آج کا کالم

مراٹھا اور مسلم کرانتی مورچہ

مسلمان موجودہ  حکومت سے ریزرویشن کی توقع نہیں کرتے اس لیے مراٹھوں جیسی مایوسی کا شکار نہیں ہوں گے۔

ڈاکٹر سلیم خان

وطن عزیز میں پسماندہ طبقات کی ترقی کے لیے ریزرویشن کا نسخہ تجویز  کیا گیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تعلیم اور ملازمتوں میں اس کے سبب بہت بڑی تبدیلی آئی ہےمگر  یہ   حکمت عملی دستور ساز حضرات کی اس توقع پر پوری نہیں اتر سکی کہ دس سال کے بعد اس کی ضرورت باقی نہیں رہے گی اور اسے ختم کردیا جائے گا۔ سچ تو یہ  وقت کے ساتھ  اس ضرورت میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور جو لوگ ریزرویشن سے محروم تھے وہ ریزرویشن کا مطالبہ کرنے لگے یہاں تک کہ ایک حد مقرر کرنی پڑی۔ فی الحال ملک میں جاٹ، پٹیل  اور مراٹھے ریزرویشن کی  مانگ کررہے ہیں۔ ریاستی سرکار ان کو یہ حق دیتی ہے جو عدالت میں منسوخ ہوجاتا ہے۔ ریزرویشن چونکہ ذات پات کی  بنیاد پر دیا جاتاہے اس لیے مسلمانوں کے اندر اس کے تعلق سے خدشات تھے۔ سچر  ودیگر کمیشن نے جب من حیث الامت  مسلمانوں کو  معاشی پسماندگی کے سبب ریزرویشن دینے کی سفارش کی تو مذکورہ رکاوٹ دور ہوگئی۔ تمل ناڈو  اور کیرالہ میں مسلمانوں نے ریزر ویشن حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے تلنگانہ میں یہ عدالت عظمیٰ کی مرہوں منت جاری  ہے مہاراشٹر میں اس کو دے کر چھین لیا گیا ہے  اور دوبارہ حصول کی خاطر مسلم کرانتی مورچہ تجویز عمائدین امت کے پیش نظر ہے۔

مہاراشٹر کی سابقہ حکومت نے مراٹھوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی ریزرویشن دیا تھا۔ مراٹھوں کے ریزرویشن  کو عدالت نے مسترد کردیا لیکن مسلمانوں کے تعلیم گاہوں میں اسے تسلیم کرکے ملازمتوں میں زیر غور رکھا۔ حالیہ  حکومت  مراٹھوں کو ریزرویشن  دینا چاہتی ہے مگر مسلمانوں کا یہ حق تسلیم نہیں کرتی۔ اس لیے کہ  وہ جہاں مراٹھوں کے ووٹ سے پرامید ہے وہیں  مسلمانوں کے تعلق سے مایوس ہے۔ مراٹھوں نے چونکہ اس حق کے حصول کی خاطر مراٹھا کرانتی مورچہ  کے تحت زبردست تحریک چلائی اس لیے مسلمانوں کے اندر بھی ان خطوط پر آگے بڑھنے کا  داعیہ موجود ہے۔ اس موقع پر مراٹھا مکتی مورچہ کے خدوخال اور کامیابیوں و ناکامیوں کا معروضی جائزہ پیش نظر رہنا چاہیے تاکہ ان کی غلطیوں سے احتیاط برتا جاسکے۔ مراٹھا کرانتی مورچہ کے رہنما  انتخاب میں براہِ راست حصہ نہیں لیتے اس لیےیہ ایک غیر سیاسی تحریک ہے  لیکن اس کا امتیاز  یہ بھی ہے  کہ  ساری سیاسی جماعتوں کی اس کو حمایت حاصل ہے۔ گویا سیاسی حمایت سے چلنے والی یہ ایک سماجی  تحریک ہے۔

اس کی پہلی کامیابی مراٹھا سماج میں  بڑے پیمانے پر بیداری و اتحاد پیدا کرنا ہے۔  اس کے زبردست پرامن جلوس میں لاکھوں لوگوں نے نظم و ضبط کے ساتھ  شرکت کرکے عوام و خواص سے دادِ تحسین حاصل کیا ۔ اس تحریک کی دوسری کامیابی یہ ہے صوبائی  حکومت کو ان کے لیے آئینی ترمیم کے ذریعہ  ریزرویشن کا راستہ ہموار کرنے پر غور کرنا پڑا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اپنے دوسرے مرحلے میں مراٹھا تحریک تشدد کا شکار ہوگئی اور رہنماوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود آئے دن مختلف مقامات پر تشدد کے واقعات رونما ہونے لگے۔ اس بے چینی کا اہم  سبب نتائج کے حصول  میں تاخیر ہے۔ اپنے دوسال کی تکمیل پر مراٹھا مورچہ نے جب بند کا اعلان کیا تو  خوف و دہشت کا یہ عالم تھا کہ  صوبائی حکومت کو ۹۰ فیصد ایس ٹی بسیں  معطل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کے باوجود ممبئی کے علاوہ مختلف شہروں میں  تشدد پھوٹ پڑا جس میں پولس والے بھی زخمی ہوئے۔

