آج کا کالم

مجموعۂ اضداد ہے دنیا مرے آگے

ڈاکٹر سلیم خان

مخالف سمت کی کشتیوں میں پیر رکھنے والا دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے لیکن کسی نے مودی سرکار  کو بتادیا کہ اس کے پاس دوہاتھ بھی ہیں اورکل چار سمتیں ہیں۔ چہاردانگِ عالم میں اپنا ڈنکا بجانے کی خاطر اس نےگائے کی مانند جھک کر اپنے دو ہاتھ دوناؤ میں اور دو پیر دیگر دو کشتیوں میں رکھ دیئے۔ جب تک کشتیاں جامد تھیں تب تک سب ٹھیک ٹھاک تھا لیکن ان کے حرکت میں آتے ہی وہ ہوا جس کا نظارہ  روہنگیا پناہ گزینوں سے متعلق قومی پالیسی میں دنیا کررہی ہے۔ وزارت داخلہ نے عدالتِ عالیہ میں حلف نامہ داخل کرکے کہا کہ  یہ معاملہ عدلیہ کے دائرہ ٔ اختیار  سے باہر ہے مگر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے فرمایا چونکہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے فیصلے کا انتظار کریں۔ جب  فیصلہ کرنا عدالت کے اختیار میں ہے ہی نہیں تواس کا انتظار   چہ معنی دارد؟

وزارت داخلہ ان کو  پناہ گزین نہیں  بلکہ گھس پیٹھئے یعنی درانداز کے لقب سے یاد کرتی ہے لیکن یہ اصطلاح تبت یا سرلنکائی پناہ گزینوں کے لیے استعمال نہیں کی جاتی۔ اس کے برعکس وزارتِ خارجہ انہیں  پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے بنگلادیشی حکومت کی تعریف کرتی ہے۔ یہ عجب تماشہ ہے کہ روہنگیا مظلو مین  جب اپنےمادرِ وطن سے نکل کر بنگلادیش پہنچتے ہیں تو  پناہ گزین  ہوتے ہیں لیکن  ہندوستان میں قدم رکھتے ہی  غیر قانونی گھس خور ہوجاتے ہیں۔ بنگلا دیش کے اندر چار لاکھ لوگوں کی آمد امن و سلامتی کو متاثر نہیں کرتی لیکن ہندوستان میں ان میں سے چالیس ہزار لوگ  خطرہ بن جاتے ہیں۔ پڑوسی ملک میں جو لوگ بے ضرر ہیں وہ اس سرزمین پر آتے ہی ضرر رساں کیسے   ہوجاتے ہیں اس سوال کا جواب تو کوٹلیا بھی نہیں دے سکتا؟ ملک کے مختلف حصوں میں منتشر ان لٹے پٹے لوگوں کو خطرہ بتاکر ہمارے سیاستدانوں نے ان قومی حفاظتی دستوں کی توہین کی ہے جوبنگلادیش کی بہ نسبت مقدار و معیار دس گنا  سے زیادہ لائق و فائق   ہے۔ اس پس منظر میں روہنگیا پناہ گزینوں کی حالتِ زار پر جون ایلیا کا یہ شعر صادق آتا ہے؎

