آج کا کالم

مسلمانوں نے ناکام بنادی مودی سرکار کی سازش

غوث سیوانی، نئی دہلی
GhAuS pIc     کیا مرکز کی بھاجپائی سرکار مسلمانوں کے اندر موجود اختلافات کو ہوادینا چاہتی ہے؟ کیا یہ سب آرایس ایس کی پالیسی کے مطابق ہورہاہے؟ کیا مودی سرکار کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے کانفرنسوں کے ڈرامے رچے جارہے ہیں؟ کیا تصوف کے نام پر مسلمانوں کے اندر تفریق کو ہوا دینے کی کوشش کو علماء، مشائخ اور مسلم عوام نے سمجھ لیا ہے؟ یہ تمام سوالات چہارروزہ انٹرنیشنل صوفی کانفرنس کی ضمن میں ہیں جو پچھلے دنوں راجدھانی دلی میں منعقد ہوئی اور طرح طرح کے سوالات کے گھیرے میں رہی۔ علماء، مشائخ اور عام مسلمانوں میں کانفرنس کے تعلق سے عموماً منفی سوچ تھی جس کے سبب مین اسٹریم کے اہل مدارس وخانقاہ نے شرکت سے گریز کیا۔ اجمیر،کچھوچھہ، بریلی، مارہرہ سمیت ملک بھر کی ننانوے فیصد خانقاہوں کے ذمہ داروں نے شریک ہونا پسند نہیں کیا۔ علاوہ ازیں علماءدین اور ملک کے اہم مدرسوں کے مدرسین ومفتیان کرام نے فائیو اسٹار سہولیات اور” نذرانے“ کی دلکش پیشکش کے باجود شرکت نہیں کی۔ بیرون ملک کے کچھ علماءومشائخ شرکت کے لئے آئے مگر جب حقیقت حال کا پتہ چلا تو انھوں نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کا بائیکاٹ کیا جس میں وزیراعظم نریندر مودی شریک ہوئے۔ عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر پروفیسرطاہرالقادری اور پاکستان کے نامور شیخ پیر علاءالدین صدیقی (مینیجنگ ڈائرکٹر،نور ٹی وی)نے صاف طور پر وگیان بھون کے پروگرام میں شرکت سے منع کردیا جس میں وزیراعظم مودی نے اسلام اور تصوف کی حقانیت سے اکیسویں صدی کے ”صوفیہ“ کو آگاہ کیا۔ اسی کے ساتھ ان حضرات نے ہندو دہشت گردی کی بھی مذمت کرکے سنگھ پریوار کو کٹھہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح پوری کانفرنس کا حاصل ڈاکٹر طاہرالقادری کی تقریر رہی جسے سننے کے لئے بہت سے لوگ جمع ہوئے تھے۔ اس پروگرام میں اگر موصوف کی شرکت نہیں ہوتی تو شاید وہ چند ہزار افراد بھی جمع نہ ہوتے جو یہاں نظر آرہے تھے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کی تقریر
    ڈیڑھ سال پہلے اپنی وسیع تحریک سے نواز شریف حکومت کو ہلا دینے والے پاکستان کے طاقتور مذہبی رہنما شیخ الاسلام ڈاکٹر محمدطاہرالقادری نے صرف کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں شرکت کی اوراپنی پرمغز تقریر میں کہا کہ دہشت گردی پھیلانے کے لئے مذہب کا استعمال روکا جانا چاہئے اور بھارت و پاکستان کو مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی کی توسیع کو روکنے کے لئے سخت کارروائی کرنی چاہئے۔انھوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کو مذہبی تعصب کی کاٹ کرنے والے کورس اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، مدرسوں اور مذہبی اداروں میں شروع کرنا چاہئے تاکہ غلط عناصر نوجوانوں کا برےن واش نہ کر سکیں اور مذہب کے نام پر انہیں ہتھیار اٹھانے اور
غلط کام کرنے کے لئے حوصلہ افزائی نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا، جہاں بھی ایمان اور مذہب کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دیا جاتا ہے، اسے غداری کی کارروائی ماننا چاہئے۔طاہرالقادری کے مطابق بھارت اور پاکستان کے لوگ ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں۔یہ لڑائی ختم ہونی ہی ہے۔ ایسا تب ممکن ہے جب حکومتیں امن قائم رکھنے اور غربت مٹانے کی سمت میں بجٹ کا استعمال کریں گی۔ میں بھارت-پاکستان کی حکومتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ غربت مٹانے کے لئے کوشش کریں، دشمنی بھول جائیں۔ آزادی ملے ہوئے 70 سال ہونے کو ہیں۔اس درمیان چار جنگیں ہوئیں۔ کیا ہندوستان اور پاکستان ہمیشہ دشمن بنے رہنا چاہتے ہیں؟ خدا کے لئے یہ دشمنی ختم کر دیجئے اور اپنے بجٹ کا استعمال امن قائم کرنے کے لئے کریں۔ انہوں نے کہا،بھارت اور پاکستان اپنا پیسہ ایک دوسرے کو روکنے اور لڑنے میں خرچ کر رہے ہیں، اسے ترقی اور غربت ختم کرنے پر خرچ کرنا چاہئے۔ غربت، لوگوں کو دہشت گردی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ وہ والدین جن کے پاس بچوں کو کھلانے کے لئے کھانا نہیں ہے، وہ اپنے بچے دہشت گردوں کو فروخت کر رہے ہیں۔ آئیں اس غربت اور اس سے ہونے والے مصائب کو مٹائیں۔ قادری نے دہشت گردی کے بڑھنے کے پیچھے بین الاقوامی حالات اور واقعات کو ذمہ دار ٹھہرایا اور اس طرح کی ناانصافی کو ختم کرنے کی اپیل کی اور کہاکہ دنیا کا ہدف امن اور بھائی چارے کا قیام ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ دہشت گردی پھیلانے کے لئے مذہب کا غلط استعمال کرنے والی دہشت گرد تنظیموں سے پوری سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔ انہیں کبھی بخشا نہیں جانا چاہئے۔ یہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔ جیش محمد، لشکر طیبہ ، القاعدہ، ISIS یا کوئی ہندو تنظیم ،دہشت گردانہ حرکت کے لئے مذہب کا استعمال کرتی ہے، تو بہت سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے لئے سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی ہے اور یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ دہشت گردوں اور مذہب کے نام پر تشدد کرنے والوں سے مو¿ثر طور پر نمٹا جائے۔ ہندوستان اور پاکستان کے لئے یہی صحیح وقت ہے جب وہ یہ محسوس کریں کہ دونوں کا دشمن ایک ہی ہے اور وہ ہے دہشت گردی۔ دونوں کو اس سے مل کر لڑنے کی ضرورت ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اپیل
    بین الاقوامی صوفی کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف حلف لیا گیا۔ کانفرنس میں آئے لوگوں نے دہشت گردی اور تشدد سے لڑنے کے لئے متحد ہونے کا اعلان کیا اور Isis جیسی تمام دہشت گرد تنظیموں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ بھارت سمیت تمام ممالک کے شرکاءنے دہشت گردی اور نفرت کے خلاف تجویزیں پاس کیں۔ تجاویز کے مطابق طالبان، القاعدہ، ISIS اور ایسی تمام دہشت گرد تنظیموں نے بھائی چارے کو تباہ کر دیا ہے لہٰذامسلم نوجوانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ دہشت گرد تنظیموں سے دور رہیں۔ دہشت گردی اور تشدد کی ہر شکل کی مذمت کی گئی اور مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ بھارتی آئین، اسلام اور صوفیوں کی تعلیم کا احترام کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔چار دن تک چلی اس کانفرنس کا افتتاح پی ایم مودی نے 17 مارچ کو کیا تھا۔
سنگھ پریوار کی پشت پناہی
    صوفی کانفرنس کے تعلق سے پہلے ہی خبریں آرہی تھیں کہ اس کے پیچھے سنگھ پریوار ہے جو اس کے لئے فنڈنگ کر رہا ہے اور اس میں خرچ ہونے والی رقم نامعلوم ذرائع سے آرہی ہے، اس بات کو کانفرنس کے دوران بار بار محسوس کیا گیا ۔ مسلمانوں کے پروگراموں کو کوریج نہ دینے کے لئے مشہوردور درشن کے آدھ درجن چینلوں نے کانفرنس کا Liveٹیلی کاسٹ کیا اور خصوصی کوریج دیا۔جب افتتاح کے لئے وزیراعظم نریندر مودی وگیان بھون پہنچے تو ان کا استقبال ”بھارت ماتا کی جے“ کے نعروں سے کیا گیا اور جب انھوں نے اپنی تقریر ختم کی تو ”نریندر مودی زندہ آباد“ کے نعرے لگائے گئے۔ ظاہر ہے کہ صوفیوں کا ایسا کرداروعمل کسی زمانے میں نہیں رہا۔ ”ہندوتوادی “ پس منظر سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم نریندر مودی نے صوفی کانفرنس میں اپنی تقریر کا آغاز کرنے سے پہلے سب کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ کا دہلی میں استقبال ہے جسے الگ الگ ثقافتوں نے بنایا ہے۔ صوفی سنت انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ اگر ہم خدا سے محبت کرتے ہیں تو اس کی بنائی ہر چیز سے محبت چاہےے۔“اس تعلق سے جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کے دوران ملک کے عوام سے مرکزی حکومت نے جو وعدے کئے تھے انہیں پورا کرنے میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے صوفی کانفرنس کر رہی ہے تاکہ اصل موضوعات سے عوام کی توجہ ہٹاسکے۔انھوں نے کہا کہ صوفی کانفرنس منعقد کرنے والوں سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ ہمارا اللہ ایک، پیغمبر ایک، قرآن ایک، عبادت کے طریقے ایک ہیں۔اصل میں جو لوگ مذہب کو نہیں سمجھتے وہ مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا موجودہ حکومت کے سیکورٹی اور اعلی افسران کی نگرانی میں صوفی کانفرنس کے انعقاد کو ہم خطرے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وگیان بھون میں وزیر اعظم نے ڈھائی گھنٹے سے زیادہ وقت دیا اس سے اس شک کو تقویت ملا۔ مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ موجودہ حکومت مسلمانوں کے اندر فرقے کے نام پر اختلاف اور انتشار پیدا کرکے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کیا حاصل ہوا؟
    سنگھ پریوار، صوفی ازم کے نام پر کھیل کرکے جو کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا،اس میں وہ پوری طرح ناکام نہیںرہا۔حالانکہ وقت رہتے علماءومشائخ نے اس کھیل کو سمجھ لیا لہٰذا بعض معاملوں میں ہی اسے کامیابی ملی اور مسلمانوں کے اندر تفریق کی اونچی دیواریں اٹھانے کی اس کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کانفرنس کے ذریعے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ مسلمان گروہوں میں منقسم ہیں اور ایک طبقہ تصوف میں یقین رکھتا ہے تو دوسرا طبقہ دہشت گردی میں ملوث ہے اور یہ پیغام دینے میں سنگھ پریوار کامیاب رہا۔اس نہج پر سبرامنیم سوامی بہت پہلے سے کام کر رہے تھے اور خبروں کے مطابق ان کا دماغ بھی کانفرنس کے پیچھے تھا۔البتہ مسلمانوں کو سیاسی طور پر تقسیم کرنے کا پلان ناکام ہوگیا کیونکہ ووٹ ڈالتے وقت بلاتفریق مسلک سبھی مسلمان بی جے پی کے خلاف ووٹنگ کرتے ہیں اور سنگھ پریوار کی مسلم دشمن سازشوں کو وہ فراموش کرنے کو تیار نہیں۔کانفرنس پر خرچ ہونے والے کروڑوں روپئے
کہاں سے آئے اس سوال سے قطع نظر مدعوئین کو نذرانے میں خطیر رقم پیش کی گئی اور مقالہ پڑھنے والے سینکڑوں لوگوں کو فی شخص دس ہزارروپئے دیئے گئے، باوجوداس کے بعض لوگوں کو ناخوش دیکھا گیا۔جو مہمان دوسرے شہروں سے بلائے گئے تھے اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ٹھہرائے گئے تھے ،وہ بھی ضیافت سے خوش نہیں دکھائی دیئے۔انھیں ۰۲ مارچ کی دوپہر کو ہوٹل چھوڑ دینے کو کہا گیا حالانکہ ان کی فلائٹس یا ٹرین رات کو تھیں۔ اس قسم کی چھوٹی چھوٹی باتوں نے بہت سے شرکاءکو ناخوش کیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

غوث سیوانی

غوث سیوانی دہلی کے معروف سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close