آج کا کالم

لو جہاد کے نام پر تشدد کے لئے اکسانے والے کون؟

رويش کمار

6 دسمبر سے 11 دسمبر آ گیا، پانچ دن گزرنے کے بعد کیا آپ سے یا سب سے پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ نے راجستھان کے راجسمند کے واقعہ پر کیا سوچا. پانچ دن سے دیکھ رہا ہوں کہ اس واقعہ کو لے کر سوشل میڈیا میں لوگ طرح طرح کی رائے کا اظہار کر رہے ہیں. زیادہ تر لوگ معاشرے اور سیاست کی اس حالت کو لے کر بے چین ہیں. بات کسی حکومت کی نہیں ہے، یہ واقعہ کہیں بھی وقوع پذیر ہو سکتا ہے. یہ ایک ایسی خود اعتمادی ہے جسے ہماری بیمار سیاست پیدا کر رہی ہے. اس کے بعد بھی بہت بڑی تعداد میں لوگ اس کے خطرے پہچان بھی لیتے ہیں، وہ دو فرقوں کے ساتھ اسی رفتار سے زندگی جیتے رہتے ہیں، مگر چند ہفتوں کے وقفے پر کبھی پہلو خان کو مار دیا جاتا ہے، کبھی عمر کو، تو کبھی جنید کو. یہ واقعات جب بار بار لوٹتے ہیں تب فکر ہوتی ہے. یہ سنک کہاں سے آتی ہے. فرقہ واریت کی یہ نئی شکل ہے. مسلسل بیان دو، بحث کرو، تاکہ کوئی اس کی زد میں آ جائے اور انسانی بم میں بدل جائے. وہ کسی کو چلتی ٹرین میں مار دے، کسی کو گائے کے نام پر مار دے تو کسی کو ناریل کاٹنے والے دھاردار ہتھیار سے مار دے.

راجسمند کے واقعہ کے ملزم کے چہرے پر بیمار ہوتی جا رہی سیاست کے رنگ نظر آ رہے ہیں. اس رنگ کی خوبصورتی اس آدمی کی حرکت نے مٹا دی ہے. ہاو بھاو تو کسی بھکت کی اوڑھي ہے مگر چہرے سے روحانیت غائب ہے. اس کی جگہ قتل کے بعد کا خون سوار ہے جو ٹھہر چکا ہے. شمبھولال ریگر ایک مزدور محمد افراضل خان کو دھاردار ہتھیار سے قتل کرتا ہے. افراضل کی کسی چیخ سے شمبھولال کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے. وہ مارنے کے بعد کیمرے کی طرف مڑتا ہے، لو جہاد پر تقریر دیتا ہے. اس کے بعد لوٹ کر جاتا اور پٹرول چھڑكر جلا دیتا ہے. یہی وہ تصویر ہے جو بھارت کے ان تمام شہریوں کو پریشان کر رہی ہے جنہیں لگتا ہے کہ کیا اس کے پیچھے نفرت کی وہ سیاست ہے جو دن رات عام ناظرین کو پروسي جارہی ہے. جس سیاست نے کھلے عام کہنا عام کر دیا ہے کہ مسلمان ہے تو یہ ہو گا، مسلمان ہے تو وہ ہوگا. آپ کو اس کے چہرے کو کلوزاپ میں دیکھئے، سیاست کا بیمار چہرہ نظر آئے گا. پھر اپنے گھروں میں دیکھئے کہ کہیں آپ یا آپ کے خاندان کا کوئی اس سیاست کا شکار تو نہیں ہو رہا ہے.

