آج کا کالم

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

ڈاکٹر سلیم خان

مقننہ کا کام قانون وضع کرنا ہے۔ عدلیہ اس کے مطابق فیصلے سناتی ہے اور انتظامیہ ان کو نافذ کرتی ہے۔ تین طلاق کے معاملے میں سب سے اچھا فیصلہ چیف جسٹس جے ایس  کھیہر نے لکھا ۔ تین طلاق کے معاملے میں مداخلت سے خود باز رکھتے ہوئے پرسنل لاء کی بھرپور حمایت کی مگر نہ جانے کیوں انہوں نے حکومت کو قانون بنانے کا مشورہ دے دیا۔  مسلم جج نے ان کی تائید کردی۔ جسٹس  نریمن نے طلاق ثلاثہ کو غیر انسانی و غیر دستوری قرار دے کر اس کی مخالفت کردی اور ہندو جج نے ان کی حمایت کی۔ عیسائی جج نے پرسنل کی حمایت کی مگر تین طلاق کو غیر اسلامی قرار دے کر اس کی مخالفت کردی۔ اس طرح پرسنل لاء  کی حمایت اور تین طلاق کی مخالفت میں تین تین رائیں آگئیں۔ حکومت نے جسٹس کھیہر کے فیصلے  کی آڑ میں  مسلم پرسنل لاء  کے اندرمداخلت کردی اور برق  رفتاری کےساتھ قانون بنا کر  ایوان زیریں میں پاس کردیا۔

اس معاملے عدالت کا کام موجودہ قانون کی روشنی میں فیصلہ کرنے کا تھا مگر بلاوجہ اس نے نیا قانون بنانے کا تقاضہ کرکے کام بگاڑ دیا۔ مودی سرکار  نے عدلیہ کی اس چوک کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھایا  اور ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ عدالت عظمیٰ نے ایک اور کارنامہ کردیا۔ اس نے پسماندہ ذاتوں اور قبائل کے خلاف انسدادِ مظالم کے قانون کی کایا پلٹ دی۔ اس خصوصی قانون کے غلط استعمال کا بہانہ بناکر جسٹس اے کے گویل اور یو یو للت پر مبنی دو ججوں کی بنچ نے ایس سی اور ایس ٹی (انسداد ظلم) قانون پر روک لگانے کا حکم جاری کرکےدلت اور قبائلی حقوق کے تحفظ کی   ڈھال میں سوراخ  کر دیا  گیا۔ اپنے فیصلے میں  سپریم کورٹ نے کہا کہ غلط طریقے سے گرفتاری اور قید انفرادی آزادی کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہےتوکیا تین طلاق کےکا الزام میں غیر ضمانتی وارنٹ انفرادی آزادی کے خلاف نہیں ہے۔دلتوں کے معاملے میں عدالت کو چاہیے تھا کہ وہ فیصلہ کرنے کے بجائے حکومت  سے قانون کےغلط استعمال کو روکنے کے لیے ضروری ترمیم کا مطالبہ کرتی  لیکن اس نے احکامات جاری کردیئے۔ اس طرح مطالبے کی جگہ فیصلہ اور فیصلے کے بجائے مطالبہ کردیا گیا۔ فی زمانہ ایسا لگتا ہے کہ چہار جانب اندھی نگری اور چوپٹ راج ہوگیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے  میں قومی  جرائم  بیورو ( این سی آر بی)  کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے دلیل پیش کی کہ پسماندہ ذاتوں اور قبائل کے ۱۰ فیصد مقدمات جھوٹے تھے یعنی  ۹۰ فیصد سچے تھے۔  عدالت کو دس فیصد غلط مقدمات کی فکر تو ہے لیکن ۹۰ فیصد درست شکایتوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ایک تلخ سوال یہ ہے کہ ان ۹۰ فیصد میں سے کتنے ملزمین کو سزا سنائی گئی ۔  عدالت عظمیٰ نے اعتراف کیا ہے کہ ”۲۰۱۵؁ میں عدالتوں کے ذریعہ نمٹائے گئے ۱۵۶۳۸ معاملات  میں سے ۱۱۰۲۴ مقدموں میں ملزمین کو بری کر دیا گیا، ۴۹۵میں شکایات  واپس لے لی گئی اور صرف  ۴۱۱۹  الزام ثابت ہوئے۔ یہ۷۴ فیصد لوگ اس لیے رہا نہیں ہوئے کہ وہ بے قصور تھے کیونکہ جھوٹے مقدمات تو صرف ۱۰ فیصد تھے بلکہ ان لوگوں نے دولت اور طاقت کے بل بوتے پر گواہوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کردیا جیسا کہ سہراب الدین کے مقدمہ میں ہورہا ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ان ۶۲ فیصد بچ نکلنے والوں کو سزا دینے کا انتظام کیا جائے اس کے بجائے عدالت نے  یہ ہدایت جاری کرکے کہ ذات پر مبنی تفریق یا تشدد کی کسی بھی شکایت میں ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے پولس لازمی طور پر ابتدائی جانچ کرے اس قانون کے دانت توڑ دئیے ہیں۔ اب یہ بھونک تو سکتا ہے لیکن کاٹ نہیں سکتا۔

