آج کا کالم

مشنری بی جے پی کا مشن مہم، کتنا کامیاب کتنا ناکام

رویش کمار

بی جے پی  کی اترپردیش شاخا کے ریاستی صدر کیشو پرساد موریہ کا بیان آیا ہے کہ ریاست میں بی جے پی 403 اسمبلی سیٹوں میں سے 300 پر کامیابی حاصل کرے گی۔ لوک سبھا میں اتر پردیش کی 80 میں سے 70 سے زیادہ سیٹوں پر قبضہ کرنے والی بی جے پی کے اس دعوے کو ہلکے میں نہیں لینا چاہئے۔ سیاست امکانات کی دعویداری سے شروع کی جاتی ہے۔ بی جے پی صدر امت شاہ نے ملائم اور مایاوتی کے گڑھ میں جا کر یہ ریکارڈ تو بنایا ہی ہے۔ اگر دوسری بار وہ ملائم اور مایاوتی کی گھیرابندی کو توڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تووہ بی جے پی کے سب سے کامیاب صدر مانے جائیں گے. کئی معنوں میں کامیاب۔ دو علاقائی جماعتوں کو ختم کر ایک قومی پارٹی کی واپسی کرانا آسان نہیں ہے۔ امت شاہ کی سیاست کا بنیادی منتر یہی لگتا ہے کہ نتیجہ کچھ بھی ہو، دكھو ہمیشہ ایسے کہ لگے کہ جیت رہے ہیں. بولو ایسے کہ سامنے میدان خالی ہے۔ مخالف میدان چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے وقت سے ہی بی جے پی نے ہار جیت کی فکر کئے بغیر اپنا مشن طے کیا ہے۔ اس مشن کا تعلق تعداد سے ہوتا ہے. بی جے پی کے انتخابی مشن اور نتائج کا مطالعہ کرنا چاہئے. کئی ریاستوں میں اس کا مشن فیل رہا ہے. ان میں سے کچھ ریاستوں میں مشن فیل ہونے کے بعد بھی اس کی حکومت بنی ہے. کچھ ریاست میں مشن بری طرح فیل رہا ہے. تمام ریاستوں میں مشن کے تحت طے کی گئی تعداد اور حاصل سیٹوں کی تعداد میں کافی فرق ہے۔ کہیں وہ وزیر اعلی کا نام بتاتی ہے، کہیں نہیں بتاتی ہے۔ کیشو پرساد موریہ نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں بغیر چہرے کے اترنے جا رہی ہے۔ اس کے باوجود 300 سییٹس جیتنے کا دعوی کم بڑی بات نہیں ہے۔ یوپی میں سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی نے تو اپنے امیدواروں کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ بی جے پی نے نہ تو امیدوار طے کئے ہیں اور نہ وزیر اعلی کا چہرہ. اس کے بعد بھی اسے یقین ہے کہ 300 سیٹوں پر جیتے گی۔

 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا مشن 272 کامیاب رہا کیونکہ اس سے بھی زیادہ سیٹیں ملی. جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی مشن 55 کے ساتھ میدان میں اتری، جھارکھنڈ میں مشن 55 فیل ہو گیا. وہاں بی جے پی کو آج اجسو کے ساتھ مل کر حکومت بنانی پڑی- جموں کشمیر کے اسمبلی انتخابات میں مشن 44 تھا لیکن 25 سیٹ ہی حاصل کر سکی- یہ اور بات ہے کہ جموں کشمیر کی تاریخ میں بی جے پی پہلی بار حکومت کا حصہ بن گئی۔ مشن 44 فیل رہا لیکن مشن حکومت پاس ہو گیا. دہلی میں بی جے پی کا نعرہ تھا مشن 60۔ رذلٹ آیا تو صرف تین نشستیں ملیں. ہریانہ میں بھی بی جے پی نے مشن 60 کی مہم چلائی۔ بی جے پی کو 46 سیٹیں آئیں اور وہاں کی 90 اسمبلی سیٹوں میں اکثریت حاصل ہوئی۔ مگر یہاں بھی مشن فیل ہوا۔ مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی کو 122 سیٹیں ملیں. مہاراشٹر کے انتخابات میں بی جے پی کا مشن 145 تھا. بہار میں مشن 185 یا 175 تھا لیکن یہاں بی جے پی کو بری طرح سے شکست ملی۔ 157 سیٹوں پر لڑ کر بی جے پی 53 سیٹیں ہی جیت سکی۔

 میڈیا رپورٹ کے مطابق کیرالہ میں بی جے پی نے مشن 71 لانچ کیا تھا لیکن وہاں کی 140 سیٹوں میں سے ایک سیٹ جیت سکی. یہ پارٹی کی سب سے کم کارکر دگی تھی۔ تمل ناڈو میں بھی کوئی نہ کوئی مشن رہا ہوگا مگر وہاں کی 232 سیٹوں میں سے ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ مغربی بنگال میں اس کا مشن تھا ترنمول مفت بنگال. ریاست کی 294 اسمبلی سیٹوں میں سے بی جے پی 3 سیٹیں ہی جیت سکی۔ دہلی اور بنگال دو ریاستیں ہیں جہاں بی جے پی نے تین سیٹیں جیتی ہیں۔ آسام ضرور بی جے پی کے لئے ایک کامیاب ریاست ہے۔ یہاں کی 126 اسمبلی سیٹوں میں سے 56 سیٹیں جیت گئی۔ یہاں اسے اپنے طے مشن سے کم ہی سیٹیں ملی لیکن بی جے پی آسام میں پہلی بار حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔

