آج کا کالمنقطہ نظر

مریض کے لواحقین کیوں آپا کھو رہے ہیں؟

رويش کمار

سوال خود سے پوچھنا چاہئے کہ کیا ہم ہر حال میں تشدد کی ثقافت کے خلاف ہیں. اگر ہیں تو کیا تمام قسم کے تشدد کے خلاف بول رہے ہیں. آخر کیوں ہے کہ پولیس اور عدالت کے رہتے ہوئے کئی تنظیمیں گلے میں پٹا ڈال کر کھانے سے لے کر اوڑھنے اور پہننے کی تلاشی لینے لگتے ہیں. کیوں لوگوں علاج میں چوک ہونے پر براہ راست ڈاکٹروں کو ہی مارنے لگتے ہیں. قانون اپنے ہاتھ میں لینے لگتے ہیں. کیا انہیں پولیس کی تحقیقات میں اعتماد نہیں ہے. بھیڑ بنا کر پولیس پر دباؤ ڈالنے کی مخالفت اور بھیڑ بن کر اسپتالو پر حملہ کرنے کی مخالفت، دونوں ہونا چاہئے. ورنہ ایک جگہ ڈاکٹر ڈریں گے اور دوسری جگہ لڑکیاں. حالت یہ ہے کہ سڑک پر چلتی گاڑی میں کھرونچ آنے پر ڈرائیور دوسری گاڑی کے ڈرائیور کو مار مار کر ادھ مرا کر دیتا ہے. یہ غصہ کہاں سے آ رہا ہے. بتا رہا ہے کہ ہم بیمار ہیں. سماجی طور پر بھی سیاسی طور پر بھی.

جے پور کے ایک ریستوران کو کچھ لوگوں کی بھیڑ نے گھیر لیا جبکہ وہاں پولیس تھی. شک تھا کہ وہاں گئو گوشت فروخت ہو رہا ہے جبکہ ریستوران مالک کا کہنا تھا کہ نہیں فروخت ہو رہا ہے. جبکہ ایک سال پہلے وزیر اعظم نے دہلی نے کہا تھا کہ گئو حفاظت کے نام پر کچھ لوگ اپنی دکانیں کھول کر بیٹھ گئے ہیں. مجھے اتنا غصہ آتا ہے. میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ جو پوری رات اینٹی سوشل ایكٹوٹي کرتے ہیں لیکن دن میں گئو محافظ کا چولا پہن لیتے ہیں. میں ریاست حکومتوں کو درخواست کرتا ہوں اس طرح جو گئو محافظ ہیں ان کا ڈیتا تیار کرو، ستر اسی فیصد ایسے گوركھ دھندھا کرتے ہوئے نکلیں گے جنہیں معاشرہ قبول نہیں کرتا. ہمیں نہیں معلوم جے پور کے ریستران میں جن لوگوں نے حملہ کیا وہ گئو حفاظت کے نام پر دکان چلانے والے جعلی لوگ ہیں یا اصلی گئو محافظ ہیں. ریاستی حکومت نے وزیر اعظم کی بات پر عمل کرتے ہوئے ایسی تنظیم کا کوئی ڈاٹا یعنی فائل تیار کی ہے یا نہیں. وزیر اعظم کو بھی پوچھنا چاہئے کہ 7 اگست 2016 کے ان کے بیان کے بعد ریاست حکومتوں نے ستر اسی فیصد جعلی گئو دفاع کی کوئی فائل بنائی ہے یا نہیں.

بھیڑ کی تشدد کو جب تسلیم کرنے لگتے ہیں تو اکیلا آدمی بھی خود کو بھیڑ سمجھنے لگتا ہے. تبھی تو شیوسینا کے ایک رہنما صاحب ایئر انڈیا کے ملازم کو چپلوں سے پیٹنے لگتے ہیں. رہنما صاحب بھرے جہاز میں ملازم کو مارنے لگتے ہیں. پوری دنیا کے سامنے کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے مارا ہے. ان کی وجہ سے صحیح بھی ہوں گے تو کیا انہیں رعایت ہے کہ وہ کسی کو چپلوں سے پیٹ سکتے ہیں. رہنما صاحب کو کوئی افسوس نہیں ہے. صحافیوں سے کہتے ہیں کہ تم بھی فلم دیکھو. میں نے بھی فلم دیکھنے چلا گیا تھا. ‘بدری ناتھ کی دلہنیا’ دیکھ رہے تھے. ان رہنما صاحب کو اس لئے فرق نہیں پڑتا کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے پاس بھیڑ ہے. جو پارٹی کے نام پر، مذہب کے نام پر یا ثقافت کے نام پر جمع ہو جائے گی اور پولیس ویسے ہی دیکھتے رہے گی جیسے وہ دیکھتے رہتی ہے.

کیا ہم اجتماعی طور پر تشدد اور بھیڑ کی ثقافت کے خلاف ہیں؟ کیا ہم تشدد سے پہلے کی وجہ کو سمجھنے کے عمل میں یقین رکھتے ہیں؟ مہاراشٹر میں گزشتہ دو سال میں 53 ڈاکٹروں پر حملہ ہوا ہے، ایک معاملے میں بھی سزا نہیں ہوئی ہے. مہاراشٹر ہی نہیں، ڈاکٹروں کے ساتھ تشدد تو کئی ریاستوں میں ہو رہا ہے. مگر تحقیقات اور سزا کا عالم یہی ہے.