کچھ وقت کے لئے جس کی قتل ہوا ہے اس بارے میں مت سوچئے. کیا آپ اس کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیں گے جس نے قتل کیا ہے. کیا آپ چاہیں گے کہ ایسا قاتل اور اس قتل کے لئے اکسانے والی سیاست آپ کے آس پاس ہو. کیا پتہ آپ کے پڑوس میں، آپ کے گھر میں، ضلع میں ایسا کوئی تیار ہو رہا ہو جو اچانک کسی دن شمبھولال کی طرح ہتھیار اٹھائے اور افراضل جیسے کسی دہاڑی مزدور کو کاٹ دے. کیا آپ ان لوگوں کی ذہنیت کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو اس قتل کی حمایت کر رہے ہیں، شمبھوناتھ کے لئے پوسٹ لکھ رہے ہیں. اس طرح کے فرقہ وارانہ میسیج نہ پھیلے اور کشیدگی نہ بڑھے تو راجسمند میں واقعہ کے بعد انٹرنیٹ سروس ٹھپ کر دی گئی تھی. ابھی بحال ہو گئی ہے. راجستھان پولیس نے شمبھولال ریگر کو گرفتار کرنے میں تاخیر نہیں کی، وزیر اعلی وسندھرا راجے نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کی اور افراضل کے خاندان کو 5 لاکھ کا معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے. ہماری ساتھی هرشا کماری سنگھ نے بتایا ہے کہ کون لوگ نفرت کی باتیں پھیلا رہے ہیں، ان کی شناخت نہیں ہو پا رہی ہے مگر نفرت کی باتیں شرمناک طور پر خطرناک ہیں.

ایک وهاٹس اپ گروپ ہے سوچھ راجسمند سوچھ بھارت، مبینہ طور پر کسی بی جے پی کارکن کا ہے. اس گروپ میں شمبھو کے جرم کی تعریف کی گئی ہے. اس میں کہا گیا ہے کہ لو جہادی ساودھان. جاگ اٹھا ہے شمبھولال. هرشا نے اس وهاٹس اپ گروپ کے منتظم سے بات کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہو سکیں. فیس بک پر ایک اور پوسٹ ہے جس میں کوئی اپدیش رانا ہے، وہ اس قتل کی حمایت کر رہا ہے. ایک اور وهاٹس اپ گروپ ہے TIMES of CHITTORGARH، اس میں کہا جا رہا ہے کہ شمبھولال کے خاندان کو مالی مدد ملنی چاہئے. اس میں شمبھو کی بیوی کا اکاؤنٹ نمبر دیا گیا ہے مگر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے. واردات سے 100 کلومیٹر دور ایک چھوٹے سے قصبے کا ایک وهاٹس اپ گروپ ہے جھالا مان سنگھ. اس میں لکھا گیا ہے کہ وہ گھر گھر سے افضل نکال رہے تھے، ایک شمبھو نکلا تو برا مان گئے. اسی گروپ میں شمبھولال ریگر کی تعریف میں شاعری بھی لکھی گئی ہے. نفرت کے میسیجوں کی کوئی حد نہیں ہے. قتل کی حمایت ہے تو نفرت کے لطیفے ہیں. ہنسا ہنسا کر اپنے اندر قتل کی حمایت کرنے یا قتل کرنے کا رجحان پیدا کیا جا رہا ہے. مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے راجسمند کے ایس پی سے مل کر ایسے میسیجوں کے بارے میں شکایت درج کرائی ہے جس وهاٹس اپ گروپ میں چل رہے ہیں.

وهاٹس اپ گروپ سے نفرت کی سیاست پھیلائی جا رہی ہے، لوگ محتاط بھی ہو رہے ہیں مگر جب تک محتاط ہوتے ہیں اس وقت تک کوئی نہ کوئی زد میں آ چکا ہوتا ہے. شمبھولال دماغی بیمار ہو سکتا ہے لیکن جو وہ بول رہا ہے کیا اسی لو جہاد کو بڑے بڑے رہنما اور ترجمان ٹی وی سے لے کر تمام طرح کے پروگراموں میں نہیں دہرا رہے ہیں.

