آج کا کالم

مسلمانوں کا سیاسی رویّہ

ڈاکٹر محمد رفعت

 مسلمانوں کے سامنے وہ سوال دوبارہ اُبھر کرآگیا ہے جو آزادیِ مُلک کے بعد مسلسل اُن کے سامنے رہا ہے یعنی یہ کہ ہندوستان میں اُن کا سیاسی رویّہ کیا ہوناچاہئے؟ گرچہ اِس سوال کا یہ جواب بھی دیا جاسکتا ہے اور دیا بھی گیا ہے کہ مسلمانوں کو ’بحیثیت مسلمان‘ مُلکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی رائے عامّہ کو یہ جواب مطمئن نہیں کرتا۔ بجا طور پر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ سیاست پر اثر انداز ہوناضروری ہے اِس لیے کہ سیاست اور سیاسی نظام کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ زندگی کے ہر گوشے کو متاثر کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کے اِس احساس کو درست تسلیم کرنے کے بعد دواہم سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ سیاست کو متاثر کرنے کی کوشش کے مقاصد کیا ہونے چاہئیں ۔ اس سوال کا جواب دینے کے لیے حالات کے ساتھ موجودہ نظام کی نوعیت اور خود مسلمانوں کی حیثیت کو سمجھنا ہوگا۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ سیاست پر اثر انداز ہونے کے طریقے کیا ہوں اور اِس سلسلے میں کن حدود وآداب کو ملحوظ رکھا جائے؟

سیاسی سرگرمی کے مقاصد

مقاصد پر گفتگو کرتے وقت اُن افراد کو نظر انداز کیاجاسکتا ہے جو محض ذاتی مفادات کے لیے سیاست میں حصّہ لیتے ہیں ۔ اُن کے طرزِ عمل کو زیرِ بحث نہ لاکر اجتماعی مصالح کے لیے کام کرنے والوں کا جائزہ لیاجانا چاہیے۔ جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے مسلمانوں کے سامنے سیاسی سرگرمیوں کا جو مقصد ہے وہ مسلم مسائل کا حل ہے۔ اِس مقصد کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ ہر مشاہِد اِس حقیقت سے واقف ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو بہت سے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے تعمیری منصوبوں اور عام کوششوں کے علاوہ سیاسی نظام کو متاثر کرنا بھی ضروری ہے۔ مگر اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود  ’مسائل کا حل‘  ایک محدود مقصد ہے۔ دنیا میں ہرگروہ اپنے مسائل کے سلسلے میں متفکر ہوتا ہی ہے اور اُن کے حل کی کوشش بھی کرتا ہے۔ اگر مسلمان عام گروہوں کی طرح محض ایک گروہ ہوتے، جس کو کچھ اتفاقی اسباب نے مجتمع کردیا ہو، تو اُن کی سرگرمیوں کا ایک محدود مقصد کے تابع ہونا کوئی عجیب بات نہ ہوتی۔ لیکن مسلمان محض ایک گروہ نہیں ہیں بلکہ وہ ایک اصولی اُمت ہیں جسے انسانیت کی رہنمائی کے کام پر مامور کیا گیا ہے۔ اُن کی کسی سرگرمی کو اُن کے اِس منصب سے جُدا نہیں کیاجاسکتا۔

چنانچہ مسلمانوں کی سیاسی سرگرمیوں کی غایت، اُن کے منصبی شعور کی آئینہ دار ہونی چاہیے۔ قرآن مجید کی وہ آیات اِس ضمن میں ہماری رہنمائی کرتی ہیں جن میں اُمت کے منصب اور قیامِ قسط کا تذکرہ کیاگیا ہے۔ اِن آیات کا انطباق اپنے اندر وُسعت رکھتا ہے۔ جو ہدایات دی گئی ہیں وہ ایک طرف اِسلامی ریاست کے لیے اُصولی خطوطِ کار فراہم کرتی ہیں اور دوسری طرف (اگراِسلامی ریاست قائم نہ ہو تو موجود سیاسی نظام کے اندر) مسلمانوں کی سیاسی سرگرمی کے مقاصد کا تعین کرتی ہیں ۔

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۔وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ۔ مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ(آلِ عمران:110)

’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے اِنسانوں (کی ہدایت واِصلاح) کے لیے میدان میں لایاگیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا۔ اگرچہ اِن میں کچھ لوگ ایمان دار بھی پائے جاتے ہیں مگر اِن کے بیش تر افراد نافرمان ہیں ۔‘‘

