آج کا کالم

لو ! آپ اپنے دام میں صیّاد آگیا

ڈاکٹر سلیم خان

بہار کے اندر بی جے پی کی ارتھی اٹھانے میں موہن بھاگوت نے یہ کہہ کر کندھا لگا یا تھا کہ ’’ریزرویشن  کی پالیسی پر نذرِ ثانی درکارہے‘‘۔ اس بار پالکڑّ میں پرچم لہرا کر بھاگوت جی نے یوگی کی لٹیا ڈبودی۔ جس طرح یوگی نے  سرکیولر نکالا کہ مدرسوں میں یو م آزادی منایا جائے ۔ اس میں وندے ماترم پڑھا جائے۔ اس کی ویڈیوگرافی کرکے حکومت کو بھیجی جائے اور پھر آگے چل کر یہ  دھمکی دی گئی کہ اس حکم نامہ کی خلاف ورزی کرنے والوں پر قومی سلامتی قانون کے تحت کارروائی کی جائیگی۔ اسی طرح کا ایک سرکیولر کیرالہ کی صوبائی حکومت نے بھی جاری کیا کہ جو اسکول سرکاری امداد سے چلتے ہیں ان میں یوم آزادی کے دن پرچم صر ف اسکول کا سربراہ یا منتخب سیاسی رہنما ہی لہرائے۔

 موہن بھاگوت نے کیرالہ حکومت کے ظابطے  کی خلاف ورزی کرکے ایک اسکول میں جھنڈا لہرا دیا۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حکومت کا سرکیولر جاری کرنا غلط تھا۔ یہ بات اگر تسلیم کرلی جائے تو یوگی جی کا سرکیولر جاری کرنا بھی غلط ہوجاتا ہے اس لیے کہ اگر کیرالہ کی سرکار کو اس کا  اختیار نہیں ہے تو اتر پردیش کی حکومت کو کیسے مل گیا۔ کیا اترپردیش اور کیرالہ کے اندر مختلف دستورنافذالعمل ہیں؟  دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کیرالہ میں سرکاری سرکیولر کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے تو اتر پردیش میں کیوں نہیں ہوسکتی؟ تیسرا سوال  ہے کہ اگر اتر پردیش میں مدرسوں کے خلاف این ایس اے کے تحت کارروائی کی جائیگی  تو بھاگوت کو  قومی سلامتی ایکٹ کے تحت کیوں گرفتار نہیں کیا جاتا؟

ان دونوں سرکیولر س میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ کیرالہ کا حکمنامہ کا اطلاق بلا تفریق و امتیاز سارے سرکاری مدد سے چلنے والے تعلیمی اداروں  پر ہوتا ہے جبکہ اتر پردیش میں صرف مدرسوں کو حدف بنا کر دستور ہند میں موجود مساوات کا گلا گھونٹا گیا۔   اتر پردیش کے سرکیولر میں دستور کی دوسری خلاف ورزی یہ تھی کہ قومی ترانہ جن گن من گانے کے بجائے قومی گیت گانے کی تلقین کی گئی جس کی کوئی دستوری حیثیت نہیں ہے۔ تیسری مسئلہ  یہ ہے کہ دستور نے قومی پرچم لہرانے کے بعد قومی ترانہ گانے کو لازم قرار دیا ہے مگریوپی کے سرکیولر میں قومی ترانے کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے جودستور اور پرچم دونوں کی توہین کا مترادف ہے۔

پلکڑّ کے سی پی ایم رکن پارلیمان ایم بی راجیش نے الزام لگایا ہے کہ دستور کے اندر جو فلیگ کوڈ(پرچم کشائی کا ضابطہ ) مذکور ہے اس کے تحت جھنڈا لہرانے کے فوراً بعد قومی ترانہ پڑھا جانا لازم ہے۔ پلکڑّ میں یہ نہیں ہوا۔ پرچم کشائی کے بعد جن گن من کے بجائے وندے ماترم پڑھ کر قومی ترانے کی توہین کی گئی۔ بہت شرکاء جب جشن آزادی کی  تقریب سے لوٹ گئے تو آریس ایس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور بچھے کچھے لوگوں نے قومی ترانہ پڑھا۔چڑیا کے کھیت چگ جانے کے بعداس طرح  پچھتانا بے فیض تھا۔ اب اگر ایم بی  راجیش عدالت کے دروازے پر شواہد کے ساتھ دستک دیتے ہیں تو موہن بھاگوت پر کارروائی لازم ہوجائیگی۔  عدالت  اگر سرسنگھ چالک   کوسزا دینے ست گریز کرتی ہے تو وہ  سارے لوگ بچ جائیں گے جن پر یوگی سرکار اقدام کرنا چاہتی ہے۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ بھاگوت کے ساتھ یوگی کو بھی جیل بھیجا جائے اس لیے کہ ایک نے غیر دستوری سرکیولر جاری کیا اور دوسرے نے دستور کی کھلے عام خلاف ورزی کی ۔ ارشاد ربانی ہے مکرو و مکراللہ۔ اللہ خیرالماکرین ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close