شمبھولال کی ایک اور ویڈیو ہے جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ‘میری میواڑ کی تمام بہنوں سے دعا ہے کہ آپ ان جہادیوں کی محبت کے نیٹ ورک میں نہ پھنسیں. یہ آپ کے دل جیت کر اسلامی شریعت کے مطابق پوری زندگی آپ سے اپنی ہوس مٹاتے رہیں گے کیونکہ آپ ایک ہندو ہیں. آپ کے جنم دینے والے والدین نے ہندومت دیوی دیوتاؤں کی پوجا کی ہے. آپ میں سے ہی لو جہاد میں پھنسی ہوئی ایک ابلا لڑکی کی مدد کرنے کی وجہ سے مجھے اپنی زندگی داؤ پر لگانی پڑی ہے. یہ ہماری نوجوان نسل کو برباد کرنے کے لئے اسلامی ممالک سے زہریلا نشہ بنا کر ہمارے ملک میں پھیلا رہے ہیں. ‘

آپ کو اس بات پر نظر رکھیں کہ آپ یا آپ کے بچے ایسی چیزوں کو پھیلا تو نہیں رہے ہیں. شمبھولال نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اگلے دن سرینڈر کرنے والا ہے، ‘میں میواڑ کے تمام بھائیوں کے سامنے سرینڈر کروں گا.’ غنیمت ہے کہ میواڑ کے لوگ شمبھولال کی گرفتاری کے وقت نہیں نکلے. انہیں سمجھ آتا ہے کہ یہ نفرت کی سیاست ہے. راجستھان میں سات نومبر کو ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے ایک فیصلہ دیا. جسٹس گوپال کرشن ویاس اور منوج کمار گرگ نے کہا کہ عارفہ نے اپنی ناپسند کے لڑکے کے ساتھ رہنے کے لئے آزاد ہے. عارفہ کے بھائی نے شکایت درج کرائی تھی کہ یہ لو جہاد کا کیس ہے. عارفہ پہلے پایل سنگھ تھی، خاندان والوں کا الزام تھا کہ زبردستی اسلام میں داخل کرایا گیا ہے. عارفہ نے کورٹ میں اعتراف کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے. جب عدالت دو مذاہب کے درمیان شادی کو تسلیم دیتی ہے تو پھر یہ سیاست کس لئے ہو رہی ہے. آپ دیکھیں گے کہ وقت وقت پر رہنما لو جہاد کو بڑھا چڑھا کر بتاتے رہتے ہیں. وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اکتوبر میں کیرل میں کہا تھا کہ لو جہاد خطرناک رجحان ہے. این آئی اے اس کی جانچ کر رہا ہے. بی جے پی کیرل کو اسلام کی زمین نہیں بننے دے گی. ‘ یونین کے بھیا جی جوشی کا بیان چھپا ہے کہ دس پندرہ سال سے ہندو سماج لو جہاد کا سامنا کر رہا ہے. دونوں بیان اکتوبر مہینے کے فرسٹ پوسٹ اور دی ہندو اخبار میں چھپے ہیں.

ساگركا گھاٹگے نے کرکٹر ظہیر خان سے جب شادی کی تو مبارک باد کی جھڑی لگ گیی. دونوں نے اپنی تصاویر شییر کیں اور سب نے مبارکباد دی. رائٹ ٹو پرائیویسی پر سپریم کورٹ نے حال ہی میں کتنی خوبصورت تشریح کی ہے، دنیا بھر میں ایسی تشریحات کم ہوئی ہیں مگر وہی سپریم کورٹ جب کیرالہ لڑکی هہادیہ کے معاملے میں فیصلہ سناتا ہے تو رائٹ ٹو پرائیویسی سے بالکل مختلف ہو جاتا ہے. ہادیہ کہتی ہے کہ وہ آزاد نہیں ہے.

