آج کا کالممعاشیات

معاشی ناہمواری اور دیوالیہ کے دلدل میں قومی معیشت 

ڈاکٹر سلیم خان

ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ  کے حالیہ  فائنل میں ہندوستان اور پاکستان نہیں آنے سے  ایک  فساد ہوتے ہوتےٹل  گیا  ورنہ بلاوجہ نہ جانے کتنی دوکانیں جل جاتیں، کتنے لوگ بے گھر ہوجاتے، زخمیوں اور مرنے والوں کا حساب الگ سے رکھنا پڑتا۔ ہندوستانی ٹیم برطانیہ سے ہار کر آجائے تو کوئی ہنگامہ نہیں ہوتا لیکن اگر خدانخواستہ پاکستان سے شکست کھا جائے تو نہ جانے کون  پٹاخے چھوڑکر فساد برپاکردیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جو لوگ فتح کا جشن منانے کے پٹا خہ لاتے ہیں  وہ اپنا غم غلط کرنے کے لیے  انہیں  مسلمانوں کے نام  پر چھوڑ کر  اپنا غصہ اتار دیتے ہیں۔ ایشیا کپ   میں ہانگ کانگ کے سارے ممالک جنوب ایشیا کے تھے۔ پاکستان، بنگلا دیش، سری لنکا اور افغانستان۔ ان میں سے سری لنکا تو بیچاری سپر فور میں نہیں آسکی، افغانستان چوتھے، پاکستان تیسرے اور بنگلا دیش دوسرے نمبر پررہا۔ ہندوستانی ٹیم کو اپنی فتح کا اس قدر یقین تھا کہ وراٹ  کوہلی نے آرام کرنے کا فیصلہ کرلیا اس  کے  باوجود وہ فتح مند ہوگئی۔

یہ تو خیر کرکٹ کے میدان میں ہوا جس کا تعلق محض تفریح و اشتہار  سے ہے لیکن حال میں  معاشی عدم مساوات کے سنجیدہ موضوع پر آ    کسفام نامی برطانوی تنظیم کی رپورٹ شائع ہوئی۔ ہر خاص و عام کے روزمرہ کی زندگی سے تعلق رکھنے والی اس رپورٹ  کے انکشافات چونکا نے والے ہیں۔ اس جائزے کے مطابق  کرکٹ کا ایشیا چیمپین  دنیا کے جملہ  ۱۵۷  ممالک کی فہرست  میں نیچے سے ۱۱ ویں یعنی ۱۴۷ ویں  پائیدان پر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس اہم باب میں  دنیا کے  صرف ۱۰ ممالک کی حالت ہم سے بدتر ہے۔ سارے عالم سے صرف نظر کرکے اگر  جنوب ایشیا کے ممالک کا  تقابل کیا جائے تب بھی  صورتحال کم دلچسپ نہیں ہے۔ مالدیپ اور بھوٹان  وہ ممالک ہیں جنھوں  نے ایشا کپ میں حصہ ہی نہیں لیا۔ اس لیے مالدیپ پہلے اور بھوٹان ا ٓٹھویں نمبر پر ہیں۔   باقیماندہ کرکٹ کھیلنے والے ان کے درمیان ہیں۔