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۔ وَاَ نْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْہِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللہُ مَنْ يَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَيْبِ۔ اِنَّ اللہَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ۔(الحدید:25)

’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں ، اور لوہا اُتارا جِس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں ۔ یہ اِس لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ کون اُس کو دیکھے بغیر، اُس کی اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقیناً اللہ بڑی قوت والااور زبردست ہے۔‘‘

جناب شبیر احمد عثمانی آیتِ بالا کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’کتاب اللہ اِس لیے اُتاری کہ لوگ عقائد اور اخلاق واعمال میں سیدھے اِنصاف کی راہ پر چلیں ۔ افراط و تفریط کے راستے پر قدم نہ ڈالیں ….ممکن ہے ’’ترازو‘‘ شریعت کو فرمایا ہو جو تمام اعمالِ قلبیہ وقالبیہ کے حُسن وقبح کو ٹھیک جانچ تول کربتلاتی ہے۔

جو (لوگ) آسمانی کتاب سے راہِ راست پر نہ آئیں اور انصاف کی ترازو کو دنیا میں سیدھا نہ رکھیں ، ضرورت پڑے گی کہ اُن کی گوشمالی کی جائے اور ظالم وکج رومعاندین پر اللہ ورسول کے احکام کا وقار واقتدار قائم رکھاجائے۔ جہاد کی تعلیم وترغیب اِس لیے نہیں دی گئی کہ اللہ کچھ تمہاری امداد واعانت کا محتاج ہے…..(حقیقت یہ ہے کہ اُسے) تمہاری وفاداری کا امتحان مقصود ہے تاکہ جو بندے اس (امتحان) میں کامیاب ہوں اُن کو اعلی مقامات پر پہنچایا جائے۔‘‘

مندرجہ بالا آیاتِ قرآنی کی روشنی میں مسلمانوں کی سیاسی سرگرمی کے درجِ ذیل مقاصد سامنے آتے ہیں :

(الف)    موجود ریاست کے طرزِ عمل پر ایسے اثرات ڈالنا کہ ریاست معروف کے قیام کا ذریعہ بن سکے۔

(ب)       اِسی طرح ریاست کو اِس طرز پر متاثر کرنا کہ وہ منکرات کے ازالے پر آمادہ ہوجائے۔

(ج)        ریاست کے طرزِ عمل کو عدل وقسط کا تابع اور خادم بنایا۔

ظاہر ہے کہ موجودہ صورتحال میں یہ مقاصد اُس درجے میں حاصل نہیں ہوسکتے جس درجے میں اِسلامی ریاست کے قیام کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں لیکن جِس حدتک بھی موجود ریاست کو معروف کا خادم اور عدل کے قیام کا ذریعہ بنایا جاسکے، ایسا کرنا مستحسن اور مطلوب ہوگا۔ یہ مقاصد،اُس مقصد کے علاوہ ہیں ، جس کی اہمیت پہلے سے مُسلّم ہے یعنی ’’مسلمانوں کے مسائل کا حل‘‘۔

شہادت علی الناس

مسلمانوں کے منصب کی تشریح کے لیے قرآن مجید، شہادت علی الناس کی اصطلاح بھی استعمال کرتاہے۔

وَجَاہِدُوْا فِي اللہِ حَقَّ جِہَادِہٖ۔ ہُوَاجْتَبٰىكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ۔ مِلَّـۃَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰہِيْمَ۔ ہُوَسَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ۔ۥۙ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَا لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ۔ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللہِ۔ ہُوَمَوْلٰىكُمْ۔ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ۔(الحج:78)

’’اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اُس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چُن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہوجاؤ اپنے باپ ابراہیم کی ملّت پر۔ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ’مسلم‘ رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے)۔ تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ۔ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہوجاؤ۔ وہ ہے تمہارا مولا۔ بہت ہی اچھا ہے وہ مولا اور بہت ہی اچھاہے وہ مدد گار۔‘‘

مندرجہ بالا آیت میں مسلمانوں کی منصبی حیثیت بیان کی گئی ہے۔ آیت میں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جِس دین کی گواہی تم پر اپنے قول وعمل سے دی ہے اُسی دین کی گواہی، تمہیں اپنے قول وعمل سے پوری نوعِ انسانی پر دینی ہے۔

