آج کا کالم

مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی۰۰۰!

سدھیر جین

سرکاری کام کاج کا اندازہ کیسے کریں؟ حکومت کے پاس تو اس کے طریقے پہلے سے بنے رکھے ہوتے ہیں. لیکن عام آدمی اپنی آمدنی اور خرچ میں تال میل بٹھاتے وقت ہی حساب لگاتا ہے کہ اس کی اپنی حکومت کیا کر رہی ہے. حکومت کے گڈ گورننس کا اندازہ کرنا چاہیں تو مہنگائی ہی ایک پیمانہ ہے. خوردہ بازار ہی محسوس کرنے کا اکلوتا ذریعہ ہے. لہذا، آج کل تھوک بازار کی قیمتوں کا پرچار عام لوگوں کو غلط فہمی میں نہیں ڈال پاتا. نئی حکومت نے مہنگائی روکنے کے اپنے اقدامات کا اعلان کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن کوئی ماننے کو تیار نہیں ہے کہ مہنگائی قابو میں آ گئی.

مہنگائی ہی تھا سیاسی تبدیلی کا سب سے بڑا مسئلہ

دو سال پہلے کے سیاسی ماحول میں مہنگائی کا مسئلہ اتنا بڑا تھا کہ اپوزیشن کے بڑے لیڈروں تک نے گردن سے لے کر پیٹ تک اشیاء خورد ونوش کی ریٹ لسٹ لگا کر مظاہرے کئے تھے. دال، آلو، ٹماٹر، چینی، دودھ کی قیمتوں کو لے کر مہینوں مہینوں تشہیر کی گئی تھی. ڈیزل- پیٹرول کے دام کم کرنے کے لئے حکومت کو روز نئے نئے طریقے بتائے جاتے تھے. مہنگائی کی چپیٹ میں آئی پرانی حکومت نے ڈیزل- پیٹرول میں ٹیکس کم کرنا تو کیا بلکہ سبسڈی دے کر مسلسل کئی ماہ سستا ڈیزل- پیٹرول بكوايا تھا. اس دوران حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر کے کہا گیا تھا کہ اگر اس طرح کے اقدامات کئے جاتے تو مہنگائی نہ بڑھتی.

دال، ٹماٹر، ڈیزل اور پٹرول کی یہ تھی حالت

پرانی حکومت کے وقت جب دال خاص طور پر ارہر 70 روپے کلو پہنچی تھی تو مہنگائی کی بحث گلی گلی میں ہونے لگی تھی. ٹماٹر جب 15 روپے سے بڑھ کر 30 روپے ہو گئے تھے تو یہ الزام لگایا گیا تھا کہ حکومت منافع خوروں پر لگام نہیں لگا پا رہی ہے. آلو پیاز کو لے کر تو اتنی ساری تجاویز تھیں کہ قیمت کنٹرول فنڈ بنا کر، درآمد کے ذریعے، سرکاری خریداری اور راشن نظام کے ذریعے مہنگائی سے نمٹا جا سکتا ہے. پٹرول کے بارے میں بڑے دلچسپ اعداد و شمار دیے گئے تھے. جب بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کا بھاؤ 147 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا تب یہ ثابت کیا جاتا تھا کہ ٹیکس کم کرکے اور ریفائنری کے خرچ کم کرکے پٹرول کی قیمت آسانی سے 35 روپے لیٹر کی جا سکتی ہے. عام لوگوں کو یہ ساری باتیں سننے میں منطقی بھی لگتی تھیں. چونکہ یہ باتیں عام آدمی کے براہ راست فائدے کی تھیں، سو ماہرین کی طرف سے ان کی زیادہ جرح بھی نہیں ہوئی تھی. یہاں تک کہ خود مدعی یعنی حکومت تک زیادہ نہیں بول پائی تھی.

آج کیا ہوا۰۰۰۰؟

بہر حال مہنگائی کا نعرہ لگا کر ہی حکومت بدلی گئی تھی. نئی حکومت نے آتے ہی سب سے پہلے مہنگائی کو قابو کرنے کا پرچار شروع کیا تھا. لیکن کبھی سب سے زیادہ موضوع بحث رہی ارہر کی دال 70 سے گھٹ کر 35 روپے ہونے کے بجائے 180 روپے فی کلو یعنی مہنگی سے بھی ڈھائی گنی مہنگی ہو گئی. کہنے کو کیا تو سب کچھ گیا. مثلا درآمد کا خوب پرچار ہوا. ذخیرہ اندوزی روکنے کے لئے چھوٹے تاجروں پر چھاپہ ماری اور تاجروں پر سختی کی باتیں کہی گئیں. پیداوار اور طلب کا حساب کتاب بھی دیکھا گیا. اس کے حساب سے بیرون ملک سے دال خریدنے کا پرچار کیا گیا. لیکن ارہر کی قیمتیں نیچے نہیں اتریں بلکہ چڑھتی ہی چلی گئیں. کہیں کہیں علامتی سرکاری فروخت کے ریٹ 120 روپے بتائے بھی گئے لیکن عام تجربہ یہی ہے کہ کھلی مارکیٹ میں ارہر 170 سے نیچے اتری ہی نہیں.

