آج کا کالمتعلیم و تربیتسائنس و ٹکنالوجی

مسلم نوجوانوں کو جرنلزم کے میدان میں کیوں آنا چاہیے!

عبدالقادر صدیقی

موجودہ دور انفارمیشن اینڈ ٹکنا لوجی کا دور ہے اور ہم سب انفارمیشن سوسائٹی میں جی رہے ہیں ۔ انفارمیشن سوسائٹی سے مراد ایک ایسا اطلاعتی معاشرہ ہے جہاں ہر کوئی اطلاع دے سکتا ہے ، اطلاع حاصل کر سکتا ہے اور اسے پھیلا سکتا ہے ۔اس انفارمیشن سوسائٹی پر آج وہی ممالک راج کر رہے ہیں جن کے کنٹرول میں اطلاعات و نشریات کے آلات ہیں ۔ اور آنے والاکل بھی اسی قوم کا ہو گا جو کمونیکیشن ٹکنالوجی کا پر اثر استعمال کر سکی گی۔ آج ملکوں کے درمیان اصل جنگیں میدان جنگ میں نہیں ، ٹی وی اسٹوڈیو، اخبارکے صفحات،سوشل میڈیاپیجز اور سنیما اسکرین پر لڑی جارہی ہیں ۔ آج دنیا وہی دیکھ رہی ہے جو وہ دکھانا چاہ رہے ہیں ، دنیا وہی سن رہی ہے جو وہ سنا ناچاہ رہے ہیں ،حتی کہ دنیا وہی بولنے لگی ہے جو وہ سنناچاہ رہے ہیں ۔

 دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ہی مغربی  میڈیا کا اصل ہدف اشتراکی نظام رہا لیکن سرد جنگ کے خاتمہ اور یو ایس ایس آر کے زوال کے بعدگلوبلائزیشن اور پوسٹ لبرلزم میں مغربی میڈیا کا  اصل ہدف(Target ) اسلام اور مسلمان کی شبیہ بگاڑنا رہا ہے ۔ مغرب نے اپنی فلموں ، ٹیلی ویزن نیوز اور اخباروں میں مسلمان اور اسلام کی جو شبیہ پیش کی کمونیکشن ٹکنالوجی اور انفارمیشن کے عدم توازن کے باعث مسلمانوں کی وہی شبیہ دنیا کے سامنے بن گئی ۔ کیوں کہ اس کے ردعمل میں مسلمانوں کے پاس کوئی منظم اور بڑا میڈیا ایجنسی نہیں تھا جہاں سے وہ اس کی نفی کرسکتے تھے اور اپنے موقف کو دنیا کے سامنے رکھ سکتے تھے ۔ اس حقائق کو ایڈورڈ سعید کی کتاب ’’ کورنگ اسلام ‘‘ (1995 ) کے مطالعہ سے سمجھا جا سکتا ہے ۔

ایڈورڈ سعید Charlotte Ryan’کے اس خیال سے متفق ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ اسلام کے بارے میں لکھے گئے آرٹیکلز کو خصوصی طور پر Frameکیا جاتا ہے تا کہ مغربی دنیا کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیا بی حاصل ہو سکے۔جس کے تحت مسلمانوں کا تصور ایسے گروہ کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے جو عقل و دانش سے پیدل اور محدود سوچ کے حامل ہیں ۔ جس  سے امریکہ کو اپنے خود ساختہ دشمن کے مقابل قوم کو یکجا کرنے کا موقع بھی ملتا ہے اور قومیت Nationalismپروان چڑھتی ہے۔سعید کہتے ہیں کہ اس اندا ز میں مغربی میڈیا ایک تیر سے دو شکار کرتا ہے۔ ایک طرف و ہ سیاسی طرفداری کے ساتھ معلومات مہیا کرتا ہے جس سے قومی اتحاد کو فروغ ملتا ہے جبکہ دوسری جانب اسلام کی غلط تفہیم ہوتی ہے۔ Time for Kids,نامی رسالے کی مثال لے لیجیے اس میں ہر کہانی امریکہ اور اس کی اقدار کی شان و شوکت سے متعلق ہی ہوتی ہے۔ اس میں امریکیوں کو شاندار، عقل مند اورصاف ستھرا دکھایا جاتاہے جبکہ افغانی فوجی کی تصویر کو غلیظ اور جنگلی بنا کر دکھایا جاتاہے۔جب مغرب اسلام کا ذکر میڈیا میں کرتا ہے تو یہ انہی مقاصد کے تحت ہوتا ہے جس کا وہ پہلے سے تعین کرچکے ہوتے ہیں ۔

