آج کا کالم

مسلم پرسنل لا بورڈ اور مشاورت کو دائرہ کار کے سوال پر باہم الجھانے کی کوشش

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلمانوں کا سب سے با وقارمعتبر نمائندہ ادارہ ہے جس میں کم و بیش ملت کے ہر طبقہ کی ترجمانی ہے جو خالص شرعی امور میں ملت کی رہنمائی کرنے اور مسلم پرسنل لاء کے آئینی تحفظ کے لئے قائم کیا گیا تھا س نے حتی الوسع ذمہ داری نبھانے کی کوشش کی ۔ اس کی نیت واخلاص شک و شبہ سے بالا ترہے اسی طرح مسلم مجلس مشاورت کو (جس حال میں بھی ہے )مسلمانوں کے اکلوتے وفاقی پلیٹ فارم کی حیثیت حاصل رہی اس نے باہمی اختلاف و انتشار کے باوجود محدود وسائل کے ساتھ ہر نازک موڑ پر مسلمانوں کا موقف رکھنے اور سیاسی احیاء کے لئے جدو جہدکی۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام کے دور میں تھکی ہاری مشاورت میں پھر زندگی محسوس کی جانے لگی ان کے دور میں ہی مشاورت کے دونوں گروپوں کا تاریخی اتحاد عمل میں آیا ۔نئی قیادت اس عمل کو جاری رکھنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے ۔افسوس کی بات ہے کہ بعض دیدہ و نادیدہ طاقتیں ان دو اجتماعی پلیٹ فارم کو باہم متصادم کرناچاہتی ہیں ایک دوسرے کے دائرہ کار و اختیارات پر سوال اٹھا کر پہلے سے ہی انتشار و افتراق میں مبتلا ملت کو ایک اور آزمائش سے گذارنا چاہتی ہیں ۔مشاورت کے زیر اہتمام ایک کل ہند مشاورتی اجلاس کل دہلی میں بلایا گیا ہے۔جس میں مسلم پرسنل لاء کے حوالہ سے عدالتوں کے رخ کے پس منظر میں لائحہ عمل طے کرنے کی دعوت دی گئی ہے جس پر بعض حلقوں نے اعتراض کیا ہے کہ بورڈ کے دائرہ کار میں مداخلت ہے اس میں مشاورت کا کوئی رول نہیں بنتا حالانکہ اس کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر محترم حضرت مولانا رابع حسنی کی بھر پور حمایت و تائید حاصل ہے اس لئے جو اعتراض کر رہے ہیں انہیں بورڈ کا موقف معلوم نہیں ہے یا پھر وہ مولانا رابع سے زیادہ بورڈ کے لئے فکر مند ہیں۔

