آج کا کالم

مجھے مت ڈرائيے!

رويش کمار

فون کیجیے مگر اپنی جذباتیت ہم پر مت تھوپیے. ہمیں پتہ ہے اس سسٹم نے آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے. لیکن یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ فون پر رونے لگیں، کہنے لگیں کہ ہمیں انصاف نہیں دلائیں گے تو جان دے دیں گے. ایک دو فون چلتے ہیں، جب تعداد بڑھ جاتی ہے تو فون رکھنے کے بعد سانس اٹکی رہتی ہے کہ دوسری طرف کی آواز خاموش تو نہیں ہو گئی. ایک رپورٹر اینکر کو اس طرح سے تکلیف دینا ٹھیک نہیں ہے. عدالت ہے، پولیس ہے، ممبر اسمبلی ہیں، ایم پی ہیں. یہ لوگ نہیں ہیں تو آپ سوچئے کہ یہ لوگ کیوں ہیں؟ میں کتنے لوگوں کا بوجھ لے سکتا ہوں. نہ تو ہر کہانی دکھا سکتا ہوں نہ ہر کسی کا فون لے سکتا ہوں۔ پھر بھی کوشش رہتی ہے کہ اجتماعی طور پر بات اٹھ جائے، جو کہ میرے بس میں ہے. آج ایک ایسا ہی فون آیا. دماغ خراب ہو گیا. ان سے ہمدردی جتنی نہیں ہوئی اس سے کہیں زیادہ لگا کہ کوئی مجھ سے چيٹ کر رہا ہے. میں ان کی کہانی سمجھتا ہوں. جب عدلیہ کی کرسی پر بیٹھ کر کسی کی یہ حالت ہو جائے تو ہم کیا کریں. ایک صحافی کیا کرے جب کوئی جج اس کے سامنے رو رہا ہو. کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں. میں کیا کروں.

ویسے بھی سنتا رہتا ہوں کہ نو بجے یہاں پرائم ٹائم بند کر دیا، وہاں سے ہٹا دیا. پانچ چھ دنوں سے مسلسل بینکروں کے میسیج پڑھ رہا ہوں. نوکری سے پریشان نوجوانوں کے میسیج پڑھ رہا ہوں. جب ہمارے یوتھ کی یہی پولیٹكل کوالٹی ہے کہ لیڈر انھیں برباد کرکے انھیں سے نعرے لگوا لیتا ہے تو میں اس یوتھ کا کیا کر سکتا ہوں. کیا وہ اپنے شو سے بدل جائے گا، اس کا جواب وہی دے سکتا ہے مگر اسے تو ہر ریاست کے لیڈروں نے استعمال کیا ہے. جب چار چار سال تک رذلٹ نہیں نکلا اس کے بعد بھی آپ سوشل میڈیا پر نعرے لگا رہے تھے، کسی نہ کسی رہنما کی دھوتی اٹھائے ہوئے تھے، جوتی سر پر رکھ کر چل رہے تھے تو برداشت کیجیے. ہزاروں بھرتیوں کی بات میں کس طرح اکیلے رکھ سکتا ہوں. پر کوشش تو کر ہی رہا ہوں.

لوگوں کو نمبر کیا دیا، ایک ہی میسج ہزار لوگ کر رہے ہیں. مجھی کو رلا دیا ہے. اس کے بعد بھی 18 سیریز تک ٹک گیا، کیا یہ کم ہے. مجھے پتہ ہے کہ آپ دیکھ شری دیوی ہی رہے ہیں تبھی تو آپ اسی پر دنادن پوسٹ کر رہے ہیں. اس کے بعد بھی زیرو ٹی آر پی کی حد تک جاکر 18 دن سے نوکری سیریز کر رہا ہوں. یہ کس قسم کے یوتھ ہیں، کوئی ان سے پوچھے گا کہ ان کی پولیٹكل کوالٹی کیا ہے؟ بے شک میسیج کیجیے ایک دو میسیج کافی ہے. میں کہاں منع کر رہا ہوں.

