مانک سرکار بمقابلہ ٹانک سرکار

ڈاکٹر سلیم خان

آسمانِ گیتی کسی کو نہیں بخشتا۔ زمانے کی گردش میں ہر کوئی آجاتا ہے ۔ مودی حکومت کی اب تک کی  رسوائیوں کا نقطۂ عروج اگست 2017 ہے۔ اس مہینے ہر محاذ پر سرکار کی ناکامیاں کھل کر سامنے آگئیں۔ عدالت عالیہ  نے حق رازداری پر حکومت کو ایسی کھری کھوٹی سنائی کے بس چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے  کی کسر رہ گئی۔ انتظامی سطح پر  ریلوے کے مسلسل حادثوں کے سبب وزیر ریلوے نے استعفیٰ کی پیشکش  کردی اور ہریانہ کا خلفشار نے اس میں چار چاند لگا دیئے۔ معاشی میدان میں ریزرو بنک کی رپورٹ نے نوٹ بندی کا غبارہ بھرے بازار میں پھوڑ دیا۔  سفارتی سطح پر ڈوکلام سے فوجیں واپس بلا کر چین کی برتری کو تسلیم کرلیا گیا۔ غرض کوئی ایک ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں ان لوگوں کومنہ چھپانے کی جگہ ملے ۔ سارا شمال مشرقی ہندوستان سیلاب کی زد میں ہے مگر وزیراعظم کو ابھی تک دورہ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی جبکہ ٹرمپ جیسے بے حس صدر نے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرلیا۔

گوا کا ضمنی  انتخاب تو  بی جے پی جیت گئی مگر دہلی کے بوانا میں عآپ نےاسے  چاروں شانے چت کردیا۔۔ اسی کے ساتھ پٹنہ میں بی جے پی بھگاو ریلی کی زبردست کامیابی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سابق وزیردفاع منوہر پریکر نے اپنے حلقۂ انتخاب پنجی سے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔  منوہر پریکر ؁۱۹۹۴ سے یہاں انتخاب جیت رہے ہیں ۔ اس بار انہوں نے الیکشن سے قبل اپنے روایتی حریف  بابوش مونسیراٹو کو خرید کر اپنے پالے میں کرلیا ۔ بابوش کی حمایت کے بعد انتخاب یکطرفہ ہوگیا اس کے باوجود  کانگریس نے پہلی بار اس حلقۂ انتخاب میں پانچ ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ سابق وزیر دفاع اور حالیہ وزیراعلیٰ کے لیے یہ قابل شرم امر ہے کہ ان کو صرف چارہزار آٹھ سو ووٹ کے فرق سے کامیابی ملی جبکہ کانگریس سے بی جے پی میں آنے والے وشواجیت رانے نے دس ہزار سے زیادہ ووٹ کے فرق سے کامیابی درج کرائی ۔  ان کامیابیوں کے باوجود گوا اسمبلی میں بی جے پی ارکان کی تعداد کانگریس کے ۱۶ کے مقابلے ۱۴ اور وہ زرخرید آزاد ارکانِ اسمبلی کی مدد سے اقتدار پر قابض ہے۔

گوا کے علاوہ آندھرا پردیش اور دہلی کے اندر بھی ضمنی انتخابات ہوئے ۔ ہر مقام پر مخالف جماعت کا ایک نہ ایک باغی امیدوار میدان میں تھا ۔ آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس  نے ٹی ڈی پی سے نکل   کر آنے والی شلپا موہن ریڈی کو میدان میں اتارا  ۔ اس کے مقابلے بھوما برہمانند ریڈی ٹی ڈی پی کے امیدوار تھے ۔ اس انتخاب کو جگن موہن ریڈی  اور چندرا بابو نائیڈو نے اپنے وقار کا مسئلہ بنالیا  ۔ اس کےلیے جگن موہن ۱۳ دنوں تک ناندیال میں جمے رہے ۔  ایک اندازے کے مطابق اس الیکشن میں  کل ۱۰۰تا ۳۰۰کروڈ روپئے پھونکے گئے۔  ہر ووٹر کو ۳۰۰۰ تا ۵۰۰۰روپئے نقد  کے ساتھ شراب تقسیم کی گئی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۸۳ فیصد سے زیادہ رائے دہندگان نے اپنے حق کو فروخت کیا اور ٹی ڈی پی امیدوار نے ۲۷ ہزار کے فرق سے جیت درج کرائی  ۔  وزیراعظم نے بھی ساری بے ضابطگیوں سے آنکھ میچ کر چندرا بابو نائیڈو کو مبارکباد دے دی۔