حال ہی میں مرکزی حکومت نے نسلی شادی کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے ڈاکٹر امبیڈکر کے نام پر ایک اسکیم لانچ کی ہے. اس کے تحت شوہر بیوی میں سے کوئی ایک دلت ہو تو مرکزی حکومت ڈھائی لاکھ روپے دے گی. قاعدے سے اس منصوبہ کا ہر رہنما کو تبلیغ کرنا چاہئے مگر بیشتر بچیں گے ہی. دو مذاہب کے درمیان شادی کے لئے بھی قانون ہے، اس کی بھی کوئی تبلیغ نہیں کرتا ہے. 1954 کا اسپیشل میرج ایکٹ کیوں ہیں پھر. ویسے یہ تو اسپیشل میرج ایکٹ 1874 سے چلا آ رہا ہے تب اس میں ایک مذہب سے دوسرے مذہب میں شادی کرنے پر مذہب کی قربانی کرنا پڑتی تھی.

1954 کا قانون یہ کہتا ہے کہ دو مذاہب کے لوگ شادی کر سکتے ہیں اور مذہب تبدیل کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے. جب سپیشل میرج ایکٹ کے تحت دو مذاہب کے لوگ شادی کریں گے تب ان پر نہ تو ہندو میرج لاء لگے گا نہ مسلم پرسنل لاء. انڈین سكسیشن ایکٹ لگے گا جس کے مطابق بیٹا بیٹی کو جائیداد میں برابری کا حصہ ملے گا.

آپ نے دیکھا کہ اسپیشل میرج ایکٹ دو مذاہب کے درمیان شادی کی اجازت دیتا ہے. اس لحاظ سے دو مذاہب کے لوگ اگر آپس میں شادی کرتے ہیں تو کچھ غلط نہیں کرتے ہیں بلکہ یکساں سول کوڈ کا سماجی بنیادیں بڑھا دیتے ہیں.

قانونی حقوق اور دفعات کو بھی سمجھنا ضروری ہے، لو جہاد کا مسئلہ پرائیویسی کے حقوق کے خلاف ہے، آئین کے خلاف ہے. لہذا سیاست، میڈیا اور وهاٹس اپ یونیورسٹی کے ذریعہ اس مسئلے کو زندہ رکھا جاتا ہے تاکہ اقلیتوں سے نفرت کی ذہنیت بچی رہے. گجرات انتخابات میں آپ دیکھ ہی رہے ہیں. کھل کر مسلم مخالف باتیں ہو رہی ہیں. کیا شہریت یا طاقت سے وہ بے دخل کر دیے گئے ہیں، نہیں، پھر دوبارہ انتخابات میں مسلمانوں کا نام لے کر کیوں ڈر پھیلایا جا رہا ہے. اورنگ زیب راج، مغل سلطنت، پاکستان، احمد پٹیل کیا یہ سب کچھ اور نہیں کہتے ہیں. ایک کمیونٹی کو الگ الگ ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کرتے. بی جے پی کے ایک امیدوار نے تو کھل کر فرقہ وارانہ تقریر کی.

الیکشن کمیشن نے اشتعال انگیز تقریر کرنے کے لئے شیلیش سوتتا کو نوٹس جاری کیا ہے. کیا آپ دیکھ رہے ہیں کہ جو شمبھولال ریگر بول رہا ہے وہی بات اور بھی لوگ سیاسی پلیٹ فارم سے، آئینی عہدے سے اور سوشل میڈیا پر بول رہے ہیں. کیا اس کا تعلق ان باتوں سے ہے جنہیں میں ہندو مسلم فریم ورک کہتا ہوں. کوئی نہ کوئی مسئلہ ہر ماہ آ جاتا ہے جو دو فرقوں کے درمیان نفرت کا آئی پی ایل کرانے لگتا ہے.

ہماری ساتھی هرشا کماری سنگھ نے راجسمند میں کچھ لوگوں سے بات کی. جاننے کی کوشش کی کہ کیا ٹی وی پر چلنے والی یا سیاست میں اٹھنے والے ان مسائل کا اثر ہو رہا ہے، دو فرقوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے میں.