معاشی ناہمواری  کے خاتمہ کی کوشش کرنے والوں میں  مالدیپ کے بعد دوسرا مقام سری لنکا کا ہے جو سب سے پہلے ایشیا کپ سے باہر ہوگیا  اور آخری چار ممالک میں شامل نہیں ہوسکا۔  حیرت کی بات یہ ہے کہ سری لنکا کے بعد  اس فہرست میں  نہایت پسماندہ سمجھا جانے والا  اور  ایشیا کپ میں چوتھے مقام پر آنے والا افغانستان ہے۔ خانہ جنگی کا شکار افغانستان کا ہندوپاک پر برتری حاصل کرنا  غیرمعمولی بات ہے۔ پاکستان ایشیا کپ میں تیسرے مقام پر تھا مگر اس دوڑ میں وہ چوتھے نمبر ہے۔ یہ وہی پاکستان ہے جس کو اہانت آمیز انداز میں  ناکام ریاست قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد  سابق ہندو راشٹر نیپال کی باری  آتی ہے جو  پانچویں مقام پر ہے۔نیپال  کےنیچے ایشیا چیمپین  بھارت مہاناور آخر میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنے والے  بنگلا دیش  ہے  ۔  اس ترتیب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کرکٹ کے ذریعہ اپنے آپ کو بہلانے اور اپنے ٹھوس مسائل کو حل کرنے کی کوشش میں کون کتنا سنجیدہ  ہے؟  اس  جائزے کا قابلِ ذکر  پہلو یہ ہے کہ ہندوستان ٹیکس کی اصلاح میں پہلے نمبر پر ہے یعنی سرمایہ داروں کا بھلا کرنے میں سب سے آگے لیکن اس جمع شدہ رقم کو تعلیم، صحت و سماجی تحفظ پر خرچ کرنے اور محنت کشوں کے حقوق  کی ادائیگی میں  اس کاچھٹا نمبر ہے۔ اس طرح عمومی حیثیت میں  بھی  ہم  لوگ صرف بنگلا دیش سے آگے ہیں۔ سیاسی صورتحال  بھی یہی ہے کہ یہاں مخالفین کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور وہاں پھانسی دے دی جاتی ہے۔

بھکتوں  نے بی جے پی سرکار سے  نہ جانے کیا کیا امیدیں باندھ رکھی تھیں لیکن ایک چائے والے وزیر اعظم سے کم ازکم  یہ توقع تو سبھی کو تھی کہ وہ ملک میں عدم مساوات کم کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا ۔ آکسفام کی تازہ رپورٹ نے اس  خوش فہمی کو دور کردیا۔ فی الحال ہندوستان دنیا کی ابھرتی ہو ئی معیشتوں کے دفاق برکس میں شامل ہے اور اس میں جنوب ایشیا کے کسی اور ملک کا گذر نہیں ہے۔ برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے ان ممالک کا موازنہ بھی کم اہمیت کا حامل نہیں  ہے۔ آکسفام کے مطابق معاشی ناہمواری  کو دور کرنے والوں میں ۳۵ ویں نمبر پر جنوبی افریقہ برکس  ممالک میں سب سے آگے ہے۔  اس کے بعد ۳۹ ویں پر برازیل ہے۔ پوتن کا روس  ۵۰ ویں پائیدان پر براجمان ہے اور چین ۸۱ ویں پر ہے۔چین  اور ہندوستان کا موازنہ کیا جائے تو ان دونوں کے درمیان   ۶۵ ممالک کی گہری خلیج  ہے۔

  وطن عزیز کو جمہوریت پر بڑا ناز ہے۔ اس سیاسی نظام میں سارے لوگوں کے مساوی سیاسی حقوق  پر فخر  جتا یا جاتا ہے لیکن کیا جمہوریت میں معاشی مساوات  کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ دنیا کی وسیع ترین جمہوریت  کامعاشی ناہمواری کے میدان میں   اس قدر نیچے ہونا کس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے؟  ویسے اس میدان میں دنیا کی سب سے عظیم جمہوریت امریکہ  کی حالت بھی بہت اچھی نہیں ہے۔ وہ خود ۲۳ ویں پر ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے   کہ  چین جیسا غیر جمہوری ملک اپنے عوام کی صحت پر ہندوستان سے دوگنا اور  ان کی فلاح بہبود پر چار گنا  سےزیادہ خرچ کرتا ہے۔ اسی لیے وہاں غریبوں اور امیروں کے درمیان کھائی تیزی کے ساتھ پرُ ہورہی ہے اور ہمارے یہاں بڑھتی جارہی ہے۔ چین کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) ہندوستان سے ۶ء۴ گنا زیادہ ہے اور  فی فرد جی ڈی پی   ۴۷ء۴ گنا زیادہ ہے۔ ہم لوگ  خود فریبی  کی خاطر ہمیشہ  شرح نمو  کا موازنہ کرکے خوشی مناتے ہیں۔