کیوں ہمیں کردیا گیا مجبور 

 خود ہی بے اختیار تھے ہم تو

وزارت داخلہ اور خارجہ کا ایک اور تضاد دیکھیں۔ ایک طرف تووزارت داخلہ کی جانب سے صوبائی حکومتوں  کو احکامات صادر کیے جاتے  ہیں کہملک کے اندر پناہ گزینوں کو تلاش  کیا جائے تاکہ انہیں نکال باہر کیا جاسکے۔ دوسری جانب وزارتِ خارجہ  بنگلادیش میں کاروان انسانیت کے نام سےراحت رسانی کا کارِ خیر انجام دیتی  ہے۔ جو انسانیت ہزار وں میل  دور بسنے والے پناہ گزینوں کے تئیں تو پیدا ہوتی ہےوہ خود اپنے ملک کے اندر حیوانیت میں کیوں بدل جاتی ہے؟ حکومت دراصل  آئے دن ان کو نکالنے کا اعلان کرکے اپنی  سیاسی روٹیاں سینکتی ہے۔وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ ان پناہ گزینوں کے باعث ہمارے ملک میں آبادی کا توازن بگڑ جائیگا۔ یہ عجیب و غریب منطق ہے۔ ہمارے ملک کی آبادی بنگلادیش سے 10 گنا زیادہ ہے اور پناہ گزینوں کی تعداد وہاں کے مقابلے10 گنا  کم  ہے۔ اس لیے آبادی کے تناسب پر اثرانداز ہونے کے امکانات میں  100 گنا کا فرق  ہے۔اس کے باوجودبنگلادیش میں  آبادی کا تناسب نہیں بگڑتامگر یہاں بگڑ جاتا ہے۔ اس دعویٰ میں کتنی  حقیقت ہے اور کتنی  سیاست اس کا اندازہ لگانے کے لیے کسی غالب کا یہ شعر دیکھیں  ؎

نفرت کا گماں گذرے ہے میں رشک سے گزرا  

 کیوں کر کہوں، لونام نہ ان کا میرے آگے

اصل مسئلہ یہ حکومت کی ایک جانب بنگلادیش ہے جسے وہ خوش کرنا چاہتی ہے مگر دوسری طرف  میامنار ہے جس کو وہ ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ بیک وقت ان دونوں مقاصد کا حصول ناممکن ہے۔ اسی طرح حکومت کو ایک طرف تو اقوام متحدہ کو راضی کرنا ہے جس نے کھل کر ہندوستان کے رویہ پر تنقید کی ہے اور دوسری جانب ان شدت پسند رائے دہندگان کی خوشنودی حاصل کرنا ہے  کہ فرقہ پرستی کی بنیاد پرجن کا جذباتی استحصال   کرکے ان لوگوں نے اقتدار پر قبضہ  کیا ہے۔ اسی لیے عدالت عالیہ  میں حکومت اپنے اٹارنی جنرل کے ذریعہ جس موقف کا اظہار کرتی ہے  قومی انسانی حقوق کا کمیشن اس کی مخالفت کرتا ہےحالانکہ وہ بھی ایک سرکاری ادارہ ہے۔ اس حماقت خیز سیاست کی قیمت روہنگیا پناہ گزین چکا رہے ہیں۔ بلاوجہ ان مظلومین کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا جارہا ہے۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ  جو لوگ ساری دنیا کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ سب کو ناراض کر بیٹھتے ہیں۔  حکومت کے تذبذب پر غالب کے شعر کی پیروڈی صادق آتی ہے؎

ووٹر مجھے روکے ہے تو کھینچے مجھے کرسی 

  کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسامیرے آگے

سیاست کی دنیا میں سالمیت اور انسانیت کے راگ سے خوب گمراہ کیا جاتا ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے میامنار اور بنگلا دیش کا موازنہ کافی ہے۔ بنگلادیش کے قیام سے قبل وہ  مشرقی پاکستان تھا اور وہاں فوجی حکومت تھی۔ میانمار میں بھی انتخابات کے باوجود ابھی تک حکومت کی زمامِ کار اصلاً فوج کے ہاتھ میں ہے آنگ سوچی  فوج  کی چشمِ ابروکے خلاف  لب کھول نہیں سکتی۔  انتخابی مجبوریوں کے تحت کچھ کرنا تو دور بولنا تک محال ہے بلکہ سوچی ہونے کے باوجود سوچ بھی نہیں سکتی۔ مشرقی پاکستان میں فوج کی زیادتی کسی خاص فرقہ یا اقلیت کے خلاف نہیں تھی جبکہ میانمار میں بودھ فوج  اراکان کے مسلمان اقلیت کو نشانہ بنارہی ہے۔ بنگلادیش میں کسی کو شہریت سے محروم نہیں کیا گیا تھا مگر میانمار میں اس جرم  کا بھی ارتکاب کیا جاچکا ہے۔ بنگلا دیش کا تصادم صرف فوج اور عوام کے درمیان تھا جبکہ بنگلادیش میں بودھوں کی ایک شدت پسند تحریک بھی فوج کی مدد سے ظلم و ستم ڈھارہی ہے۔ اس صورتحال میں مشرقی پاکستان کے مسلمان  زیادہ مظلوم تھے یا روہنگیا  کے مسلمان زیادہ مظلوم ہیں اس کا اندازہ لگانا بہت آسان ہے۔

حکومتِ ہند نے انسانی بنیادوں  پر مشرقی  پاکستان کی سرحد کو کھول دیا تھا۔ کروڈوں بنگالیوں کو اپنے ملک میں پناہ دی تھی۔ ان کی دیکھ ریکھ کے لیے پورے ملک کی عوام پر ٹیکس لگایا گیا تھا اور  پناہ گزین کیمپوںکے اندر سرکاری سرپرستی میں  ان پر مشتمل  مکتی باہنی بنائی گئی تھی ۔ جس نے ہماری فوج کے شانہ بشانہ  مشرقی پاکستان کو الگ کردیا۔ اس  اقدام کو پوری قوم نے سراہا  اور حزب اختلاف کے رہنما اٹل بہاری واجپائی نے سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کو سراہتے ہوئے انہیں درگا کے خطاب سے نوازدیا۔ اس وقت پناہ گزین مجاہدین آزادی تھے اور ان کے سبب ملک کےامن و سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا تھا۔اس کے برعکس روہنگیا  ئی مسلمانوں کو جب میانمار کی حکومت دہشت گرد قرار دیتی ہے تو ہمارے وزیراعظم دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ مییں اس کی تائید فرماتے ہیں۔ بنگلادیش کے مسلمانوں کی طرح روہنگیا کے مسلمان مجاہدین آزادی نہیں بلکہ  دہشت گرد کہلاتے ہیں اور ان کو تلاش کرکے واپس موت کے منہ میں جھونک دینے کی دھکمی دی جاتی ہے۔ کیا یہ منافقت نہیں ہے؟

ہماری خارجہ پالیسی میں اس طرح کا تضاد نیا نہیں ہے۔ سری لنکا کے معاملے میں اس کا بدترین مظاہرہ کیا جاچکا ہے۔ سرلنکا کا شمالی علاقہ ہندوستان کی ریاست تمل ناڈو سے متصل ہے اور وہاں کے لوگ تمل زبان و تہذیب کے حامل ہیں۔ جس طرح روہنگیا میں اراکان کے ساتھ وہاں کی بودھ حکومت نے امتیاز برتا اسی طرح کا بھید بھاو جافنا کے تمل  نژادعلاقوں کے ساتھ بھی کیا گیا۔ سری لنکا کی شدت گوکہ  نسبتاً کم تھی اس کے باوجود حکومت ہند نے اس مسئلہ میں دلچسپی لی۔ تمل پناہ گزین کو ملک کے مختلف حصوں میں بسایا گیا اور مکتی باہنی کے طرز پر تمل ٹائیگرس  کو فوجی تربیت دی گئی۔ ایک زمانے میں اور حکومتِ ہند کی سر پرستی میں پلنے والی  تمل ٹائیگرس کا شمار دنیا سب سےخطرناک  مسلح تنظیموں میں ہوتا تھا۔ اندرا گاندھی کے  بعد  راجیو گاندھی برسرِ اقتدار آئےتو  سارا نقشہ یکسر بدل گیا۔

راجیو گاندھی کو نہ جانے کس نے یہ مشورہ دیا کہ اگر وہ سری لنکا کے اندر خانہ جنگی کا خاتمہ کروادیں تو انہیں امن کا نوبل انعام مل جائیگا۔ بس پھر کیا تھا انہوں نے اپنی ہی پروردہ تمل ٹائیگرس کے خلاف ایڈین پیس کیپنگ فورس(آئی پی کے ایف) قائم کردی اور اسے سری لنکا روانہ کردیا۔ دیکھتے دیکھتے کل کے مجاہدین آزادی دہشت گردکہلانے لگے اور ان کے پشت پناہ انہیں کے جانی دشمن ہوگئے۔ اس مہم نےہماری ہم زبان، ہم مذہب اور ہم تہذیبتمل ٹائیگرس کا قلع قمع کردیا۔ اس اقدام میں بے شمارہندی فوجیوں  نے اپنی جان گنوائی لیکن اس کے خلاف کسی نے لب کشائی نہیں کی۔ اس کی وجہ سے تمل ناڈو میں  کانگریس پارٹی کا صفایہ  ہوگیا   اور یہی چیز  آگےچل کر راجیو گاندھی کے قتل کا سبب بھی بنی۔