اِس حقیقت کے ادراک کے بعد کہ مسلمانوں کی منصبی ذمہ داری، ’’شہادت حق‘‘ ہے، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اِس منصب کے کچھ ایسے تقاضے بھی ہیں جن کا تعلق سیاسی سرگرمیوں سے ہے؟ اِس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے جناب ابواللیث ندویؒ فرماتے ہیں :

 ’’ہمارے نزدیک الیکشن میں مسلمانوں کے حصہ لینے کی حقیقی غرض وغایت یہی ہوسکتی ہے کہ اِس میدان میں بھی وہ حق کی شہادت دے سکیں ۔

ایک مسلمان کے نزدیک سب سے بڑا حق، جِس پر پورے دین کی تعمیر ہوئی ہے، یہ ہے کہ اِس کائنات کا ایک ہی خالق ہے اور وہی اس کا حقیقی مالک وفرماں روا ہے۔ انسان اُس کا بندہ ومحکوم ہے جس کو اُس کی اختیاری زندگی میں اُس (مالِک) نے تھوڑی سی آزادی بھی دے رکھی ہے۔ وہ آزادی اُس(خالق ومالک) کے مقرر کردہ طریق وحدود کے مطابق استعمال ہونی چاہئے۔ نہ کہ اُس سے آزاد ہوکر۔ بحیثیت مخلوق، یہ اس کا فرض بھی ہے اور اسی میں اس کا فائدہ بھی ہے۔

پس جب سب سے بڑا حق یہ ہے تو الیکشن میں حصّہ لینا بھی، اصلاً اس سب سے بڑے حق کی شہادت واثبات ہی کے لیے ہونا چاہئے۔‘‘ (’’الیکشن اور مسلمان‘‘ فروری 1962ء)

محترم مصنّف نے مسلمانوں کو اُن کے منصبی فریضے ، شہادت حق، کی جانب متوجہ کرتے ہوئے جو مدلّل بحث کی ہے وہ اس کی مستحق ہے کہ اُس سے استفادہ کیا جائے۔ خاتمہ کلام کے طور پر موصوف فرماتے ہیں :

’’(مسلمانوں کو) بہرحال یہ بات اپنے پیشِ نظر رکھنی چاہئے کہ اسلام ہی میں اُن کی نجات ہے۔ نیز یہ کہ اُن کی اصل حیثیت ، دنیا میں ایک داعی گروہ کی ہے، نہ کہ ملک میں محض ایک اقلیت کی۔ اِس لیے اُن کو ایسا کوئی رویّہ کسی حال میں اختیار نہیں کرنا چاہئے، جس سے اِسلام سے اُن کے بُعد میں اضافہ ہو، اور جِس سے بحیثیت قوم وفرقہ تو وہ کچھ فائدہ اُٹھا سکیں ، لیکن جس سے اُن کی داعیانہ حیثیت، مجروح ہوتی ہو۔‘‘ (ایضاً)

حاکمیتِ الٰہ

مسلمانوں کے منصب کی مندرجہ بالا تشریح کی روشنی میں مسلمانوں کی سیاسی سرگرمیوں کا ایک اور مقصد سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب سیاست پر اظہار خیال ہورہاہوتو دعوتِ اسلامی کے ایک اہم نکتے کی طرف باشندگانِ مُلک کو متوجہ کیاجائے۔ اِسلام کی دعوت کا یہ اہم پہلو’’حاکمیت الٰہ‘‘ ہے۔ دستور جماعت اِسلامی ہند میں عقیدہ لااِلٰہ اِلّا اللہ کی تشریح کے ذیل میں کہا گیا ہے:

’’اس عقیدے کے پہلے جُز یعنی اللہ تعالیٰ کے واحد الٰہ ہونے اور کسی دوسرے کے اِلٰہ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہی اللہ، ہم سب انسانوں کا معبودِ برحق اور حاکمِ تشریعی ہے، جو ہمارا اور اِس پوری کائنات کا خالق، پروردگار، مدبّر، مالک اور حاکم تکوینی ہے۔ پرستش کا مستحق اور حقیقی مطاع، صرف وہی ہے اور اُن میں سے کسی حیثیت میں بھی کوئی اس کاشریک نہیں ۔

