آج کا کالم

معمولی آدمی کی فلم اور اس کے نمائندے کیجریوال

رويش کمار

جس دن امریکہ سے یہ سروے ہمیں پروسا گیا ہے کہ %55  بھارتی مضبوط لیڈر کو ترجیح دیتے ہیں، اس کے ٹھیک ایک دن بعد ایک فلم آ رہی ہے جس کا اردو میں مطلب ہے ‘معمولی آدمی’. آپ اس اتفاق پر مسکرا سکتے ہیں. آپ کی مسکراہٹ کم اہم نہیں ہے. یہ فلم ان تمام طرح کے خدشات کو مسترد کرتی ہے کہ بغیر وسائل اور معاہدے کے کوئی سیاست میں جگہ نہیں بنا سکتا. یہ فلم یہ بھی بتاتی ہے کہ جب آپ سیاست میں آئیں گے تو سمجھوتے آپ کا امتحان لینے آئیں گے. عام آدمی پارٹی کا پہلا سال اور اس کے پہلے کے دو سال جذباتیت بھرے سال تھے. جذبات کا غلبہ تھا. مگر فلم بنانے والے نے اپنے کیمرے سے ان جذبات کو نکال دیا ہے. وہ خود ایک معمولی آدمی بن کر ایک معمولی آدمی کے رہنما بننے کی کہانی کو ریکارڈ کرتا ہے.

یہ فلم ایک نئے سیاسی خواب کے طور پر ابھر رہی عام آدمی پارٹی کا سفر نہیں ہے بلکہ اس سیاست کو قریب سے دیکھنے کی چاہ لئے نوجوانوں کی بھی یاترا ہے. 26 سال کی عمر رہی ہوگی خوشبو راكا اور ونۓ شکلا کی. جب فلم کا کینوس بڑا ہونے لگا تب خوشبو نے دہلی یونیورسٹی کے طالب علموں کی مدد لی، انہیں کیمرے اور ساؤنڈ کی ٹریننگ دی. خوشبو نے اس سے پہلے آنند گاندھی کے ساتھ SHIP OF THESEUS کی اسکرپٹ لکھی تھی. 21 سے 22 سال کے لڑکے لڑکیوں نے اس فلم کا بڑا حصہ شوٹ کیا ہے. اس ٹیم میں پچاس فیصد سے بھی زیادہ لڑکیاں تھیں. آپ کہہ سکتے ہیں کہ جس عمر کے لوگ سیاست کو تبدیل کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے، اسی عمر کے لوگ اس بدلتی ہوئی سیاست کو دستاویز کی صورت میں جمع کر رہے تھے.

اروند کیجریوال اس فلم کے ہیرو ہیں مگر یوگیندر یادو اس فلم میں متوازی طور پر ہیرو نظر آتے ہیں. اروند کیجریوال اور یوگیندر یادو دونوں شفافیت اور اجتماعی فیصلے پر زور دینے کی سیاست کرتے ہیں مگر الیکشن جیتنے کے عمل میں دونوں اپنے ہی اصولوں سے ٹکرانے لگتے ہیں. ضرور دونوں کچھ دیر کے لئے فیل ہوتے نظر آتے ہیں، مگر سیاست کو تبدیل کرنے کے ارادے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے. بے شک سیاست انہیں بدل دیتی ہے.

400 گھنٹے کی فوٹیج سے ڈیڑھ گھنٹے کی فلم بنانے سے ظاہر ہے تاریخ کا بڑا حصہ ہمارے سامنے آنے سے رہ جاتا ہے. فلم اس طرح ایڈٹ کی گئی ہے کہ آپ کو کئی بار اروند کیجریوال اور یوگیندر یادو کے آگے کی لڑائی کو فریم میں دیکھنے لگتے ہیں، یہی اس فلم میں تھرل پیدا کرنے لگتا ہے. پرائیویٹ چینلز اور اس کے بعد سوشل میڈیا کے دور نے سب سے پہلے دہلی کو میڈیا سوسائٹی میں تبدیل کیا. اینکرز کو لگا کہ وہ بھی سیاست کو تبدیل کر سکتا ہے اور مگر آپ اس فلم میں دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح اینکر کو سیاست بدل رہی ہے. کئی قصے ایسے ہیں کہ آپ کو ہنسی بہت آئے گی. آپ اینکرز پر ہنسیں گے، صحافیوں پر ہنسین گے، میڈیا کے سروے پر هنسیں گے اور اپنے آپ پر هنسیں گے.