مغربی دانشوراور صحافی جب میڈیا کسی مضمون کو دائرہ کار میں لانا اور بتانا چاہتا ہے تو اس مو ضوع پر بحث کے نام پر لوگوں کو بلاتا ہے جس میں اسلام اور مسلمان کے خلاف بولنے والے بہترین اسپیکر کو بلایا جاتا ہے اور اسلام کا نکتہ نظر رکھنے والے کی جگہ پر بہت ہی کمزور اور موضوع پر دسترس نہ رکھنے والے کو بلا یا جاتا ہے ( اور یہی ہندوستان میں بھی ہو رہا ہے ’’ طارق فتح کا  فتوی اس کی واضح مثال ہے ) پھر وہ مو ضوع کے ماہرین کی غیر موجودگی کی وجہ سے اس کا ینکر اور ’’اکسپرٹ‘‘ اسلام اور مسلمان کے خلاف جھوٹ گھڑتا ہے اور اسے ناظرین کے درمیان پھیلاتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف عوامی رائے عامہ تیار کرتا ہے ۔ یہ وا ضح رہے کہ نیو ز کا بہاو ( flow ) پچھلے ایک صدی سے مغرب سے مشرق کی طرف رہا ۔ قومی صحافت عالمی معاملات اور حالات کی رپورٹنگ کے لیے ، امریکی ایجنسی اے پی، برطانوی نیوز ایجنسی ، رائٹر، فرانسی نیوز ایجنسی اے ایف پی (Agence France-Presse) کی محتاج رہیں اور ہم تک وہی خبریں آئیں اور اسی طرح سے پیش ہوئیں جیسی ان کی پالیسی رہیاور اس کی وجہ سے عالمی سطح پر مسلمان اور اسلام کی جو امیج بنی اس کا اثر ہندوستان میں بھی ہوا۔

 میڈ یا جسے جمہوریت کا چوتھاستون کہا جاتا ہے ، اس کی ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے کہ وہ اکثریتی فرقہ اور اقلیتی کے درمیان خوشگوار تعلقات کی فضا کو فروغ دے اور ایسی خبروں کی نشر و اشاعت سے گریز کرے جو مذہبی منافرت کو ہوا دیتی ہو۔ لیکن ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہندوستان میں میڈیا اپنی اس ذمہ داری سے غفلت برت رہا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ قومی میڈیانے دو نوں فرقوں کو قریب کر نے کے لیے قابل ذکر کوشش کرنے کے برعکس مذہبی تناؤکو بھڑکاتا ہے۔ بابری مسجد کو متنازع ڈھانچہ اور رام جنم بھومی کا لفظ میڈیا نے ہی دیا تھا ۔ مسجد کے انہدام میں جہاں فرقہ پرست طاقتیں کام کرہی تھیں وہیں قومی میڈیا ان کا آلہ کا بنا ہوا تھا۔ ہندی اخباروں نے رتھ یاترا اور بابری مسجد کے انہدام تک اپنے پہلے صفحہ پر بڑے اہتمام اور پابندی کے ساتھ کسرتی بدن والے تیر دھنوس سے لیس رام جی کی قد آور تصویر کی اشاعت کی اور ساتھ ہی مستقبل کے رام مندر کے بلو پرنٹ کا خاکہ بھی شائع کیا، جس نے ہندی قاریوں میں مذہبی جنون اور رام مندر کے تصور کے تئیں عقیدت اور جوش کو انتہا پر پہنچا دیا تھا اور اس کے نتیجے میں آخر مسجد شہید کردی گئی۔ اسی طرح اگر گجراتی اخبار ’’سندیش‘‘ اور ’’گجرات سماچار‘‘ مرچ مسا لہ کے ساتھ گودھرا سانحہ کی جھوٹی رپورٹنگ نہیں کرتا توشاید گجرات فساد نہیں ہوتا۔ملک کے اکثریتی فرقہ کے کنٹرول والا ہندو توا ذہنیت والا ہندی اور بنگالی میڈیا مسلم کمیو نیٹی کے مسائل کو  بہت ہی مضحکہ خیز ڈھنگ سے پیش کرتا ہے ۔