دھلی کے واقعہ نے تو ڈاکٹروں کو ہلا دیا ہے. ایسی صورت میں کوئی ڈاکٹر کس طرح کام کرے گا. کیوں اس کی مخالفت میں 45000 ڈاکٹر اجتماعی چھٹی پر جانے کے لئے مجبور ہوئے. چھٹی پر جانے کے بعد ڈاکٹر تو معطل کر دیے جاتے ہیں، کورٹ سے ڈانٹ مل جاتی ہے، لیکن کیا ہم جانتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر کس دباؤ میں کام کرتا ہے. کتنے گھنٹے کام کرتا ہے. کیوں ڈاکٹر ہی تشدد کے شکار ہو رہے ہیں. کیا ان کے اور ہسپتال پر مریضوں کے دباؤ کو کم کرنے یا اس سے بہتر کرنے کا کوئی طریقہ آپ نے سنا اور دیکھا ہے. ہوا ہے تو اس کے کیا نتائج رہے ہیں کیا کوئی اس بحث میں یہ سب حقائق سامنے لا رہا ہے. کیا ڈاکٹر ہی نظام کے لئے ذمہ دار ہے یا کسی کی غلطی کی سزا وہ بھگت رہا ہے. دراصل کسی کے پاس اتنا برداشت کرنے کی قوت نہیں بچی ہے کہ وہ  سمجھے سنے . بس مارو. مار کر غصہ نکالو. بھارت کے کئی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے مہاراشٹر کے ڈاکٹروں سے اپنی رضامندی ظاہر کی ہے. دہلی میں بھی ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں. اس لیے ایمس کے ڈاکٹروں نے ہیلمٹ پہن کر اپنا احتجاج کیا.

ڈاکٹروں کو ہڑتال یا اجتماعی چھٹی پر نہیں جانا چاہئے. اگر اس پر اتفاق ہے لیکن ان کی حفاظت کے انتظامات کیوں نہیں ہے. اس کا حل سی سی ٹی وی یا سیکورٹی ہی ہے یا کچھ اور ہے. کیوں مریض بے بس ہو رہے ہیں. کیا مہنگے علاج کی وجہ سے، کیا علاج کی فوری سہولت نہ ہونے کی وجہ سے. ہم مریضوں کی طرف سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھ رہے ہیں.

مہاراشٹر میں 2010 میں Doctors ‘Protection Act،  بنا تھا. اس کے تحت ڈاکٹروں کے تشدد کو غیر ضمانتی جرم بنایا گیا تھا. تین سال کی جیل اور000 50، جرمانہ طے ہوا تھا. تشدد کرنے والوں کو بھی ہسپتال کے آلات کے نقصان کی تلافی کرنی ہوگی. اس ایکٹ کے بعد بھی دو سال میں 53 تشدد کے واقعات میں ایک میں بھی سزا نہیں ہوئی ہے. ڈاکٹروں نے وزیر اعظم کے دفتر میں بھی شکایت کی ہے. مہاراشٹر کے وزیر اعلی سے بھی ملے ہیں. ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک دو قدم کی طرف سے نظام میں بہتری نہیں ہو رہی ہے. ڈاکٹروں کی حالت میں کوئی بہتری نہیں ہویی ہے. وزیر اعلی اس بحث میں عوام کے پیسے اور ٹیکس کا مسئلہ لے آ رہے ہیں لیکن سوال تو کچھ اور ہے. انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطالعہ کے مطابق کام کی جگہ پر 75 فیصد ڈاکٹروں نے تشدد کا سامنا کیا ہے. گزشتہ پانچ سالوں میں ڈاکٹروں پر حملہ بڑھتا ہی جا رہا ہے.

حکومت، عدالت اور مریضوں کے اہل خانہ کی رائے دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ پبلک میں ڈاکٹروں کے تئیں کس قسم کا اعتماد قائم ہے. اس بحث میں یہ سوال بھی ضروری ہے کہ کہیں مریض اور اس کے لواحقین مہنگے علاج اور ہسپتالوں میں بھیڑ کے لئے ڈاکٹر کو تو مجرم نہیں مان رہے ہیں. کیوں ڈاکٹر اپنے اتحاد کا مظاہرہ صرف حفاظت کے سوال کو لے کر کرتے ہیں. دوسرے سوالوں کو لے کر وہ کیوں نہیں آگے آتے ہیں. کیوں آئی سی یو کو لے کر ہنگامہ ہوتا ہے. کیوں نہیں آئی سی یو کی تعداد بڑھائی جا سکتی ہے. کیا عام عوام جانتی ہے کہ آئی سی یو یا ایمرجنسی میں بستر کس اصول کے تحت حاصل ہے، اس اصول میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے، کیا ڈاکٹر کی صوابدید پر ہوتا ہے کہ کس مریض کو سب سے پہلے آپریشن یا آئی سی یو کی ضرورت ہے، اس کے بعد بھی آئی سی یو خالی نہ ہو تو اسے کیا کرنا چاہئے، کیا یہ سب طے ہے، کیا ہسپتال عوام کو یہ بات بتاتا ہے. بہت رول اطلاعات کی کمی کا بھی ہو سکتا ہے. یہ سارے سوال لےكسكن نام کی آن لائن میگزین پڑھتے ہوئے سامنے آئے، جسے ڈاکٹری پڑھنے والے طالب علم چلاتے ہیں. انہوں نے ہی مجھے ایک ای میل بھیجا تھا.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close