں نوجوانوں اور عورتوں کو اپنے خواب پورے کرنے کے لئے بھرپور مواقع ملیں گے۔ مودی جی نے کہا کہ پچھلے تین برس میں ملک کو نئے ٹریک پر لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا ہے۔ مودی جی نے کسانوں کی آمدنی کو 2022 ء تک دوگنا کرنے کی خوشخبری سنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر ایسا ہندوستان بنائیں گے جہاں کا کسان فکر میں مبتلا نہیں ہوگا بلکہ چین سے سوئے گا اور آج جو وہ کمار رہا ہے اس کا دوگنا کمائے گا۔

مودی جی کو غریبوں اور کسانوں کی بہت فکر رہتی ہے۔ جب انہوں نے ہزار اور پانچ سو کے نوٹ بند کئے تھے تب بھی کہا تھا کہ غریب چین سے سو رہا ہے اور امیر نیند کی گولی ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔ اس کے بعد بھی سیکڑوں کسانوں نے خودکشی کرلی۔ وزیر اعظم نے ان تمام بچوں کو جو 21  ویں صدی میں پیدا ہوئے ہیں اور آئندہ سال وہ 18  برس کے ہوجائیں گے ان کے معصوم اور بھولے بھالے دماغوں پر بھی اپنا جال ڈالا ہے۔ انہیں سلام کیا ہے اور کہا کہ میں ان کا احترام کرتا ہوں ۔ حالانکہ ہر سماج میں اپنے سے بہت چھوٹوں کو سلام نہیں دعا دی جاتی ہے اور احترام نہیں اس کے لئے نیک خواہشات اور تابناک مستقبل کا راستہ دکھایا جاتا ہے۔

2014ء میں ہر جگہ ہر قدم پر صرف مودی مودی مودی کا شور ہوا کرتا تھا اور یہ شور صرف بے روزگار پڑھے لکھے کیا کرتے تھے جن کو حقیقت نہیں معلوم تھی اور جب حقیقت سامنے آئی تو وہ کلیجہ پکڑکر بیٹھ گئے۔ یہ شکایت نہیں دُکھ اور ملال ہے کہ نریندر مودی نے وزیراعظم بن کر ان میں سے ایک کام بھی نہیں کیا جن کا وعدہ کیا تھا اور خواب دکھائے تھے اس وقت کہا تھا کہ چار لاکھ کروڑ روپئے باہر کے بینکوں میں ہے میری حکومت بنوادو تو سو دن میں منگوا دوں گا۔ وہ چار لاکھ کروڑ روپئے تو ایک مذاق بن گیا اور مودی جی نے منھ زوری کرکے اور امت شاہ نے اسے چٹکلا کہہ کر اس کا وجود ہی ختم کردیا اب کہا جارہا ہے کہ سوا لاکھ کروڑ روپئے کا پتہ لگا ہے۔

وزیراعظم نے کہا آیئے اب ملک کی ترقی میں شراکت دار بنیں ۔مسٹر مودی نے بدعنوانی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوٹ کی منسوخی کے بعد تین لاکھ کروڑ سے زیادہ اضافی فنڈ بینکوں میں آیا ہے جس میں پونے دو کروڑ روپئے کی رقم شک کے دائرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال پہلے بیرون ممالک میں جمع کالے دھن کا پتہ لگانے کے لئے بنی کمیٹی نے تقریباً سوا لاکھ کروڑ کی بڑی رقم کا پتہ لگایا تھا۔ دنیا آگے کی طرف بڑھتی ہے وزیر اعظم پیچھے کی طرف جارہے ہیں جب بدعنوانی کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں تو 81  کروڑ میں یوگی کی تاجپوشی ہوتی ہے یوپی میں کائونسل کے ممبر منھ مانگی قیمت پر خریدے جاتے ہیں گجرات جہاں اگلے سال الیکشن ہے وہاں ایم ایل کے ریٹ پندرہ کروڑ امت شاہ نے کھولا ہے اور پارٹی کا ٹکٹ بھی۔ اب یہ کون بتائے گا کہ گوا اور منی پور کی خریداری میں کتنے لاکھ کروڑ پھونک دیئے۔

ملک میں مودی جی کی تصویر ایک بے رحم وزیر اعظم کی بن کر ابھری ہے انہوں نے اچھے دن آئیں گے کورس میں گایا تھا اور مسلمان ہی نہیں ہر ہندو کہہ رہا ہے کہ اس سے زیادہ برے دن نہ دیکھے تھے نہ اوپر والا دکھائے۔ نومبر سے اب تک ملک میں 70  فیصدی آدمی بے روزگار ہوگیا ہے جس کسی سے معلوم کرو وہ سر پکڑے بیٹھا ہے اور وزیر اعظم 2019 ء اور 2022 ء کی باتیں کررہے ہیں ان کے گود لئے گائوں میں جب گدھے لوٹ رہے ہیں تو وہ پورے ملک کو کیا چلائیں گے؟ انہوں نے ثابت کردیا کہ وزیر اعلیٰ سے زیادہ بڑی ذمہ داری کے وہ اہل نہیں ہیں ۔ وہ بی جے پی کے صدر تو ہوسکتے ہیں وزیراعظم ہرگز نہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close