آکسفام تو خیر ایک  عالمی ادارہ ہے اور اس کی بابت کوئی بھکت یہ دعویٰ بھی کرسکتا ہے کہ وہ مودی جی کے خلاف بین الاقوامی سازش  کا حصہ ہے لیکن  ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) تو مرکزی حکومت کے تحت چلتا ہے اس لیے اس کے  ’کنزیومر کنفیڈنس سروے‘ کو بہ آسانی مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے جائزے  میں بھی مودی حکومت کے تئیںعوام کی مایوسی بڑھ رہی  ہے۔ بیروزگاری کی بابتلوگوں کی ناامیدی میں  دسمبر ۲۰۱۳ ؁  کے مقابلے ستمبر ۲۰۱۸ ؁  میں دوگنااضافہ ہوا ہے۔دسمبر ۲۰۱۳ ؁ کی صورتحال یہ تھی کہ ۱ء۲۹ فیصد لوگ ایک سال پہلے کے مقابلے حالات کو بہتر مانتے تھے  جبکہ۳۴ فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ حالات بدتر ہوئے ہیں۔ اب ستمبر ۲۰۱۸ ؁ک۲ء۳۵ فیصد لوگ ملازمتوں میں حالات کی بہتری کی بات کرتے ہیں جب کہ ۵ء۴۵فیصد لوگوں کو حالات خراب ہونے کیشکوہ ہے۔ اس طرح بے اطمینانی  کی خلیج ۹ء۴فیصدسے بڑھ کر ۳ء۰افیصدیعنی  دوگنا ہوگئی ہے۔

وزیراعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت نے صرف۲۰۱۷ ؁میں ہی ۲۸ء۱ کروڑ روزگار پیدا کئے مگر سینٹر فار مانیٹرنگ اکانومی کے مطباق یہ تعداد صرف ۱۶ لاکھ ہے۔ ایک  غیرسرکاری تنظیم عظیم پریم جی یونیورسٹی کے سینٹرفارسسٹنبیل امپلائمنٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۵ ؁  کے پہلے تین سال کے دوران نئی نوکری تو دور  تقریبا ۷۰لاکھ ملازمتیں ختم ہو ئی ہیں۔تعلیم یافتہ نوجوانوں کے سامنے سب سے بڑا بحران روزگار کا ہی ہے۔ ملک کی کل بے روزگاری شرح کے مقابلے اعلیٰ  تعلیم یافتہ  نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح ۶گنا زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کی شرح کے باوجود ملازمتوں کی تخلیق نہیں کی جا رہی ہے۔ ۲۰۱۱ ؁ تا ۲۰۱۵ ؁  تک اقتصادی ترقی کی شرح ۸ء۶ فیصد تھی لیکن روزگار میں صرف ۶ء۰  فیصد کااضافہ ہوا یعنی اقتصادی ترقی کے فوائد سے عام لوگ محروم رہے۔

