آج کا کالم

لاکھوں عراقیوں کے قاتل صرف دس بیس تھے

رویش کمار

جب بھی میڈیا جنگ کی حمایت کرے یا اس کی زبان بولے، محتاط رہنے کی عادت ڈال لینی چاہیے. میڈیا ایک ڈیزائن ہے. وہ عام دنوں میں آپ کے حق حقوق کی بات کرے گا مگر اسی دم پر بیچ بیچ میں کوئی بڑا کھیل کھیل جاتا ہے. اس کھیل کو سمجھنے کی صلاحیت عام انسانوں میں نہیں ہوتی ہے. جنگ کی حمایت کرنے والا میڈیا اب اپنے پرائم ٹائم کو خاص جماعتوں کے نشریہ میں بہت باریکی سے لگا رہا ہے. پوری دنیا میں ہو رہا ہے. میڈیا کا اصل کام كارپوریٹ اور سیاسی مفادات کا نشریہ ہوتا جا رہا ہے. لہذا آج کے وقت میں اچھی صحافت یا حکومت مخالف صحافت متبادل تنظیموں کے فورم سے ہو رہی ہے جن کا نام ہم اور آپ جانتے بھی نہیں ہوں گے.

ایک مثال دیتا ہوں. جب بھی کوئی جوان شہید ہوتا ہے تو میڈیا خاص قسم کی جذباتیت پیدا کرتا ہے. میں بھی زمانے تک سمجھتا رہا کہ جس نے ملک کے لئے جان دی ہے اس کا الوداعیہ پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ہی ہونا چاہیئے. ٹی وی چینل لائیو دکھاتا ہے، تمام وزراء وغیرہ جاتے ہیں، لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے. جہاں وزیر یا حکومت کا کوئی نہیں پہنچتا وہاں لوگ مطالبہ کرنے لگتے ہیں کہ جب تک کوئی نہیں آئے گا، جنازہ نہیں ہو گا. لوگوں کو بھی لگتا ہے کہ وہی ایک واحد اعزاز اور صحیح مطالبہ ہے. میڈیا اور مسابقتی سیاست کی وجہ سے لوگوں کا یہ رویہ بدلا ہے.

جب ساتویں تنخواہ کمیشن کی رپورٹ آئی تب بحث کے دوران پتہ چلا کہ ہمارے جوانوں کی تنخواہ تو بہت کم ہے. وہ محض سترہ اٹھارہ ہزار کے مشاہرے پر کام کرتے ہیں. حکومت کو فوج کی تنخواہوں کا مطالعہ کرکے رپورٹ دینے والے ادارے کے ڈائریکٹر نے ہمیں بتایا کہ انہیں بھی حیرانی ہوتی ہے کہ ہمارے فوجی اتنی کم تنخواہ پر کس طرح کام کر لیتے ہیں. کیا آپ نے دیکھا ہے کہ میڈیا مہم چلا رہا ہو کہ ہمارے جوانوں کی تنخواہیں کم کیوں ہیں. جوان کا بنیادی مطالبہ چھوڑ کر اس کی شہادت کے گن گائے جاتے ہے تاکہ اقتدار کے استحکام کو فائدہ پہنچے. عوام کے درمیان شبیہ بنے کہ حکومت بہت خیال رکھتی ہے. جوانوں کی اتنی ہی فکر ہے تو ان کے ان سوالوں کے لئے بھی اینكروں کو چیخنا چاہیئے جب وہ زندہ ہیں.

یہ بات اس لئے کہی کیونکہ برطانیہ میں چلكاٹ کمیٹی کی رپورٹ آئی ہے. اس کمیٹی نے سات سال کے مطالعہ کے بعد چھ ہزار صفحات کی رپورٹ سونپی ہے. اس کی بارہ جلدیں ہیں. اس رپورٹ میں عراق جنگ سے متعلق تمام دستاویزات ہیں جو بتاتے ہیں کہ برطانیہ نے امریکہ کے ساتھ جنگ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا. دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ نے پہلی بار کسی خود مختار قوم پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا. یہ ایک کھیل تھا جو رائے عامہ کو اندھیرے میں رکھ کر کھیلا جا رہا تھا. آپ چھ ہزار صفحات کی رپورٹ تو پڑھ نہیں پائیں گے لیکن پڑھتے تو پتہ چلتا کہ کیسے ملکوں کے قومی سربراہان چند کارپوریٹ مفاد کی خاطر ہم پر جنگ تھوپتے ہیں.