یکساں سول کوڈ، فرقہ وارانہ فسادات ، سلمان رشدی کی تصنیف ، شاہ بانوکیس ، تین طلاق،  تسلیمہ نسرین کے خلاف فتوی ٰ جیسے معاملات پر قومی میڈیا کا رویہ مثبت نہیں دیکھا گیا ہے۔ شاہ بانو کیس میں میڈیا کا کردار مثبت نہیں تھا اور موجودہ تین طلاق پر بھی وہ اسی روش پا گامزن ہے ۔ شاہ بانو کیس میں وہ مسلم کمیو نیٹی کا مذاق اڑا رہے تھے یا اصل معا ملہ کو کچھ اور ہی رنگ دینے پر تلے تھے ۔ ایسے ہی 2004 میں عارف اور گڑیا کیس میں بھی قومی میڈیا بالخصوص ٹی وی نیوز چینلس مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجا ئے اس کو سنسنی خیز بنا کر ٹی آرپی کی جنگ جیتنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ہندو توا جرنلز کے ایجنڈا میں مسلم کمیو نیٹی کو بدنام کر نا اور اس کی اسٹریو ٹا ئپ شبیہ کو اجا گر کرنا ہے جس کے تحت مسلمانوں کے خلاف ’’ ہم پانچ ہمارے پچیس‘‘ جیسے نعرے ایجاد کیے گئے تھے ۔اور  1985 میں جب شاہ بانو کیس کا معا ملہ آ یا تو میڈیا نے اس کی آ ڑ میں مسلم سماج اور اسلامی شریعہ کا خو ب مذاق اڑا یا ۔ جیسا کہ جگدیش چیتن نے اپنے اخبار دی سنڈے  آبژرور 23, میں فروری 1986 کے کالم میں ججوں سے لیکر دیگر تما م لو گوں کے رویہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ سب ایک اقلیتی فرقے کو بے عزت کرنا چاہ رہے تھے اور ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے تھے ۔

یوگندر سکندر نے اس مسئلہ پر ایک اہم بات کہی ہے کہ: ’’ اخباروں میں مسلمانوں کی بہت ہی منفی شبیہ پیش کر کے ان پر فکری حملہ کیا جاتا ہے ۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ میڈیا غیر ضروری مدعوں پر تنازع کھڑا کر کے مسلمانوں کو اتنی چالاکی سے الجھا دیاہے کہ اس کمیونیٹی کے اصل مسائل پر لوگوں کا دھیان ہی نہیں جا تا ہے جن پر دھیان دینے کی اشد ضرورت ہے۔‘‘( دی آبژرور آف بزنس اور پالٹکس ، 25 جون 1994 ) ۔ امریکی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد ہندستان میں انگریزی، ہندی اور دیگر علاقائی زبان کی میڈیا نے مسلمانوں کے خلاف جیسے محاذ کھو ل دیا ہو۔ ملک کے ہر چھوٹے بڑے دہشت گردی کے واقعات کے انجام پانے کے فوری بعد کسی مسلمان تنظیم یا شخص کو شہ سرخیوں کے ساتھ اخبار میں اور ٹی وی پر  چیخ چیخ کر دکھایا جانے لگا۔ صحافتی اصول ،تحقیق اور واقعات کے دونوں پہلوں کا تجزیہ اور توازن کو طاق پر رکھ دیا گیااور ایک زبان ہوکر ایک کمونیٹی کے خلاف انگشت نمائی کی جانے لگی۔ مسلم کمونیٹی کی ہر اچھائی انہیں برائی لگنے لگی،ہمارے لباس وضع قطع پر سوالیہ نشان لگنے لگے اور اسے ملکی تہذیب کے خلاف بتایا جانے لگاہمارا وجود ’’نیشنلسٹوں ‘‘ کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا ہے ۔ جس کی واضح مثال حالیہ تین طلاق کا معاملہ ہے ، یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جو اچانک پیدا ہو گیا ہو۔ بلکہ سوچی سمجھی سازش کے تحت اس کو مسئلہ بنا کے پیش کیا گیا اور اس شد و مد کے ساتھ پیش کیا گیا اور اس کے خلاف ملک کی فضا ہموار کی گئی کہ سپریم کورٹ بھی اس میں شامل ہوگیا اور تمام کام سے اہم کام سمجھ کے اس کی مسلسل شنوائی کرنے بیٹھ گیا۔ جبکہ بابری مسجد سمیت کتنے ہی ایسے قضیے ہیں جس پر اس نے چپی سادھ رکھی ہے ۔ ملک میں میڈیا کے عدم توازن کی جو صورت حال ہمیں اس وقت نظر آرہی ہے ما قبل آزادی اور فوری بعد یہ نہیں تھی ۔ ایسا نہیں ہے کہ ماقبل آزادی مسلمانوں کے خلاف زہر نہیں اگلا جا رہا تھا ۔