آمدنی کے محاذ پر آر بی آئی کے سروے چونکانے والا ہے۔ دسمبر ۲۰۱۳ ؁  میں۹ء۳۰ فیصد لوگوں نے ایک سال قبل کے مقابلےا ٓمدنی کے بڑھنے کی تصدیق کی تھی  جبکہ۵ء۱۵ فیصد کمی کا رونا رورہے تھے۔ اب تازہ جائزے میں ۳ء۲۸ فیصد لوگوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے ان کی آمدنی بڑھی ہے اور ۴ء۲۳ فیصد لوگوں نے آمدنی گھٹنے کی بات کہی۔ یعنی پہلے آمدنی کی  بہتری کا اظہار کرنے والے ۴ء۱۵ فیصد زیادہ مگر اب صرف ۹ء۴ فیصد ہیں۔ موجودہمعاشی عدم اطمینان حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ ایک طرف تو یہ سنگین صورتحال ہے اور دوسری جانب حکومت کے عارضی  لگام  کےڈھیلا پڑنے سے ایندھن  کا بھاو پھر سے بڑھنے لگا ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجوملک بھر میں پٹرول ڈیزل کے نرخ میں اضافہ قابلِ مذمت ہے۔ اس کے ساتھ ڈالر کے مقابلے روپیہ کی قیمت  میں کمی کو لوگ حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔  اس  دوڑ میں پہلے سنچری کس کی ہوتی ہے  کوئی نہیں جانتا؟  یعنی پٹرول ۱۰۰ کا آکڑہ پار کرنے میں سبقت لے جاتا ہے ڈالر یہ  عظیم معمہ ہے۔

قومی معیشت کی  زوال پذیری کا اندازہ حصص بازار کی خستہ حالی سے بھی کیا جاسکتا  ہے۔ وہ شیئر بازار جو مودی جی کے اقتدار میں آنے سے بلیوں اچھل رہا تھا اب ان کے ساتھ روبہ زوال ہوگیا ہے اور سرمایہ کار اپنی مال و متاع کوحسرت بھری نگاہوں سے ڈوبتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ بی ایس ای اوراین ایس ای غوطے کھا رہے ہیں، سنسیکس زمیں دوز ہو رہا ہے۔ گزشتہ  جمعرات کو بامبے اسٹاک ایکسچینج  کا سنسیکس ۸۰۰ پوائنٹ اور این ایس ای کا نفٹی ۲۸۰پوائنٹ ٹوٹ گیا۔ شیئر بازار میں تقریباً ۵ء۲ فیصد گراوٹ سے سرمایہ کاروں کو ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کا چونا لگ  گیا۔ ماہِ  ستمبر میں بازار کی گراوٹ کے سبب سرمایہ کاروں کو پہلے ہی  تقریباً ۵۷ء۱۳ لاکھ کروڑ کا خسارہ ہو چکا ہے۔ اس زلزلہ کی وجہ انفراسٹرکچر لیزنگ اینڈ فائنانشیل سروسز (آئی ایل اینڈ ایف ایس) لمیٹڈکا دیوالیہ پٹ جانا تھا۔ اس کمپنی میں ۶۰فیصد حصہ داری نجی  سیکٹر کی ہےجس میں ۳۶ فیصد غیر ملکی سرمایہ کارہیں۔۴۳ء۳۹فیصد شراکت داری سرکاری بینکوں اور ایل آئی سی جیسے اداروں کی ہے۔ اس  پر ۹۱ہزار کروڑ کا قرض ہے اور وہ اپنے قرض کی  ادا ئیگی  میں ناکام رہی ہے۔ اس لیے کئی ریٹنگ ایجنسیوں نے آئی ایل اینڈ ایف ایس کی ریٹنگ گھٹا دی  ہے۔

آئی ایل اینڈ ایف ایس نے  جب  کہا  کہ وہ اپنے قرض ادا کرنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہےنیز  شیئر ہولڈروں نے بازار سے قرض اٹھانے کی منظوری دے دی ہے تو خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ اس سے نمٹنے کے لیے حکومت نے این سی ایل ٹی سے آئی ایل اینڈ ایف سی کے بورڈ کو تحلیل کرنے کی گزارش کردی۔ حکومت کا موقف تھا کہ موجودہ بورڈ کو جاری رکھنے سے ہونے والا نقصان عام لوگوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس سے قبل ۲۰۰۹ ؁  میں بھی ستیم کمپنی کے بورڈ کو  بھی تحلیل کر کے حکومت نے نیا  بورڈ تشکیل دیا تھا اس لیے کہ ستیم کے پروموٹر نے جب ۱۵ ہزار کروڑ کے غبن کا اعتراف کیا اور کمپنی کے ڈوب جانے سے تقریباً ۵۰ ہزار لوگوں کی نوکری  خطرے میں پڑ گئی تھی۔ اس کے برعکس  آئی ایل اینڈ ایف ایس کے معاملے میں مرکزی حکومت ایل آئی سی اور ایس بی آئی کا سرمایہ  استعمال کر ۶۰ فیصد  نجی سرمایہ کاروں کی مدد کر رہی ہے۔ ااس کمپنی  کو اپنے قبضے میں لیتے ہوئے مرکزی حکومت نے این سی ایل ٹی سے یہ تو کہا کہ موجودہ بحران کے  لیے انتظامیہ ذمہ دار ہے لیکن اس کے اعلیٰ افسران کے خلاف کی جانے والی  کارروائی واضح نہیں کی۔ اس طرح کے رویہ سے راہل گاندھی کے الزام کہ وزیراعظم سرمایہ داروں کے  چوکیدار ہیں کو تقویت ملتی ہے۔