صوبائی حکومت نے اس تحریک کے ساتھ کمال نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  طاقت کے  استعمال سے گریز کیا مگر یہ  بیداری جب  مایوسی میں بدلی تو مراٹھا نوجوانوں میں  خودکشی کی وارداتیں رونما ہونے لگیں  اور ایک اندازے کے مطابق  یہ تعداد ۲۵سے تجاوز کرگئی۔ اس سنگین صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے این سی پی کے  مراٹھا رکن پارلیمان وجین راجے بھونسلے نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ آج جان دینے والے کل جان لینے والے بن سکتے ہیں اس لیے حکومت ایک نئی نکسلوادی تحریک کو جنم دینے سے باز آئے۔اس تحریک کا سیاسی پہلو یہ ہے کہ جو مراٹھے کل تک  سرپرستی کرتے تھے اب ریزرویشن کا کٹورہ تھامے دربدر ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے پاس پہلے ریزرویشن  تھامگرمراٹھوں کے پاس اقتدار  تھا۔ اب اقتدار کی باگ ڈور پسماندہ طبقات کی مدد سے براہمنوں کے پاس چلی گئی اور مراٹھوں کے ہاتھ پسماندگی کاریزرویشن آیا چاہتا ہے۔ اس تبدیلی  کی بنیادی وجہ دیگر پسماندہ ذاتوں کے اندر مراٹھوں کے حوالے  والے پیدا ہونے والا  عدم تحفظ  کا احساس  ہے جو انہیں  بی جے پی کی گود میں ڈھکیل رہا ہے۔

اس حقیقت کا ثبوت یہ ہے کہ دو سال تک کامیابی کے ساتھ چلنے کے بعد یہ تحریک جب بام عروج پر پہنچی تو سانگلی اور جلگاوں کے میونسپل انتخابات کے نتائج نے سارے سیاسی مبصرین کو چونکا دیا۔ ان میں سے ایک سانگلی تو مراٹھوں کا ایساگڑھ رہا ہے جہاں بی جے پی کے پاس  ایک سیٹ بھی نہیں تھی اور دوسرا جلگاوں بھی سریش دادا جین کا علاقہ ہے جو کسی زمانے میں این سی پی کے رہنما تھے اور بعد میں ایک آزاد گروہ بنالیا۔ ان مقامات پر بی جے پی کی زبردست کامیابی اس کا ثبوت ہے   کہ پسماندہ طبقات  کانگریس، این سی پی بلکہ  سریش دادا جین  جیسے  علاقائی  رہنماوں کو چھوڑ کر بی جے پی کی پناہ میں جاچکے  ہیں اور وہ مقامی رہنما جو کل تک مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ تھے وہ اپنی وفاداری نیلام  کرکے  کمل کے بندۂ بے دام  ہو گئے ہیں۔

 جلگاوں  کے  اندر گزشتہ انتخاب میں  این سی پی کے ۱۱ کاونسلر تھے اور کانگریس کا کوئی کاونسلر نہیں تھا۔  اس بار این سی پی بھی کانگریس کے ساتھ صفر پر آگئی جبکہ بی جے پی ۱۵ سے ۵۷ پر پہنچ گئی۔ یہ غیر معمولی تبدیلی ہے جس کو نہ  نظر انداز کیا جاسکتا اور  نہ مراٹھا آندولن سے الگ کرکے سمجھا جاسکتا ہے۔ سانگلی میں اس سے بڑا الٹ پھیر ہوا۔ یہاں  پر بی جے پی صفر سے ۴۱ پر پہنچ گئی۔ اس کے برعکس کانگریس ۴۱ سے ۲۰ پر آگئی اور این سی پی کے نشستوں کی تعداد ۱۹ سے ۱۵ پر آگئی۔   یعنی  اب اپنے گڑھ میں کانگریس اور این سی پی مل کر بھی بی جے پی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ یہ نتائج اشارہ کرتے ہیں کہ مراٹھا کرانتی مورچہ سیاسی سطح پر نادانستہ اپنے دشمنوں کی راہ ہموار کررہا ہے۔