آج بھی یہ لاکھوں کے لئے راز ہے کہ سیاست کس طرح ہوتی ہے. لیڈر، بند کمروں میں کیا ہوتا ہے. این ڈی ٹی وی نے جب 24 گھنٹے نیتا کے ساتھ ایک پروگرام کیا تھا اس کی سب سے بڑی کشش یہی تھی کہ لیڈر اپنے گھر میں اور اپنے گھر کی میز پر کیسا ہوتا ہے. مگر یہ فلم نیتا کو گھر میں نہیں، وہاں پکڑتی ہے جہاں وہ سیاست کے لئے خود کو تیار کر رہا ہوتا ہے. اروند کیجریوال اور کمار وشواس کس طرح میڈیا کے لئے ٹیگ لائن ریکارڈ کرتے وقت ایک دوسرے پر ہنستے ہیں، وہ دیکھنے کے قابل ہے. یہی وڈبنا ہے کہ فلم میں وہ ساتھ ساتھ ایک فلم دیکھتے ہوئے دکھائی پڑتے ہیں. معلوم نہیں کہ دونوں ساتھ ساتھ اس فلم کو دیکھیں گے یا نہیں.

اس طرح کی فلم بھارت میں دوبارہ نہیں بنے گی کیونکہ اب شاید عام آدمی پارٹی بھی اپنے اندر کی سرگرمیوں کو ریکارڈ کرنے کے لئے کسی فلم ساز کو اجازت نہ دے. انتخابی سیاست میں سب کا داؤ بہت بڑا ہو گیا ہے. دنیا میں ایسی فلمیں بنتی رہی ہیں مگر بھارت کی تمام سیاسی طبقے کے ناظرین کو اس فلم کو دیکھنا چاہئے. سب سے زیادہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامیوں کو دیکھنی چاہیے. معمولی آدمی کے طور پر کیجریوال کس طرح شیلا دکشت کے غرور، تنظیم کے دم پر بی جے پی کے دمبھ کو توڑ دیتے ہیں. جمہوریت میں جو معمولی ہوتا ہے دراصل وہی لیڈر ہوتا ہے. آگے چل کر نریندر مودی نے اسی بنیاد پر خود کو چائے والا ڈکلیئر کیا جبکہ وہ تین ٹرم وزیر اعلی رہ چکے ہیں. لوگوں کو یاد بھی نہیں رہا کہ ایک وزیر اعلی وزیر اعظم کی دعویداری کر رہا ہے، سب نے رٹنا شروع کر دیا کہ ایک چايۓ والا وزیر اعظم بننے والا ہے. لہذا کسی کا مذاق نہیں اڑانا چاہئے اور طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہئے. نام سے یہ فلم کیجریوال کی لگتی ہے مگر یہ معمولی آدمی کی فلم ہے جس کے نمائندے کیجریوال ہیں.

اس فلم کو کئی طرح سے دیکھا جائے گا. سیاست کس طرح اپنے لئے مدعے چنتی ہے، ان پر عمل کرتی ہے اور کس طرح کچھ مدعوں سے خاموشی کنارا کر لیتی ہے، یہ سب دیکھتے ہوئے آپ کو ایک بہتر ووٹر بن کر سنیما ہال سے باہر نکلتے ہیں. یہ فلم تاریخی دستاویز نہیں ہے. تاریخ تو اس فوٹیج میں ہے جو ایڈیٹنگ میز پر کٹ گیا. انا تحریک کو آپ انا ہزارے، کرن بیدی، پرشانت بھوشن اور بابا رام دیو کے کردار کے بغیر نہیں سمجھ سکتے. لیکن اس فلم نے بہت صاف کر دیا ہے کہ اس کی کہانی عام آدمی پارٹی کے بننے اور پہلی بار حکومت میں آنے کے سفر تک محدود ہے. پھر بھی اس سفر کے دوران بھی یہ سارے کردار ارد گرد تو تھے ہی.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close