ان سب کے درمیان میں میسیج آجاتے ہیں کہ آپ کچھ بھی کر لو مودی جی دوبارہ وزیر اعظم بنیں گے. یہ تو حد ہے. جب سیاست پر بحث کرتا تھا تب لوگ رائے دینے لگے کہ تم کچھ اور کر لو. وہ یہ نہیں کہہ پائے کہ ترجمان ڈر کے مارے بھاگ گئے ہیں. ان کی سانسیں پھول جاتی ہیں. ٹھیک ہے بھائی سیاست چھوڑ کر یونیورسٹی سیریز کی 27 دنوں تک لگاتار. کسی نے کچھ بولا، تب بھی کرتا رہا. پھر نوکری پر آگیا. 18 سیریز کر چکا ہوں. ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو جواننگ لیٹر ملے ہیں. بہت سے امتحانات جو کھائی میں پڑے تھے انہیں دوبارہ سے شروع کیا گیا ہے. اب اسی کے ساتھ بینکروں کی سیریز شروع کر دی ہے.

اب ان سب سے بھی بھائی لوگوں کو مصیبت ہے. تیرہ لاکھ بینکروں کو غلام کی طرح رکھا جا رہا ہے، وہاں خواتین بینکروں کو ستایا جا رہا ہے، کیا اس کہانی میں مودی جی کے حامیوں کے خاندان کے لوگ نہیں ہیں؟ تو پھر کیوں میسیج بھیج رہے ہیں کہ کچھ بھی کر لو مودی جی ہی دوبارہ آئیں گے. میں کیا کروں وہ چوبارا آجائیں گے تو. ہمارے دماغ میں تو یہ سب نہیں آتا. ان لوگوں کو کیوں لگتا ہے کہ میرے بینک سیریز کے بعد بھی مودی جی آئیں گے یا نہیں آئیں گے. بینکروں نے نوٹ بندي کے دوران دس ہزار سے ڈھائی لاکھ تک کی تلافی اپنی جیب سے کی ہے. جعلی نوٹ آجانے، سڑے گلے نوٹ آجانے یا غلط كاؤنٹنگ ہو جانے کی وجہ سے. میں تو مودی جی کی تعریف کرتا ہوں کہ لوگوں کی جیب سے ڈھائی لاکھ کٹ گئے تب بھی ووٹ ملے انہی کو. کس لیڈر کو یہ نصیب ملتا ہے.

لیکن ایک بات ہے. آپ مودی جی کے حامی ہیں، اچھی بات ہے. مگر مجھے ڈرانا بند کر دو کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آجائیں گے. دیکھنا ہی چاہتے ہیں تماشا تو یہ تصور کریں کہ میں ان کے سامنے ہوں، کیمرا لائیو ہو، پہلے سے کچھ بھی طے نہ ہو اور دو چار گھنٹے کھل کر سوالات کا دور چلے. آپ بھی یاد کریں گے کہ بھارت کی جمہوریت اس اونچائی کو بھی چھو سکتی ہے. آپ کے ملک میں ڈھنگ کا ایک کالج تک نہیں ہے، ان ریاستوں میں بھی نہیں ہے، جہاں بی جے پی کے وزیر اعلی 15 سال سے راج کر رہے ہیں، ہمارے بہار میں بھی نہیں ہے جہاں نتیش کمار 15 سال سے راج کر رہے ہیں. ہم کیا کریں؟

پہلے کے صحافیوں نے بھی یہ سوال اٹھائے ہیں، میں بھی اٹھا رہا ہوں. یہ تو بہت عام سا کام ہے. اب بھارت کے نوجوانوں کو اپنی بربادی کا شوق لگ گیا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں. تو مودی جی کے حامیان، آپ ان کو دوبارہ لے آئیں. آپ چاہتے ہیں تو پیشگی مبارکباد دے دیتا ہوں.

ایک دن ایسا آئے گا کہ ہم اور مودی جی چائے پی رہے ہوں گے اور آپ چھاتی پیٹ رہے ہوں گے. آپ کی ضرورت ڈھول پیٹنے سے زیادہ کی نہیں ہے. وہ کام کرو مگر ضروری نہیں کہ کان کے نزدیک آکر دھم دھم کرو. وہاں آپ کی پوچھ نہیں ہے، میری ہے. میں شو کرتا ہوں تو اثر ہوتا ہے. سمجھے. میں حکومت کا بھلا کر رہا ہوں. وقت سے پہلے غلطی سدھارنے کا موقع دے رہا ہوں. آپ ڈراتے رہ گئے مجھے. حد ہے. کہیں ایسا تو نہیں کہ مجھی ہی سے ڈر لگتا ہے. چلو کوئی نہیں. کہہ دینا کہ چھینو آیا تھا.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close