آج کا کالم

مرحوم محمد ہاشم انصاری اور بابری مسجد 

خالد سیف اللہ اثری

افسوسناک اطلاع
آج  کی صبح ہندوستانی مسلمانوں کے لئے نہایت سوگوار رہی کیوں کہ آج کی صبح تقریباَ ساڑھے چھ بجے اے این آئی کے ذریعہ یہ افسوسناک اطلاع ملی کہ صبح کے پانچ بجے بابری مسجد کے سب سے بزرگ پیروکار محمد ہاشم انصاری‘ بابری مسجد متنازع اراضی سے 400 میٹر کی مسافت پر واقع اپنے چھوٹے سے گھر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 96 سال تھی۔ وہ ایک عرصے سے دل کے مرض میں مبتلا تھے اور انھیں پیس میکر لگا ہوا تھا۔ فروری میں ان کی حالت کے زیادہ بگڑ جانے کی وجہ سے انھیں لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کے آئی سی یو میں داخل بھی کیا گیا تھا۔ کچھ دنوں پہلے فریکچر بھی ہوگیا تھا لیکن پیس میکر لگنے کی وجہ سے آپریشن نہیں کیا گیا۔ وہ ادھر کچھ دنوں سے چلنے پھرنے سے بھی معذور تھے۔

مرحوم انصاری
محمد ہاشم مرحوم کی پیدائش 1921 میں اجودھیا کے ایک معمولی گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد پیشے سے درزی تھے جن کی وہیں کے ایک قریبی بازار میں دوکان تھی ۔ اپنے والد کے بعد انھوں نے بھی یہی پیشہ اپنایا لیکن ایمرجنسی کے بعد ایک سائیکل کی دوکان کھول لی۔ 1975 میں جب ایمرجنسی نافذ ہوئی تو پولیس انتظامیہ کی فہرست میں ان کا نام ہونے کی وجہ سے انھیں بھی بریلی کے سینٹرل جیل میں بھیجا گیا جہاں انھیں آٹھ مہینے تک قید میں رکھا گیا۔ نظریات کے کلی اختلاف کے باوجود ان کے تعلقات اپنے مخالفین سے بڑے خوشگوار تھے۔ اجودھیا کے ترموہی اکھاڑا کے رام کیول داس اور دگمبر اکھاڑا کے رام چندر پرمہنس سے ان کے تعلقات آخری وقت تک اچھے رہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 1992 کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ان کے ہندو پڑوسیوں نے ہی درمیان میں آکر ان کی جان بچائی تھی۔

بابری مسجد اور مرحوم ہاشم انصاری

مرحوم ہاشم انصاری بابری مسجد میں رام للا کی مورتیاں رکھنے کے شاہد ہیں۔ جب 22 دسمبر 1949 میں ہندو مہاسبھا کے ذریعہ بابری مسجد میں رام للا کی مورتیاں رکھی گئیں تو انھوں نے مسجد میں غیرقانونی طور سے داخلہ کے خلاف فیض آباد کورٹ آف سول جج میں مقدمہ دائر کیا۔ امن عامہ کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے انھیں اور لوگوں کے ساتھ جیل میں بھی ڈالا گیا۔ 1954 میں جب انھوں نے بابری مسجد میں اذان دی تو انھیں دو سال کی جیل ہوئی۔ 1961 میں جب سنی سینٹرل وقف بورڈ آف اتر پردیش کے سات اراکین کی جانب سے اجودھیا مقدمہ میں عرضیاں داخل کی گئیں تو اس میں مرحوم انصاری بھی اہم رکن تھے۔ رام پوجا کے لئے 1987 میں بابری مسجد کا تالا کھولا گیا اور 1992 میں اسے شہید کردیا گیا۔ اجودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد جو بلوہ ہوا اس میں مرحوم ہاشم انصاری کے گھر کو نذر آتش کردیا گیا تھا۔ مرحوم کے مطابق بابری مسجد کے شہادت کے اصل ذمہ دار کانگریسی رہنما اور اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ تھے ۔ ان کا ماننا تھا کہ نرسمہا راؤ کو سارے معاملات کی اطلاعات پہلے سے تھیں لیکن انھوں نے دانستہ طور پر کارسیوکوں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا کیوں کہ وہ بھی اس کی شہادت کے متمنی تھے۔ گرچہ کہ نرسمہا راؤ نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ دوبارہ  مسجد کی ازسرنوتعمیر کرا دیں گے لیکن انھوں نے محض مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے۔
2010 میں جب بابری مسجد کا فیصلہ آیا اور متازع اراضی کا عدالت کے ذریعہ بندر بانٹ کیا گیا تو اس وقت بھی مرحوم ہاشم انصاری نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس کے خلاف 2011 میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرنے والے سب سے پہلے مدعی تھے۔