آر ایس ایس ذہنیت والے اخبار جس کا سرخیل ’’پنجاب کیسری‘‘ تھا آئے دن مسلمان اور مسلم تہذیب کو ہندوستان مخالف لکھتا رہتا تھا۔ لیکن اس زمانے میں ہندوستان کی صحافت پر مسلمانوں کا پورا کنٹرول تھا ، جو صحافی تھے وہ اپنے وقت کے عظیم رہنما اور مصلح قوم تھے ۔ حالات حاضرہ اور ملکی مسائل پر انکی گہری نظر تھی ۔ وہ مدلل دلائل اور بصیرت کے ساتھ ان اعترض کا جواب اور تجزیہ پیش کرتے تھے اور مسلمانوں کو ملک کے بدلتے صورت حال سے بیدار رکھتے تھے ۔ آزادی کے بعد اس میں انحطاط آیا ہے ۔ اچھے صحافی کی کمی کے سبب مسلم قوم اور ملت کی صحیح رہنمائی نہیں ہو پارہی ہے ۔ اور اگر حالات سے ایسے ہی چشم پو شی کی گئی جو اب تک ہمارا رویہ رہا ہے تو یاد رکھیے ملک کی گندی سیاست میں آپکے چہرے پر مزید کالک پو تی جاتی رہے گی اور پھر ایک وقت ایس بھی آئے گا جب خود آپ اپنی شبیہ کو نہیں پہچان پائیں گے کہ اصل میں آپ کیا تھے اور آپ نے اس ملک کو کیا کیا دیا ہے ۔آپ کا وجود اکثریت پر بوجھ بن جائے گا ۔اس لیے اپنا مو قف رکھیے ، آپکے نظریات اور خیالات کا منظر عام پر آنا اور اکثریتی طبقہ کے کانوں تک پہنچنا نہا یت ضروری ہے۔وہ مسلم نوجوانوں جنہیں لکھنے کا شوق ہے جن کے دل میں قوم اور ملت کا درد ہے ۔ جو زندگی میں ایسا کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں کہ بعد کی نسلیں ان کی قومی خدمت کو اور کارناموں کو یاد رکھے ۔

وقت اور حالات آواز دے رہے ہیں کہ مسلم نوجوان  صحافت کی فیلڈ میں قدم رکھیں اور اپنے جولان طبع سے سوسائٹی میں فکری انقلاب برپا کردیں۔ وہ ٹی وی جرنلز میں جائیں توپنی مدلل گفتگو سے اور فکری جستجو سے حقائق کو آشکار کردیں ۔پرنٹ میڈیا میں آئیے تو اپنی تفتیشی رپورٹنگ سے اور انقلابی تحریروں سے تن نازک میں شاہین کا جگر پیدا کردیں ۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس کچھ عذر ہو اور وقت کی مصلحت کا بہانہ بھی ۔ ان کے اس عذر ی بیماری کے علاج کے لیے مولانا آزاد کا مندرجہ ذیل اقتباس کافی ہے ۔ ’’بڑے بڑوں کا یہ عذر ہوتا ہے کہ وقت ساتھ نہیں دیتا اور سرو سامان اسباب کار فراہم نہیں ،لیکن وقت کا عازم و فاتح اٹھتا ہے اور کہتا ہیکہ اگر وقت ساتھ نہیں دیتا تو میں اس کو ساتھ لوں گا! اگر سروسامان نہیں تو اپنے ہاتھ سے تیار کر لوں گا! اگر زمین موافق نہیں تو آسمان کو اترنا چاہیئے! اگر آدمی نہیں ملتے تو فرشتوں کو ساتھ دینا چاہیے!اگر انسانوں کی زبانیں گونگی ہوگئی ہیں تو پتھروں کو چیخنا چاہیے! وہ دنیا پر اس لیئے نظر نہیں ڈالتا کہ کیا کیا ہے جس سے دامن بھر لوں وہ یہ دیکھنے کے لیئے آتا ہے کہ کیا کیا نہیں جسے میں پورا کردوں ۔‘‘

مزید دکھائیں

عبدالقادر صدیقی

ریسرچ اسکالر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد

متعلقہ

Back to top button
Close