آج کا کالم

مرا گلشن اجڑ جائے نہ یارو، مجھے ایک بار پھر تم ووٹ دے دو

بی جے پی کے گھٹیا انداز  سے نہ صرف حزب اختلاف بلکہ اس کی  حلیف شیوسینا بھی نالاں  ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

14 فروری 2019 کو پلوامہ کا حملہ ہوا  اور 10 مارچ  2019 کو   انتخابات کا اعلان ہوا۔  ان 28  دنوں میں انتخابات کی جو مہم چلائی گئی  وہ اپنی مثال آپ تھی۔  پلوامہ کے بعد 12 روز  نفرت و عناد کے شعلے بھڑکائے گئے۔ ہلاک شدگان کی ہمدردی اور  انتقام کا ماحول  تیارکیا گیا۔  26 فروری 2019 کو دوسرا سرجیکل اسٹرائیک کیا گیا۔ 10 مارچ 2019 تک اسے خوب جی بھر کے بھنانے کے بعد ضابطۂ اخلاق نافذ کردیا گیا۔ جمہوری نظام کی یہ ستم ظریفی ہے ساٹھ ماہ میں سے دوماہ  کے لیے عوامی نمائندوں کو اخلاق کے حدود و قیود میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے باقی ۵۸ ماہ انہیں شتر بے مہار کی مانند چھوڑ دیا جاتا ہے۔ وہ جنگلی درندوں کی مانند  بلاروک ٹوک جہاں چاہتے ہیں منہ مارتے پھرتے ہیں۔  اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس قدر بداخلاقی کا مظاہرہ انتخابی مہم کے دوران ہوتا ہے اس کا تصور عام دنوں میں کیا ہی نہیں جاسکتا۔بہتان تراشی، جھوٹ اور کذب کا ایک طوفان بپا ہوجاتا ہے۔ جب کوئی نیتا اس طرح گریہ و زاری  کرتا ہے تو  عوام اس سے تفریح بھی لیتے ہیں اور اس کو ووٹ بھی دیتے ہیں ؎

مرا گلشن اجڑ جائے نہ یارو،  بنی قسمت بگڑ جائے نہ یارو

 یہ میری عیش و عشرت کا گھنا پیڑ،  کہیں جڑ سے اکھڑ جائے نہ یارو

مجھے ایک بار پھر تم ووٹ دے دو،مجھے ایک بار پھر تم ووٹ دے دو

بی جے پی والے اس معاملے میں سب سے زیادہ بد احتیاطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔بی جے پی کی بدزبانی کس سطح تک جاسکتی ہے اس کا ثبوت مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڑے نے پیش کیا۔  مرکزی وزیر کو ایئر اسٹرائک کا ثبوت مانگے جانے  پرغصہ آگیا انہوں نے پوچھا  کیا راہل گاندھی اپنا ڈی این اے پروف دے سکتے ہیں کہ وہ برہمن ہیں۔ مسلم والد اور عیسائی والدہ  کا بیٹا ہندو کیسے ہو سکتا ہے؟ ہیگڑے شاید نہیں جانتے کہ فیرو زگاندھی  نام صرف مسلمانوں میں نہیں بلکہ پارسی قوم  میں بھی پایا جاتا ہے۔ہیگڑے نے بے تکا الزام لگاتے ہوئے کہا جب راجیو گاندھی کا قتل کیا گیا اس کے بعد ان کی شناخت کے لئے ان کے بچوں کے ڈی این اے کی مانگ کی گئی۔ اس موقع پر  سونیا نے راہل گاندھی کا ڈی این اے دینے سے انکار کر دیا تو پرینکا کا ڈی این اے لے کر ان کی شناخت ہو پائی۔ اس سے اوچھے  بیان  اندازہ لگایا جاسکتا ہے  کہ مودی راج میں سیاست کا معیار کس قدر گر چکا ؟

بی جے پی کے گھٹیا انداز  سے نہ صرف حزب اختلاف بلکہ اس کی  حلیف شیوسینا بھی نالاں  ہے۔ شیوسینا کے ترجمان سامنا نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ ہندوستانی فضائیہ کے حملے  کو انتخابی تشہیر کا ذریعہ بنانے والے اور فوجیوں کی وردی اور فوٹو کا استعمال کرکے  ووٹ مانگنےوالے بھی  فضائیہ کی کاروائی کا ثبوت طلب کرنے والی اپوزیشن کی طرح مجرم ہیں۔  سامنا میں بی جے پی کے رہنما منوج تیواری کام نام لے کر ان کے ذریعہ فوجی وردی کو استعمال کرنے پر اعتراض جتایا گیا۔  شیوسینا نے   ونگ کمانڈر ابھینندن کی تصویروں کے انتخابی تشہیرکے لیےاستعمال کی مذمت کی   اور لکھا  ’یہ کہنا چونکہ مرکز میں  بی جے پی کی حکومت تھی اسی لیے  پلوامہ حملےکا بدلہ لینا ممکن ہو پایا‘درست نہیں ہے۔ اس معاملے میں ایم این ایس کے راج ٹھاکرے کی تنقید اور بھی سخت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات سے قبل  پلوامہ جیسا  حملہ دوہرایا جا سکتا ہے۔ اسی  اندیشہ کا اظہار ممتا بنرجی نے بھی کیا۔  راج ٹھاکرے نے یاددلایا کہ ڈوکلام کے بعد  بی جے پی نے چین کے سامان کے بائیکاٹ کا نعرہ لگا یا  تھا، لیکن گجرات میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کا مجسمہ چین سے بن کر آیا۔ دوسروں  کو دیش دروہی  کہنے والے خود عجیب وغریب حرکتیں کرتے ہیں۔