اِس حقیقت کو جاننے اور تسلیم کرنے سے لازم آتا ہے کہ انسان…..اللہ تعالیٰ کے سِوا کسی کو مالک الملک اور مقتدر اعلیٰ نہ سمجھے، کسی کو بہ اختیارِ خود حکم دینے اور منع کرنے کا مجاز تسلیم نہ کرے، کسی کو مستقل بالذات شارع اور قانون ساز نہ مانے اور ان تمام اِطاعتوں کو صحیح تسلیم کرنے سے انکار کردے، جو ایک اللہ کی اطاعت اور اُس کے قانون کے تحت نہ ہوں ۔ کیوں کہ اپنے مُلک کا ایک ہی جائز مالک اور اپنی خلق کا ایک ہی جائز حاکم، اللہ ہے۔ اس کے سوا، کسی کوفی الواقع مالکیت اور حاکمیت کاحق ہی نہیں پہنچتا۔‘‘(’’دستور جماعت اِسلامی ہند‘‘ دفعہ 3،مطبوعہ 2010ء)

حاکمیت الٰہ، عقیدہ توحید کا اہم جُز ہے۔ مسلمانوں کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ خود توحید کو اختیار کریں اور تمام انسانوں کو اس کی طرف بُلائیں ۔ مسلمانوں کی جانب سے دعوتِ اسلامی کا یہ کام ، شعوری طور پر انجام پانے لگے تو مسلمانوں کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں خود بخود  دُور ہوجائیں گی۔ دوسرا خوشگوار نتیجہ یہ نکلے گا کہ بعض نامناسب مطالبات بند ہوجائیں گے جو مسلمانوں سے وقتاً فوقتاً کیے جاتے رہتے ہیں ۔ (مثلاً وندے ماترم گانے کا مطالبہ یا باطل نظریات سے وابستگی کے اظہار کامطالبہ)۔

منکرات کی پہچان

مسلمانوں کی سیاسی سرگرمیوں کے مقاصد سامنے آچکے ہیں ۔ مقاصد یہ ہیں :

  • (الف)ریاست کو معروف کے قیام اور منکرات کے ازالے کا ذریعہ بنانا۔
  • (ب) ریاست کو قیامِ عدل پر آمادہ کرنا۔
  • (ج)مسلمانوں کے مسائل کا حل اور
  • (د)توحید خصوصاً حاکمیت الٰہ کی جانب دعوت۔

 اِن مقاصد کا ایک اہم جُز منکرات کا ازالہ ہے۔ اگر فی الواقع ریاست کے کردار کو متاثرکرنا مطلوب ہو تو یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ منکرات کیا ہیں جو مُلک کی اجتماعی زندگی میں داخل ہوچکے ہیں ۔

مشاہدہ بتاتا ہے کہ جن منکرات نے اجتماعی زندگی کوسب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ درجِ ذیل ہیں :

(الف)    اباحیت (Permissiveness) اور بے حیائی۔

(ب)       زندگی کی حقیقی ضروریات پر مصنوعی ضرورتوں کا اضافہ۔ اس مظہر کو صارفیت (Consumerism)سے تعبیر کیاجاتا ہے۔

(ج)    بددیانتی اور کرپشن نیز حصولِ معاش کے ناجائز طریقے۔

(د)    طاقتور افراد، گروہوں اور خود ریاست کی جانب سے کمزوروں پر ظلم وستم اور اُن کے حقوق پر دست درازی۔

 (ہ)     غیر منصفانہ قوانین۔

(و)     جارحانہ قوم پرستی۔

(ز)     بے قید معیشت(جسے سرمایہ داری Capitalismکہا جاتا ہے)

(ح)   عالمی استعمار سے مغلوبیت۔

(ط)    ذرائع اِبلاغ کے ذریعے کذب وغلط بیانی کا فروغ۔

(ی)    سماجی ومعاشی استحصال۔

 (ک)   اونچ نیچ، عدم مساوات، چھوت چھات۔

(ل)     حدود ناآشنا سائنس وٹکنالوجی۔

اِن منکرات کے ازالے کے لیے معاشرے کی عمومی اِصلاح اور رائے عامہ کی تربیت کے علاوہ ریاست کے کردار پر توجہ بھی درکار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض منکرات کو خود ریاست فروغ دیتی ہے ، بعض اُس کی غفلت اور نااہلی کی بنا پر پروان چڑھتے ہیں اور بعض کاازالہ ریاست ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ اجتماعی زندگی کو منکرات سے نجات اُسی وقت دلائی جاسکتی ہے۔ جب ریاست کا کردار درست ہوجائے۔