ناندیال میں جو غلطی جگن موہن  ریڈی نے کی بوانا میں اسی حماقت کا ارتکاب  بی جے پی نے  کیا اس لیےوہ راجوری گارڈن والی کامیابی کو دوہرانے میں ناکام رہی ۔  بی جے پی نے اس بار عآپ سے نکل کرآنے والے وید پرکاش کو ٹکٹ دیا ۔  اس انتخاب میں عوام کی دلچسپی اس قدر کم تھی کہ پولنگ ۷۰ فیصد کے مقابلے ۴۵ فیصد ہوئی اس کے باوجود پہلی بار منتخب ہونے والے رامچندرکو۲۷ ہزار ووٹ سے کامیابی ملی۔  مرحلہ وار اتار چڑھاو پر نظر ڈالیں تو  پہلے راونڈ میں کانگریس کو ۲۱ سو  عآپ کو ۱۹ سو اور بی جے پی ۱۷ سو ووٹ ملے تھے۔  دسویں مرحلے تک کانگریس آگے تھی اس کے ۱۹ ہزار ۳ سو عآپ کے ۱۹ ہزار ایک سو اور بی جے پی کے ۱۴ ہزار ایک سو ووٹ تھے اس کے بعد عآپ نے بڑھت بنائی۔۲۲ویں راونڈ تک کانگریس دوسرے نمبر تھی اور بی جے پی تیسرے نمبر  لیکن پھر بی جے پی دوسرے نمبر پر آگئی اور آخری راونڈ تک یہ فرق صرف ۳ ہزار ووٹ ہوگیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ رائے دہندگان کے رحجان میں تبدیلی آتی ہے زمینی حالات ذرائع ابلاغ کے سبز باغ سے مختلف ہے ۔

اس انتخاب میں گوکہ کانگریس تیسرے نمبر پر رہی لیکن نتائج کا تجزیہ گواہی دیتا ہے کہ  سب سے زیادہ فائدہ میں وہ رہی۔  ؁۲۰۱۴ کے پارلیمانی انتخاب میں بوانا سے بی جے پی کو ۴۷ فیصد ووٹ ملے تھے۔ ؁۲۰۱۵ میں وہ تناسب گھٹ کر ۳۱ فیصد پر آگیا اور بی جے پی شکست فاش سے دوچار ہوگئی ۔ اس بار عآپ امیدوار کو لڑانے کے باوجود بی جے پی کا ووٹ  ۵۹ ہزار سے گھٹ کر ۳۶ ہزار پر آگیا اور تناسب ۲۷ فیصد ہوگیا۔  عآپ  کامیاب تو ہوگئی لیکن اس کے ووٹ بنک میں بھی بھاری کمی آئی۔ عآپ نے ؁۲۰۱۵ میں یہاں سے ایک لاکھ نو ہزار ووٹ  حاصل کیے تھے جبکہ اس بار اسے ۶۰ ہزار پر اکتفا کرنا پڑا اور اس کے ووٹ کا تناسب ۵۸ فیصد سے گھٹ کر ۴۵ فیصد پر آگیا۔  اس کے برعکس کانگریس کے ٹمٹماتے چراغ کو  ؁۲۰۱۵ میں صرف ۸ فیصد ووٹ ملے تھے جو اس بار بڑھ کر ۲۴ فیصد تک پہنچ گئے ہیں یعنی اس کے اور بی جے پی کے درمیان صرف ۳ فیصد کا فرق رہ گیا ہے ۔

این ڈی اے  کی چھوٹی جماعتوں  نے بھی اب بی جے پی کی قیادت سے ناراضگی کا اظہار شروع کردیا ہے۔  ’سوابھمانی پکش‘ کے لیڈر اور لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ راجو شیٹی نے کسانوں کے ساتھ ہو رہی تفریق اور مودی حکومت کے بے رخی کے سبب این ڈی اے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔شیٹی نےالزام لگایا  کہ ’’کسان کے مسائل پر وزیر اعظم مودی کا رویہ بہت خراب رہا ہے۔ تین سال تک ہم نے انھیں وقت دیا اور وہ بار بار ہمیں بھروسہ دلاتے رہے لیکن اب اور صبر نہیں کیا جا سکتا۔ تین سال کی مودی کی مدت کار انتہائی مایوس کن ہے‘‘۔راجو شیٹی نے مودی کی قیادت والے این ڈی اے اتحاد کو اس شرط پر حمایت دی تھی کہ وہ سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ نافذ کرے گی اور لاگت سے ڈیڑھ گنا کم ازکم پیداوار کی قیمت  ادا کرےگی مگر وعدہ خلافی کی گئی ۔ خشک سالی سے متعلق کمیشن بنانے کا وعدہ بھی نہیں نبھایا گیا۔ رام داس اٹھاولے بھی  دلتوں کےمسائل  پر بی جے پی سے نارض ہیں ۔ بہار میں راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) بھی این ڈی اے اتحاد سے خفا ہیں کیونکہ  اترپردیش میں ایک پسماندہ کو وزیر اعلی کا وعدہ کیا گیامگر راجپوت ادتیہ ناتھ کو تھوپ دیا۔ اس سے براہمن پہلے ہی ناراض تھے کہ ان پر مظالم کی  ابتدا ہوگئی اس پر دو براہمن مرکزی وزرا ء سے استعفیٰ لے کر جلتی میں تیل ڈال دیا گیا ۔  اس سے پہلے کہ یہ آگ پھیلتی یوپی کی کمان ایک براہمن کو تھما دی گئی دیکھنا یہ ہے کہ تماشے کس حدتک کارگر ہوتے ہیں ؟