دہلی میں اتوار کو اس قتل کی مخالفت میں کچھ لوگ کناٹ پلیس میں جمع ہوئے. اس واقعے نے تمام مذاہب کے نوجوانوں اور لوگوں کو بے چین کر دیا ہے. آخر کوئی بھی سماج کسی کے قتل اور اس کا ویڈیو بنانے کی ذہنیت کی حمایت نہیں کر سکتا ہے. جو نوجوان وهاٹس اپ یونیورسٹی میں ایسی باتیں پھیلا رہے ہیں وہ معاشرے کو تبدیل کر رہے ہیں. زہر بو رہے ہیں. ان یونیورسٹی کا نظریاتی فنڈ کہیں اور سے آ رہا ہے.

بہت سے لوگ اس تشدد کے جواب میں کیرالہ کی بات کرنے لگے ہیں تو ایسا واقعہ کا ذکر کر رہے ہیں جس میں کسی مسلمان نے کسی ہندو کو مارا ہے. کیرل کے بارے میں ہم نے کئی بار پرائم ٹائم کیا ہے. جو تشدد کی حمایت کر سکتا ہے. وہاں کی سیاسی تشدد صرف آر ایس ایس ہی نہیں، سی پی ایم کانگریس کے ورکروں کی بھی جان لے رہی ہے. دونوں طرف کے لوگوں پر قتل کے الزامات ہیں اور مارے جا رہے ہیں. ہمیں ایک بات کا فرق کرنا ہوگا. اگر کسی جرم کو سیاسی نظریات کے تحفظ ملنے لگے تو اس کا دائرہ بہت بڑا ہو جاتا ہے. کون اس کی زد میں آئے گا آپ نہیں کہہ سکتے. جیسے دلتوں پر تشدد کا بڑا طبقہ ذات پات کی سوچ میں ہے. زیادہ تر کے قتل یا عصمت دری ذات سوچ یا نفرت کا نتیجہ ہے. لہذا بتانا پڑتا ہے کہ جس کی قتل ہوا یا جن  کی عصمت دری ہوا وہ دلت ہے کیونکہ تشدد کے پیچھے دلت ہونا بڑی وجہ ہے. نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو اس لیے دلتوں کے خلاف ہوئے جرائم کی الگ سے گنتی کرتا ہے.

ہاپوڑ کے دھولانا میں 14 سال کی ایک دلت لڑکی کا گلا ریت کر قتل کر دیا گیا. اس کی لاش کو کاٹ کر کھیتوں میں پھینک دیا گیا. نوي کلاس میں وہ لڑکی پڑھتی تھی. چارہ لینے گئی تھی مگر واپس نہیں آئی. نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے اعدادوشمار کے مطابق یوپی اور بہار میں دلتوں کے خلاف سب سے زیادہ جرائم درج کیے گیے ہیں. لکھنؤ اور پٹنہ کا نام سب سے آگے ہیں. 2016 میں دلتوں کے خلاف جرائم کی 40 ہزار سے زائد واقعات ہوئے ہیں. زیادہ تر کا تعلق ذات پات وجوہات رہا ہوگا.

سماجی اور سیاسی سوچ کی بنیاد پر کسی تشدد کی حمایت کرنا، اسے فروغ دینا معاشرے میں نوجوانوں کو جرم کی طرف لے جاتا ہے. شمبھولال پر راجستھان پولیس نے فرقہ وارانہ خیالات پھیلانے کا بھی معاملہ درج کیا ہے. پڑوسی کہتے ہیں کہ شمبھولال پرسکون قسم کا آدمی تھا. اس کی بیوی اور تین بچے ہیں. کسی کو پتہ نہیں کہ نفرت کی سیاست اس کے اندر ہی اندر کتنا ابل رہی ہوتی ہے. ابھی شمبھو کے بچوں کے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا. هرشا کماری سنگھ شمبھو کے محلے میں گئی تھیں. لوگوں نے بتایا کہ وہ بے روزگار تھا. کم ملنسار تھا. پولیس نے اس کے اسمارٹ فون کو دیکھا ہے. نفرت پھیلانے والے ویڈیوز کو دیکھنے کا چسکا لگ گیا تھا. کیا پتہ ان ویڈیوز نے شمبھو کو انسانی بم میں تبدیل کر دیا ہو. اس نے اس جرم میں اپنے 13 سال کے بھتیجے کو بھی شامل کر لیا جس میں وہ ویڈیو بنا رہا تھا.