 ہندوستان کے دیہاتوں میں پولس  کی جانبداری  سب جانتے ہیں اس کے علاوہ اس پر سیاسی دباو بھی  اظہر من الشمس ہے ایسے میں اب  ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوگی اور مودی جی دعویٰ کریں گے کہ ہم نے دلتوں پر مظالم کا خاتمہ کردیا ثبوت میں ایف آئی آر کے اندراج میں  زبردست کمی کو پیش کرکے اپنی پیٹھ تھپتھپائیں گے۔  حکومت کو اس فیصلے کے اثرات کا اندازہ نہیں تھا اس لیے وہ کمبھ کرن کی نیند سوتی رہی  یہاں تک این ڈی اے میں شامل رام ولاس پاسوان اور رام داس آٹھولے کو اسے جگانا پڑا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ دلتوں نے بھارت بند کا اعلان کردیا تھا۔ اس بھارت بند کے پیچھے کو ئی بڑی تنظیم یا معروف رہنما نہیں تھا لیکن اس کو بہوجن سماج پارٹی کی حمایت حاصل تھی یہی وجہ ہے کہ اس کے اثرات ان صوبوں میں نظر آئے جہاں بہوجن سماج پارٹی مضبوط ہے۔

پنجاب میں تشدد کی کوئی واردات نہیں ہوئی اور یہ سب سے زیادہ کامیاب بھی  رہا اس لیے کہ کانگریسی حکومت کا تعاون حاصل تھا۔ اس کے برخلاف اترپردیش ، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں یہ پرتشدد ہوگیا۔ اس بند کے دوران جملہ ۱۳ ہلاکتیں ہوئی جن میں زیادہ تر کا تعلق پسماندہ ذاتوں سے تھا۔ تصاویر اور ویڈیوز کے مطابق پولس کی سرپرستی میں  ہندو شدت پسندوں  نے دلتوں پر حملہ کیا۔  احتجاجی مظاہرہ کے دوران  مدھیہ پردیش میں راجہ چوہان  کی پستول سے گولی چلاتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوگئی۔  ابتداء میں اسے دلت بتایا گیا لیکن دلت  رہنمادیواشیش جراریا نے  راجہ  کا نام اور پتہ ظاہر کر دیا۔ اس کی گولی سے کم از کم تین دلتوں کی موت ہوئی۔ راجہ چوہان اسکول میں دیواشیش کا سینئر ہے۔ اس راز کو فاش کرنے کے بعد دیواشیش کو دھمکیاں ملنی شروع ہو گئیں۔ وہ چونکہ دہلی میں ہے اس لیے مقامی انتظامیہ کو اس کے گھر پر چار پولس والے تعینات کر نے پڑے۔

 دیواشیش کا دعویٰ ہے کہ اس  تشدد کے پس پشت  گوالیارسے مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر کا ہاتھ ہےاوراسی  کے سبب  شواہدکے باوجود راجہ چوہان کے خلاف معاملہ درج کرنے میں  تاخیر ہوئی۔ اب بی جے پی  عجیب و غریب دھرم سنکٹ میں گرفتار ہوگئی  ہے۔ گوالیار کے اندرتومر دلتوں پر گولی چلوا رہے ہیں  وہیں  آگار  میں بی جے پی رکن اسمبلی گوپال پرمان   ویڈیو میں  بھارت بند کے دوران دکانیں بند کروا تے  نظر آرہے ہیں۔ ان کی توجیہ ہے کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو سیاسی مخالفین حالات کا فائدہ اٹھا لیتے۔ بھارت بند کے بعد بھی تشدد کی آگ نہیں بجھی بلکہ اگلے دن  راجستھان کے کرولی ضلع میں مشتعل بھیڑ نے دو دلت رہنماؤں کے گھروں کو آگ لگا دی۔ ان میں سے ایک  بی جے پی کی  موجودہ رکن اسمبلی راج کماری جاٹو اور دوسرے کانگریس کے سابق وزیر بھروسی لال جاٹو ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دفعہ ۱۴۴  نافذ ہونے کے باوجود یہاں جمع ہونے والے پرتشدد ہجوم کی  تعداد ہزاروں  تک پہنچ گئی اس سے انتظامیہ کی نااہلی کا پتہ چلتا ہے۔ بی جے پی  کے رہنما اورایس سی ایس ٹی کمیشن کے چیئر مین آر ایس کٹھیریا نے حالیہ  تشدد کے لیے کانگریس اور بی ایس پی کو ذمہ دار ٹھہرایا   ہے مگر  یہ طے ہے کہ اس بار ان صوبوں  کوئی  دلت بی جے پی   کوبھول کر بھی ووٹ نہیں دے گا۔

