لمحہء فکریہ: آر ایس ایس کی جڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں اور ہم….!

خالد سیف اللہ اثری
جب سے آرایس ایس(راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ) وجود میں آئی ہے تب سے وہ نہ صرف یہ کہ اپنے اصولوں پر کاربند ہے بلکہ نہایت ہی منصوبہ بند طریقے سے دن بدن اپنے اثرورسوخ میں اضافہ ہی کرتی جا رہی ہے۔ ان کے کارکنان ووابستگان کی سالہا سال انتھک کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج براہ راست یا بالواسطہ طور پر مرکز میں ان کی ہی حکمرانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آرایس ایس کے رہنماؤں کی زبان سے گاہے بگاہے اس کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔ 1925 میں آرایس ایس کا قیام عمل میں آیا گیا تھا لیکن اپنے قیام عمل کے بعد سے لے کرآرایس ایس کے حوصلے کبھی کبھار ہی بلند رہے اور اتنے بلند نہیں ہوئے جتنے کے آج  کل ہیں۔
دہلی یونٹ کے جوائنٹ چیف آلوک کمار نے بھی 16 مارچ 2016 کو ایک پریس کانفرس میں خود اعتراف کیا تھا کہ آرایس ایس کا جب سے قیام عمل میں آیاہے تب سے سب سے زیادہ فروغ اسے مارچ 2015 سے مارچ 2016 تک کے دورانیے میں ملا ہے۔ انہوں نے ایک حیرت انگیز انکشاف یہ بھی کیا کہ اس ایک سال کی مدت میں آرایس ایس خوب جی بھر کے پھلی پھولی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی ایک سال کے اندر ہی ملک کے3644 مختلف مقامات پر آرایس ایس کی5527 نئی شاکھاؤں کا قیام زیرعمل آیاہے۔ آرایس ایس کی اپنے کاز کے تئیں لگن اور محنت ہی ہے کہ آج کے دن اس کی کل شاکھاؤں کی تعداد کم وبیش 56859 ہیں جو ملک اور بیرون ملک کے مختلف مقامات پر ہندؤں کو ہندومت کے انتہاپسندانہ نظریاتی بنیاد پر جوڑنے کا کام کررہی ہیں۔ بیرون میں ان کی کل39 ممالک میں شاکھائیں ہیں۔ یہ شاکھائیں ہندو سیوم سیوک سنگھ کے نام سے کام رہی ہیں اور جن کا ڈریس سیاہ پتلون اور سفید شرٹ ہے۔ ہندوستان میں ان کا نعرہ ’’بھارت ماتا کی جے ‘‘ہے جب کہ بیرون میں یہ بدل کر ’’وشودھرما کی جے ‘‘ ہو جاتا ہے۔  بیرون میں آرایس ایس کی سب سے زیادہ شاکھائیں نیپال میں ہیں۔ اس کے بعد امریکا میں ہیں ۔ امریکا میں اس کی شاکھاؤں کی تعداد146 ہے۔ یوکے میں 84 شاکھائیں ہیں۔ آر ایس ایس کینیا کے اندر کافی مضبوط حالت میں ہے۔ کینیا کی شاکھاؤں کا دائرہ کار پڑوسی ممالک تنزانیہ‘ یوگانڈا‘ موریشش اور جنوبی افریقا تک پھیلا ہوا ہے اور وہ ان ممالک کے ہندؤں پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ ان کی پانچ شاکھائیں مشرق وسطی میں بھی ہیں۔ چوں کہ عرب ممالک میں جماعتی اور گروہی سرگرمیوں کی کھلی اجازت نہیں ہے اس لئے وہاں کی شاکھائیں خفیہ طریقے سے گھروں تک محدود ہیں۔ فن لینڈ میں ایک الیکٹرونک شاکھا ہے جہاں ویڈیو کیمرے کے ذریعے بیس ممالک کے افراد جمع ہوتے ہیں۔ یہ بیس ممالک وہ ہیں جہاں پر آر ایس ایس کی آف لائن شاکھا موجود نہیں ہے۔بیرون ملک میں کام کرنے والوں میں ایک معروف چہرہ رام مادھو رکا ہے جو اس وقت بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری ہیں۔
یہ شاکھائیں آرایس ایس کی اکائی کی حیثیت رکھتی ہیں جہاں بالغان کی آرایس ایس کے نظریاتی اصولوں کی روشنی میں دماغی تطہیر کی جاتی ہے اور انھیں ترفیہی‘ تعلیمی اور جسمانی تربیتوں سے گزارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مختلف شعبہ ہاے زندگی سے متعلق آرایس ایس نے ذیلی تنظمیں کھڑی کر رکھی ہیں جنھیں سنگھ پریوار کے نام جانا جاتا ہے۔ ان میں طلبہ سے متعلق اے بی وی پی (اکھل بھارتی ودیارتی پریشد)‘ مزدوروں اور کسانوں سے متعلق بھارتی مزدور سنگھ اور بھارتی کسان سنگھ‘ خواتین سے متعلق راشٹریہ سیوکا سمیتی‘ سماجی خدمات کے لئے سیوا بھارتی وغیرہ اہم ہیں۔ تعلیمی میدان میں آرایس ایس نے آزادی کے بعد سے ہی توجہ دینی شروع کر دی تھی جس کا ثمرہ آج انھیں سود سمیت مل رہا ہے۔ اسی وجہ سے آج وہ ابتدائی تعلیمی ادارے سے لے کر اعلی تعلیمی ادارے تک پر  اثر انداز ہیں اور جہاں نہیں ہیں وہاں دورون خانہ ہونے کی کوشش میں لگے ہیں۔ خود ان کے بھی اپنے تعلیمی ادارے ہیں جن میں نرسری کے لئے سنگھ ششو مندر سیوا بھار تی ‘ اسکولوں کے لئے ودیا بھارتی اکھل بھارتی شکھسا سنستھان ‘ بھارت کلیان پرتسٹھان اور بھارتیہ جن سیوا سنستھان قابل ذکر ہیں۔ ودیا بھارتی اکھل بھارتی شکھسا سنستھان کو ودیا بھارتی ہی کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس کا ہیڈکوارٹر لکھنؤ میں اور فنکشنل ہیڈکوارٹر دہلی میں ہے ۔ اس کی ذیلی آفس کروچھترا میں بھی ہے۔ اس وقت ودیا بھارتی کے کم وبیش 40  ہزار اسکول چل رہے ہیں۔ ان اسکولوں میں تقریباً 40 لاکھ بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہیں۔
اس ضمن میں آئی اے ایس کی کوچنگ کے لئے  ملکی سطح پر مشہور آرایس ایس کے زیر انتظام ادارہ ’’سم کلپ ‘‘ کا ذکر بھی ضروری ہے ۔ اس کا قیام 2001 میں ہوا تھا اور اس کی دہلی میں 3 شاخیں ہیں اور ہندوستان کے مختلف مقامات پر اس کی کل 14 شاخیں ہیں۔ اس بار آئی اے ایس امتحانات میں 1078 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور جن میں سے 646 سم کلپ کے ہی امیدوار ہیں۔ یہ  مجموعی تعداد کا 60 فیصد ہے جو کہ بہت زیادہ ہے۔ سم کلپ کا دعوی ہے کہ ان کے یہاں سے کوچنگ یافتہ آئی اے ایس کی تعداد 5000 ہے جو کسی نہ کسی مرحلے میں سم کلپ سے استفادہ کر چکے ہیں ۔ سم کلپ‘ آئی اے ایس نتائج کے اعلان کے بعد ہر سال اپنے یہاں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں ایک جشن رکھتا ہے جسے ’’ گرو سمان سماروہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس بار کا ’ گرو سمان سماروہ‘ 17 جولائی کو منعقد ہوگا جس میں آرایس ایس کے جوائنٹ سیکریٹری کرشنا گوپال آئی اے ایس سے خطاب کریں گے۔ اس میں سابق یونین منسٹر جگ موہن اور گجرات کے گورنر اوپی کوہلی بھی شرکت کر رہے ہیں۔  ہندوستان کی بیوروکریسی میں اتنے کھلے طور آرایس ایس کی مداخلت دیکھی جا سکتی ہے۔
نہایت ہی برق رفتاری کے ساتھ آر ایس ایس کا تسلط ہندوستان کے مختلف شعبہ ہائے زندگی پر بڑھتا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس کے نظریے کو مختلف وسائل کے ذریعے سر تھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے ؛ اس کے نظریے کو شامل نصاب کیا جا رہا ہے اور اس نظریے کے حامل افراد تعلیمی اداروں میں دخیل ہو رہے ہیں یا منصوبند طریقے سے داخل کیے جا رہے ہیں ۔ ان ساری کارکردگیوں میں سیاسی طاقت کا بھر پور طریقے سے ناجائز استعمال بھی ہو رہا ہے۔ بیوروکریسی بھی بڑی تیزی کے ساتھ آرایس ایس آلود ہو رہی ہے اور کافی حد تک ہو بھی چکی ہے۔ اگر چند سالوں تک ہندوستان کی یہی حالت رہی تو ہندوستان کا سیکولر چہرہ بحال کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے گا۔ ایسے میں ہمارے لئے یہ لمحہء فکریہ ہے کہ آخر اتنے سالوں سے ہم طلاق اور تراویح کے مسائل میں ہی کیوں الجھے ہوئے ہیں۔



⋆ خالد سیف الله اثری

خالد سیف الله اثری

خالد سیف اللہ اثری معروف دینی دانش گاہ جامعۃ الفلاح سے فارغ ہیں۔
آزاد صحافی اور قلم کار ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

آل سعود کا تاریخی پس منظر

اس خاندان کا نام آل سعود ہے. 'محمد بن سعود'  الدرعیہ کے علاقے میں ہی رہا. یہ بستی تین مربع کلومیٹر سے متجاوز نہیں تھی. محمد بن سعود نے خود کو 'امام محمد بن سعود' کا خطاب دیا. یہیں  اس امام کی ملاقات 'امام محمد بن عبد الوہاب' نامی دوسرے امام سے ہوتی ہے جو وہابی تحریک کے بانی تھے.