کیرالہ اور دوسرے واقعات پر بحث ہوتی رہی ہے، الگ سے پھر ہو جائے گی، مگر نفرت پھیلانے والے یہ ویڈیو کس فیکٹری میں تیار ہو رہے ہیں، کیوں تیار ہو رہے ہیں، بتانے کی ضرورت نہیں ہے. شمبھو نے اپنے تینوں بچوں، 13 سال کے بھتیجے کی زندگی داؤ پر لگا دی اور خود قاتل بن گیا. اس کی حمایت میں پوسٹ ڈالنے والے اب دوسرے شمبھو کی تیاری میں لگ گئے ہیں. انہیں کچھ ماہ بعد پھر کوئی شمبھو چاہئے. آپ نظر رکھیں کہ آپ کے درمیان سے کوئی شمبھو تو نہیں بن رہا ہے. میں نہیں مانتا کہ آپ ہمدردی افراضل کو لے کر نہیں ہے. بالکل. وہ اس ملک کا شہری تھا جسے نفرت کی سیاست نے دھوکے سے مارا ہے.

بنگال کا رہنے والا افراضل مزدوری کی تلاش میں کئی شہروں کو بدلنے کے بعد راجستھان آگیا تھا. 45 سال کی عمر میں کوئی اس طرح مار دے گا اور ویڈیوز بنا کر لو جہاد پر تقریر کرے گا کسی نے سوچا نہ ہوگا. مگر ہم سب نے دیکھا ہے کہ قتل کو اکسانے والی سیاست ہمارے آس پاس مسلسل پھیل رہی ہے. وهاٹس اپ یونیورسٹی سے ہوشیار رہیے. افراضل کی بیٹیوں کا جو اعتماد گیا ہے اسے لوٹانے کی سوچئے. وهاٹس اپ یونیورسٹی کو چلانے والے شیطانی لوگ پرائم ٹائم یو ٹیوب پر جاکر دیکھتے ہیں پھر اس کا ایک حصہ کاٹ کر پھیلاتے ہیں کہ طرح طرح کی افواہیں پھیلاییں گے. جبکہ یہ پروگرام شمبھولال پر تھا، اس عجیب سوچ پر جو مسلسل آپ کے درمیان کسی شمبھولال کو قاتل بنانا چاہتی ہے. یوں ویسے یہ پروگرام ان لوگوں پر تھا جو آپ کے درمیان سے کسی شمبھولال کو قاتل بنانے میں لگے ہیں تاکہ ان کی سیاست چمکتی رہے. مجھے یقین ہے کہ آپ افراضل کے قتل پر غم زدہ ہوں گے. میں نہیں مانتا کہ آپ کسی کے خون کی حمایت کریں گے. اتنا اعتماد آپ پر ہے. آپ کو بھی خود پر ہونا چاہئے کہ ایسی سیاست کی زد میں نہیں آئیں گے.

ٹی وی دیکھتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ کیا اسی شدت سے آپ روزگار، تعلیم، پینشن، اداروں کی بے رخی پر چرتا ہوتی ہے جس شدت سے ہندو مسلم ٹاپک پر ہوتی ہے. چینل بہت چالاکی سے ایسے مسائل کی آڑ میں آگ سے کھیل رہے ہیں. اقتدار ہوشیار ہو گئی ہے. اب وہ اپنے گروہ سے کسی کو نہیں بھیجتی ہے، آپ کو تیار کرتی ہے کہ آپ اس کے نام پر کسی کو مار آئیں. ایسا نہ تو اپنے ساتھ نہ کسی اور کے ساتھ ہونے دیجئے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close