چلكاٹ کمیٹی کی رپورٹ سرکاری ہے. اس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے پر رہتے ہوئے بلیئر نے پارلیمنٹ، کابینہ اور برطانیہ کی عوام سے جھوٹ بولا. عراق میں صدام حسین کے پاس کیمیائی ہتھیار ہونے کا کوئی پختہ ثبوت نہیں تھا. بے بنیاد تھی یہ بات. یہی وہ فوری وجہ تھی جس کی بنیاد پر عراق کو تباہ کیا گیا تھا. وہاں لاکھوں لوگ مارے گئے. بہت سے تاریخی اور خوبصورت شہر برباد ہو گئے. آج بھی اس کے نتیجہ میں عراق میں لوگ مارے جا رہے ہیں. تیل کی اس سیاست کو ہمیں کسی نائک کے كتركوں سے زیادہ سمجھنا چاہئے. مگر بلیئر کو دہشت گرد بتا کر کہیں کوئی ہنگامہ نہیں ہوگا جس نے لاکھوں  معصوموں کو مروانے میں برطانوی  فوج کو جھونک دیا.

چلكاٹ جب یہ رپورٹ پیش کر رہے تھے تب ان کے ساتھ عراق میں مارے گئے برطانوی افواج کے اہل خانہ رو رہے تھے. انہوں نے اپنے سابق وزیر اعظم اور موجودہ رکن پارلیمنٹ ٹونی بلیئر کو دہشت گرد کہا. کئی اخبارات نے بلیئر کے اس فیصلے کو ذاتی جنگ قرار دیا ہے. فوجی سربراہان نے ان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے. بلیئر لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ہیں. پارٹی کے موجودہ رہنما كوربن نے اپنی پارٹی کی طرف سے عراقی عوام سے معافی مانگی ہے. بلیئر بے شرمی سے کہہ رہے ہیں کہ  پھرسے ایسا فیصلہ لیں گے. شاید انہیں معلوم ہے کہ دنیا میں قوم پرستی اور فوج کے نقلی افتخار کے نام پر سنكنے والے احمقوں کی کوئی کمی نہیں ہے.

بات میڈیا سے شروع ہوئی تھی. عراق جنگ میں میڈیا کا کردار بھی مشکوک رہا تھا. وہ بھی پرائیویٹ آرمی کی طرح برتاؤ کر رہا تھا. وہ جنگ کو بلندی تک لے گیا جس کے نتیجے میں لاکھوں مارے گئے اور کروڑوں لوگ معاشی ذہنی اذیت جھیل رہے ہیں. پوری دنیا کی عوام کا بڑا حصہ جنگ کی مخالفت میں تھا لیکن چینلوں نے اپنی ریٹنگ کو ہی عوام قرار دے دیا اور دہشت گردی کے اس کھیل میں شامل ہو گئے. کیا ہم ان لاکھوں عراقیوں کی موت پر افسوس کریں گے جو جھوٹی بنیادوں پر مار دیئے گئے.

دہشت گردی کے عوامل کو تلاش کرتے کرتے جڑوں تک لوگوں کو پہنچنا چاہیئے. ویسے یہ ساری باتیں پہلے بھی لکھی گئیں ہیں مگر اپنی سمجھ کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ہم چلكاٹ رپورٹ کے بارے میں جانیں. یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ کس طرح ایک نیتا اپنے ملک کی عوام کو اندھیرے میں رکھ کر کسی دوسرے ملک کے لالچ میں ساتھ دینے کے لئے اپنی فوج جھونک دیتا ہے. میڈیا اس فوج کی بہادری گانے لگتا ہے اور دس بیس لوگوں کی جماعت ہماری سوچ سے لے کر سماجی زندگی تک پر قبضہ کر لیتی ہے. ٹونی بلیئر ہم سب کے لئے سبق ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close