آج کا کالم

مكاباز: کچھ کے لئے ٹانک ہے، کچھ کے لئے وائن

رویش کمار

"یوپی میں اکیلے بریلی تھوڑے نہ ہے، بنارس جاؤ وہاں سے لڑو.”

بس یہیں سے کہانی کا اینگل کھلتا ہے. مكے باز کے سارے اینگل بریلی میں پھنس جاتے ہیں. باکسنگ یونین میں مشرا جی کا ایسا دبدبہ ہے کہ ٹھاکر باكسر شرون سنگھ کو کوئی راستہ نہیں سوجھتا ہے. بھگوان داس مشرا اپنا پیشاب پینے کی شرط پر معاف کر دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں لیکن باكسر کا خون گرم ہو جاتا ہے. سوال صرف خون کا نہیں ہے. دل کا بھی ہے. ایک آدمی جہاں اپنی طاقت کے معاملے میں ذات کا جذبہ ڈھوتا ہے تو وہی آدمی اپنے گھر میں پیسے اور خواب کے درمیان اسی طرح لاچار ہوتا ہے جیسے ہر کوئی ہوتا ہے. بریلی میں باكسر پھنس جاتا ہے. وہی نہیں اس کے ماں باپ پھنسے ہوئے ہیں. شرون سنگھ کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ پھنسی ہے. مشرا جی سے بچنے کا ایک ہی escape route ہے فرار ہوجانا. بریلی سے بنارس.

ونیت کمار سنگھ نے غیر معمولی طور پر شرون کمار کا کردار کیا ہے. طاقت ور جاٹ باكسروں سے بھڑنا چاہتا ہے مگر باکسنگ یونین میں دبدبہ مشرا کا ہے، اس سے نہ لڑ پائے نہ اس کے سامنے جھک پائے. بنارس میں ملاقات ہوتی ہے سنجے کمار سے. ہوٹل میں جب مشرا پوچھتا ہے کہ تم چار ذاتوں میں سے کون ہو، تب سنجے جواب دیتا ہے کہ وہی جس کا نام آپ نے نہیں لیا. دلچسپ فلم ہے. کئی بار لگتا ہے کہ سب کچھ ذات سے طے ہو رہا ہے لیکن ذات کے ٹریک پر کتنی ٹرینیں چل رہی ہوتی ہیں. مشرا جی اپنے غرور کے سبب پھنسے پڑے ہیں. پانچویں نسل کے سنجے کمار شرون سنگھ کے اندر اس کی ذات اور پیشہ ورانہ پینترے کا کاکٹیل پیدا کرتے ہیں. پھر شروع ہوتا ہے کھیل.

اس فلم میں زندگی کے کتنے رنگ ہیں. کئی بار فلم بنانے والوں کو لے کر حیرانی ہو جاتی ہے. وہ کہاں کہاں سے ڈٹیل لاتے ہیں. گوشت بناتے وقت لائف بوائے صابن کہاں رکھنا ہے سے لے کر بے داغ ڈٹرجنٹ والے اسپانسر تک. بنارس میں سائن لینگویج جاننے کی وجہ سے ایک غیر ملکی نوجوان سے بریلی والی سنینا بتيانے لگتی ہے تو انگریزی نہ جاننے کی وجہ سے شرون سنگھ کے ہوش اڑ جاتے ہیں. سنینا اپنی محبت میں اسی طرح اسپیس بناتی ہے جیسے شرون بریلی سے بنارس آتا ہے اپنے کھیل کے لئے اسپیس بنانے. سنینا صاف صاف کہہ دیتی ہے تم مردوں کی یہی پرابلم ہے، عورتوں کو جاگیر سمجھنے لگتے ہو.

فلم کی یہی خوبی ہے. بہترین فلم وہی ہوتی ہے جو آپ کو ایک ساتھ کہانی کے اندر اندر ایک سے زیادہ تہوں کو دکھائے اور آپ کے اندرونی تضادات کو ابھارے. مزا آ رہا تھا. ونیت کمار سنگھ نے بہت اچھا کام کیا ہے. یہ آرٹسٹ اپنے رول میں سما گیا ہے. سب کچھ بہترین ہے. روی كشن کی پرتیبھا پہلی بار کسی فلم میں صحیح طریقے سے ابھر کر سامنے آئی ہے. روی کشن کے بارے میں بھی ڈائریکٹرز کو سوچنا چاہئے. ان میں کافی دم ہے. انوراگ کشیپ نے بہت چالاکی سے اس فلم کے ذریعہ آج کی سیاست کو سمیٹ دیا ہے. کہانی شروع ہی ہوتی ہے گئو رکشسوں کے سین سے. میڈیا سے زیادہ بہتر فلم والے آج کے وقت کو پکڑ رہے ہیں. بیگ گرؤنڈ میوزک میں ڈائیلاگ کی مکسنگ خوب ہے.

یہ فلم ٹانک ہے، ان کے لئے جو اپنے قصبائی شہروں میں پھنسے رہ گئے ہیں. یہ فلم انہیں ممبئی کی جگہ کم از کم بنارس جانے کی پیشکشں کرتی ہے. جو لوگ بھاگ کر بڑے شہروں میں آ گئے ان کے لئے یہ فلم شراب ہے. وہ مكاباز دیکھ  کر راحت کی سانس لیں گے کہ ویسی جگہوں سے نکل آئے. اس فلم میں یوپی کے کئی شہر ہیں. علی گڑھ، بنارس، غازی آباد اور بریلی. شرون سنگھ نے غازی آباد کے باكسر کو چت کر دیا یہ مجھے ذاتی طور پر برا لگا کیونکہ میں غازی آباد میں رہتا ہوں. میری قومیت کا لوکل ہالٹ غازی آباد ہی ہے. مزا آتا ہے دیکھنے میں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close