تنازع کو سیاسی رنگ دینے کے خلاف تھے مرحوم
دسمبر 2014 میں انھوں نے بابری مسجد مقدمہ کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا تھا کیوں کہ ان کے مطابق بابری مسجد تنازع کو کچھ مسلم رہنما اپنی سیاست گرمانے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ انھوں نے مقدمہ سے اپنی دست برداری کا اعلان بھی کردیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے پاور آف اٹارنی اپنے بیٹے اقبال انصاری کو سونپ دی ہے۔ دی ہندو اخبار کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے ان کے بیٹے نے اپنے والد کا مقدمہ لڑنے کا عہد کیا ہے۔ ا ن کا لڑکا سماج وادی پارٹی کا کارکن ہے۔

بابری مسجد تنازع حل کی آخری کوشش
کورٹ کچہری اور بابری مسجد پر سیاسی گرم بازاری سے عاجز آکر انھوں نے 2015 میں کورٹ سے باہر بابری مسجد تنازع کے تصفیہ کے لئے کوششیں بھی کیں۔ فروری 2015 میں انھوں نے مہنت گیان داس ہنومان گڑھی سے اس سلسلے میں ملاقات بھی کی۔ کچھ دنوں پہلے بھی دونوں کی ملاقات ہوئی تھی اور دونوں نے ہی کہا تھا کہ یہ تنازع بغیر تشدد کے حل ہو جانا چاہیئے ۔ اسی سال جب 35 ٹن سرخ پتھر ٹرکوں میں لاد کر اجودھیا لایا گیا تو مرحوم انصاری نے اسے سیاسی کرتب سے تعبیر کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے سیاسی کرتب دکھا کر وی ایچ پی 2017 کے انتخابات کے لئے بی جے پی کی مدد کر رہی ہے۔ آخر میں آتے آتے بابری مسجد تنازع سے متعلق ان کا یہ نظریہ ہو گیا تھا کہ حکومت کے ذریعہ ایکوائر کی گئی 67 ایکڑ اراضی پر مسجد ومندر دونوں کی تعمیر ہو اور درمیان میں 100 فٹ اونچی دیوار کھڑی کر دی جائے۔ مرحوم آخری دم تک بابری مسجد تنازع کے حل کی آس لگائے رہے۔ ان کی بہت تمنا تھی کہ تنازع ان کی زندگی میں ہی حل ہو جائے۔ وہ کہتے تھے کہ وہ دو فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں؛ ایک بابری مسجد تنازع کا فیصلہ اور دوسرا موت کا فیصلہ۔ سیاست کا شکار بابری مسجد تنازع کا فیصلہ تو نہیں آ سکا لیکن بابری مسجد کے واقعات کو سب سے قریب سے دیکھنے والے اور اس کے مقدمے میں پیش پیش رہنے والے محمد ہاشم انصاری اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ کیا ان کی وفات سے بابری مسجد مقدمہ پر کچھ فرق پڑ سکتا ہے؟ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفر یاب جیلانی نے کہا ہے کہ ان کی وفات مقدمہ پر اثر انداز نہیں ہوگی کیوں کہ ان کے سارے بیانات ہائی کورٹ میں محفوظ ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں
Close