 دیش بھکتی کے اس ہیجان انگیز   ماحول  نے حزب اختلاف کو دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا۔  کانگریس نے 28 فروری کو گجرات کے اڈالج میں ہونے والی اپنی  ’جَن سنکلپ ریلی‘رَد کر دی اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی  بھوک ہڑتال کو ملتوی کر دیا۔  اس کے برعکس بی جے پی نے سیاسی سرگرمیاں تیز کردیں  اور بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  وِنگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کی رہائی سے قبل   پی ایم نریندر مودی کی ویڈیو کانفرنسنگ کا اعلان کردیا۔  اس میں وزیراعظم نےکا تقریباً 15000 مقامات پر  موجود پارٹی کارکنان سے خطاب  کیا۔  مودی جی جانتے ہیں  کہ  پارٹی کارکنان کا حوصلہ بلند کیے بغیر انتخاب میں کامیابی ناممکن ہے اس لیے انہوں  ’اپنا دیش سب سے مضبوط ‘کے بجائے ’اپنا بوتھ سب سے مضبوط‘  کا نعرہ لگا دیا۔  حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ بی جے پی کی اس نوٹنکی میں شریک ہونے کے لیے  اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کے صوبائی  صدر مہندر ناتھ پانڈے لکھنو چھوڑ کر راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقہ امیٹھی پہنچ گئے۔  اس طرح ڈرامہ بازی کی ساری حدیں پھلانگ دی گئیں۔

اس موقع پر نشر ہونے والی مودی جی کی تقریر تو ہندوستان کی تاریخ  کے اندر طلائی حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔  انہوں نے فرمایا’یہ امتحان کی گھڑی ہے۔  ہمیں پہلے سے زیادہ کام کرنا ہے‘۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کام کیا کریں ؟ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ ’ گھر گھر جاکر سرکار کی اسکیموں کا فائدہ اٹھانے والوں سے ملیں‘۔ یہ تو نہایت مشکل کام ہے اس لیے کہ عوام میں تو یہ لوگ چراغ لے کر ڈھونڈنے سے نہیں ملیں گے۔  خواص میں سے نیرو مودی،  چوکسی اور ملیا جیسے لوگ ملک چھوڑ کر فرار ہوچکے ہیں نیز اڈانی اور امبانی جیسے لوگوں کے دربان ان بھکتوں کو گھر سے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیں گے۔ مودی جی نے نہ  جانے کیا سوچ کر  یہ بھی کہہ دیا کہ آج ہر ہندوستانی کے دل میں  تبدیلی کے جذبات ہیں۔ اس  کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ مودی سرکار کو بدل دینا چاہتے ہیں  لیکن سوچنے سمجھنے کا کام نہ تو مودی جی خود اور ان کے بھکت کرتے ہیں۔

  وزیراعظم نے اپنےپارٹی کارکنان  کو خبردار کیا کہ اس بار چوک ہوئی تو ملک میں  بدعنوانی کا بول بالہ ہوجائے گا۔  ویسے بدعنوانی تو اب بھی بامِ عروج پر ہی ہے۔  اس  کے  بعدانہوں سرحد کے جوانوں کی  یاد دلانے کے بعد کہہ دیا ’اب ناممکن،  ممکن ہے‘۔ یعنی سرجیکل اسٹرائیک سے پہلے جو ممکن نہیں تھا اب ممکن ہے اس لیے الیکشن مہم میں جٹ جاو۔ آگے کہا’  اپنی کوششوں کو وسیع کرو اس لیے کہ طالبعلم کتنا بھی ذہین کیوں نہ ہو امتحان کے آخری دنوں میں اس کو اپنی پوری قوت لگانی پڑتی ہے۔ اگر آپ نے بوتھ جیت لیا تو ہمیں  ارادے سے نتیجے تک پہنچنے میں وقت نہیں لگے گا‘۔  اس تقریر کے دوران کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا تھاکہ ملک حالت جنگ میں ہے۔ محاذ پر فوجی  ڈٹے ہوئے ہیں اور ابھینندن پاکستان کی قید میں ہے۔ مودی جی کی  اس خودغرضانہ  تقریر کا بھلا  کسی پر کیا  اثر ہوسکتا تھا؟  وزیراعظم کی حالت زار پر  علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎

پھُول بے پروا ہیں، تُو گرمِ نوا ہو یا نہ ہو

کارواں بے حِس ہے، آوازِ درا ہو یا نہ ہو

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close