ان حملوں نے راجستھان کے دلتوں میں بڑی  بے چینی پیدا کردی ہے۔ رہنماوں نے کہا  چونکہ ہم لوگ  گھر پر نہیں تھے اس لیے جان بچی ورنہ اہل خانہ سمیت پھونک دیئے جاتے۔ پشپندر جاٹو کا بیان ہے  کہ ہمارا بند پرامن تھا لیکن نام نہاد اعلیٰ ذات کے لوگوں سے یہ دیکھا نہیں گیا۔ اگر ہمارے نیتا محفوظ نہیں ہیں تو ہم کس قماش میں ہیں۔ ہمارے شناختی کارڈ دیکھ کر ہمیں زدو کوب کیا گیا۔ خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ یہ لوگ  ویسے بھی ہمیں ہندو نہیں سمجھتے اس لیے ہمارے پاس اسلام قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ کیا یہ  دین فطرت کا حیرت  انگیز معجزہ نہیں  ہے کہ مسلمانوں کو  ایسی زبوں حالی   کے باوجود مشکل وقت امیں دلتوں کو  اسلام کی پناہ میں امید کی کرن  دکھائی دیتی  ہے۔ اڑیل پولس اب بھی   ہندو انتہا پسندوں کو کلین چٹ دے رہی ہےاور دلتوں  پر خواتین کےساتھ  بدسلوکی کا قصوروار ٹھہراکرظالموں کی پشت پناہی کررہی ہے۔

وسوندھرا راجے کے راجستھان میں جو سوال پشپندر جاٹو نے کیا یوگی کے کاس گنج  میں یہی سوال سنجے کمار نے پوچھا ’’کیامیں ہندو نہیں ہوں؟‘‘۔مغربی اترپردیش کے ہاترس ضلع میں بسائی باباس گاؤں سے تعلق رکھنے والے کچھ دلت نوجوان پچھلے کچھ مہینوں سے حکومت کے تمام عہدیداروں مقامی پولیس انسپکٹر ، ریاست کے ڈی جی پی ، چیف منسٹر ، ایس سی /ایس ٹی کمیشن  یہاں تک کہ مقامی روزناموں سے ٹھاکروں کے زیر اثر گاؤں میں سے برات لے جانے کی خاطر مدد مانگ رہے ہیں اور اب  تویہ معاملہ الہ باد  کی عدالت عالیہ میں پہنچ گیا ہے لیکن اجازت ہے کہ  مل کر نہیں دیتی۔ ایسے میں  ایک بلاک ڈیولپمنٹ کونسلر رکن کمار نے پوچھا ’’ جب دستور کہتا ہے کہ ہم سب مساوی ہیں او رچیف منسٹریوگی ادتیہ ناتھ کہتے ہیں ہم سب ہندو ہیں اور وہ ایک ہندوتوا پارٹی کے سربراہ ہیں ’’ تو پھر میں اس طرح کی صورتحال کاسامنا کیوں کررہا ہوں؟‘‘۔پولس لنگڑے لولے بہانے بناتی رہی  اور ٹھاکر وں نے طیش میں آکر کنویں سے دلتوں  کا پانی بند کردیا۔ عدالت عظمیٰ کو چاہیے کہ پسماندہ طبقات اور قبائل کے قانون پر لب کشائی  کرنےسے قبل اس زمینی حقیقت کو بھی پیش نظر رکھے کہ ایک دلت کو اپنی مرضی   سےبارات کا راستہ طے کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سماج اور انتظامیہ دونوں اس سے برسرِ جنگ ہے۔