مودی حکومت کے دوران گزشتہ چار سال میں آئی ایل اینڈ ایف ایس پر قرض میں ۴۲۴۲۰کروڑ کا اضافہ ہوا ہے۔اس کا حساب لگائیں تو آئی ایل اینڈ ایف ایس پر ہر مہینے ۹۰۰ کروڑ روپے کا قرض بڑھا ہے۔کانگریس کے ترجمان پروفیسر گورو ولبھ نے اس معاملے میں سنگین  سوالات  اٹھا ئے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ ’’آخر کیوں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر مالیات ارون جیٹلی آئی ایل اینڈ ایف ایس کو بچانے کے لیے لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کو برباد کرنے پر تلےہوئے  ہیں؟‘پروفیسر گورو نے اخبار نویسوں  سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ’’اپنے مالی گناہوں کو چھپانے کے لیے مودی حکومت کا طریقہ کار یہی رہا ہے کہ  منافع بخش سرکاری  اداروں   کے پیسے سے ڈوبتی ہوئی کارپوریٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جائے اور عام لوگوں کی بچت کو داؤ پر لگا دیا جائے۔‘‘  اس الزام کی حمایت میں پروفیسر گورو نے گجرات ریاستی بجلی کارپوریشن (جی ایس پی سی) کی مثال دی کہ جس کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے او این جی سی کو استعمال کیا گیا تھا۔ اسی طرح خسارے  میں چلنے والی  آئی ڈی بی آئی کو فائدہ پہنچانےکے لیے ایل آئی سی کا استعمال کیا گیا۔ اب آئی ایل اینڈ ایف ایس کو بچانے کے لیے ایل آئی سی اور ایس بی آئی  دونوں کو بلی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔

یہ معاشی  بحران ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ ایک ہفتہ بعد  حصص بازار میں  پھر سے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اگلے  جمعرات  کوابتدائی پانچ منٹ  کے اندر سینسیکس ۱۰۰۰ پوائنٹس سے زیادہ ٹوٹ گیا، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے تین لاکھ ۴۲ ہزار کروڑ روپے ڈوب گئے۔ اس کے باوجود ماہرین یقین دلا رہے ہیں  کہ سرمایہ کاروں کو گھبرانا نہیں چاہئے۔ اس گراوٹ میں اچھے اور مضبوطبنیادوں والی کمپنیوں کے حصص میںسرمایہ کاری کرناسود مند رہے گا۔ اس نئے ہنگامہ کی وجہ  امریکی کمپنی ایپل کی مصنوعات  کی کھپت میں کمی تھی۔ اس خبر کے آتے ہی امریکہ میں ٹیکنالوجی شیئروں میں زبردست گراوٹ آئی کیونکہ  سرمایہ کاروں نے اپنا پیسہ شیئر بازار سے نکال کر بانڈ مارکیٹ میں لگانا شروع کردیا۔ اس سے امریکی بازار میںجو گراوٹ آئی اس کے اثرات  ایشیائی بازار پر پڑے۔ اس کے چلتے جاپان، چین اور ہندوستانی بازاروں میں گراوٹ درج کی گئی۔