ادھر ملک کے رسوئیوں کی سب سے زیادہ ضروری چیز ٹماٹر تیس روپے سے گھٹنے کے بجائے اور مہنگا ہوکر 70 اور بہت سے جگہ 90 روپے تک پہنچ گیا. پٹرول آج تقریبا اسی بھاؤ پر آ گیا جو دو سال پہلے کی مہنگائی کے وقت تھا. جب کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں اس وقت تین سال پہلے کے مقابلے میں ایک تہائی ہیں. آلو ٹماٹر یعنی زیادہ تر ضروری چیزوں کی اس وقت یہی حالت ہے.

تیس لاکھ ٹن دال بیرون ملک سے خریدنے کے معاہدے کے معنی

بالکل تازہ اور سنسنی خیز خبر ہے کہ ہندوستان کے تاجروں نے اس سال ابھی سے 30 لاکھ ٹن دال بیرون ملک سے خریدنے کے معاہدے کر لیے ہیں. اناج سنگھ کی طرف سے کہا یہ گیا ہے کہ دالوں کی قیمتوں پر لگام لگانے کے لئے تاجروں نے یہ کام کیا ہے. ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی ہو. لیکن دالوں کی درآمد کا پرچار کرکے کسانوں کے پاس یہ پیغام بھجوا دیا گیا ہے کہ ہندوستانی مارکیٹ میں بیرون ملک سے لاکھوں ٹن دالیں منگائی جا رہی ہیں. کیا اس سے یہ اندازہ نہیں لگایا جانا چاہئے کہ ہندوستان کا کسان یہ سوچ کر چلے گا کہ اگلی فصل تک دال کی قیمت آج کے قیمت سے بہت نیچے رہنے والی ہے. اور کیا اس پر یہ دباؤ نہیں پڑے گا کہ دالوں کی پیداوار پر زیادہ زور لگانا اتنا منافع بخش نہیں ہو گا. دال ایک مثال کے طور پر ہے. باقی چیزوں پر بھی اس بات کا اطلاق ہوتا ہے. یہاں تک کہ حال ہی میں تمام علاقوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو پوری چھوٹ دینے کا منظر و پس منظر کیا اسی لحاظ سے سوچ کر نہیں رکھا جانا چاہئے.

موزمبیق سے دال خریدنے کی سرکاری کوششیں بھی شروع

یہ بھی خاص بات ہے کہ 21 جون کو حکومت کا ایک اعلی سطحی وفد دال درآمدگی کے امکانات پر غور کرنے کے لئے موزمبیق روانہ ہوا ہے. اب چونکہ اناج تاجروں نے بیرون ملک سے صرف 30 لاکھ ٹن دال خریدنے کے معاہدے کئے ہیں جب کہ کمی 70 لاکھ ٹن کی ہے. سو اس فرق کو ختم کرنے کے لئے حکومت کو بھی اپنی کوششیں دکھانی ہیں. مگر اس سے تاجروں پر کیا اثر پڑے گا، اسے بھی دیکھا ہی جا رہا ہو گا. لیکن یہ طے ہے کہ ہندوستان کے دال پیدا کرنے والے کسانوں کو چاروں طرف سے یہی اطلاعات مل رہی ہیں کہ مستقبل قریب میں دالوں کی پیداوار کو وہ بہت منافع کی کاشت مان کر نہ چلیں.

ویسے بھی آب پاشی کے انتظامات میں اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے کسانوں کے سامنے خشکی کا مسئلہ سال در سال بڑھنا شروع ہو گیا ہے اور بارش کی بنیاد پر کاشت کاری ہمیشہ سے ہی جوکھم بھرا کام ہوتی ہے. بہر حال نئے دور کا کھلا بازار یہ دیکھ رہا ہے کہ ملک میں اشیاء خورد ونوش کا فقدان ہے اور مہنگائی روکنے کی جوں جوں دوا کی جا رہی ہے مہنگائی اس سے بھی تیز رفتاری سے بڑھتی جا رہی ہے.

حال فی الحال سیلاب کا اندیشہ اور مہنگائی

اس وقت  پرچار اس بات کا ہے کہ بارش اچھی ہونے والی ہے. خوب پیداوار ہو گی. بازار اناج سے بھرے ہوں گے یعنی ڈیمانڈ اور سپلائی کے اصول کے لحاظ سے قیمتیں نیچے آ جائیں گی. لیکن یہاں پیچ یہ ہے کہ اس بار بارش معمول نہیں بلکہ معمول سے نو فیصد سے زیادہ ہونے کا اندازہ ہے. اوپر سے مانسون کے آنے میں دس دن کی تاخیر یہ بتا رہی ہے کہ سمندر سے اڑ کر آسمان میں جمع پانی اب ہر روز کے اوسط کے لحاظ سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ گرے گا. اس سے یہ اندیشہ ہونا قدرتی ہے کہ اناج، سبزیاں، دودھ اور دوسری روز مرہ کی اشیاء بازار تک پہنچانے میں تیز بارش حال فی الحال بڑی اڑچن پیدا کرنے والی ہے. یعنی مہنگائی پر قابو کے لئے برسات کے دنوں میں با سہولت فراہمی کی تیاری کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہے …!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Close