اس معاملے میں شیتل کمار نے اعتراف کیا  کہ اس نے مدد کے لئے دلت اور دائیں بازو کے تنظیموں   سےمدد طلب کی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ   ’’ ہم خوفزدہ ہیں لڑائی نہیں کرسکتے‘‘۔ اس ڈر کی وجہ ٹھاکروں  کی دبنگائی ہے۔ ٹھاکر سماج کے سنجے سنگھ کا کہتےہیں دلت ہمیشہ جھگڑے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ان کی  حد مقرر کردی گئی اس  کے بعد بھی وہ اپنی حد سے باہر نکل کر کام کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے یہ حد مقرر کرنے کا ٹھیکہ ٹھاکروں کو کس نے دیا ؟ اس علاقے سے بی جے پی رکن اسمبلی دیویندر سنگھ خود  ایک ٹھاکر ہے۔ وہ کہتا ہے  کمار کو ’’ مشور ہ‘‘ کے لئے ہمارے پاس آنا چاہئے تھا۔وہ لڑکا لیڈری کررہا ہے۔ اگر تم کسی کے راستے میں خلل ڈالو گے تو وہ لڑائی کا سبب بنے گا‘‘۔یہ الٹا الزام  ہے کہ  خلل ٹھاکر نہیں  بلکہ دلت ڈال رہے ہیں۔ اس طرز فکر کا نتیجہ ہے کہ   بھارت  بند کے دوران مغربی اتر پردیش تشدد سے سب سے زیادہ متاثر رہا ، یہاں کے میرٹھ ، ہاپوڑ اور مظفرنگر ضلع سے جھڑپوں اور آگ زنی کے متعدد واقعات رونما ہوئے۔

پولس انتظامیہ نے  اس دوران انتہائی سخت رخ اختیار کر تے ہوئے  سینکڑوں  دلت نوجوانو ں کو فساد بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کرلیا اور ہزاروں کے خلاف مقدمات قائم کر دیئے۔  درجنوں بڑے  دلت رہنماؤ ں  پر گرفتاری کے بعد  قومی سلامتی ایکٹ کے تحت کارروائی کی تیاری  شروع کردی گئی۔ پولس کے آتنک  سے خوفزدہ  دلت اکثریتی گاؤں سے نوجوان نقل مکانی کر نے پر مجبور ہوگئے ہیں  کیونکہ  ان کی گرفتاری کے لئے دلت بستیوں  میں مسلسل چھاپے مار ے جار ہے ہیں  اور اس کے لئے اضافی پولس فورس طلب کی گئی ہے۔ دلت رہنما سنجے روی نے  بھارت بند کے دوران ہونے والےہنگامےکو آر ایس ایس کی سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’۱۱ بجے کے بعد اچانک منہ پر رومال باندھے ۵۰ تا ۶۰ نوجوانوں نے آگ لگائی۔ اس کی جانچ ہونی چاہئے کہ وہ کون لوگ تھے؟ دلتو ں کی تحریک ناکام کرنے کے لئے سنگھ کے بھیجے ہوئے لوگوں نے اس تحریک کو پر تشدد بنا دیا۔ ‘‘یوگی جی کا عجب  دوغلا رویہ ہے کہ ایک طرف  تو مظفر نگر کے فسادیوں کو بچایا جارہا ہے اور دوسری طرف دلتوں کو پھنسایا جارہا ہے۔

امت شاہ اور مودی جی کے آدرش گجرات  کا حال بھی کوئی اچھا نہیں ہے۔ وہاں  امرالا تحصیل کے اندر پردیپ راٹھور نامی ۲۱ سالہ  نوجوان کومحض گھوڑا رکھنے کی پاداش میں قتل کردیا گیا۔ پولیس نے اس واردات میں ملوث تین مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہےجوپردیپ راٹھورکو دو ماہ پہلے  سےدھمکی دے رہے تھے۔مقتول  کے والد كالبھائی راٹھور کا بیان ہے کہ پردیپ دھمکی ملنے کے بعد گھوڑے کو فروخت کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ ایسا نہیں کرپایا جس کی وجہ سے اسے گاؤں کے لوگوں نے قتل کردیا۔كالبھائی نے پولیس کو بتایا، "پردیپ جمعرات کو کھیت یہ کہہ کر گیا تھا کہ وہ واپس آکر ساتھ میں کھانا کھائے گا۔ جب وہ دیر تک نہیں آیاتو ہمیں تشویش ہوئی اورہم  اسے تلاش کرنے نکلے۔ ہم نے اسے کھیت کی طرف جانے والی سڑک کے قریب اس کی لاش ملی اور  کچھ ہی فاصلے پر گھوڑا بھی مردہ پایا گیا‘‘۔ کیا عدالتِ عظمیٰ کو یہ واقعات نظر نہیں آتے ؟