روہنگیا مسلمانوں کی بابت اس اندیشے کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ان کے دہشت گردی میں ملوث ہوجانے کے روشن امکانات ہیں۔ سوئے اتفاق سے جس روز عدالت میں مقدمہ پیش ہوتا ہے اسی دن بنگلادیشی نژاد برطانوی  کی گرفتاری عمل میں آتی ہے۔ اس پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ روہنگیا پناہ گزینوں القائدہ یا داعش میں شامل کرنے پر تعینات تھا۔ اس شخص کی گرفتاری کی تاریخ شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔ اٹھتے بیٹھتے مسلمانوں کوقومی  سلامتی کے لیے خطرہ بتانے والے بھول جاتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کو ایک ہندو نے قتل کیا تھا۔ اندراگاندھی کو قتل کرنے والا مسلمان نہیں تھا اور راجیو گاندھی پر حملہ کرنے والے بھی ہندو ہی تھے۔ اس لیے اس ملک میں دہشت گردی کے سب بڑے واقعات میں مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلم  ملوث رہے ہیں۔ ہیمنت  کرکرے اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کرنے والوں پر مسلمانوں کے ملوث ہونے کا شبہ تک نہیں کیا گیا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے پانسرے، کالبرگی  اور گوری لنکیش کے قتل پر کسی مسلمان سے تفتیش تک نہیں کی گئی۔

ان واقعات  کے باوجود جو سیاستداں  مسلمانوں کی دہشت گردی کا ہوا کھڑا کرکے اپنی سیاست چمکاتے ہیں دراصل ان کا نہ کوئی مذہب  ہوتا ہے اور نہ ان کی زندگی کا  کوئی اعلیٰ و ارفع مقصد ہی ہوتا ہے۔ ان کا مذہب ابن الوقتی اور مقصد اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔ ان کی ساری تگ و دوسرکاری تعیش  کی خاطر ہوتی ہے۔ اندرا جی نے بنگلادیش کے نام پر انتخاب میں کامیابی حاصل کی مگر خالصتان کی مدد سے انتخاب جیتنے سے قبل پرلوک سدھار گئیں۔ راجیو گاندھی نے سری لنکا کی مدد سے وہی کوشش کی اپنی جان گنوا بیٹھے۔ اٹل جی نے ایک بار کارگل کے سائے میں انتخاب جیتا مگر لاہور والی بس ان کو اقتدار پر فائز نہیں کرسکی۔ گودھرا کے فسادات  نے مودی جی کو وزیراعلیٰ سے وزیراعظم کی عہدے تک تو پہنچا دیا اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کو دوبارہ  اسےحاصل کرنے کے لیے کون سا جوا کھیلتے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے؟

زندگی کی طرح  کا  اقتدار بھی ابدی نہیں ہوتا دنیائے فانی کی ہر شئے کے مانند سرکار بھی آنی جانی ہے۔ اس کے باوجود ہر حکمراں اس کی کسی نہ کسی صفت کے سبب یاد کیا جاتا ہے اور  وزیراعظم نریندر مودی کو ان کے سیاسی تضا دات  کے سبب بھلایا نہیں جاسکے گا۔ مودی جی رنگون میں جاکر بہادر شاہ ظفر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں  تاکہ ساری دنیا کو یہ پیغام جائے کہ وہ فرقہ پرست نہیں ہیں جبکہ  اترپردیش میں ان کی اپنی  جماعت بی جے پی  کا نائب وزیراعلیٰ کیشو پرشاد موریہ مغلوں کو لٹیرا قرار دے کر تاریخ سے ان کا نام ونشان مٹانے کا عزم کرتے ہیں اور وہ اس کو اُف تک نہیں کہتے ۔  سوال یہ ہے کہ اگر مغل لٹیرے تھے تو بہادر شاہ ظفر کی قبر پر جاکر پھول چڑھانے اور ذرائع ابلاغ میں اس  کی تصویر چھپوانے کی  زحمت کیوں کی گئی؟ ان تضادات کی روشنی میں عصرِ حاضر کی سیاست پر غالب کا یہ شعر معمولی ترمیم کے ساتھ منطبق ہوجاتا ہے؎