رائے عامہ کی تربیت

مسلمانوں سے جو سیاسی سرگرمی مطلوب ہے وہ بعض اعلیٰ مقاصد کے تابع ہے۔ اِن مقاصد کا تذکرہ کیاجاچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان مقاصد کے پیشِ نظر، ریاست کے کردار کو متاثر کرنے کے عملی طریقے کیا ہوسکتے ہیں ؟ غالباً اِس حقیقت سے کسی کو اختلاف نہ ہوگا کہ بنیادی طریقہ رائے عامّہ کی تربیت ہے۔ دستور جماعت اسلامی ہند میں جماعت کے طریقِ کار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے۔

’’جماعت اپنے نصب العین کے حصول کے لیے تعمیری اور پُرامن طریقے اختیار کرے گی۔ یعنی وہ تبلیغ وتلقین اور اشاعت افکار کے ذریعے، ذہنوں اور سیرتوں کی اِصلاح کرے گی اور اِس طرح مُلک کی اجتماعی زندگی میں مطلوبہ صالح انقلاب لانے کے لیے رائے عامّہ کی تربیت کرے گی۔‘‘  (ایضاً، دفعہ 5)

رائے عامّہ کی تربیت کا کام اظہارِ خیال کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ اِس اظہارِ خیال کا دائرہ نجی محفلوں سے لے کر پبلک پلیٹ فارموں تک وسیع ہے۔ اِس کام کو کرتے ہوئے روایتی ذرائع یعنی خطاب، صحافت اور لٹریچر کے علاوہ نئے ذرائع یعنی الیکٹرانک میڈیااور انٹرنیٹ سب کو استعمال کیاجاسکتا ہے۔ رائے عامّہ کی تربیت کے لیے ادارے بھی تشکیل دیئے جاسکتے ہیں ۔ اسلام کا مزاج یہ چاہتا ہے کہ رائے عامہ کی تربیت کے لیے کیا جانےوالا اظہارِ خیال شائستہ اور مدلّل ہو اور منصوبہ بندی اور سلیقے کے ساتھ ہو۔ مسلمانوں کی جانب سے جو بات بھی پیش کی جائے اُس کی حقانیت اور صداقت پر خود انہیں پورا اطمینان ہو۔ اپنےموقف کی تائید میں وہ کوئی ایسی بات نہ کہیں جو خلافِ واقعہ ہو یا جس کی صداقت مشتبہ ہو۔ شہادت علی الناس کے منصب پر فائز گروہ سے اظہارِ خیال میں اسی بلند معیار کی توقع کی جانی چاہئے۔

رائے عامہ کی تربیت کا تقاضا ہے کہ ہر فرد تک بات پہنچائی جائے البتہ سماج میں کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اجتماعی رویّوں کو متاثر کرتے ہیں ۔ اپنی اس خصوصیت کی بنا پر وہ زیادہ توجّہ کے مستحق ہیں ۔ اِن میں صحافی، ذرائع اِبلاغ سے وابستہ افراد اور سماجی وسیاسی تنظیموں کے لیڈر وکارکن شامل ہیں ۔ ایسے افراد، درست نقطہ نظر کے حامل ہوں تو سیاست اور نظامِ سیاست کی اِصلاح آسان ہوجاتی ہے۔ باوقار طرز پر ایسے افراد سے رابطے کی اہمیت کونظر انداز نہیں کیاجانا چاہئے۔ رابطے کا یہ عمل تسلسل کے ساتھ ہوتو اچھے نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔

یہ ظاہر ہے کہ رائے عامہ کی تربیت کے لیے اظہارخیال اُن تمام موضوعات پر ہوسکتا ہے جو مُلک کے اندر زیربحث ہوں ۔ البتّہ یہ ضروری ہے کہ اس اظہارِ خیال کے طرز کو دعوتِ اسلامی سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ اِس ہم آہنگی کے لیے دو امور کے اہتمام کی ضرورت ہے۔ پہلا ضروری پہلو تو یہ ہے کہ اظہارِ خیال کے دوران اِسلام کے اساسی پیغام کو ضرور پیش کیاجائے تاکہ مخا طَب ، مسلمانوں کی پوزیشن کاصحیح ادراک کرسکے۔ دوسری بات جس کااہتمام درکار ہے وہ اِسلامی نقطۂ نظر سے مسائل کا تجزیہ ہے۔ گفتگو خواہ معاشرتی موضوعات پر ہو یا معاشی وسیاسی موضوعات پر، یہ بہرحال ضروری ہے کہ درپیش الجھنوں کے اسباب کی نشاندہی اِسلام کی روشنی میں کی جائے۔ رائج منکرات پر گرفت کرتے وقت دلائل کے ساتھ یہ واضح کیاجاناچاہئے کہ یہ منکرات، فی الواقع ، انسانی فطرت سے مغائر ہیں اور آفاقی اخلاقی قدروں سے میل نہیں کھاتے۔ اِسی طرح جن معروفات کی تلقین کی جائے، اُن کی فطرتِ انسانی سے مطابقت ثابت کی جانی چاہئے۔ اِس کام کو کماحقہ کرنے کے لیے علمی وفکری تیاری بھی کرنی ہوگی، جس کااہتمام ہوناچاہئے۔

اجتماعی ادارے

رائے عامہ کی تربیت کے علاوہ ، سیاست پر اثر انداز ہونے کا دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ اجتماعی اداروں کو متاثر کیاجائے۔ اجتماعی اداروں پر اثر انداز ہونے کے دو طریقے ہوسکتے ہیں ۔

(الف)  ادارے سے باہر رہ کر اُس کے مقاصد، طریق کار اور سرگرمیوں کو خیرکاخادم اور معروف کا تابع بنانے کی کوشش کی جائے۔

(ب)   ادارے کے اندر داخل ہوکر اُس کو متاثر کیا جائے۔

پہلا طریقہ ہر وقت ممکن العمل ہے جب کہ دوسرا طریقہ اُسی وقت اختیار کیاجاسکتا ہے۔ جب ادارے میں شرکت میں کوئی شرعی مانع نہ ہو۔

بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اگر ہماری نیت اچھی ہے تو ہر ادارے میں شرکت درست ہے بلکہ انقلابی عمل کے لیے ناگزیر ہے لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ نیت کی درستگی کے ساتھ اسلام ہم کو ذرائع اور طریق کار کی درستگی کابھی پابند کرتا ہے۔ اِس لیے کسی ادارے میں شرکت کے لیے یہ اطمینان کرنا ضروری ہے کہ یہ شرکت اپنے اندر کوئی شرعی قباحت نہیں رکھتی۔

جن اہم اجتماعی اداروں میں شرکت کی راہ میں شرعی موانع حائل ہوں اُن کو متاثر کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہے یعنی یہ کہ ادارے سے باہر رہ کر اُس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جائے۔ البتہ رائے عامہ کی تربیت کرکے شرعی موانع کو دُور کیا جاسکتا ہو تو اس کی کوشش ضرورکی جانی چاہئے۔ بہر صورت، شرعی حدود کی پامالی کو گوارا کرتے ہوئے پیش قدمی کی جائے گی تو فی الواقع یہ منزل کی جانب پیش قدمی نہ ہوگی بلکہ رجعت ہوگی۔

سیاسی نظام پر اثر انداز ہونے کا تیسرا ذریعہ ،متبادل اجتماعی اداروں کی تشکیل ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ایسے اداروں کا رول بڑھتا جارہا ہے جن کواین جی او(NGO) کہا جاتاہے۔ اِن اداروں نے ریاست کے کاموں میں سے بعض کو اپنے دائرہ کار میں شامل کرلیا ہے اور اس بنا پر اجتماعی زندگی پر وسیع اثرات ڈالنے کا موقع ان کو حاصل ہوگیا ہے۔ نئی دنیا کے اس مظہر سے مسلمان فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور ریاست سے متاثر ہونے کے بجائے اُس کو متاثر کرسکتے ہیں ۔ شرط یہ ہے کہ مسلمانوں کے قائم کردہ اداروں کی اساس دینی ہو، اُن کے مقاصد صالح ہوں اور طریق کار درست ہو، اُن کی سرگرمیاں شرعی حدود کے اندر انجام پائیں اور اُن کا نظم، اِسلامی فکر کے حامل، دیانت دار افراد کے ہاتھوں میں ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد رفعت

مضمون نگار اسلامی مفکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close