بھارت بند کی کامیابی سے گھبرا کر مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے  ایس سی-ایس ٹی ایکٹ میں ترمیم کے اپنے حالیہ فیصلے پر روک لگانے  کی درخواست کی مگر اس نے انکار کر دیا  اور تمام فریقوں کو ۲ دن کے اندر تفصیلی جواب دائر کرنے کو کہا ہے۔ طلاق ثلاثہ پر عدالت عظمیٰ کی دہائی دینے والے  وزیر قانون روی شنکر پرساد کا  کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے پیچھے دئیے گئے دلائل سے متفق نہیں ہیں اس لیے حکومت نے اس پر ایک مجموعی نظر ثانی کی درخواست دائر کی ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ دراصل بی جے پی کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ اسی لیے یوگی جی کو اچانک یاد آگیا بابا صاحب امبیڈکر کے والد کا نام رام جی تھا اور اس نے باباصاحب کا نام بدل کر انہیں بھیم راو رام جی امبیڈکر کے نام سے پکارنے کا مضحکہ خیز فیصلہ کرلیا۔  مایا وقتی  نے سوال کیا ہے کہ نریندر مودی کو نریندر دامودر داس مودی کیوں  نہیں کہا جاتا ؟ لیکن اس سے بھی بنیادی سوال یہ ہے یوگی  ادیتیہ ناتھ  اپنے والد کا نام تو دور  خوداپنا اصلی نام اجئے موہن بشٹ تک لوگوں کو کیوں نہیں بتاتے ؟ جن کے اپنے گھر شیشے کے ہوں وہ دوسروں پر پتھر نہیں اچھالتے۔

ڈاکٹر امبیڈکر کا نام بدلنے سے قبل یوگی جی کو چاہیے کہ وہ   بھگوا چولا اتار کراپنے آپ کووجئے موہن آنند سنگھ بشٹ کے طور پر متعارف کرائیں۔    ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی مورتی کو ہارڈالنے والے ڈھونگی بابا کے خلاف ان کی اپنی پارٹی کے رکن پارلیمان نے وزیراعظم اور ایس سی ایس ٹی کے قومی کمیشن سے خط لکھ کر شکایت کی ہے۔ رابرٹ گنج کے بی جے پی ایم پی چھوٹے لال کھاوار کا الزام ہے کہ یوگی جی نے انہیں ڈانٹ کر بھگا دیا اور انتظامیہ بھی ان کے ساتھ بدسلوکی کررہا ہے۔  جس ملک میں برسرِ اقتدار جماعت کا رکن پارلیمان محض اپنی ذات کے سبب اپنے ہی وزیراعلیٰ کے ہاتھوں رسوا ہوتا ہو وہاں مودی جی کا یہ دعویٰ بے معنیٰ  ہوجاتاہے کہ انہوں نے بابا صاحب امبیڈکر کے ساتھ جو سلوک کیا کسی نے نہیں کیا۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مودی جی کے احترام کے محتاج نہیں ہیں۔ اس طرح تو پردھان سیوک نے خود اپنی سیاسی دوکان چمکانے کی کوشش کی ہے۔

روہت ویمولا کی ماں سے ہمدردی جتانا  اور اونا  کی زیادتی پر یہ کہنا ادلت بھائیوں کونہیں مجھے مارو مگر مچھ کے آنسو ہیں۔ وہ  خود  اپنی پارٹی کے دلتوں کی   کسمپرسی کو دور کردیں توانہیں  اس ناٹک بازی کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ بی جے پی کے اندر دلتوں کی قدرو قیمت کا اندازہ پنجاب میں ہونے والی تنظیمی تبدیلی سے بھی کیا جاسکتا ہے جہاں عدالت کے متنازع فیصلے کے بعددلت  صوبائی صدر وجئے سامپلا کو ہٹا کر   ان کی جگہ سنگھ پرچارک کے بیٹے شویت ملک کو سربراہی سونپ دی گئی۔ وجئے سامپلا مرکزی وزیر تھے لیکن انہیں پنجاب میں پارٹی کا سربراہ بنانے کے لیے  وزارت سے محروم کیا گیا اور اب صدارت سے بھی ہٹا دیا گیا۔ بی جے پی والے اگر زمینی سطح پر دلتوں کے ساتھ یہ سلوک روا رکھیں اور ذرائع ابلاغ میں ٹسوے بہائیں تو کیا انہیں دلت ووٹ ملے گا؟ حقیقت تو یہ ہے عدالت کے ذریعہ مسلمانوں کو پھنسانے کی کوشش کرنے والے خود عدلیہ کے جال میں ایسے گرفتار ہوگئے کہ  انہیں  دن دہاڑے تارے نظر آنے لگے ہیں۔ دلتوں کے دلدل میں دھنسے کمل پر مومن خاں مومن کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎

الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں

لو آپ اپنے دام میں‌ صیّاد آگیا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close