اس سنگین  صورتحال میں امریکی ڈالر کے مقابلے روپیہ کی گراوٹ   سوہان جان بنی ہوئی ہے۔ سابق وزیر خزانہ  یشونت سنہا نے ڈالر کے مقابلہ روپیہ کے گرنے   پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’ مودی جی جب  گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو ڈالر کی قیمت ۶۰ روپے ہو نے پر کہتے تھے، روپیہ آئی سی یو میں ہے، اب ڈالر ۷۵ کے قریب ہےتو وہ کیا کہیں گے؟ کہ یہ کومہ میں ہے۔‘‘ ڈالر اور روپیہ کی کہانی بڑی دلچسپ ہے ۱۹۲۵ ؁ میں جب ہندوستا ن انگریزوں کا غلام تھا تو  ایک روپیہ میں دس ڈالر ملتے تھے جی ہاں دس پیسے میں ایک  ڈالر حالانکہ اب دس پیسے کا سکہ ہی صفحۂ ہستی سے مٹ گیا ہے۔ آزادی کے بعد ۱۹۴۸ ؁ میں بازی الٹ گئی اور ایک ڈالر کی قیمت ۳ روپئے ۳۱ پیسے ہوگئی۔ ۲۰۰۳ ؁ میں اٹل بہاری واجپائی کا زمانہ تھا اور ایک ڈالر کی قیمت ۴۶ روپئے سے زیادہ تھی لیکن ۲۰۰۴ ؁ میں منموہن سنگھ اسے ۴۵ اور ۲۰۰۵ ؁ میں ۴۴ پر لے آئے مگر سنبھال نہ سکے۔ اس نے پھر سے اڑان بھرنا شروع کی اور جس وقت مودی جی نے اقتدار سنبھالا ڈالر۶۲ سے آگے بڑھ چکا تھا۔ مودی جی نے اس کا بڑا مذاق اڑایالیکن اب  وہ  ۷۴ سے آگے نکل چکا ہےمگروہ  کچھ نہیں کہتے۔

حقائق کو توڑ مروڈ کر پیش کرنے سے یا ان کو چھپانے سے سچائی نہیں بدلتی۔ اس کو تسلیم کرکے حکمت عملی کے مطابق  محنت کرنے سے حالات بدلتے ہیں لیکن  آج کل فرار کا راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی بی جے پی کے مارگ درشک ہیں ان کی سربراہی میں قومی معیشت (جی ڈی پی) اور بیروزگاری سے متعلق تیار کردہ رپورٹ کو بی جے پی والے ایوان میں پیش ہونے  سے روک رہے ہیں تاکہ حقائق کی پردہ پوشی کی جائے۔ راہل گاندھی  کو تو جھوٹا کہہ کر ان کی الزامات کو یہ لوگ جھٹلا سکتے ہیں لیکن مرلی جی کا کیا کریں گے جو سابق صدر ہیں۔ اس بیچ بھکمری  سے متعلق عالمی رپورٹ آئی تو پتہ چلا  نصف جھارکھنڈ فاقہ کشی  کا شکار ہے اور ہندوستان ۱۰۳ ویں مقام پر ہے۔ سری لنکا اور میامنار جیسے ممالک ہم سے بہتر حالت میں ہے۔ اسکولی تعلیم کے معاملے میں  ہم ۱۱۵ ویں نمبر پر ہیں جبکہ ہمارے سارے پڑوسی پاکستان، بنگلا دیش، سری لنکا اور نیپال کی حالت نسبتاً بہتر ہے۔  ایسا لگتا ہے کہ بہت جلد موجودہ سرکار بھکمری کا شکار ہو کر  بیروزگار ہو جائے گی۔ مہنگائی، ایندھن ، ڈالر اور حصص بازار کی طرح مودی حکومت کادیوالیہ بہت جلد پٹ جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close