مجموعۂ اضداد ہے دنیا مرے آگے 

 ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ ادیتیہ ناتھ کا فرمان جاری ہوتا ہے کہ تاج محل ہندوستانی  تہذیب وروایات کا حصہ نہیں ہے لیکن وزیراعظم یوم آزادی کا خطاب لال قلعہ سے ارشاد فرماتے ہیں۔ یہ عجیب معاملہ ہے کہ  شاہجہاں کا تعمیر کردہ   لال قلعہ تو قومی شان  ہے لیکن تاج محل قومی ورثہ نہیں ہے۔ یہ بھی حسن اتفاق ہے یوگی جیسے لوگ جن  عمارتوں سے نفرت کرتے ہیں  دنیا بھرکے سیاحانہیں کی محبت میں کھنچے چلے آتے ہیں۔ وہ تو اچھا ہی ہے کہ  تاج محل کو دیکھنے کے لیے آنے والے لوگ ورنداون کے ان مندروں کا رخ  نہیں کرتے جہاں ضعیف بیوائیں گھٹ گھٹ کر کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزارتی ہیں۔ اس حقیقت کا انکار ناممکن ہے کہ ساری دنیا میں  تاج محل کو ہندوستان کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

بی جے پی کا یہ موقففسطائیت کا مظہر ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر  مودی  اپنے ساتھ جاپانی سربراہ  شنزو آبے کواحمدآباد کی  سِدی سعید مسجد میں لے کر جاتے ہیں۔ یمن سے آنے والے ایک غلام نے یہ شاندار عمارت ۱۵۷۳ میں تعمیر کروائی جس کو  مغل دور کی سب  سے بڑی مسجد ہونے کا امتیاز حاصل ہے۔ اس کی کھڑکیوں پر تراشی گئی جالیوںلپٹتی شاخوں کی نقاشی  پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ دوسرے سے کرتی یہ نقاشی پتھروں کو تراش کر کی گئی ہے۔سِدی سعید کی بھی خصوصیت یہ ہے کہ انہیں  مغل بادشاہ اکبر نے امیر الحج بنا کر بھیجا تھا۔ کیا  ورن آشرم پر یقین رکھنے والےہندوتووادی اپنی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کوئی ایسی مثال پیش کرسکتے ہیں۔

 تاج محل جس طرح  ہندوستان کی علامت ہے اسی طرح اس مسجد کی  جالی احمد آباد کی پہچان بن گئی ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت  یہ ہے کہ شہر کے معروف ترین  آئی آئی ایم احمد آباد کے لوگو میں بھی یہ جالی نظر آتی ہے۔ اب اگر یوگی اور موریہ جیسے تنگ نظر ان حقائق سے آنکھیں موند لیں تو یہ ان کی کمبختی ہے۔ مودی اور یوگی کا متضاد رویہ گواہی دیتا ہے کہ سنگھ پریوار ایک مجموعۂ اضداد ہے لیکن ملک کی عوام اس کا ادراک نہیں کرپارہے ہیں  اس لیے کہ ذرائع ابلاغ ان کی پردہ پوشی کرکے  لوگوں کوغیر ضروری مسائل میں الجھائے رکھتا ہے مگر یہ کھیل زیادہ دنوں تک چل نہیں سکتا۔ ملک کے لوگ جب یہ محسوس کرلیں گے کہ انہیں بے وقوف بنایا جارہا ہے تو وہ فریبی لوگوں کو اس کی سزا ضرور  دیں گے۔  فی الحال راہل گاندھی نے  گجرات کے اندرمودی کے خلاف جو محاذ  کھولا ہوا  اسے دیکھ کر غالب کی  اس غزل   کا ایک شعر ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎

عاشق ہوں پہ معشوق فریبی سے مجھے کام 

  مودی کو برا کہتا ہے راہل میرے آگے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close