اس تناظر میں  مسلم کرانتی مورچہ اور مراٹھا کرانتی موچہ کا موازنہ ضروری ہے۔ مسلمانوں کے ہاتھ میں چونکہ مہاراشٹر کا  اقتدار نہیں رہا ہے اس لیے ان کی حالت مراٹھوں سے مختلف ہے۔ مسلمان موجودہ  حکومت سے ریزرویشن کی توقع نہیں کرتے اس لیے مراٹھوں جیسی مایوسی کا شکار نہیں ہوں گے۔ ویسے بھی مسلمانوں میں توکل علی اللہ کے سبب خودسوزی کا رحجان نہیں پایا جاتا اس لیے ان کا احتجاج  تشدد کی جانب مائل ہوجائے اس کا امکان کم  ہے۔ مسلم کرانتی  مورچہ کے تعلق سے ملی  قائدین اور عمائدین کی ایک نشست گزشتہ ہفتہ  اسلام جمخانہ میں ہوئی۔ اس کی خوبی یہ تھی کہ سارے مسلمان ارکان اسمبلی اور مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے علماء و مشائخ اس میں موجود تھے۔ وہاں  اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں وزیراعلیٰ کو میمورنڈم دیا جائے گا  اور قانونی چارہ جوئی کے لیے ماہرین سے مشورہ کیا جائے گا۔ اس  دوران  قائدین شہر ساتھ مل کر مشترکہ   لائحہ  عمل بنائیں گے۔ سارے رہنماوں نے یقین دلایا کہ اتفاق رائے سے جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر سب لوگ متحد ہوکر عمل درآمد کریں گے۔

یہ درست ہے کہ مذکورہ نشست میں  احتجاج کا  حتمی فیصلہ نہیں ہوا لیکن اس کے امکان کو خارج بھی نہیں کیا گیا۔ اس فیصلے کو آئندہ نشست تک ملتوی کیا گیا۔اس کے بعد ایک سابق رکن اسمبلی کا دلچسپ بیان اخبارات کی زینت بنا۔ انہوں نے پہلے تو یہ یاد دلایا کہ مراٹھا کرانتی مورچہ کی لگام غیر سیاسی لوگوں کے ہاتھ میں ہے یہ درست بات ہے اس لیے اگر وہ کہتے کہ مسلم کرانتی مورچہ کی قیادت بھی غیر سیاسی ہاتھوں میں ہونا چاہیے تو ٹھیک تھا لیکن انہوں نے تحریک کی ضرورت کو ہی سبوتاژ فرما دیا۔ وہ بھول گئے کہ مراٹھا مورچہ کو ساری سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے اس لیے ان کی بھی  بھلائی اس میں ہے کہ مسلم کرانتی مورچہ کی حمایت کریں۔ حقیقت یہ ہے ہمارے مسلم رہنماوں کا سابقہ ایک مہذب قوم سے پڑا ہے جہاں بچپن سے بڑوں کا ادب سکھایا جاتا ہے۔ ان کا تعلق اگر مراٹھا سماج سے ہوتا اور وہ مشورہ دیتے کہ  تحریک چلانے کے بجائے اس پارٹی کو انتخاب کرو جس نے ریزرویشن دیا ہے تو انہیں دال آٹے کا بھاو معلوم ہوجاتا۔ مراٹھا نوجوان  بی جے پی کے ایک رکن پارلیمان کی گاڑی توڑ چکے ہیں ۔ بی جے پی کے صوبائی صدر کو کشتی کے ذریعہ گاوں چھوڑنے پر مجبور کرچکے ہیں اور ان  کے سب سے قد آور رہنما شرد پوار کے مکان پر بھی دھرنا دیا گیا ہے ۔ مسلمان اچھا کرتے ہیں جو یہ سب  نہیں کرتے  لیکن ان کی شرافت کا غلط فائدہ اٹھانا  بھی درست نہیں ہے۔

ریزرویشن کے مسئلہ پر اس اجلاس سے قبل  مہاراشٹر کے مختلف شہروں  میں مسلمان احتجاج کرچکے ہیں۔ اس اجلاس کے بعد مالیگاوں کے مسلمانوں نے ۹ اگست کو  زبردست احتجاج کیا۔ پورے صوبے میں جمیعتہ العلماء کی جانب سے احتجاج و مظاہرے ہوئے۔ ممبئی میں بھی مختلف جماعتوں نے میمورنڈم دیا لیکن پتہ نہیں کیوں جب بھی کسی مظاہرے یا احتجاج کی تجویز آتی  ہےممبئی والوں  کو سلمان رشدی کا مظاہرہ یاد آجاتا ہے اور اس کی آڑ میں حوصلہ شکنی  شروع ہوجاتی ہے۔ دوسروں کی قربانیوں کو سراہا جاتا ہے مگر اپنی قربانیوں  سے عزیمت کے بجائے رخصت کا پہلو نکالا جاتا ہے۔ آزاد میدان کے  سانحہ کا بہانہ بناکر کہہ دیا جاتا ہے کہ ہمارے دشمن اس کا فائدہ اٹھا کر تحریک کو بدنام کردیں گے۔  کیا ہمارے دشمن صرف ممبئی میں ہیں ۔ ملک کے دیگر علاقوں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا  اور اگر ایسی شرارت پھر سے ہو تو کیا اس پر  قابو  پانے کی تدابیر ممکن نہیں ہیں  ؟  ان سوالات پر غور و خوض کیا جائے تو ملت اندیشوں سے نکل کرکوئی حوصلہ مند فیصلہ کرسکے گی  ورنہ عروس البلاد ممبئی کی مایہ ناز امت  چند واقعات کے یرغمال بنے رہے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close