تریپورا کے وزیر اعلی مانک سرکار نے یوم آز ادی کو جو خطاب کیا اس  کو پرسار بھارتی نے نشر کرنے سے انکار کر دیا ۔ اس پر تنقید کرتے ہوئے سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری سیتارام یچوری نے ٹویٹ کیا ’’ یہ ایک غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے ، دوردرشن بی جے پی اور آ ر ایس ایس کی نجی جائیداد نہیں ہے ‘‘۔ رکن پارلیمان برندا کرات نے فرمایا ’’ یہ حق پرسار بھارتی کو کس نے دیا کہ وہ وزیر اعلی کے خطا ب پر سوال اٹھائے یا اس کو سینسر کرے‘‘ ۔ یو م آزادی کے دن آزادی کا گلا گھونٹنا  جبر کا کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا کہ صرف بیان بازی پر اکتفا کیا جاتا ۔ کمیونسٹوں کو چاہیے تھا کہ مانک سرکار کو دہلی بلاتے اور جنتر منتر پرتقریر کرواتے ۔ان کے بغل میں دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو کھڑا کردیتے ۔ یہ تقریر سارے  نجی چینلس پر نشر ہوتی اور اگر بی جے پی اس میں قد غن لگانے کی کوشش کرتی تو بہت بدنام ہوتی لیکن ایسا لگتا ہے کہ اشتراکیوں کے اندر سے حرکتِ عمل کا خاتمہ ہوگیا ۔ بی جے پی نے ان کے حواس گم کردیئے ہیں۔ وہ اپنی کیرالہ سرکار کے دفاع میں مصروف کردیئے گئے ہیں ورنہ بی جے پی کی دولت کے بل بوتے پر چلنے والی  ٹانک سرکار کو مانک سرکار کے ذریعہ گھیر نے کا یہ نادر موقع وہ نہیں گنواتے  ۔

اس پس منظر میں پٹنہ کے اندر منعقد ہونے والی حزب اختلاف کی ریلی اہم ہوجاتی ہے ۔ اس عظیم مظاہرے کو اس لیے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ایمرجنسی کے بعد بھی انقلاب کی آندھی اسی سرزمین سے اٹھی تھی۔  اس میں شک نہیں کہ بہت سارے قدآور رہنما ابھی تک اس میں شامل نہیں ہوئے لیکن امید ہے کہ وقت سے یہ لہر زور پکڑے گی  اور جلد یا بہ دیر مایاوتی اس میں شامل ہوجائیں گی اس لیے کہ اب بی جے پی ان سے بے نیاز ہوگئی ہے۔ اترپردیش میں سماجوادی اور بی ایس پی کا اتحاد قومی سیاست کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ این ڈی اے کو ایوان زیریں میں معمولی اکثریت  حاصل ہے اور ایوان بالا میں یو پی اے کے ارکان  آج بھی این ڈی اےسے زیادہ ہیں ۔ ایسے میں اگر یوپی اے کی ساری جماعتیں متحد ہوکر مہاگٹھ بندھن بنالیتی ہیں تو مودی اور شاہ کی ساری ڈرامہ بازی دھری رہ جائیگی۔ اس کے لیے لازم ہے کہ مودی جی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسی حماقتیں جاری رکھیں اور یوگی و کھٹر جیسے نااہل لوگوں کو نہ ہٹائیں اس لیے  کہ یہی  وزرائے اعلیٰ اور ان  کے کارنامے مودی جی اقتدار سے بے دخل  کرنے کے لیے کافی ہیں۔ بقول غالب ؎

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے

 ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو



⋆ سلیم خان

سلیم خان
ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے