آج کا کالم

معیشت کی کون سی تصویر صحیح ہے؟ بینکوں کا پیسہ کیوں ڈوب رہا ہے؟

رویش کمار

گزشتہ دنوں جب میں نے یہ لکھا تھا کہ ملک میں 57 لوگ ایسے ہیں جن پر بینکوں کا 85000 کروڑ بقایا ہے۔ حکومت، عدالت اور ریزرو بینک اس بات میں الجھے ہیں کہ ان کے نام پبلک کو بتائے یا نہیں۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ بینکوں کا این پی اے (یعنی جو پیسہ كورپوریٹ کو لون کے طور پر دیا جاتا ہے) اس کا واپس نہیں آنابڑھتا جا رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ این پی اے آج کی دین نہیں ہیں. گزشتہ دس سال سے یا ہو سکتا ہے اس سے پہلے سے بھی بڑھتے رہے ہوں اور کسی نے کچھ کہا ہی نہ ہو۔ ابھی تک یہ مسئلہ بائیں بازو کی جماعتوں کے کچھ ممبران پارلیمنٹ کافتور سمجھا جاتا تھا جسے وہ بیچ بیچ میں پارلیمنٹ میں ہونے والی بحثوں میں اٹھایا کرتے تھے۔ ویسے اگر ہو سکے تو آپ کو یہ ریسرچ کرنا چاہئے کہ پارلیمنٹ میں این پی اے کے مسئلے پر کن کن جماعتوں کے رہنما بولتے رہے ہیں۔ بیچ بیچ میں کوشش یہی ہوتی ہے کہ اقتصادی مسائل کے بحران کے ذریعہ معیشت کو سمجھا جائے. اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اقتصادی امکانات ختم ہو گئے ہیں۔ ایسا ہو بھی کیسے سکتا ہے لیکن جاننے میں کیا حرج ہے۔ ہم لوگوں کو کبھی کبھی وقت نکال کر اقتصادی مسائل پر توجہ دینا چاہئے، لکھنا چاہیے، کوئی کمی ہوگی تو قارئین اشارہ کر ہی دیں گے. اسی طرح ہم سب مل جل کر اقتصادی معاملات میں خواندہ ہوتے ہی رہیں گے۔

آج کے اكونومك ٹائمز میں دو خبریں شائع ہیں۔ پہلی خبر ہے ایکسس بینک کے بارے میں۔ منگل کو جب یہ خبر آئی کہ ایکسس بینک کا این پی اے بڑھ گیا ہے تو اس کے شیئرمیں آٹھ فیصد کی کمی آ گئی۔ گزشتہ ایک سال میں بینک کو لگا یہ سب سے بڑا جھٹکا ہے۔ اكونومك ٹائمز لکھتا ہے کہ اس سال بینک کے این پی اے کے اکاؤنٹ میں 8722 کروڑ روپے جڑ گئے ہیں۔ بینک کے لون بک کا 4.17 فیصد این پی اے ہو چکا ہے، جو گزشتہ سال 1.38 فیصد تھا. آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ایکسس بینک کا نان پر فارمنگ ایسیٹ کتنا ہو چکا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں 8722 کروڑ روپے این پی اے میں منسلک ہیں۔ ایک جانکارنے کہا تھا کہ جتنی امید تھی یہ اس سے بھی برا نتیجہ ہے۔ یعنی این پی اے گزشتہ حکومتوں کی دین تو ہے ہی، اس حکومت کے دوران بھی اس کا بڑھنا جاری ہے جبکہ اسے روکنے یااس کی وصولی کے کئی سخت بیانات وزیر خزانہ کے آ چکے ہیں۔ آتے ہی رہتے ہیں۔

اكونومك ٹائمز میں ایک اور خبر چھپی ہے جو ہمارے موجودہ دور کی کہانی دوسرے طریقے سے کہتی ہے۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ كورپوریٹ لون میں ہاتھ جلانے کے بعد بینک اب کریڈٹ کارڈ کے سلسلے میں محتاط ہو رہے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ قرضہ دینے کی رفتار کو سست کر رہے ہیں۔ ایچ ڈی ایف سی اور ایکسس بینک کو ڈر ہے کہ انہیں جھٹکا لگ سکتا ہے۔ ایکسس بینک تو کریڈٹ کارڈ کے سلسلے میں کافی ترقی کرنے والا سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سوچ سمجھ کر کارڈ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ روزگار کم ہو رہے ہیں اور سیلری کم بڑھ رہی ہے۔ اس سے صارفین کا انحصار قرض پر تو بڑھے گا مگر قرض ادا کرنے کی صلاحیت گھٹےگي۔ بھارتی ریزرو بینک کے اعداد و شمار کے مطابق کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ بینکوں نے 43100 کروڑ کے قرضے دیے ہیں. ایک سال کے اندر اندر سات فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

بے روزگاری بڑھ رہی ہے، کام نہیں ہے اور تنخواہ نہیں بڑھ رہی ہے اس وجہ سےبینکوں کو اب کارپوریٹ کے ساتھ ساتھ کریڈٹ کارڈ کے بقایا پر بھی توجہ دینی پڑ رہی ہے۔ یہ تصویر بتاتی ہے کہ جو دعوے کئے جا رہے ہیں وہ اتنے درست نہیں لگتے ہیں۔ حال ہی میں مرکزی حکومت نے اعداد و شمار کا مطالعہ کر کے بتایا تھا کہ کئی اہم سیکٹر میں ملازمتوں کی تعداد یا تو گھٹ رہی ہے یا پھر بڑھ نہیں رہی ہے۔ ان اعداد و شمار کا مطالعہ کرکے کسی نے لکھا تھا کہ 68 فیصد کارکن ماہانہ  10000 یا اس سے کم ہی کماتے ہیں۔  یہ اعداد و شمار بھی بتا رہے ہیں کہ اقتصادی نا برابری کتنی گہری ہے۔ اگر معیشت میں تیزی رہتی تب بھی اس فرق میں خاص بہتری نہیں ہوتی۔

اس کے بعد بھی دہلی کی سڑکوں پر گفٹ تقسیم کرنے والی کاریں بڑی تعداد میں سڑک پر ہیں. سڑکوں کا برا حال ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ باہر سے ڈبہ ہی دکھائی دے رہا ہے۔ ٹوکری کے اندر گفٹ کے نام پر بسکٹ بھرا ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی پڑھنے کو ملا کہ کنزیومرپروڈکٹ بنانے والی کئی بڑی کمپنیوں کی فروخت میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اسے اكونومك ٹائمز نے جمود کی طرح ہی پیش کیا ہے۔ ہندوستان لیور، ڈابر اور آئی ٹی سی کمپنیوں کے بارے میں رپورٹ ہے۔ لیکن اس رپورٹ میں پتجلی کے بارے میں ذکر نہیں ہے۔ کیا ان قائم شدہ کمپنیوں کا خسارہ یا توقف صرف اس وجہ سے ہے کیونکہ پتنجلی نے ترقی کی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک بڑی کنزیومر کمپنی نے تسلیم کیا تھا کہ پتنجلی کی وجہ سےچیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ لوگ اب پتنجلی کے ہی مصنوعات خرید رہے ہوں، کبھی پتنجلی کے اسٹور پر بھی جاکر دیکھئے کہ وہاں کیا صورت حال ہے۔ اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ خود بھی جائزہ لینا چاہئے۔

بہر حال، اسی اخبار میں ایک تیسری خبر بھی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں 34 اسمال کیمپ کمپنیوں کی ملکیت دگنی ہوئی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ زیادہ تر اسمال کیمپ اسٹاک کی کارکردگی بہتر رہی ہے، 169 اسمال كیمپ یعنی چھوٹی سطح کی کمپنیوں کی پیش رفت رپورٹ منفی ہے۔ اخبار نے تیس کمپنیوں کی ملکیت میں آئے اچھال کو ہی سرخی  بنائی ہے۔ اكونومك ٹائمز نے یہ بھی لکھا ہے کہ 300 کمپنیوں کے اسٹاک نےمثبت ریٹرن دیا ہے۔ مجموعی طور پر میکرو سطح پر پوزیشن کنٹرول میں دکھائی دے رہی ہے۔ اس رپورٹ میں اکٹي ریسرچ (ویلتھ) کے سربراہ سدھارتھ کھیمکا کا بیان ہے کہ اگلے ایک سال میں کارپوریٹ کی کمائی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ترقی کی بحالی کی توقع ہے۔ ایک طرف ہمیں پڑھنے کو ملتا ہے کہ ہم ترقی کے راستے پر تیزی سے بڑھ رہے ہیں دوسری طرف 400 سے زائد کمپنیوں کے بارے میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ اگلے سال ان کی کمائی کے ساتھ ترقی پھر سےہوگی. تو کیا ابھی ترقی نہیں ہو رہی ہے۔

کیا ایسا ہے کہ لوگ خوف کی وجہ سے صحیح بات نہیں بول رہے ہیں؟ باتوں کے بیچ بیچ میں حقیقی بات بول رہے ہیں۔ اقتصادی اخباروں کو پڑھنے سے مختلف طریقوں کی تصویر سمجھ آتی ہے۔ وہاں بھی سیاسی خبروں سا حال ہے۔ کارپوریٹ دنیا کے لوگ صحیح بولنے کی جگہ قصیدہ خوانی کر رہے ہیں. اتنی کوششوں کے بعد بھی ادھر ادھر کے بہانے ذکر آ ہی جاتا ہے، کہ اتنا نہیں ہوا جتنا ہونا چاہئے۔ اگلے سال امید ہے کہ تیزی آئے گی۔ بالکل تیزی آ سکتی ہے۔ معیشت ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی ہے۔ بات یہ ہے کہ ابھی جو حالات ہیں، کیا اس کے بارے میں کوئی ایمانداری سے کہہ رہا ہے۔ کیا کوئی کہنے کی ہمت کرے گا؟ اچھا ہے۔ اس لئے ہمیں اقتصادی خبروں میں دلچسپی لینی چاہئے۔ آج زمانے بعد اقتصادی اخباروں کو پلٹا تو ان سب خبروں کو دیکھ کر رہا نہ گیا۔ سوچا آپ سے شیئر کروں۔ رد عمل میں گالی کے علاوہ جو جانکاری ملے گی، وہ کام ہی تو آئے گی۔ لیکن اخبار سے لے کر ٹی وی تک،ہر جگہ اتنا خوف کیوں  ہے ؟ آپ ریڈر بھی تو بول سکتے ہیں۔ کیا صحافی نہیں بولے گا تو لوگ بولنا بند کر دیں گے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close