لکھنؤ میں مولانا رابع حسنی کے قریبی ذرائع نے نام شائع نہ کرنے کی شرکت پر اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے خط لکھ کر مشاورت کی میٹنگ کے تئیں نیک خواہشات کے ساتھ نہ صرف اپنی خوشی ظاہر کی ہے بلکہ مشاورتی نشست میں عائلیامور میں عدالتوں کی دراندازی اور مسلمانوں کی طرف سے مقدمات دائر کرنے کا حل تلاش کرنے پر بھی زور دیا ہے اور دعا ء بھی کی ہے ۔انہوں نے خط کے مندرجات کی تفصیل بتانے سے معذرت کر لی اگر بورڈ کے قابل صدا کرام و احترام صدر موصوف مشاورت کے زیر اہتمام میٹنگ کی بھر پور تائید و حمایت کرتے ہیں اس کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں تو پھر بورڈ کو ہائی جیک کرنے یا اس کے دائرہ کار میں مداخلت کی بات مضحکہ خیز اور شرانگیزی کے علاوہ کچھ نہیں ۔بورڈ اور مشاورت سرکاری ڈپارٹمنٹ یا تھانے نہیں کہ ان کے اختیار و حدود طے کئے جائیں بورڈ نے عائلی قوانین کے تحفظ سے آگے بڑھ کر ملی و قومی امور پربھی سرگرمیاں دکھائی ہیں اورمختلف مواقع پر سیاسی قرار داد یں منظور کی ہیں لیکن مشاورت یا کسی اور تنظیم نے کبھی اعتراض نہیں کیا ۔ریزرویشن و انسداد دہشت گردی جیسے مسائل بورڈ کے دائرے میں  آتے ہیں ؟۔دستوربچاؤ تحریک کس زاویہ سے بورڈ کے دائرہ کار میں آتی ہے یہ حکومت ہند ،پارلیمنٹ اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے یا بورڈ کی ،وہ دستور جس کا شریعت سے دور کا واسطہ نہیں جو یکساں سول کوڈ کا حامی ہے کیا اس کا بچاؤ کیا جانا چاہئے ۔؟اسی طرح 86ئمیں بورڈ کی عاملہ نے طے کیا تھا کہ بابری مسجد کا قضیہ قانونی ہے اس لئے وہ اس سے دور رہے گا مگر بعد میں جبکہ مشاورت کی بابری مسجد رابطہ کمیٹی جملہ سرگرمیاں انجام دے رہی تھی ،بورڈ نے ایک کمیٹی بنا کر معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا جبکہ یہ ملکیت کا تنازع ہے لیکن مشاورت نے کچھ نہیں کہا ۔اگر بورڈ کو شرعی امور میں رہنمائی کا اکلوتا حق حاصل ہے اور قرآن و سنت کا راست علم رکھنے والے ہی اس میں دخل دے سکتے ہیں تو پھر بزنس مین ،چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے لیڈر اور معاف کیجئے گا صبح اٹھ کر چہرے پر بلیڈ پھیر کر سنت نبویؐ کی توہین کرنے والے بورڈ میں کیوں ہیں اور وہ ہر طرح کے بیانات کیوں دیتے ہیں؟یہ بورڈ کی قیادت کی وسعت نظری، کشادہ قلبی کا اظہار ہی توہے۔ مسائل اور ملت کو ٹکڑوں میں نہیں بانٹا جاسکتا سب ایک دوسرے سے پیوست ہیں جس کو اللہ توفیق دے وہ کام سنبھال لے ٹھیکیدارانہ ذہنیت کل بھی نقصان دہ تھی اور آج بھی مضر ہے ۔مشاورت اور بورڈ ایک جان دو قالب ہیں ۔دونوں مسلمانو ں کے اپنے وفاقی ادارے ہیں ان کی شاندار اور تابناک تاریخ ہے ،دونوں کا دل ایک ساتھ دھڑکتا ہے ،دونوں کی منزل ایک ہے یہ سوچاہی نہیں جا سکتا کہ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو نقصان پہنچائے گا ۔دونوں جگہ افراد مشترک ہیں جو بورڈ کا ممبر ہے مشاورت بھی اس کی خدمات سے مستفید ہو رہی ہے ۔بورڈ کا قیام بھی مشاورت کی تحریک پر ہوا تھا یہ سب جانتے ہیں ۔یہ مدرسہ یا کھیت کی ملکیت کی لڑائی نہیں کہ بزور طاقت قبضہ کی کوشش کی جائے ملت کی خدمت پر کسی کا کاپی رائٹ نہیں ہے ۔ماضی میں ایسی کوششوں کو مسلمانوں کے سواد اعظم نے قبول نہیں کیا تھا اور نہ ہی اب کرے گا ،عدم رواداری کا مظاہرہ کسی بھی طرف سے ہو اسے منظور نہیں کیا جا نا چاہئے۔ کسی ادارہ کو مقدس گائے کا درجہ دینا اس کی اصلاح کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے ۔ملت ،مشاورت اور بورڈ سب سنگین داخلی و خارجی چیلنجوں سے گذر رہے ہیں مسلکی اختلافات سے جان پر بھی آئی ہے ۔ایسے میں کوئی نئی کشمکش خود کش ثابت ہو سکتی ہیں ۔بورڈ اور مشاورت کو ایک دوسرے کی بے حرمتی پر نہ اکسایا جائے تو یہ ملت پر بہت بڑا احسان ہوگا۔

 

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

قاسم سید

معروف صحافی اور روز نامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر

متعلقہ

Close