 الیکشن آتے ہی میڈیا میں بی جے پی ہمیشہ آگے رہتی ہے۔ مرکز کے تمام وزیر مہینوں اور ہفتوں پہلے ریاست کے اضلاع شہروں کا دورہ کرنے لگتے ہیں- سنگ بنیاد لے کر افتتاح تک اور مرکزی حکومت کی اسکیموں کا کسی نہ کسی بہانےپرچار  کرنے لگتے ہیں۔ بی جے پی کی حکمت عملی اور لائحہ عمل سے ایسا ماحول بنتا ہے جیسے اس کے سامنے کوئی نہ ہو۔ آپ حالیہ انتخابات میں بی جے پی کے مقابلے دیگر سیاسی جماعتوں کو ملے میڈیا کوریج کا تناسب دیکھیں۔ بہت بڑا فرق دکھائی دیکھا. میڈیا کے سرخیوں میں بی جے پی کی ہی لہر چلتی ہے۔ سروے اور اوپینین پول میں بی جے پی کو ہی برتری حاصل ہوتی ہے. ٹی وی ڈبیٹ میں اسی کے مسائل پر بحث ہو رہی ہوتی ہے. اس کے بعد بھی عوام اپنے حساب سے فیصلہ کرتی ہے۔ وہ بی جے پی کو جیت بھی دیتی ہے اور بی جے پی کو شکست بھی دیتی ہے۔ مختلف ریاست میں مختلف نتائج آتے ہیں. لیکن میڈیا کے صفحات پر نتیجہ ہمیشہ ایک ہوتا ہے۔ بی جے پی۔

 بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک اور اچھی بات ہے۔ وہ اپنی شکست سے انحراف نہیں ہوتی. ایک مشن فیل ہوتا ہے تو دوسرا وہی مشن آ جاتا ہے۔ سارے لیڈر پھر سے انتخابی میدان میں لگ جاتے ہیں۔ وہ مسلسل داؤ کھیلتی ہے. اس کے تمام لیڈر جارحانہ پوزیشن میں رہتے ہیں۔ مسائل کی برسات کر دیتے ہیں۔ کبھی گائے کا گوشت تو کبھی گائےکی حفاظت تو کبھی کشمیر تو کبھی بریانی تو کبھی بنگلہ دیشی تو کبھی پاکستان۔ اب تین طلاق۔ اسی کے ساتھ ساتھ ترقی کی دعویداری اور دنیا میں ہندوستان کا نام۔ یہ سب بی جے پی کے مسائل کی پیکیجنگس ہیں۔ بی جے پی کے ترجمان بھی جارحانہ پوزیشن میں مخالفین پرغالب رہتے ہیں۔

 کارکن سے لے کر وزیر تک انتخابات میں ایسے جٹ جاتے ہیں کہ آپ سمجھ نہیں پائیں گے کہ وزیر انتخابی ریاستوں میں اتنا مصروف رہتے ہیں تو کام کب کرتے ہوں گے۔ انتخابی ریاستوں میں دورہ کرنے والے وزراء کا حساب نکالا جائے تو ایک دلچسپ اعداد و شمار بن سکتا ہے۔ وہ کتنے دن وزارت میں رہتے ہیں اور کتنے دن انتخابی ریاست میں۔ اس کے علاوہ بھی تمام پروگراموں کے بہانے ریاستوں کا دورہ کرتے ہی رہتے ہیں. پوری حکومت نیند میں بھی چلتی نظر آتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہر وقت انتخابی حالت میں رہتی ہے۔ خود بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ عام کارکن کی طرح انتخابی ریاست میں ڈیرہ ڈال دیتے ہیں. قصبے سے لے کر ضلعی سطح کی میٹنگ کرتے ہیں۔ اگر آپ محنت کو پیمانہ بنائیں تو بی جے پی واقعی محنتی پارٹی ہے. اس کے بعد بھی اسے من مطابق نتائج نہیں مل پاتے ہیں۔ سوچیں جو پارٹی بی جے پی کو شکست دیتی ہیں، وہ کتنی محنت کرتی ہوں گی۔ ان میں حکمت عملی کتنی مثالی ہوتی ہوں گی۔ یہ سب تو میڈیا میں آتا نہیں اس لئے آپ سوچ ہی سکتے ہیں۔ اس لئے اتر پردیش میں بی جے پی 300 سیٹیں جيتےگي اسے نہ تو غلط تصور کریں نہ ہی اسے نتیجہ مان لیں۔ انتخابات شروع ہو گیا ہے. انتخابات کا مزہ لیجئے-

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close